Ayahs 92:1–21تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب اس سورت میں انسان کی عملی جدوجہد کا تفاوت اور اس کا انقسام الی الخیر والی الشر بیان کیا جارہا ہے اور ساتھ ہی تاریخی حیثیت سے مکارم اخلاق ایمان وتقوی کے ایک عظیم پیکر یعنی سیدنا ابوبکر الصدیق ؓ کی مثال پیش کی جارہی ہے تاکہ دنیا ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرے اور یہ کہ ہر عمل میں اخلاص اس عمل کی عظمت وقبولیت کی روح ہے تو ارشاد فرمایا۔
قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے اور اپنی تاریکی سے تمام فضاء کو دھانک لے، اور قسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہوا اور اسکی روشنی تمام عالم پر محیط ہوجائے اور قسم ہے اس کی جو اس نے پیدا کیا نر اور مادہ تو، تو جس طرح رات اور دن اور نر و مادہ مختلف ہیں اپنی صورت میں اور آثار و خواص میں بالکل اسی طرح بیشک اے انسانو ! تمہاری کوشش اور عملی محنت طرح طرح کی ہے، ہر ایک کے اعمال دوسرے سے مختلف ومتعارض ہیں، صورت وشکل میں بھی اور نتائج وثمرات میں بھی، سو جس شخص نے عطا کیا یعنی خدا کی راہ میں دیا اور خرچ کیا اور خدا کا تقوی اختیار کیا اس کی نافرمانی اور برائیوں سے ڈرتا رہا اور تصدیق کی بھلی بات کی، ایمان لایا اور ایمان کی باتوں کو سچ سمجھتا رہا تو ہم اس کے واسطے آسان کردیں گے راحت و سہولت کا راستہ کہ جس پر عمل بھی آسان ہوگا اور اس راستہ پر چل کر انجام راحت و سہولت ہی کا ہوگا اور اعلی واکمل راحت کا مقام جنت ہے جس کا وہ اپنے ایمان و اعمال اور طاعت و بندگی کی محنتوں سے مستحق سمجھا جائے گا، مگر اس کے بالمقابل جس نے یہ سعادت حاصل نہ کی اور بخل کیا اور بےپروا ہی اختیار کی اور خدا سے بےنیاز رہا اور بھلی بات کو جھٹلایا تو ہم اس کے واسطے آسان کردیں گے دشواری کا راستہ اور وہ عملی انداز اور طریقہ کار جس کا انجام مشقت اور مصیبت کے سوا کچھ نہیں اور تمام تر آلام ومصائب اور مشقتوں کا ابدی مقام جہنم ہے۔
اور اس وقت کام نہ آئے گا اس کو ذرہ برابر اس کا مال جب کہ وہ اس ہلاکت ومشقت کے گڑھے میں گرے گا اس انسان کو زندگی میں اس کی نافرمانیوں پر ڈھیل دی جائے گی اور بتدریج یہ اپنی شقاوت وبدبختی کے کاموں میں اور غلو وانہماک ہی اختیار کرتا جائے گا تاآنکہ اپنی بداعمالیوں کا انجام دیکھ لے، جیسا کہ پہلے شخص کو اپنی توفیق سے نیکی اور تقوی کے کاموں میں لگانے رکھا، بالکل یہی نوعیت ہوتی ہے کہ (آیت) ” کلا نمد ھؤلآء وھؤلآء من عطآء ربک وما کان عطآء ربک محظورا “۔ بیشک ہمارے ذمہ تو بس راہ دکھا دینا ہے نیکی اور تقوی کی اور بدی وگمراہی کی ان دونوں راہوں میں سے کسی بھی راہ کا اختیار کرنا خود انسان کا اپنا کام ہے اس لئے وہ جس راہ کو اور جیسے بھی عملی طریقہ کو اختیار کرے گا اس کا ثمرہ اس پر مرتب ہوگا اور بیشک ہمارے ہی لئے اور ہمارے ہی قبضہ میں ہے آخرت بھی اور دنیا بھی، تو اے انسانو ! میں نے ڈرا دیا ہے، ایک ایسی آگ سے جو دہکتی ہوئی ہے، اس کے شعلے سمندر کی موجوں کی طرح ہیں جو مجرموں اور نافرمانونکے لئے مخصوص ہے جس میں کوئی نہیں داخل ہوگا بجز اس شخص کے جو نہایت ہی بدبخت ہے جس نے اللہ کی باتوں کو جھٹلایا اور اللہ کی فرماں برداری سے پیٹھ پھیری اور منہ موڑ لیا تو جہنم کی اس دہکتی ہوئی آگ میں جو کفار ونافرمانوں کے لئے مخصوص کردی گئی ہے بس ایسے ہی بدبخت انسان داخل ہوں گے اور اس آگ سے دور رکھا جائے گا ایسا شخص جو زیادہ سے زیادہ پرہیزگار ہو جو اپنا مال دے رہا ہو اللہ کی راہ میں اس لئے کہ وہ پاک ہوجائے ہر قسم کی کوتاہی اور ہر نوع کی گندگی سے خواہ نفس کی ہو یا عمل کی اور محض رضا الہی اس کی غرض ہے اور نہ نہیں کہ کسی کا اس پر احسان ہے کہ اس کا بدلہ ادا کیا جارہا ہے بجز اس کے کہ اپنے رب اعلی کی خوشنودی طلب کرنا ہے تو ظاہر ہے کہ اس اخلاص وتقوی سے اعلی کوئی مقام نہیں تو ضرور اس بندہ کا یہ عمل اس کے رب اعلی کی بارگاہ میں قبول ہوگا اور عنقریب اپنے پروردگار کی طرف سے ہونیوالی عنایات پر خوش ہوگا، اور ظاہر ہے کہ ہر انعام اور فوز و فلاح پر مسرت و خوشی طبعی تقاضا ہے ،۔ بالخصوص اہل ایمان کا تو شعار ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کے فضل وکرم پر فرحان و شاداں ہوں، کما قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا۔
ایمان وتقوی اور جود وسخاء کا پیکر اعظم سیدنا صدیق اکبر ؓ :
(آیت) ” وسیجنبھا الاتقی الذی یؤتی مالہ یتزکی :
ہر نوع کی گرفت اور آخرت کی ہر تکلیف سے محفوظ اور دوررہنے کے لئے اس آیت میں جو اوصاف ذکر فرمائے گئے ان میں ایک (1) وصف تقوی ہے دوسرا (2) وصف راہ خدا میں مال خرچ کرنا، تیسرا (3) وصف تزکیہ طہارت ہے چوتھا (4) وصف اخلاص ہے جو (آیت) ” الا ابتغآء وجہ رہ الاعلی “ میں فرمایا گیا۔
آیت مبارکہ کے الفاظ عام ہیں اور مراد بھی اسی عموم کے ہر ایمان تقوی اور اخلاص کا وصف رکھنے والے کے لئے اس سعادت کو ثابت کرنا ہے لیکن جمہور مفسرین اس پر متفق ہیں کہ اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر صدیق ﷺ کے بارے میں ہے، چناچہ کلام الہی کی شہادت سے یہ ثابت ہوگیا کہ صدیق اکبر ؓ جیسے صدیقین کے سرخیل اور پیشوا ہیں، اسی طرح وہ سیدالاتقیاء ہیں، کیونکہ اتقی صیغہ اسم تفضیل اسی معنی پر دلالت کرتا ہے پھر اس کے ساتھ قرآن کریم نے یہ بھی گواہی دے دی کہ وہ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے جواد وکریم ہی تھے، اس کے بعد پھر یہ کہہ کر ” یتزکی “ یہ واضح کردیا کہ تزکیہ و طہارت کا مقام انہوں نے حاصل کرلیا۔
اور اخیر میں یہ فرما کر (آیت) ” وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی “ کہ اپنی زندگی سرمایہ خرچ کر ڈالنا یہ کسی کے احسان کا بدلہ نہ تھا ان کے کمال اخلاص پر مہر ثابت کردی اگرچہ اسی قدر فرمادینا کافی تھا، اگرچہ اسی قدر فرمادینا کافی تھا، مگر اب رب العالمین نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ (آیت) ” ابتغآء وجہ ربہ الاعلی “۔ کی تصریح کرکے حق تعالیٰ شانہ کی رضاء جوئی صدیق اکبر ؓ کی صفت طبعیہ کی حیثیت سے بیان کردی کہ یہ ان کا مزاج تھا، حقیقت یہ ہے کہ کسی فرد کو مشار الیہ بناتے ہوئے قرآن کریم نے سوائے صدیق اکبر ؓ کے یہ عظیم تر شہادتیں کسی بھی فرد کے لئے ذکر نہیں کیں۔
حضرت علی ؓ کی شہادت کہ صدیق اکبر ؓ ہی رسول اللہ ﷺ کے بعد مستحق خلافت تھے :
(آیت) ” وسیجنبھا الاتقی “۔ کا نزول تو باجماع صحابہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی کی شان میں ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا بلکہ روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری سورت ہی ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی اور بعض مفسرین نے تو اس کو ” سورة ابی بکر “۔ بھی کہا ہے جب کہ انہوں نے سات غلاموں کو خرید کر آزاد کیا، جس میں حضرت بلال ؓ بھی تھے۔
ابن عباس ؓ عنہفرماتے تھے ،” الاتقی “۔ سے مراد ابوبکر ؓ ہیں، اور اس آیت مبارکہ کے پیش نظر جس میں ارشاد ہے (آیت) ” ان اکرمکم عنداللہ اتقکم “۔ یہ لازم آیا کہ امت میں سب سے زیادہ عظمت و کرامت اور بزرگی کے مستحق ابوبکر ؓ ہیں اور سورة نور کی (آیت) ” ولا یاتل اولو الفضل منکم “ جو باجماع امت ابوبکر ؓ ہی کے بارے میں نازل ہوئی ثابت کررہی ہے کہ امت میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں جن کو قرآن اولو الفضل کے لقب سے تعبیر کررہا ہے۔
روایات سے ثابت ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ جب اسلام میں داخل ہوئی تو اس وقت وہ قریش میں بڑے ہی مالدار تھے اور ان کا شمار اہل مکہ کے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا، اسلام لانے کے وقت چالیس ہزار درہم یادینار کے مالک تھے، سب کچھ اسلام کی راہ میں خرچ کر ڈالا اور خلیفہ ہونے کے بعد جو خود انہوں نے اپناوظیفہ مقرر فرمایا وہ صرف دو درہم یومیہ تھا جو وہ بیت المال سے لیتے ،
انتقال کے وقت فقیر ونادار تھے ایک دینار بھی ترکہ میں نہیں تھا جس چادر میں بیماری کے دن گذارے اسی میں وصیت فرمائی کہ کفن دیا جائے، اہل و عیال کے لئے زمین و جائیداد تو درکنار ایک حبہ بھی نہیں چھوڑا، اپنے زمانہ خلافت میں اپنے عزیز و اقارب میں سے کسی کو عہدہ یا منصب نہیں دیا، حالانکہ پورا حجاز نجد، یمن طائف اور بحرین وعمان سب ان کے ذیر نگین تھے، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں اس کے بالمقابل حضرت علی ؓ ابتداء میں فقیر ونادار تھے خلافت ملنے کے بعد اپنے بعض خویش و اقارب کو عہدے دیئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو بصرہ کا والی بنایا اور عبید اللہ بن عباس ؓ کو یمن کا والی بنایا اور اپنے چچا عباس ؓ کے دو بیٹوں قثم ؓ اور معبد ؓ کو حرمین کا والی بنایا اور اپنے بھانجے ام ہانی ؓ کے بیٹے جعد بن ہبیرہ ؓ کو خراسان کا، اپنی اہلیہ کے ایک بیٹے کو مصر کا، اور اپنے بعد حضرت حسن ؓ کی خلافت پر رضا مندی کا بھی اظہار کیا، اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ یقیناً خلافت کے مستحق تھے، لیکن اس تمام تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صدیق اکبر ﷺ نے دنیا کے عہدوں سے اپنے اقارب واعزہ کو کس طرح دور رکھا، اگرچہ حضرت علی ؓ نے جن افراد کو والی بنایاوہ اپنی اپنی خوبیوں سے اس کے اہل تھے کہ ان کو والی بنایا جائے، ابوبکر صدیق ؓ کی طرح حضرت عمر فاروق ؓ نے بھی ان تمام چیزوں سے اپنے خاندان اور عزیزوں کو دور رکھا حتی کہ ان کے احباب اور مخلصین ہرچند کوشش کرتے رہے کہ عمر فاروق ؓ اپنے صاحبزادہ عبداللہ بن عمر ؓ کو اپنا جانشین بنادیں لوگ ان کے فضائل واوصاف بیان کرکے اس امر کے برحق ہونے کو ثابت بھی کرتے رہے مگر فاروق اعظم ؓ نے ان باتوں میں کسی بات کی طرف ادنی توجہ بھی نہ دنی اور جواب میں یہ فرمایا کہ اس امر کا بوجھ برداشت کرنے کے لئے تو خطاب کی اولاد میں سے بس عمر ؓ ہی کافی ہے (سبحان اللہ) کیسی احتیاط تھی حتی کہ آئندہ خلیفہ کے انتخاب کے واسطے جو مجلس شوری مرتب فرمائی اس میں بھی اپنے بیٹے کو نہ رکھا اور صرف اس حد تک اجازت دی کہ وہ مجلس میں بیٹھ کر باتیں سن سکتا ہے اور اگر کوئی بات اس کے خیال میں آئے تو کہہ سکتا ہے لیکن اصولا ان کا شمار ان اراکین شوری میں نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کو کسی فیصلہ کا حق ہوگا، تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں۔
المنتقی المذھبی ص 487، منہاج السنہ لابن تیمیہ ص 129 تاص 131 ج 4۔
حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ اپنے جان ومال سے مجھ پر احسان کرنے والا (صرف) ابوبکر ؓ ہے اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا دنیا میں مجھ پر جس کسی نے بھی احسان کیا میں نے اس کا بدلہ دے دیا اور اس کے احسان کو اتار دیا مگر ابوبکر ؓ کا احسان ! کہ اس کو میں نہیں اتار سکتا، اس کا بدلہ بس اللہ ہی ان کو قیامت کے روز ادا کرے گا اللہ کی راہ میں اپنا سارا مال خرچ کردیا نوبت یہاں تک پہنچی کہ پہننے کے لئے کپڑے بھی نہ رہے، ایک کمبل میں درخت کا کانٹا لگا کر اپنے بدن پر لپیٹ رکھا تھا اسی حالت میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اتنے میں جبریل امین (علیہ السلام) بھی نازل ہوئے اور کہا کہ اے محمد ﷺ ابوبکر ؓ کو کہہ دو کہ خدا تم کو سلام کہتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اے ابوبکر ؓ کیا تم اس فقر میں مجھ سے راضی ہو یا دل میں کچھ کدورت ہے یہ سننا تھا کہ ابوبکر ؓ پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہوگئی، اور بیقراری کے عالم میں روتے ہوئے کہنے لگے ہائے ہائے کیا مجھے اپنے مولی سے کدورت ہوسکتی ہے۔ انا عن ربی راض، انا عن ربی راض “۔ کے الفاظ زبان سے جاری ہوگئے، اور دیر تک یہی کہتے رہے کہ میں تو اپنے رب سے راضی ہوں میں تو اپنے رب سے راضی ہوں۔
حضرت علی ؓ کی جو روایت مشکوۃ میں ہے اس میں صراحۃ حضرت ابوبکر ؓ کے فضل اور زہد کا ذکر ہے، اس میں ہے کہ جب آپ سے دوبارہ خلافت ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد ابوبکر ؓ کو امیر بناؤ گے تو ان کو زاہد فی الدنیا اور راغب فی الاخرۃ پاؤ گے، اور یہ وصف آپ نے کسی اور صحابی کی شان میں نہیں فرمایا اور یہ وصف آثار واحوال نبوت سے تعلق رکھتا ہے ،
نیز حضرت علی ؓ ابوبکر ؓ کے لئے، اشجع الناس۔ ہونے کی بھی گواہی دیتے تھے اور فرماتے تھے ایک بار رسول اللہ ﷺ کو کفار نے گھیر لیا میں دیکھتا رہا مجھ سے کچھ نہ ہوسکتا یہاں کہ ابوبکر ؓ آئے اور مجمع میں گھس گئے آپ ﷺ کی مدد کی اور آپ کو بچایا۔
محدثین (رح) نے بالعموم اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے کہ ایک بار آپ کے صاحبزادہ محمد بن الحنفیہ ؓ نے پوچھا کہ بتائیے سب سے زیادہ بہادر کون ہے تو اس پر آپ نے جواب دیا، ابوبکر ؓ اور پھر اس کے ثبوت میں یہ روایت ذکر کی جو صحاح ستہ میں موجود ہے، صدیق اکبر ؓ صرف اشجع الناس ہی نہیں بلکہ ارحم الناس بھی تھے جیسا کہ احادیث میں ان کا یہ وصف موجود ہے ارشاد ہے، ارحم امتی بامتی ابوبکر ؓ ۔ اسی پر حد نہیں بلکہ اعدل الناس بھی تھے، جیسا کہ یہ اظہر من الشمس ہے اس لئے کہ جس ذات میں امانت ودیانت، زہد وتقوی، ایثار وسخاوت اور علم کامل ہوگا، بلاشبہ وہ اعدل الناس ہے، عدل کی ضد ظلم ہے اور ظاہر ہے کہ ظالم ان اوصاف سے محروم ہوتا ہے، جب ہی تو وہ ظلم کا مرتکب ہوتا ہے اور ظلم کا باعث حب دنیا اور خیانت اور عدم ترحم ہے تو جو شخص ان خرابیوں سے قطعا منزہ اور پاک ہو بلکہ اس کے بالمقابل وہ کمالات اور خوبیوں سے متصف ہو وہ کیسے ظالم ہوسکتا ہے اور بلاشبہ وہ اعدل الناس ہی ہوگا، اور عدل کے ثمرات میں سے شفقت بھی ہے تو ابوبکر صدیق ؓ اس خوبی میں بھی سب سے بڑھ کر تھے ،
صدیق اکبر ؓ ان تمام خوبیوں کے علاوہ اعلم الناس کے شرف اور فضل سے بھی متصف تھے جیسے کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز خطبہ میں یہ فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندہ کو دنیا کی نعمتوں میں اور آخرت کی نعمتوں کے درمیان اختیار دیا کہ چاہے وہ دنیا کو اختیار کرلے اور چاہے وہ آخرت کو تو اس بندہ نے اللہ کو یعنی آخرت کو اختیار کرلیا ہے یہ سن کر ابوبکر صدیق ؓ فورا بیقرار ہو کر رونے لگے صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں تعجب ہوا کہ یہ بزرگ اس بات کو سن کر کیوں رو رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ تو کسی ایک بندہ کا ذکر کررہے ہیں، اور یہ بزرگ رونے لگے، فرماتے ہیں بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ عبد مخیر خود رسول اللہ ﷺ تھے، اور ہم نے سمجھ لیا کہ ابوبکر ؓ ہم میں سب سے زیادہ اعلم تھے کہ پہلی مرتبہ اس اشارہ کو سمجھ گئے ،
پھر یہ کہ عہد رسالت میں ہی آپ ﷺ کا لقب صدیق تھا اور آیت مبارکہ ” والذی جآء بالصدق وصدق بہ “۔ میں سب سے پہلا تصدیق کرنے والا آپ کو ہی فرمایا گیا اور یہ امر ظاہر ہے کہ فہم و فراست اور علم و حکمت میں نبی کے بعد درجہ صدیق ہی کا ہے اور صدیق کے بعد درجہ فاروق کا ہے۔
علاوہ ازیں یہ بات بھی بدیہی اور قطعی ہے کہ علم میں فضل و کمال کا دارومدار رسول اللہ ﷺ کی مرافقت اور مجالست پر ہے تو ابتداء سے ابوبکر صدیق ؓ حضور ؓ کے رفیق کامل محب خاص اور مخلص بااختصاص تھے سفر وحضر میں آپ کے ساتھ رہتے تھے، آپ ﷺ کو جو بھی مہم پیش آتی آپ اس میں ابوبکر ؓ سے مشورہ لیتے تھے ،
اور آیت مبارکہ ”۔ وشاورھم فی الامر “۔ مفسرین کے بیان کے مطابق ابوبکر ؓ وعمر ؓ ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے اور ظاہر ہے کہ مشورہ اسی سے لیا جاتا ہے جو اعلم وافہم ہو ان تمام اوصاف اور فضائل کے علاوہ ابوبکر وعمر کرام ؓ اعفل الناس بھی تھے جس کی دلیل ان کے دور خلافت کے ملکی انتظامات کی حسن و خوبی فتوحات عظیمہ اسلام کی ترقی اور عامۃ الناس کی خوش حالی ہے، آیت استخلاف اور تمکین فی الارض کے یہی حضرات مصداق ہوئے، اور ملکی امن وامان کا جو وعدہ فرمایا گیا وہ ان ہی دو حضرات کے ہاتھ پر اس طرح ظاہر ہوا کہ پوری دنیا اس میں ذرہ برابر بھی ترود اور شبہ نہیں کرسکتی۔
اس کے بالمقابل حضرت علی ؓ کا دائرہ سلطنت وخلافت کوفہ کے مضافات تک محدود رہا اور حضور اکرم ﷺ کی وفات کے بعد بلاکسی اختلاف کے تمام صحابہ کا ابوبکر کے ہاتھ پر بصد رضاء ورغبت بیعت کرلینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صدیق اکبر ؓ جملہ فضائل وشمائل حسنہ کا مجموعہ اور صداقت وامانت کا پیکر تھے اور اس امر کا واضح ثبوت تھا، تمام حضرات صحابہ کرام ؓ اس پر متفق تھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ان کے اول جانشین اور خلیفہ ابوبکر صدیق ؓ ہی تھے ،
پھر یہ کہ ابوبکر ؓ ہی کو آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے مصلی پر مسلمانوں کی امامت کرنے کا حکم صادر فرمایا اور کسی بھی کوشش کو اس کے بالمقابل پنپنے نہ دیا، بلکہ اس پر ناگواری سے تنبیہ فرمائی گئی اور سب مسلمانوں کو ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم دے کر یہ بتا دیا کہ اب تمہارے امام اور امیر یہ ہیں۔
ابوبکر ؓ ہی کو قرآن کریم نے (آیت) ” ثانی اثنین “۔ کہا۔
اور ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے دو وزیز آسمان میں ہیں اور دو وزیر زمین میں ہیں آسمان میں میرے وزیر جبریل (علیہ السلام) ومیکائیل (علیہ السلام) ہیں اور زمین میں میرے وزیر ابوبکر ؓ وعمر ؓ ہیں، تو آپ ﷺ نے خود ہی اس ترتیب سے اپنے وزیر اور خلیفہ متعین فرمادیئے تھے، جس کے بعد ظاہر ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کو جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے، ذرہ برابر تردد اور تامل کی گنجائش نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب ‘۔ ھذا ما ستفدت من امالی حضرت الوالد الشیخ محمد ادریس الکاندھلوی (رح)، واسبغ علیہ من نعمہ اسکنہ فی الدرجات العلی من الجنۃ آمین یا رب العالمین۔