92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 92:1–14

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

قسم رات کی جب چھا جائے

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور دن کی جب روشن ہو

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور اس کی جو اس نے پیدا کئے نر اور مادہ

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

تمہاری کمائی طرح طرح پر ہے

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

سو جس نے دیا اور ڈرتا رہا

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

او سچ جانا بھلی بات کو

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو اس کو ہم سہج سہج پہنچا دیں گے آسانی میں

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے نہ دیا اور بےپروا رہا

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور جھوٹ جانا بھلی بات کو

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

سو اس کو ہم سہج سہج پہنچا دیں گے سختی میں

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور کام نہ آئے گا اور اس کے مال اس کا جب گڑھے میں گرے گا

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

ہمارا ذمہ ہے راہ سمجھا دینا

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور ہمارے ہاتھ میں ہے آخرت اور دنیا

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

سو میں نے سنا دی تم کو خبر ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی

خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور (بجائے خدا سے ڈرنے کے خدا سے) بےپروائی اختیار کی اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام کو جھٹلایا تو ہم اس کو تکلیف کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (تکلیف کی چیز سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل کے دوزخ مراد ہے کہ عسر کا سبب اور محل ہے اس لئے اس عسر کو عسریٰ کہہ دیا گیا اور سامان دینے سے مراد دونوں جگہ یہ ہے کہ اچھے یا برے کام اس کے لئے آسان ہوجائیں گے اور بےتکلف سرزد ہونے لگیں گے اور ویسے ہی اسباب جمع ہوجاویں گے پھر نیک اعمال کا سامان جنت ہونا اور اعمال بد کا سامان دوزخ ہونا ظاہر ہی ہے۔ حدیث میں ہے امامن کان من اھل السعادة فیسریعمل اھل السعادة وکذا فی الشقاوة) اور آگے صاحب عشریٰ کا حال مذکور ہے کہ اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آوے گا جب وہ برباد ہونے لگے گا (بربادی سے مراد جہنم میں جانا ہے) واقعی ہمارے ذمہ (اپنے وعدہ کے مطابق) راہ کا بتلا دینا ہے (سو وہ ہم نے پوری طور سے بتلا دیا ہے پھر کسی نے ایمان و اطاعت کی راہ اختیار کرلی جس کا ذکر من اعطیٰ الخ میں ہوا ہے اور کسی نے کفر و معصیت کی راہ کو اختیار کرلیا جس کا ذکر من بخل میں ہوا ہے) اور (جیسی راہ کوئی شخص اختیار کرے گا ویسا ہی ثمرہ اس کو دیں گے کیونکہ) ہمارے ہی قبضہ میں ہے آخرت اور دنیا (یعنی دونوں میں ہماری ہی حکومت ہے اس لئے دنیا میں ہم نے احکام مقرر کئے اور آخرت میں مخالفت اور موافقت پر سزا و جزا دیں گے جس کا بیان دو جگہ فسیسرہ میں ہوا ہے۔ آگے بطور تنقیع اور توضیح کے ارشاد ہے کہ میں نے جو تم کو اعمال مختلفہ کی مختلف جزائیں بتلا دی ہیں) تو میں تمکو ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں (جس پر جملہ فسیسرہ للعسریٰ دلالت کرتا ہے تاکہ ایمان و اطاعت جن کا ذکر اعطی الخ میں ہے اختیار کر کے اس آگ سے بچو اور کفر و معصیت جن کا ذکر بخل الخ میں ہے اختیار کر کے دوزخ میں نہ جاؤ، کیونکہ اس میں جانے اور نہ جانے کے یہی اسباب ہیں چناچہ آگے اس کی تصریح ہے کہ) اس میں (ہمیشہ کے لئے) وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے (دین حق کو) جھٹلایا اور اس سے) روگردانی کی اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جاوے گا جو بڑا پرہیزگار ہے جو اپنا مال (محض) اس غرض سے دیتا ہے کہ (گناہوں سے) پاک ہوجاوے۔ (یعنی محض رضائے حق اس کا مطلب ہے) اور بجز اپنے عالیشیان پروردگار کی رضا جوئی کے (کہ یہی اس کا مقصود ہے) اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا کہ (اس دینے سے) اس کا بدلہ اتارنا (مقصود) ہو (اس میں نہایت ہی مبالغہ ہے اخلاص میں کیونکہ کسی کے احسان کا بدلہ اتارنا بھی فی نفسہ مستحب اور افضل و موجب ثواب ہے مگر فضیلت میں احسان ابتدائی کی برابر نہیں، پس جب اس شخص کا انفاق فی سبیل اللہ اس سے بھی مبرا ہے تو ریا وغیرہ معاصی کی آمیزش سے بدرجہ اولیٰ بری ہوگا اور یہ کمال اخلاص ہے) اور (ایسے شخص کے لئے اوپر صرف جہنم سے بچنا مذکور تھا آگے حصول نعمائے آخرت کو فرماتے ہیں کہ) یہ شخص عنقریب خوش ہوجاوے گا (یعنی آخرت میں ایسی ایسی نعمتیں ملیں گی جن سے اس کو دائمی خوش نصیب ہوگی۔) معارف و مسائل ان سعیکم لشی، یہ ایسا جملہ ہے جیسے سورة انشقاق میں مذکور ہو انک کا دح الی ربک کدحا جس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت سے کسی نہ کسی کام کے لئے سعی و عمل اور جدوجہد کرنے کا خوگر ہے مگر بعض لوگ اپنی جدوجہد اور محنت سے دائمی راحت کا سامان کرلیتے ہیں اور بعض دوسرے اپنی اسی محنت سے دائمی عذاب خرید لیتے ہیں جیسے حدیث میں ہے کہ ہر انسان جب صبح کو اٹھتا ہے تو وہ اپنے نفس کو تجارت پر لگا دیتا ہے کوئی تو اس تجارت میں کامیاب ہوتا ہے اور اپنے آپ کو عذاب آخرت سے آزاد کرلیتا ہے اور کوئی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کی محنت اور سعی و عمل ہی اس کی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔ مگر عقل کا کام یہ ہی کہ پہلے اپنی سعی و عمل کے انجام کو سوچے، جس عمل کے انجام میں وقتی آرام و لذت ہو مگر دائمی عذاب و رنج کا سبب بنے۔ اس کے پاس نہ جائے۔ سعی و عمل کے اعتبار سے انسانوں کے دو گروہ۔ آگے قرآن حکیم نے سعی و عمل کے اعتبار سے انسانوں کے دو گروہ بتلائے اور دونوں کے تین تین اوصاف ذکر کئے۔ پہلا گروہ کامیاب لوگوں کا ہے ان کے تین مل یہ ہیں فامامن اعطی و اتقی و صدق بالحسنے یعنی جس نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور اللہ سے ڈر کر زندگی کے ہر شعبہ میں اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچتا رہا اور جس نے اچھی بات کی تصدیق کی۔ اچھی بات سے مراد کلمہ ایمان لا الہ الا اللہ ہے۔ (کما قالہ ابن عباس و الضحاک والسدی) اس کلمہ کی تصدیق سے مراد ایمان لے آنا ہے اور اگرچہ ایمان سب اعمال کی روح اور سب سے مقدم ہے اس کو یہاں موخر کرنے کی شاید وجہ ہو کہ اس جگہ ذکر سعی و عمل اور جدو جہد ہے اور وہ اعمال ہی ہیں۔ ایمان تو ایک قلبی چیز ہے کہ دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تصدیق کرے پھر زبان سے بھی اس کا اقرار کلمہ شہادت کے ذریعے کرے۔ اور ظاہر ہے کہ ان دونوں چیزوں میں کوئی جسمانی محنت نہیں نہ کوئی اس کو اعمال کی فہرست میں شمار کرتا ہے کے ذریعے کرے اور ظاہر ہے کہ ان دونوں چیزوں میں کوئی جسمانی محنت نہیں نہ کوئی اس کو اعمال کی فہرست میں شمار کرتا ہے۔ دوسرے گروہ کے بھی تین عمل کا ذکر فرمایا واما من بخل واستغنی وکذب بالحسنی یعنی جس نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے بخل کیا کہ زکوة فرض اور صدقات واجبہ بھی ادا کرنے سے گریز کیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اس کی طرف جھکنے اور اطاعت اختیار کرنے کے بجائے اس سے بےنیازی اور بےرخی کی اور اچھی بات یعنی کلمہ ایمان کی تکذیب کی، ان دونوں گروہوں میں سے پہلے گروہ کے بارے میں فرمایا فسیسرہ للیسریٰ ، یسریٰ کے لفظی معنے میں آسان اور آرام دہ چیز جس میں مشقت نہ و مراد اس سے جنگ ہے۔ اسی طرح اس کے بالمقابل دوسرے گروہ کے متعلق فرمایا مستیسرہ للعسریٰ عسریٰ کے لفظی معنے مشکل اور تکلف دہ چیز کے ہیں، مراد اس سے جہنم ہے۔ اور معنے دونوں جملوں کے یہ ہیں کہ جو لوگ اپنی سعی و محنت پہلے تین کاموں میں لگاتے ہیں یعنی اللہ کی راہ میں خرچ اور اللہ سے ڈرنا اور ایمان کی تصدیق، ان لوگوں کو ہم یسریٰ یعنی اعمال جنت کے لئے آسان کردیتے ہیں اور جو لوگ یہ سعی و عمل دوسرے تین کاموں میں لگاتے ہیں ان کو ہم عسریٰ یعنی اعمال جہنم کے لئے آسان کردیتے ہیں، یہاں بظاہر مقائے مقام یہ کہنے کا تھا کہ ان کے لئے اعمال جنت یا اعمال دوزخ آسان کردیئے جائیں گے کیونکہ آسان یا مشکل ہونا صفت اعمال ہی کی ہو سکتی ہے تو خود ذوات و اشخاص نہ مشکل، مگر قرآن کریم نے اس کی تعبیر اس طرح فرمائی کہ خود ان لوگوں کی ذات اور وجود ان اعمال کے لئے آسان کردیئے جاویں گے اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان کی طبیعتوں اور مزاجوں کو ایسا بنادیا جئایگا کہ پہلے گروہ کے لئے اعمال جنت ان کی طبیعت بن جائیں گے ان کے خلاف کرنے میں وہ تکلف محسوس کرنے لگیں گے، اسی طرح دوسرے گروہ کا مزاج ایسا بنادیا جاوے گا کہ اس کو اعمال جہنم ہی پسند آئیں گے، انہیں میں راحت ملے گی اعمال جنت سے نفرت ہوگی۔ ان دونوں گروہوں کے مزاجوں میں یہ کیفیت پیدا کردینے کو اس سے تعبیر فرمایا کہ یہ خود ان کاموں کے لئے آسان ہوگئے۔ ایک مرفوع حدیث میں اس کی تائید اس طرح آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعملوا فکل میسر لما خلق لہ امامن کان من اھل السعادة فیسیر لعمل السعادة وامامن کان من اھل الشفاوة (رواہ البخاری و مسلم عن علی) یعنی تم جو عمل کرتے ہو وہ کرتے رہو کیونکہ ہر ایک آدمی کے لئے وہ ہی کام آسان کردیا گیا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا، اس لئے جو اہل سعادت نیک بخت خوش نصیب ہیں تو اہل سعادت ہی کے اعمال ان کی طبعی رغبت بنجاتے ہیں اور جو اہل شقاوت بدنصیب یعنی اہل جہنم ہیں ان کے لئے اہل شقاوت ہی کے اعمال کرنا مزاج اور طبیعت بنجاتی ہے۔ مگر یہ دونوں چیزیں اپنے خدا داد اختیار کو استعمال کرنے کے نتیجہ میں ملتی ہیں اس لئے ان پر عذاب وثواب کا ترتب مستبعد نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے بعد بدنصیب گروہ اہل جہنم کو تنبیہ ہے وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی، یعنی جس مال کی خاطر یہ کمبخت حقوق واجبہ میں بھی بخل کیا کرتا تھا یہ مال اس پر عذاب آنے کے وقت کچھ کام نہ دے گا۔ تردی کے لفظی معنے گڑھے میں گر جانے اور ہلاک ہونے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ موت کے بعد قبر میں اور پھر قیامت میں جب وہ جہنم کے گڑھے میں گرتا ہوگا تو یہ مال اس کو کچھ نفع نہیں دے گا۔
Ayahs 92:15–16

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس میں وہی گرے گا جو بڑا بدبخت ہے

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا

لایصلھآ الا الاشقی الذی کذب وتولی، یہ نار جہنم کے حال کا بیان ہے کہ اس میں داخل نہیں ہوگا مگر وہ ہی شخص جو بدنصیب ہے اور جس نے اللہ رسول کی تکذیب کی اور ان کی اطاعت سے روگردانی کی اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ و رسول کی تکذیب کرنیوالا صرف کافر ہی ہوسکتا ہے۔ اس سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مومن گناہگار جو تکذیب کا مجرم نہیں جہنم میں نہیں جائے گا، حالانکہ قرآن و حدیث کی بیشمار نصوص اس سے بھری ہوئی ہیں کہ مومن بھی جو گناہ کرتا ہے اگر اس نے توبہ نہ کرلی یا کسی کی شفاعت سے یا خالص رحمت سے اس کو معاف نہ کردیا گیا تو وہ بھی جہنم میں جائے گا اور اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے تک جہنم میں رہے گا، البتہ سزا بھگتنے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا اور پھر ببرکت ایمان جنت میں داخل ہوجائیگا، بظاہر اس آیت کے الفاظ اس کے خلاف ہیں اس لئے ضروری ہے کہ مراد اس آیت کی وہ ہو جو دوسری آیات قرآن اور احادیث صحیحہ کیخلاف نہ ہو، اس کی بہت آسان توجیہ تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں لی گئی ہے کہ یہاں دخول جہنم سے مراد وہ دخول ہے جو ہمیشہ کے لئے ہو اور ایسا دخول صرف کافر کے ساتھ مخصوص ہے مومن کسی نہ کسی وقت بالاخر اپنے گناہ کی سزا پوری کرنے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائیگا، علماء مفسرین نے اس کے سوا دوسری کچھ توجیہات بھی بیان فرمائی ہیں وہ بھی اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں اور تفسیر مظہری میں اس کی ایک توجیہ یہ کی ہے کہ اس آیت میں اشقی ٰ اور اتقیٰ سے مراد عام نہیں۔ بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں موجود تھے، ان موجودین میں سے کوئی مسلمان باوجود گناہ سرزد ہونے کے بھی برکت صحبت نبی کریم ﷺ کے جہنم میں نہیں جائے گا۔ صحابہ کرام سب کے سب جہنم سے محفوظ ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اول تو ان حضرات میں کسی سے بھی گناہ کا صدور بہت ہی شاذ و نادر ہوا ہے اور بوجہ خوف آخرت کے ان کے حالات سے یہ لازم معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی سے کوئی گناہ ہوا بھی ہے تو اس نے توبہ کر لیہو گی۔ پھر اس کے ایک گناہ کے مقابلے میں اس کے اعمال حسنہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی وجہ سے بھی یہ گناہ معاف ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ ان الحسنت یدھبن السیات یعنی نیک اعمال برے اعمال کا کفارہ بنجاتے ہیں اور خود صحبت نبی کریم ﷺ کی ایسا عمل ہے جو تمام اعمال حسنہ پر غالب ہے۔ حدیث میں صلحاء امت کے بارے میں آیا ہے ہم قوم لایشقے جلیسم ولایخاب انیسم (صحیحین) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والا شقی و نامراد نہیں ہوسکتا اور جو ان سے مانوس ہو وہ محروم نہیں رہ سکتا۔ تو جو شخص سیدالانبیاء ﷺ کا جلیس اور انیس ہو وہ کیسے شقی ہوسکتا ہے۔ اسی لئے احادیث صحیحہ میں اس کی تصریحات موجود ہیں کہ صحابہ کرام سب کے سب ہی عذاب جہنم سے بری ہیں۔ خود قرآن کریم میں صحابہ کرام کے بارے میں یہ موجود ہے وکلاً وعدا اللہ الحسنی، یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے اللہ نے حسنی یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور دوسری آیت میں ہے ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون یعنی جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے حسنی مقدر ہوچکی ہے وہ نار جہنم سے دور کریں گے اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جہنم کی آگ اس شخص کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا ہے (ترمذی عن جابر)
Ayahs 92:17–18

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور بچا دیں گے اس سے بڑے ڈرنے والے کو

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو دیتا ہے اپنا مال دل پاک کرنے کو

وسیجبھا الاتقی الذی یوتی مالہ یتزکی یہ اہل شقاوت کے مقابل اہل سعادت تقویٰ شعار حضرات کی جزاء کا بیان ہے کہ جو آدمی اتقیٰ یعنی مکمل اطاعت حق کا خوگو رہو اور وہ اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف اس لئے خرچ کرتا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجائے ایسا شخص اس جہنم کی آگ سے دور رکھا جائے گا۔ الفاظ آیت کے تو عام ہیں جو شخص بھی ایمان کے ساتھ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے اس کے لئے یہ بشارت ہے لیکن شان نزول کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مراد اس لفظ اتقیٰ سے حضرت صدیق اکبر ہیں ابن ابی حاتم نے حضرت عروہ سے روایت کیا ہے کہ سات مسلمان ایسے تھے جن کو کفار مکہ نے اپنے غلام بنایا ہوا تھا جب وہ مسلمان ہوگئے تو ان کی طرح طرح کی ایذائیں دیتے تھے حضرت صدیق اکبر نے اپنا بڑا مال خرچ کر کے ان کو کفار سے خرید کر آزاد کردیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (مظہری)
Ayahs 92:19–21

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور نہیں کسی کا اس پر احسان جس کا بدلہ دے

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

مگر واسطے چاہنے مرضی اپنے رب کی جو سب سے برتر ہے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور آگے وہ راضی ہوگا۔

اسی کے مناسب آیت کا آخری جملہ ہے وما لاحد عندہ من نعمة تجزیٰ یعنی جن غلاموں پر حضرت صدیق اکبر نے یہ احسان عظیم فرمایا کہ زر کثیر خرچ کر کے خریدا اور آزاد کردیا، ان کا کوئی سابقہ احسان بھی ان کے ذمہ نہیں تھا جس کے بدلے میں یہ اقدام کرتے بلکہ الا ابتغآء وجہ ربہ الاعلیٰ یعنی ان کا مقصد اللہ تعالیٰ عالیشیان کی رضا جوئی کے سوا کچھ نہ تھا۔ مستدرک حاکم میں حضرت زبیر سے منقول ہے کہ صدیق اکبر کی یہ عادت بھی تھی کہ جس مسلمان کو کفار کے ہاتھ میں قیدی دیکھتے اس کو خرید کر آزاد کردیتے تھے اور یہ لوگ عموماً صنعفاء ہوتے تھے، صدیق اکبر کے والد حضرت ابوقحافہ نے ان سے فرمایا کہ جب تم غلاموں کو آزاد ہی کرتے ہو تو اتنا کام کرلو کہ ایسے غلاموں کو آزاد کیا کرو جو قوی و بہادر ہیں تاکہ وہ کل تمہارے دشمنوں کا مقابلہ اور تمہاری حفاظت کرسکیں۔ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ میرا مقصد ان آزاد کردہ حضرات سے کوئی فائدہ اٹھانا نہیں بلکہ میں تو صرف اللہ تعالیٰ رضا جوئی کے لئے ان کو آزاد کرتا ہوں۔ (مظہری) ولسوف یرضیٰ یعنی جس شخص نے اپنا مال خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو دیکھا اپنا کوئی دنیوی فائدہ نہیں تکا تو اللہ تعالیٰ بھی آخرت میں اس کو راضی ہی کردیں گے کہ جنت کی نعماء عجیبہ دائمہ نصیب فرما دیں گے۔ شان ناول کے واقعہ سے ان آیات کا صدیق اکبر کی شان میں نازل ہونا ثابت ہے اس لئے یہ آخری کلمہ حضرت صدیق اکبر کے لئے ایک عظیم خوشخبری اور اعزاز ہے کہ ان کو دنیا ہی میں اللہ کی طرف سے راضی کردیئے جانے کی خوشخبری سنا دی۔ تمت سورة الیل بحمداللہ 25 شعبان سن 1391 ھ