Ayah 92:1قسم ہے رات کے رب کی جب وہ چھا جائے
1 ؎ جیسا کہ گزشتہ سورت میں بھی بیان ہوا ہے اور اس سے قبل بھی کہ رات کا چھا جانا اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ایک نشان ہے کہ جس علاقہ کو سورج چھوڑ دیتا ہے اس علاقہ پر رات چھا جاتی ہے اور پھر جوں جوں وہ جتنا جتنا چھوڑ تا جاتا ہے رات بھی اس کے پیچھے اتنے علاقہ کو ڈھانپتی چلی جاتی ہے اور یہ کام اس ترتیب سے جاری وساری ہے کہ اس کے لیے جو نظام بنایا گیا ہے اس میں ایک لمحے کا فرق بھی نہیں پڑتا اور یہ حالت انسان کو باور کراتی ہے کہ اس نظام کا بنانے والا اور اس کو چلانے والا کوئی ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 92:2اور دن کے رب کی قسم جب وہ خوب روشن ہو جائے
2 ؎ جیسا کہ گزشتہ آیت میں بیان ہوا ہے کہ دن آگے آگے ہے اور رات اس کے پیچھے پیچھے ہے ۔ جتنے علاقے کو وہ چھوڑ جاتا ہے اتنے علاقہ پر رات چھا جاتی ہے اور اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگر رات دن کے پیچھے پیچھے ہے تو دن کے آگے آگے کیا ہے ؟ تو اس سوال کا جواب بھی یہی ہے کہ دن کے آگے آگے بھی رات ہے جوں جوں سورج آگے چلتا جاتا ہے رات اس علاقہ کو چھوڑتی جاتی ہے یا جوں جوں رات ایک علاقے کو چھوڑتی چلی جاتی ہے تو دن اس علاقہ کو روشن کرتا چلا جاتا ہے یہ گویا دوسری شہادت ہے جو آنے والے مضمون کو مؤکد کرنے کے لیے پیش کی جا رہی ہے اور دن کو روشن کرنے والی بھی وہی ذات رب ذوالجلال والاکرام ہے جس نے سورج کو پیدا کیا اور اس کے لیے یہ نظام باقاعدگی کے ساتھ چلا دیا اور کروڑوں سال گزر جانے کے باوجود اس میں ایک ذرا بھر کا فرق بھی نہیں آیا۔
Ayah 92:3اس ذات کی قسم جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا
3 ؎ اب غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جس اللہ نے رات بنائی اور دن روشن کیا اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے انسان کو پیدا کیا یعنی انسان کی دونوں اصناف کو جن کو مرد و عورت یا نر و مادہ سے موسوم کیا جاتا ہے دونوں ایک جنس ہونے کے باعث ایک دوسرے کی تکملن کرتے ہیں گویا انسانیت کی تکمیل کے لیے دونوں کا وجود لازم و ضروری ہے ۔ ایک کے ہونے سے انسانیت ادھوری رہتی ہے ۔ دونوں میں کچھ کمزوریاں جن کی تکمیل کے لیے یا یوں کہو کہ جن کو دور کرنے کے لیے دونوں کا وجود لازم و ضروری ہے اور جب دونوں کو فطری طو پر ملنے کا موقع ملتا ہے تو دونوں کی کمزوریاں دور ہوتی ہیں اور یہ بات بھی بطور شہادت پیش کی جارہی ہے اور یہ شہادت معمولی شہادت بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے کسی انسان کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا گیا بلکہ سارے انسانوں کا یہی حال ہے خواہ وہ نیک ہوں یا بد فطری کمزوری سب میں موجود ہے اور سب کا ازالہ ہیں ۔
Ayah 92:4بلا شبہ تمہاری کوششیں مختلف قسم کی ہیں
4 ؎ یہ وہ چیز بیان کی گئی ہے جس کے باعث انسان دوسرے سارے حیوانوں سے امتیاز حاصل کرتا ہے اور اس کو انسان کہا جاتا ہے یہی وہ مختلف کوشش ہے کیونکہ اس اختلاف کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو اختیار و ارادہ دیا جائے تاکہ وہ جو کوشش کرنا چاہے کرے۔ وہ چاہتا ہے تو نیک بن جائے اور وہ چاہتا ہے تو بدبن جائے گویا اس میں دونوں قسم کے مادے رکھ دیئے گئے ہیں اور اس کی فطرت میں جس طرح برائی کی طاقت موجود ہے اسی طرح نیکی کی طاقت بھی موجود ہے اور پھر اس طاقت کو استعمال کرنے کے لیے اس کے پاس اختیار و ارادہ بھی ہے جو دوسری کسی مخلوق میں بھی موجود نہیں ہے ۔ تم غور کرتے جائو کہ اتنے بڑے فلک میں جتنی چیزیں نظرآتی ہیں خواہ کتنی کتنی بڑی اور قومی ہیکل ہیں اور اس طرح اس زمین میں جتنی مخلوق ہے خواہ وہ بڑی ہے یا چھوٹی ہے۔ اس زمین پر غور کرو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان میں سے ایک چیز بھی ایسی نہیں جو صاحب ارادہ اور اختیار ہو ۔ آپ تحدی اور چیلنج سے کہہ سکتے ہیں کہ انسان کے سوا ایک بھی ایسی مخلوق نہیں ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ارادہ و اختیار کی نعمت دی ہو اور جس چیز کو آپ ارادہ اختیار کہہ رہے ہیں اس کو عقل و فکر اور شعور سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ آپ اس طرح کہیں یا اس طرح ایک ہی بات اور ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں ۔ اس مضمون کو گزشتہ شہادتوں سے مؤکد کیا گیا ہے اور یہی مقصود اصل ہے کہ سارے انسان ایک جنس ہونے کے باوجود اپنی سعی و کوشش کے باعث مختلف اقسام کے ہیں اگرچہ ان کی ساری اقسام کو دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ایک ان میں نیکی ہے اور دوسری کا نام برائی ہے۔ جس طرح اس کائنات کی ہر شے جوڑا جوڑا ہے اور کوئی نہیں جو فقط ایک ہو اور جو ایک ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اسی طرح اعمال کا جوڑا جوڑا ہونا بھی ضروری ٹھہرا اور وہ اسی طرح جوڑا ہو سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کی ضد ہوں ۔ سارے انسان من حیث الجنس ایک ہی جنس ہیں لیکن اعمال کے باعث ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دونوں حصوں کے عقائد و نظریات ، افکار و جذبات اور اعمال و کردار میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ بعد ہے اور ہر گروہ اپنی روش پر پختہ اور اپنی منزل پر رواں دواں ہے ۔ اس بات کو بیان کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے کہ جس طرح رات اور دن ، نر اور مادہ الگ الگ ہیں اور ہر ایک کی اپنی خصوصیات اور ان کے الگ الگ نتائج ہیں اسی طرح ان دو گروہوں کے اعمال کی نوعیت بھی جدا جدا ہے اور ان میں کسی قسم کی یکسانیت نہیں ہے ۔ ایک گروہ وہ ہے جو اپنے خالق ومالک کی بندگی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے احکام کی بجا آوری میں کوشاں ہے اور اس کی رضا کا متلاشی ہے اور دوسرا گروہ معبود باطل کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہے اور دنیا کی مخلوق میں سے کوئی چیز نہیں جس کے سامنے وہ سجدہ کناں نہ ہو اور اس طرح اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل میں روز و شب مصروف ہے ۔ عارضی لذتوں اور فانی جاہ و جلال کے حصول کے علاوہ اس کے پیش نظر کوئی منزل نہیں ۔ اس بین تفاوت کے باوجود ان دونوں گروہوں کی جدوجہد یکساں نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس پر ایک جیسے نتائی مرتب ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات ذہن نشین کرانے کے لیے اوپر کی شہادتوں سے اس کو مؤکد کیا گیا ہے تاکہ وہ انسان جو عقل و فکر کی دولت سے مالا مال ہے اس حقیقت کی پہچان کرے اور عقل و فکر سے کام لے اور اب دونوں ہی قسم کے لوگوں کا الگ الگ بیان ہوگا تاکہ اس تمہید کی مزید وضاحت ہوجائے ۔
Ayah 92:5پس جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور تقویٰ اختیار کیا
5 ؎ گزشتہ آیات میں دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے جو آپس میں متضاد ہیں باوجود اس کے کہ دونوں کا تعلق ایک جنس انسان سے ہے لیکن ان کے اعمال نے ان کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں اس گروہ کا ذکر ہے جس کو سعادت مند گروہ ، نیک لوگوں کا گروہ ، اصحاب الیمین کا گرہو ، مخلصین کا گروہ ، پاک سیرت و کردار لوگوں کا اور نام کچھ بھی آپ رکھیں بہر حال یہ وہ گروہ ہے جس گروہ نے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو سچے دل سے قبول کیا ہے اور وہ ہر نیکی کے کام کو دوڑ کر کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو تو وہ پیش پیش ہیں اور نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں وہ کسی سے پیچھے نہیں رہ جاتے بلکہ وہ اس معاملہ میں بہت تیز گام ہیں اور یہ بھی کہ وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ نیکی اور پرہیز گاری کیا ہے اور تقویٰ کس کو کہتے ہیں گویا وہ نقالوں کے ہتھے نہیں چڑھتے اور نمبر 2 کام کرنے والوں سے بھر پور نفرت رکھتے ہیں ۔ یہ بات اس لیے کی گئی ہے کہ بہت سے نقالوں نے نیکی اور پرہیز گاری کے نام پر کتنی چیزیں گھڑلی ہیں اور ان کا نام پرہیز گاری رکھ دیا گیا ہے حالانکہ ان کا نیکی اور پرہیز گاری سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ جس طرح ہر ایک چیز میں ملاوٹ کرلی گئی ہے اس میں بھی اسی طرح ملاوٹ کی ہے کہ ایک بات کو اپنے پاس سے گھڑا کہ جس کا نہ سر ہے اور نہ پیر ۔ اس کا نام دین رکھ لام گیا ہے اور پھر اس کو دین کا کام سمجھ کر کیا جاتا ہے اور اس کو نیکی کہا جاتا ہے حالانکہ یہ بات سو فی صدی جھوٹ ہے ۔ نیکی ہر اس بات کا نام ہے جس کا ثبوت محمد رسول اللہ ﷺ کے قول و عمل سے ہو کیونکہ نیکی اور بھلائی کی دعوت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بھیجا ہے نہ کہ کسی ایرے غیرے اور نتھو خیرے کو ۔ ذرا غور کرو کہ اس وقت جن کاموں کو دین کے کام سمجھ کر کیا جاتا ہے بھلا ان کا کوئی تعلق بھی دین کے کاموں سے ہے ۔ آپ ایک انسان کی پیدائش سے شروع کر کے اس کی موت تک جو جو کام اس وقت دین کے نام سے کیے جا رہے ہیں ایک ایک کا تجزیہ کرتے جائیں اور پھر اس بات کی ٹوہ لگائیں کہ کیا ان کو رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے یا آپ ﷺ نے کرنے کا حکم دیا ہے ؟ اگر یہ بات واضح ہوجائے کہ نہ آپ ﷺ نے کیا اور نہ ہی آپ ﷺ نے حکم دیا تو سمجھ لو کہ یہ کام دین کا نہیں ہے بلکہ دین کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے اور اسی چیز کو ہم نے نمبر 2 قرار دیا ہے آج کل نمبر 2 سے لوگ بات کو سمجھ جاتے ہیں کہ اس میں ملاوٹ ہے ۔ یہ کام ، یہ چیز اصل نہیں ہے پھر جب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ عمل نمبر 2 ہے تو وہ اس کے قریب بھی نہیں جاتے اور جس پر ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کی مہرثبت نظر آتی ہے اس کے کرنے کے لیے وہ بےتاب رہتے ہیں ۔ گویا وہ دین میں اصل اور نقل کی پہچان رکھتے ہیں اور نقل سے اجتناب کرتے ہوئے اصل کے لیے دوڑ کر کرنے کے عادی ہیں اور یہی حال ان کا خرچ کرنے کی راہ میں ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ مال ہمارے پاس موجود ہے لیکن کیا اس کی جگہ خرچ کرنے کا حکم اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ ہاں اس جگہ خرچ کرنے کا حکم موجود ہے تو وہ گنجائش نہیں چاہتے بلکہ بعض اوقات سارے کا سارا مال ہی خرچ کردیتے ہیں اور اگر سارا نہیں تو مال کا ایک حصہ تو وہ ضرور ہی خرچ کریں گے اور دل کھول کر خرچ کریں گے اور بالکل خاموشی کے ساتھ خرچ کریں گے اور دکھاوے کی لعنت سے ہر حال میں بچنے کی کوشش کریں گے کہ ہمارے نام منسوب کر کے اس کا اعلان کیا جائے تب ہماری انا کو تسکین آتی ہے ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ ان کا اصول اللہ نے خود واضح کردیا ہے ۔ آپ اس جلد میں سورة الدہر کی آیت 8 اور 9 کی تفسیر دیکھیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کی حالت کیا ہوتی ہے اور وہ کس انداز میں خرچ کرتے ہیں اور کیوں خرچ کرتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ کس خوشی سے خرچ کرتے ہیں ۔
Ayah 92:6اور ہر نیک بات کی وہ تصدیق کرتے ہیں
6 ؎ گزشتہ آیت میں ان کے تقویٰ اور پرہیز گاری کا ذکر فرمایا اور ان کی خوبیوں کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ٰتقویٰ کو اپنا شعار بنا رکھا ہے ۔ فرائض و واجبات کی ادائیگی میں سرگرم عمل ہیں اور منہیات ، محرمات بلکہ مکروہات کے بھی قریب تک نہیں جاتے ۔ ان کا ظاہر و باطن تقویٰ اور پرہیز گاری کی حالت پر کوئی شخص بھی انگشت زنی نہیں کرسکتا ۔ ان کا نام آئے گا تو تمہاری شہادتیں شروع ہوجائیں گی اور بحمد اللہ مخالفین بھی یہاں تک کہہ دیں گے کہ فلاں کے تقویٰ اور پرہیز گاری اور اخلاق و کردار پر کلام نہیں کیا جاسکتا اگرچہ وہ وہابی ہے ، نیچری ہے ، معتزلہ ہے اور یہ الزام رکھنے والے بیچاروں کو یہ معلوم بھی نہیں کہ یہ کس بلا کا نام ہے ۔ لفظ اس لیے کہا جاتا ہے کہ بعض لوگوں نے محض اس لیے کہ وہ ان کی اختراعی نیکیوں میں شمولیت نہیں کرتے اس طرح کے نام رکھ دیئے ہیں اور لوگوں میں ایسا مشہور کردیا ہے حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں کہ وہ ہر نیکی کی بات کو مانتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ سراسر حق ہے ۔ اس طرح اس جگہ اللہ کے ان نیک بندوں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں : (1) اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور بےدریغ خرچ کرنا (2) تقویٰ و پرہیز گاری کو اپنا شعار بنانا۔ (3) رسول اللہ ﷺ کے تصدیق شدہ اعمال دوڑ کر کرنا اور جن کی تصدیق نہ ہو ان کے قریب نہ جانا اگرچہ لوگ ان کو کتنے ہی نیک کام سمجھے ہیں۔
Ayah 92:7اسے ہم ضررو ہی آسانی کے لیے مواقع میسر کریں گے
7 ؎ گزشتہ دونوں آیات میں جو تین صفات بیان کی گئی ہیں جن کا اختصار ہم نے اوپر تین نمبروں میں دیا ہے فرمایا یہ تین صفات جن لوگوں میں پائی جاتی ہیں ہم ان کے لیے وہ راہ آسان کردیتے ہیں جو انہیں ابدی فلاح اور حقیقی مسرتوں کی طرف لے جانے والی ہے ۔ اس راہ پر چلنے کی لگن ہم ان کے دل میں پیدا کردیتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنی منزل سے والہانہ محبت ہوجاتی ہے اور جو کام دلجمعی اور محبت سے کیا جائے وہ بظاہر کتنا ہی مشکل نظر آئے لیکن وہ بہت آسان ہوجاتا ہے ۔ آپ ذرا غور کریں کہ بندہ عبد الکریم اور تفسیر کا یہ کام اور اس میں کوئی نسبت بھی ہے لیکن یہ اتنا بڑا کام تین ساڑھے تین سال میں ہوجانا کیا کوئی معمولی بات ہے ۔ جب میں دیکھتا ہوں تو واللہ خود حیران ہوجاتا ہوں کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ ۔ لیکن یہ کام اس محبت اور عشق نے کرایا جو بحمد اللہ مجھے اللہ نے اس قرآن کریم کے ساتھ عطا کیا ہے ۔ خاکم بدہن کہ یہ بات میں کسی فخر سے کہوں ، ہرگز نہیں بلکہ میں تو خود تعجب سے کہہ رہا ہوں کہ میری سمجھ میں بھی نہیں آیا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا شائع ہو کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جانا اور بھی بہت بڑی بات ہے اور اگر ان لوگوں پر نظردوڑائی جائے جنہوں نے ان اخراجات کو برداشت کیا ہے تو اور بھی زیادہ تعجب ہوگا کہ نہ بار بار اپیل کی گئی ، نہ کسی سے کوئی خصوصی ملاقات کی گئی اور نہ ہی کسی سیاسی شخصیت سے کسی طرح کا کوئی فائدہ حاصل کیا گیا اور نہ ہی کسی فلاحی جماعت نے اپنا تعاون ہم کو دیا بلکہ چو طرفہ نفرتوں کے باوجود یہ کام چند معدودے آدمیوں نے جن میں کوئی بھی لاکھوں میں نہیں ہوگا اس کام کو اتنے کم عرصے میں کردیا یہ حیرت زا نہیں تو اور کیا ہے لیکن میرا ایمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا فضل شامل ہو تو اللہ خود مسبب الاسباب ہے وہ اس طرح سبب بناتا ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اور جس کو اس نے کرنا ہوتا ہے اس کو کردیتا ہے ۔ لا ریب یہ کام بھی اسی ذات کریمی نے اپنی خاص رحمت سے کردیا جب کہ میری کوئی حیثیت نہیں ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ بحمد اللہ یہ کام ساری مخالفتوں کے باوجود اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں مقبول ہوگا اور وہ خود اسے قبولیت بخشے گا کیونکہ اس کے جتنے کام ہوئے سب کے سب مخالفتوں میں گھر کر ہوئے۔ خادم کے ساتھ کوئی شخص بھی ان تحریرات میں ممدو معاون نہیں تھا پھر ان کے سارے بندوبست مثلاً کتابت ، کمپوزنگ ، پروف ریڈنگ ، طباعت ، جلد بندی اور جز بندی اور دوسرے اس کے متعلق سارے کام بندہ ناچیز نے خود کیے یہاں تک کہ پریس سے واپس مسجد تک لانے میں بھی کسی شخص نے کوئی حصہ نہ ڈالا ۔ پھر اس کے ہر معاملہ میں بعض لوگوں نے مزاحمت کی بھر پور کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم نے کسی معاملہ میں مجھے مایوس نہ کیا اور ہر راستہ میں آتے دیر لگائی لیکن جاتے ذرا بھی دیر نہ لگائی لیکن ان روڑوں کے لانے والے لوگ تھے اور ان کو ہٹانے والا میں نہیں تھا بلکہ میرا پروردگار تھا جس پر میرا سارا انحصار تھا ، ہے اور رہے گا ۔ جیسا کہ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم آسان کردیں گے اس کے لیے آسان کرنا اور یہ بات کن لوگوں کے حق میں ارشاد فرمائی ؟ ان لوگوں کے حق میں جن میں گزشتہ آیات میں بیان کردہ تین باتیں پائی جائیں جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کو جس بندہ سے لیتا ہوتا ہے اس کے لیے اس کو آسان کردیتا ہے اور اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کام میرے لیے آسان کیسے کردیا گیا اور یہی چیز دراصل معاونت پر دال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معاونت اس کو حاصل ہے۔
(فسنیسرہ) کے متعلق تحریر ہے کہ : اصل التیسیربمعنی السھولۃ لکن ارید التھیۃ والا عداد الا ھو یعنی تیسر یسر سے باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اس کے اصل معنی آسانی اور سہولت کے ہیں لیکن یہاں اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کام کے لیے کسی کو مستعد اور تیار کرنا کیونکہ عرب جب گھوڑے پر زین ڈال کر اس کے منہ میں لگام دے کر سواری کے لیے بالکل تیار کردیتے تھے تو کہتے ہیں لیسر الفرس للرکب اذا اسرجھا والجمھا اس سلسلہ میں ایک ارشاد نبی اعظم و آخر ﷺ کا سن لینا بھی برکت کے لیے کفایت کرے گا اور عزم کرنے والوں کے لے آسانی پیدا ہوگی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ( اعملواوسدود او قاربو افکل میسر لما خلق لہ ای مھیئًا) ” نیک اعمال کرو ، راست روی اختیار کرو ، میانہ روی سے کام لو ہر شخص جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو استعدادبھی اس میں رکھ دی گئی ہے۔ “ مشکل کام تو یہ ہے کہ جب کسی شخص کو اس فطرت کے تقاضوں کے خلاف کوئی کام کرنے پر مجبور کیا جائے تو اسے قدم قدم پر اپنی فطرت سے جنگ کرنی پڑتی ہے اور اپنے جذبات سے بر سر پیکار ہونا پڑتا ہے اور اپنے مزاج کی مخالفت کرنا پڑتی ہے اور وہ کام واقعی بڑا کٹھن اور مشکل ہوتا ہے اور اگر غور سے سمجھنے کی کوشش کرو گے تو آج یہی انسانی نفسیات کا ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ بن کر رہ گیا ہے اور فلسفہ والے کہتے ہیں کہ بچہ کی طبیعت اور طبعی رجحان دیکھ کر اس کے لیے کوئی راہ متعین کرو تاکہ وہ نا کام نہ ہوجائے کیونکہ جو بات ، جو چیز ، جو علم اس کی استعددا کے خلاف ہوگا وہ اس سے نفرت کرے گا اور جس سے نفرت کرے گا اس کا سھنایو اور حاصل کرنا اس کے لیے وبال جان بن کر رہ جائے گا ۔ زیر نظر آیت کے ان دونوں الفاظ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ جو شخص نیک اعمال کرتا ہے اس میں مزید نیک کام کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے اور جب وہ راہ راست پر گامزن ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مزید آگے بڑھنے اور بلند ترین منزل پر خیمہ زن ہونے کا شوق پیدا کردیتا ہے جس کے باعث ہر نیک کام اس کے لیے آسان سے آسان تر ہوجاتے ہیں ۔ اب تم غور کرلو کہ اس فلسفہ کے بیان کرنے والے بعد میں آئے یا قرآن کریم بعد میں آیا اور اس طرح یہ بات بھی خود سمجھ لو کہ بعد میں آنے والا پہلے سے استفادہ حاصل کرنا ہے یا پہلے آنے والا بعد میں آنے والے سے ۔ قرآن کریم نے جو اصول بتایا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لو تاکہ فیصلہ کرنے میں تم کو آسانی ہو ۔ قرآن پاک میں بعض یہودیوں نے یہ بڑب کی کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور نصاریٰ نے کہا کہ نہیں نصاریٰ تھے اور اسلام ابھی بالکل خاموش تھا کہ قرآن کریم نے یہود و نصاریٰ کو جواب دے دیا کہ عقل کے اندھوں ذرا یہ بات تو بتلائو کہ ابراہیم (علیہ السلام) پہلے آئے یا تورات و انجیل پہلے تھی ؟ پھر ان لوگوں نے تصدیق کی کہ بات تو یہ بالکل صحیح ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تورات و انجیل سے بہت عرصہ پہلے آئے اور یہودیت و عیسائیت بہت بعد میں آئی ۔ اچھا تو معلوم ہوگیا کہ بعد میں آنے والا پہلے آنے والے کی بات پر تو ہو سکتا ہے لیکن پہلے آنے والا بعد میں آنے والے کی بات پر نہیں ہو سکتا ۔ پھر ان سے کہا گیا کہ تف ہے تم پر کہ تم لوگوں کی مت کیوں ماری گئی کہ تم نے پہلے آنے والے کو بعد میں آنے والے کے دین پر کہہ دیا ۔ ذرا عقل کے ناخن لو اور سوچو کہ تم نے کیا کہہ دیا ۔
Ayah 92:8اور جس نے بخل کیا اور بےپروائی کا اظہار کیا
8 ؎ یہ بات پیچھے بھی بہت دفعہ بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی اہل سعادت کا ذکر کیا وہاں اہل شقاوت کے بیان کو بھی ساتھ رکھا اور جہاں اہل شقاوت کو بیان کیا وہاں اہل سعادت کے ذکر کو بھی ساتھ رکھا۔ زیر نظر آیت میں بھی اہل شقاوت کا باون ہے اور ظاہر ہے کہ اس جگہ بھی وہ اہل سعادت کے ذکر کے بعد آ رہا ہے گویا اصل مقصد تو ذکر اہل سعادت ہی کا تھا لیکن اس کی تکمیل اہل شقاوت کے بیان کے علاوہ ممکن نہ تھی اس لیے اس کے ساتھ ہی اہل شقاوت کا بیان بھی دے دیا گیا ۔ اہل شقاوت کون لوگ ہیں ؟ وہی جو اہل سعادت کی ضد ہیں اور قبیح عادات اور خصائل کے متحمل ہیں اس لیے اب ان پر مرتب ہونے والے روح فرسا نتائج و اثرات کا بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا ان کی ایک خصلت تو یہ ہے کہ راہ حق میں ایک پائی خرچ کرنا ان کے لیے محال ہے لیکن جہاں ان کے نام و نمود کی بات ہو تو وہ اس جگہ بےدریغ دولت لٹا سکتے ہیں اور اپنی بزم عیش و طرب سجانے کے لیے وہ پانی کی طرف دولت بہا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ان کے لیے خرچ کرنا بہت ہی شاق گزرتا ہے۔ یہ بات ان کے کانوں تک روز پہنچاتے رہو ۔ قرآن کریم کی آیتیں پڑھ پڑھ کر ان کو سنائو بس ایسا ہی ہے جیسے بھینس کے سامنے بین بجانا ہے۔ دعوت کو اسلام کو کامیاب بنانے کے لیے اگر ان کی دولت کی ضرورت ہو تو ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور ایک پائی کا خرچ کرنا بھی ان کو دشوار نظر آنے لگتا ہے اور اس کی بھول کر بھی کبھی ان کو توفیق نہیں ہوتی ۔ ان کی ساری تگ و دو دنیوی شہرت اور نا موری کے لیے ہوتی ہے اور انہوں نے اپنی آخرت کو بالکل بھلا دیا ہے۔ ان کا رب وہ کچھ بھی کریں کبھی ناراض ہی نہیں ہوتا کیونکہ ان کے پاس دولت کے ڈھیر ہیں اور رب کے راضی ہونے کا یہی ان کے ہاں معیار ہے۔ رب جب ان سے راضی ہوتا ہے تو ان کو دولت دیتا ہے پھر جس طرح وہ چاہتے ہیں اللوں تللوں میں خرچ کرتے ہیں ۔ اگر اللہ کو ان کی یہ حرکتیں پسند نہ ہوتیں تو آخر وہ اتنی وافر دولت ان کو کیوں دیتا ؟ غور کرو کہ دولت ہے تو ان کے پاس ، عہدے ہیں تو ان کے پاس ، اقتدار ہے تو ان کے پاس ، لوگوں کی آمدورفت ہے تو ان کے پاس ، نام پوچھا جاتا ہے تو ان کا پھر اس سب کچھ ہونے کے باوجود رب ان سے راضی نہیں تو وہ ان کے ساتھ راضی ہے جن کے پاس دن کا ہے تو رات کا نہیں اور ان کے نام تک کوئی جانتا نہیں یہ تو ایسے ہی ہے جیسے آنکھوں دکھائی نہ دے اور نام نور بھری۔
Ayah 92:9اور اچھی بات کو جھٹلایا
9 ؎ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے جن اعلیٰ اور عمدہ باتوں کی انہیں تعلیم دی ہے ، جن ابدی صداقتوں اور لازوال سچائیوں سے انہیں آگاہ کیا ہے ان سچائیوں کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے اور نہ صرف یہ کہ وہ ان کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ ان کو جھٹلاتے ہیں ۔ ان کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں پھر جب ان کی یہ عادتیں اور خصلتیں ہیں تو آپ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ ان کی جدوجہد اور ان پاکبازوں کی سعی و کوشش کیسے یکساں ہو سکتی ہے اور اس طرح ان کے نتائج کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں اور یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ جس طرح عمل اور اس کا نتیجہ ان کے نتائج کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں اور یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ جس طرح عمل اور اس کا نتیجہ لازم و ملزوم ہیں اسی طرح جیسا عمل ویسا نتیجہ بھی لازم ہے کیونکہ یہ نتیجہ اس دنیا میں دنیا والوں سے نہیں دیا جانا ہے کہ اس میں کسی طرح کا شک و شبہ ہو بلکہ اس کا نتیجہ آخرت میں جو ظاہر ہونے والا ہے اس کی بات ہے اور ظاہر ہے کہ یہ نتائج اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے جانے والے ہیں۔
Ayah 92:10اسے ہم تکیفچ کا سامان بہم پہنچائیں گے
10 ؎ (عسری) سختی ، دشواری ، سخت چیز ، مشکل کام عسر سے افعل التفعیل کا صیغہ واحد مؤنث اعسر کی تانیث ہے۔ مفسرین نے ( عسرٰی) سے عذاب مراد لیا ہے۔ ( تاج العروس) جن کی مت الٹی ہوجائے اور وہ ہر سیدھی بات کو الٹا اور الٹی بات کو سیدھا سمجھنے لگتے ہیں اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم سورة الانعام کی آیت 125 کے تحت کرچکے ہیں وہاں سے تفصیل ملاحظہ کریں ۔ فرمایا جن کا طریقہ کار ایسا ہو ان کی یہ سزا دی جاتی ہے کہ ان کے دلوں میں ان کر تو توں کی محبت پیدا کردی جاتی ہے جو انہیں جہنم کی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں ۔ بلا شبہ ان کی نیکیوں سے نفرت ہوجاتی ہے اور وہ گندگی کے کیڑوں کی طرح فسق و فجور کی غلاظتوں میں بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ شراب نوشی اور بد کاری سے ان کا لگائو اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا مال اور اپنی جائیداد تک ان کی راہوں میں نچھاور کردیتے ہیں اور پھر صرف شراب پینے والے کیا شراب ہی پر بس کرتے ہیں ؟ انہیں اس کے لوازمات میں ان کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے اور وہ سب کچھ ان کے لیے آسان کردیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو نہ تو اپنی عزت کا کبھی خیال آیا ہے اور نہ دوسروں کی عزت کو وہ کبھی عزت سمجھتے ہیں ۔ وہ اپنا آپ بھی تباہ کرتے ہیں اور کتنے ہی دوسرے ہیں جن کی تباہی کا وہ باعث بنتے ہیں ۔ شرم و حیا نام کی کوئی چیز ان کے ہاں نہیں ہوتی اور ان کو آپ لاکھ سمجھائیں وہ کبھی آپ کی بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔
Ayah 92:11اس کا مال اس کو کبھی فائدہ نہ پہنچائے گا جب وہ ہلاکت میں گرے کا
11 ؎ دنیا کا مال تو دنیا میں رہ گیا اس کے ساتھ جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نہ کوئی لے کر گیا اور نہ لے جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی لے جائے گا ، ہاں ! پیچھے سے بھیجنے والے اور پہنچانے والے اپنا زور لگا رہے ہیں اور شور و غوغا انہوں نے مچا رکھا ہے کہ ہم مرنے والوں کو مال و دولت ، زمینیں ، کپڑے ، مکان اور دوسرے سامان جو ہم کو دیئے جاتے ہیں ہم ان تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ یہ سب جھوٹے ہیں اور جھوٹ بول کر لوگوں کا مال لوٹ رہے ہیں اور اندھے ، بہرے ہیں وہ لوگ جو انکے پھندوں میں پھنس کر اس خوش فہمی کے تحت انکو دے رہے ہیں کہ یہ ہمارے بزرگوں کو ہمارا لایا ہوا مال پہنچا دیتے ہیں ۔ لا ریب یہ مال ان کو پہنچتا ہے جن کو تم لوگ دیتے رہے ہو اور انہوں نے نو سر بازوں کی طرح تم کو اپنی نو سر بازی کا شکار بنا رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ جب ان کو اس نو سر بازی سے مال مل رہا ہے اور دینے والے اندھا دھند دے رہے ہیں تو وہ اس جھوٹ سے کیونکر باز آئیں گے اور اس مفت کے کاروبار کو وہ کیونکر چھوڑ دیں گے۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جس مال کی محبت میں آج وہ مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ جائز و ناجائز ، حرام و حلال کے درمیان امتیاز بھی نہیں کرتے جب ان کو بھڑکتی ہوئی آگ میں دھکیل دیا جائے گا اس وقت وہ دل و جان سے چاہیں گے کہ ان کی ساری جائیداد لے لی جائے ، ان کے سب کارخانے اور مال و دولت لے لیے جائیں لیکن ان کی جان بخشی کی جائے لیکن اس روز ان کی کوئی بات نہ سنی جائیگی اور ان کی سب فرما دیں صدا بصحرا ثابت ہوں گے اور ان کی ساری پیش کشوں کو ٹھکرا دیا جائے گا ( تردی) وہ نیچے گرا ۔ وہ گڑھے میں گر اتردی سے جس کے معنی گڑھے میں گرنے اور اپنے آپ کو ہلاکت کے لیے پیش کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔
Ayah 92:12بلا شبہ ہدایت دینا ہمارے ہی اختیار میں ہے
12 ؎ ہدایت دینا اللہ کے اختیار میں ہے پھر وہ دیتا کیوں نہیں ، دیتا ہے اور ضرور دیتا ہے لیکن اس کو جو لینا چاہیے جو خود ہدایت لینا نہ چاہے اس کو وہ بزورہدایت دے دے یہ نہ تو اس نے کہا اور نہ ہی وہ کبھی ایسا کرتا ہے۔ اس نے ہدایت حاصل کرنے کے لیے ایک قانون بنا دیا ہے اب جو شخص بھی اس قانون کے مطابق ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو ہدایت دی جاتی ہے اور جو اس قانون کے مطابق ہدایت کے لیے کوشاں نہیں ہوتا اس کو ہدایت نہیں دی جاتی اور یہی اصول ہر معاملہ میں اس نے بنارکھا ہے۔ اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم سورة الواقعہ آیت 58 کی تفسیر میں آئے ہیں ۔ غور کرو کہ ہم ، آپ اور سب کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے لیکن کیا ایسے ہی پیدا کردیا ہے یا اپنے کسی خاص قانون کے تحت پیدا کیا ہے ؟ بلا شبہ اس نے اپنے ایک خاص قانون کے تحت پیدا کیا ہے۔ ہاں ! اگر وہ نہ چاہتا تو ہم کبھی پدیا نہ ہو سکتے۔ دنیا میں جو کچھ ہے سب کا خالق حقیقی اللہ تعالیٰ ہے لیکن ہر ایک چیز کے لیے اس نے ایک قانون بنایا ہے اور اسی قانون کے تحت وہ کام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے ایک قانون بنایا ہے اور اس قانون کے تحت وہ ہدایت تقسیم کرتا ہے۔ پہلے اس نے انبیاء و رسل (علیہ السلام) کا نظام قائم کیا ، ان پر اپنی کتابوں کو نازل کیا جیسے ہماری ہدایت و رہنمائی کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کی معبوث فرمایا اور آپ ﷺ کے سینہ اقدس پر قرآن کریم نازل فرمایا لیکن کیا ہم سب کے سب ہدایت پا گئے اور اب ہم میں کوئی بغیر ہدایت کے نہ رہا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت الٰہی بد ستور موجود ہے لیکن ہم میں سب بہت کم ہیں جو ہدایت کے طالب ہیں اور ہدایت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور پھر جو نہ تو ہدات کے طالب ہیں اور نہ ہی ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں کیا ان کو ہدایت مل رہی ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ راہ دکھانا ہمارا کام ہے اور اس راہ پر چلنا انسان کا کام ہے۔ حق و باطل کو الگ الگ کردینا ہمارا کام ہے اور باطل کو چھوڑ کر حق کو اختیار کرنا اس کا کام ہے اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے مختصراً یوں سمجھاجا سکتا ہے کہ جس کی چیز ہو اسی کا حق ہوتا ہے کہ وہ دے۔ جب ہدایت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو اس کا حق ہے کہ وہ ہدایت دے لیکن اتنا غور کرلو کہ جس کی چیز ہوتی ہے وہ بھی اسی کو دیتا ہے جو اس کا طالب ہو اگر کوئی لینے والا ہی نہ ہو ، کوئی طلب ہی نہ کرے تو پھر وہ کیا کرے جس کی چیز ہے ؟ یہی کہ وہ اپنی چیز اپنے پاس رکھے۔ بس یہی زیر نظر آیت میں کہا گیا ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن وہ اس کو دیتا ہے جو اس کی طلب کرتا ہے۔
Ayah 92:13اور بلا شبہ آخرت اور دنیا ہمارے ہی ہاتھ میں ہے
13 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کو سمجھنا زیر نظر آیت کے مضمون نے نہایت آسان کردیا ہے کہ تم صرف یہ نہ سمجھو کہ ہدایت میرے پاس ہے اور میں جس کو چاہتا ہوں اس کو دیتا ہوں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میرے ہاتھ میں ہے میں دیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں ۔ اب غور کرو کہ دناا کن کے پاس ہے اور جن کے پاس جتنی وہ زیادہ ہے آپ دیکھیں گے کہ اتنے ہی وہ زیادہ طالب ہوں گے جن کو اس نے دنیاوی ہے اب ظاہر ہے کہ طلب کرنے والا تو دنیا طلب کرے اور دینے والا اس کو آخرت دے دے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ بلکہ ہوگا تو وہی جس کے ہونے کا حق ہے اور حق یہ ہے کہ جو مانگنے والا مانگتا ہے اور دینے والا اس کو دے دے اور یہی ہوا ہے اور یہی بیان کیا جا رہا ہے کہ مانگنے والا دنیا کے طالب ہیں وہ دنیا طلب کرتے ہیں اور میں ان کو دنیا دے دیتا ہوں اگر مجھ سے کوئی آخرت طلب کرے گا تو آخر میں اس کو کیوں نہیں دوں گا ؟ یقینا دوں گا لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ طلب کرنے والا تو مجھ سے دنیا طلب کرے اور میں اس کو آخرت دے دوں۔
Ayah 92:14پس میں تم کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے خبردار کرتا ہوں
14 ؎ ( تلظی) وہ بھڑکتی ہے۔ وہ شعلہ مارتی ہے ۔ ” تلظی “ سے جس کے معنی آگ کے لپیٹیں مارنے ، شعلے بلند کرنے اور بھڑکنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے ۔ اصل میں تتلظی تھا ایک تاء حذف ہوگئی ہے اور یہ قاعدہ کے مطابق ہے۔ قاعدہ سے ہماری مراد اہل زبان سے ہے یعنی اہل زبان ایسا کرلیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں تم کو متنبہ کرتا ہوں ان کاموں سے جن کا نتیجہ بھڑکتی ہوئی آگ ہوتا ہے اگر تم وہ کام کرو گے جن کا نتیجہ میں بھڑکتی ہوئی آگ ہی دی جاسکتی ہے تو لاریب میں تم کو وہی دوں گا یعنی بھڑکتی ہوئی آگ ہی دوں گا اور یہ میری رحمت کا تقاضا ہے کہ میں تم کو پہلے بتا دیتا ہوں کہ میں طلب کے مطابق دیتا ہوں کیونکہ یہی میرا قانون ہے اس لیے اچھی طرح سمجھ لو کہ آگ کے شعلے اور لپیٹیں کوئی اچھی چیز نہیں ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرو نہ کہ ان کو حاصل کرنے کی اور بچنے کی کوشش یہی ہو سکتی ہے کہ تم وہ کام نہ کرو جن کے نتیجہ میں میرے ہاتھ آگ کی لپیٹیں ہیں گویا بھڑکتی ہوئی آگ ہے بلکہ تم وہ کام کرو جن کے بدلے میں میں تم کو آخرت کی ہدایت دے دوں جو تمہارے لیے نہایت مفید اور بہتر چیز ہے ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تم طلب کیا کرتے ہو شعلوں والی آگ یا آخرت میں کام آنے والی ہدایت اور یہ دونوں چیزیں تمہارے اعمال کے نتائج کے نام ہیں جو کوئی بوتا ہے وہی کاٹتا ہے اور وہ وہی کاٹتا ہے جو میں اگاتا ہوں اور میرا قانون ہے کہ بونے والا جو بوئے گا وہی میں اگائوں گا بلا شبہ اگر اس نے غلطی سے کچھ بو دیا ہے تو میرا قانون اس کی غلطی کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ وہی کچھ اگا دیتا ہے جو بونے والے نے بویا خواہ غلطی سے بویا ، ہاں ! جب وہ اگ آیا اور اب اس کو پتہ چل گیا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی کہ میں نے بونا کچھ تھا اور بو کچھ دیا تو اب فوراً ہل چل کر اس چیز کو ختم کردے اور اس کی جگہ درست چیز بو دے اور ایسے طریقے موجود ہیں کہ اگر کچھ دیر ہوچکی ہے ، فصل ذرا لیٹ کات ہوئی ہے تو پھل دینے میں وہ اچھا دے سکتی ہے بشرطیکہ تم اس کی پرورش پر زیادہ زور لگائو یا نتیجہ میں تم کو کچھ کم فصل حاصل کرو گے اتنی نہیں ہوگی جتنی بروقت کاشت کرنے سے ہوتی ہے پھر اس کی مزید وضاحت آگے آنے والی آیت میں کی جارہی ہے۔
Ayah 92:15اس میں سوائے بد بخت کے کوئی داخل نہ ہو گا
15 ؎ میری جلائی ہوئی اس شعلوں والی آگ میں کون داخل ہوتا ہے ؟ فرمایا وہی جو نہایت بد بخت ہے اور اپنی بد بختی اور بد نصیبی کے باعث وہی کام کرتا ہے جن کاموں کے نتائج میں میں اپنے قانون کے مطابق وہ شعلوں والی آگ ہی دیتا ہوں ۔ ہاں ! آج تک میں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ کسی کی طلب کے خلاف دے دیا ہو ، ہاں ! یہ میری رحمت کا تقاضا ہو سکتا ہے کہ مانگنے والا تو اپنی بد بختی کے باعث شعلوں والی آگ ہی مانگ رہا ہے لیکن میرے قانون رحمت نے اس کو ٹال دیا اور اس کو دینے میں جلدی نہیں کی اس لیے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اس آگ میں نہیں جلتا مگر وہی بد بخت جو اس میں جلنے کے لیے آگے آگے بڑھتا ہے حالانکہ وہ دیکھ رہا ہے کہ یہ آگ ہے اور اس کو میرے قانون کا بھی معلوم ہے کہ جو آگ کی طرف بڑھے گا آگ اس کی بھسم کر دے گی۔
Ayah 92:16جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرلیا
16 ؎ گزشتہ آیت کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ وہ نامراد اور بد بخت کون ہے ؟ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ وہی ہے جو حق کو جھٹلاتا ہے اور حق سے منہ پھیرتا ہے پھر جب ہم نے بر وقت انہیں خبردار کردیا ہے لیکن اس کے باوجود جو لوگ راہ حق اختیار نہیں کرتے اور غلط راستوں پر چل نکلتے ہیں تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ یہی کہ وہ سیدھے جہنم میں جا گرتے ہیں تو یہ ان کی بد بختی اور شقاوت ہے کہ باوجود سیدھی راہ بتانے کے پھر وہ اس راستہ پر نکل کھڑے ہوتے ہیں جو جنت کی طرف نہیں بلکہ دوزخ کی طرف جاتا ہے تو ظاہر ہے جدھر وہ چل رہے ہیں اس طرف سے وہ قریب پہنچ رہے ہیں اور انجام کار جب ان کی منزل قریب جا لگے گی تو وہ دھڑام سے سیدھے دوزخ میں جا گریں گے اور یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ دوزخ میں جا گرنا یا داخل ہوجانا دونوں آسان ہیں لیکن وہاں سے نکلنا نہایت مشکل ہے اس کی مثال بالکل چوہوں کے پنجرے کی ہے کہ وہ آرام سے داخل ہوتے ہیں لیکن واپس نکلنے کا پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayah 92:17اور اس سے پرہیز گاروں کو یقینا دور رکھا جائے
17 ؎ اس بھڑکتی ہوئی آگ دوزخ سے وہی شخص اور قوم بچائی جائے گی جو اپنی پرہیز گاری کے باعث اس بھڑکتی ہوئی آگ یعنی دوزخ سے الگ رہے گی۔ ( یتجنبھا) واحد مذکر غائب مضاع تجنب مصدر تفعل ھا ضمیر مفعول اس کو ترک کرتا ہے۔ اس سے دور ہوتا ہے یعنی اس کی طرف توجہ نہیں کرتا ۔ جنب مصدر ( نصر) کسی چیز کو کسی سے دور کرنا ، دفع کرنا ، کسی کے پہلو پر مارنا ۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ سے وہی دور کیا جائے گا جو پرہیز گاری اختیار کرے گا اور برے کاموں سے دور رہے گا ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ انسان تو ساری زندگی برائیاں کرتا رہے اور نیکی کے قریب تک نہ جائے لیکن جب قیامت آئے تو ان بروں ہی کو اٹھا کر جنت میں داخل کردیا جائے تو یہ ظلم ہوا نہ کہ عدل ہوا اور ظلم اللہ تعالیٰ کی ذات سے محال ہے۔
Ayah 92:18جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تاکہ تزکیہ حاصل کرے
18 ؎ یہ وضاحت کی جا رہی ہے کہ گزشتہ آیت میں جو لفظ آیا ہے ( الا تقی) اس کی ۔ وہ بہت ڈرتا ہے فرمایا وہ بڑا ڈرانے والا اور بڑا پرہیز گار کون ہے ؟ وقی سے جس کے معنی بچنے اور پرہیز گاری کرنے کے ہیں ۔ فرمایا وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰ کی رضا ان کو مطلوب ہے۔ ہیں تو سب کے سب انسان لیکن ایک طرف وہ انسان ہیں جن کو قرآن کریم نے ( اشقی) قرار دیا ہے اور دوسری طرف وہ انسان ہیں جن کو قرآن کریم نے ( اتقی) قرار دیا ہے۔ کچھ وہ ہیں جو تکذیب کر رہے ہیں اور اسلام سے روگردانی اختیار کر رہے ہیں اور ایک طرف وہ ہیں جو اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہیں اور وحدت حق کو کامیاب کرنے کے لیے بصد خوشی اپنا سارا مال و متاع قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے ہیں ۔ دونوں گویا ایک دوسرے کی ضد ہیں پھر دونوں کا انجام ایک جیسا کیسے ؟ لاریب ان کے انجام میں اتنا ہی بعد ہے جتنی ان کے فکر و عمل میں تفاوت ہے۔ ( یتزکی ) واحد مذکر غائب مضارع تزکی مصدر تفعل پاک ہوجائے۔ یعنی وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے اور اس کا مقصد اس مال کے خرچ کرنے سے کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مال کو خرچ کر کے پاک ہوجائے۔
Ayah 92:19کسی کا اس پر احسان نہیں جس کو اتارنے کے لیے وہ خرچ کرتا ہے
19 ؎ گزشتہ آیت میں مال خرچ کرنے کا ذکر تھا اور اس بات کا کہ اس کا مال خرچ کرنا تزکیہ نفس کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے۔ زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان لوگوں میں سے جو شخص بھی اپنا مال خرچ کرتا ہے وہ کسی کا احسان اتارنے کے لیے خرچ نہیں کرتا اور کسی کی نیکی اور حسن سلوک کا معاوضہ ادا کرنے کے لیے نہیں خرچ کرتا بحمد اللہ اس کی نیت ان تمام آلائشوں سے پاک ہے ، اس کے پیش نظر فقط ایک ہی مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنا محنت سے کمالا ہوا خرچ کرنے کے لیے بےتاب ہے اور دل کی خوشی کے ساتھ مال کو خرچ کرتا ہے اس کو خواہ مخواہ کا بوجھ نہیں سمجھتا اور اس بات سے کون واقف نہیں کہ بوجھ سمجھ کر خرچ کرنے اور خوشی سے خرچ کرنے میں کیا فرق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں آج کل مال خرچ کرنے کے جتنے طریقے ہیں سب کے سب اختراعی اور بناوٹی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اکثریت جس طرح مال خرچ کرتی ہے تو اس مال خرچ کرنے میں کم از کم 90 فی صد بوجھ سمجھ کر ہی خرچ کیا جاتا ہے ، خوشی کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں ۔ مال خرچ کرنے کے جتنے راستے قرآن کریم میں ذکر کیے گئے ہیں وہ سب طریقے ہمارے ہاں بھی رواج پذیر ہیں لیکن ان کی شکل بالکل بدل دی گئی ہے اور ان طریقوں کو غیر اسلامی طریقے بنادیا گیا ہے ۔ زیادہ بحث کی ضرورت نہیں فقط ایک ہی چیز کو لے لو کہ عزیزوں اور رشتہ داروں میں مال صرف کرنے کا حکم ہے اور ہمارے ہاں اس کا رواج بھی قدرے موجود ہے لیکن ہمارے جتنے طریقے مال خرچ کرنے کے اس طرح کے موجود ہیں وہ سب کے سب مال خرچ کرکے اس کو زیادہ کر کے واپس کرنے کے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مال خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ دوسروں کو مقروض بنانا ہے کہ خواہ کسی کو قرض کی ضرورت ہے یا نہیں ان کو بزور قرض دو اور کال اس کا دوگنا واپس لے لے اور اس طرح اس کا سود بھی نہیں سمجھا جاتا اور سود ہی نہیں بلکہ اس کو سود در سود کہا جائے تو بھی جائز اور درست ہے اور یہی حال والدین پر خرچ کرنے کا ہے اور یہی حال مال پر اولاد خرچ کرنے کا اور اس کے علاوہ مردوں کے لیے مال خرچ کرنے کے بہت سے طریقے وضع کرلیے گئے ہیں جن کی وکالت ملائیت کر رہی ہے کیونکہ ان کو اپنی وکالت کی خاصی فیس مل جاتی ہے اس لیے وہ مذہب کے نام پر اس مال کو خرچ کرنے کے ضمانت نامے دیتے ہیں حالانکہ یہ ضمانت نامے یا تو فرضی اور بناوٹی ہیں یا ان کی شکل و صورت کو بگاڑ کر کچھ سے کچھ بنا دیا گیا ہے جس سے اس کا حلیہ بہر حال بگاڑ دیا گیا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ قرآن و سنت کا نام لے کر گزشتہ مرنے والوں کو اس کے جواز میں پیش کیا جاتا ہے اور اس کیکر چڑھ کر بیر اترنے کا کردار ادا کیا جاتا ہے ۔ یا اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ ہاتھی کے دانت ہیں جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔
Ayah 92:20ہاں ! مگر اپنے رب اعلیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے
20 ؎ زیر نظر آیت کے مضمون نے مزید وضاحت فرما دی ہے اور یہ کہ کسی احسان کرنے والے پر بھی احسان کیا جاسکتا ہے اور اس کو بھی احسان اور نیکی ہی کہا جائے گا اس کی نفی نہیں کی جائے گی لیکن اس میں ایک شرط ہے کہ وہ یہ کہ جس نے پہلے احسان کیا ہے اس نے اس نیت سے نہ کیا ہو کہ کل اگر میرے ساتھ ایسا معاملہ پیش آیا تو وہ جس کے ساتھ آج بھی احسان کر رہا ہوں کل وہ میرے ساتھ اتنا ہی نہیں بلکہ اسے دوگنا یا سہ گنا کرے گا اس طرح پہلے احسان کرنے والے نے بھی دراصل کوئی احسان نہ کیا اور دوسرے نے بھی کی گئی نیکی کا بدلہ اتارا اس طرح ان دونوں کی نیت کے فطور سے مال کے خرچ کرنے میں فطور آگیا ۔ اگر دونوں طرف نیت درست ہو تو ایسا نہ ہوتا بلکہ یہ نیکی نیکی ہوتی۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عمل میں کسی حد تک نیت کا بھی اثر ہوتا ہے اور اس میں رب کریم کے تصور میں الاعلیٰ کا جو تصور دیا گیا ہے وہ محض تصور ہی نہیں بلکہ وہ سب سے بلند ہے ایسا بلند کہ اس سے بلند اور کوئی نہیں پھر وہ اس کی خوشنودی کا خیال آخر کیوں نہ رکھے جب کہ اور کوئی نہیں جس کی خوشنودی کا خیال اس کو رکھنا چاہئے۔
Ayah 92:21اور وعدہ الٰہی ہے کہ وہ شخص عنقریب خوش ہوجائے گا
21 ؎ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا چاہے گا تو پھر ایسا کیوں نہیں ہوگا کہ اس کا اللہ اس سے راضی ہوجائے ، وہ ضرور اپنے بندہ سے راضی ہوجائے گا کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ جو شخص اس کی طرف ایک بالشت آگے بڑھتا ہے وہ اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے اور جو شخص اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھے وہ اس کی طرف ایک باغ بڑھتا ہے۔ ( برضیٰ ) کا فاعل کون ہے ؟ اگر فاعل اللہ تعالیٰ ہے تو اوپر بیان کیا گیا مضمون صادق آتا ہے اور اگر فاعل بندہ ہے تو اس کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر اپنی نعمتوں کی بارش کرے گا تو یقینا بندہ بھی اپنے رب کریم کے لطف و کرم اور جو دو عطا کی اس بارش سے خوش ہوجائے گا جس کا نتیجہ بندہ کے حق میں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام حاصل ہونے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اسی مضمون پر ہم سورة الیل کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ۔ رب اغفروارحم وانت خیر الراحمین انت ولی فی الدنیاوالاخرۃ۔