92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 92:1–2

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

قسم ہے رات کی جب وہ چھپالے

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور قسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہوجائے

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة واللیل اذا یغشی مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ بیہقی نے اپنی سنن میں جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ظہر اور عصر کی نمازوں میں آیت ولیل اذا یغشی اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ دنیا کے درخت کے بدلے جنت میں کھجور کا درخت 4۔ ابن ابی حاتم نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا کھجور کا درخت تھا اور اس کی شاخیں ساتھ والے ایک غریب اور عیال دار آدمی کے گھر میں تھیں۔ وہ آدمی جب آتا اور اپنے گھر داخل ہو کر کھجور پر چڑھتا تاکہ اس سے پھل کو توڑے کبھی کھجور نیچے گر پڑتی اور اس کو فقیر کے بچے اٹھالیتے تو وہ کھجور کے درخت سے نیچے اترتا اور ان بچوں کے ہاتھوں سے وہ کھجور لے لیتا اور اگر وہ کھجور ان میں سے کسی بچے کے منہ میں پاتا تو انگلی داخل کر کے کھجور کو نکال لیتا۔ اس غریب آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس اس کی شکایت کی آپ نے فرمایا کہ تو چلا جا اور نبی اکرم ﷺ نے اس کھجور کے مالک سے ملاقات کی۔ اور اس سے فرمایا مجھ کو وہ کھجور دے دے جس کی شاخیں فلاں کے گھر میں جھکی ہوئی ہیں۔ اور اس کے بدلے تیرے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت ہوگا۔ اس آدمی نے کہا میں ضرور دے دیتا میرے لیے اور بہت سے کھجور کے درخت ہیں۔ اور اس میں کوئی ایسا کھجور کا درخت نہیں کہ جس کا پھل اس سے اچھا اور بہتر ہو۔ پھر وہ آدمی چلا گیا اور ایک اور آدمی نے اس سے ملاقات کی جس نے رسول اللہ ﷺ کی بات سنی تھی جو آپ نے کھجور کے مالک سے فرمائی تھی۔ وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا مجھے جنت کی کھجور ملے گی جو آپ نے اس آدمی کو دی تھی اگر میں اس کو لے لوں۔ آپ نے فرمایا ہاں تجھ کو بھی ملے گی۔ وہ آدمی چلا گیا اور کھجور کے مالک سے ملاقات کی اور ان دونوں کے کھجوروں کے درخت تھے۔ اس کو کھجور کے مالک نے کہا کیا تجھے معلوم ہے کہ محمد ﷺ نے مجھے اس فلاں کے گھر میں جھکنے والی کھجور کے بدلے میں جنت میں ایک کھجور کا ایک درخت عطا فرمایا ہے تو میں نے عرض کیا میں یقیناً دے دیتا لیکن اس کا پھل مجھے اچھا لگتا ہے حالانکہ میرے بہت سے درخت ہیں لیکن میرے لیے ایسا کوئی درخت نہیں ہے کہ جس کا پھل اس سے بہتر اور اچھا ہو۔ یہ سن کر دوسرے آدمی نے اس سے کہا کیا تو اس کے بیچنے کا ارادہ رکھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں مگر اس کے بدلے میں مجھے اتنا دیا جائے جو میں چاہتا ہوں۔ اور میں یہ گمان نہیں کرتا کہ کوئی مجھتے اتنا دے گا اس آدمی نے پوچھا اس کے عوض کتنے کی امید رکھتا ہے اس نے کہا چالیس کھجورو کے درخت۔ اس آدمی نے کہا تو نے ایک بھاری قیمت رکھی ہے تو اس جھکنے والی کھجور کے بدلے چالیس کھجوروں کے درخت طلب کرتا ہے۔ تو اس نے جھکنے والی کھجور کے بدلے میں چالیس کھجوروں کے درخت پیش کردئیے۔ وہ کچھ دیر ٹھہرا رہا۔ پھر کہا تیرے اور میرے درمیان کوئی خریدو فروخت نہیں کیونکہ ابھی تک ہم مجلس سے جدا نہیں ہوئے تو اس آدمی نے کہا تو زیادہ حقدار نہیں ہے جب میں تجھ کو اس ایک جھکنے والی کھجور درخت کے بدلے میں چالیس کھجوروں کے درخت دے دئیے توبیچنے والے نے کہا میں تجھ کو اس شرط پر دوں گا کہ تو مجھ کو اپنے درخت دے اس طرح جیسے میں چاہتا ہوں۔ وہ تھوڑی دیر اس سے خاموش رہا پھر کہا ایک لائن پر لگے ہوئے درخت تیرے لیے ہوں گے۔ راوی نے کہا کہ وہ آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور عرض کیا یارسول اللہ بیشک وہ درخت میرا ہوگیا اور اب وہ آپ کا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ اس گھر والے کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا یہ کھجور کا درخت تیرے بال بچوں کے لیے ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت والیل اذا یغشی سورة کے آخر تک۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بیشک میں کہتا ہوں کہ یہ سورت سخاوت اور بخل کرنے کے بارے میں نازل ہوئی یعنی والیل اذا یغشی 6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والیل اذا یغشی اور (اور رات کے قسم جب وہ چھا جائے) یعنی جب اندھیرا ہوجائے۔ 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ولیل اذا یغشی سے مراد ہے قسم ہے رات کی جب وہ آجائے۔ اور ہر چیز کی ڈھانپ لے۔ 8۔ سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ و شام کے ملک میں آئے اور ابی الدرداء ؓ کے پاس بیٹھے۔ ان سے ابو درداء ؓ نے پوچھا آپ کن میں سے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کوفہ میں سے ہوں۔ پھر پوچھا تو نے کس طرح عبداللہ ؓ کو آیت وللیل اذا یغشی پڑھتے ہوئے سنا۔ عقلمہ ؓ نے کہا الذکر والانثی ابو درداء ؓ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی پڑھتے ہوئے سنا۔ اور یہ لوگ مجھے سے یہ خواہش کرتے ہیں کہ میں اس طرح پڑھو آیت خلق الذکر والانثی اللہ کی قسم میں ان کی پیروی نہیں کروں گا۔ 9۔ البخاری فی تاریخ بغداد ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ زید بن ثاب ؓ کی قراءت پر پڑھتے تھے سوائے اٹھارہ حروف کے کہ آپ نے و عبداللہ بن مسعود ؓ کی قراءت میں سے لیے ہیں اور ابن عباس ؓ نے فرمایا مجھ کو یہ بات خوش نہیں لگتی کہ میں ان کحروف کو چھوڑدوں اگرچہ میرے لیے دنیا سرخ سونے سے بھر دی جائے۔ اس میں سے ایک حرف سورة بقرہ میں آیت من بقلہا وقثاۂا وثومہا ثاء کے ساتھ پڑھا گیا ہے یعنی اس کے ساگ سے اور اس کی ککڑی سے اور اس کے گیہوں سے اور ایک سورة اعراف میں آیت فلنسئلن الذی ارسل الیہم قبلک من رسلنا ولنسئلن المرسلین پھر ہم ان لوگوں سے ضرور سوال کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے اور ان پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے۔ اور ایک سورة براءۃ میں ہے یا ایہا الذین اٰمنوا اتقواللہ وکونوا مع الصادقین۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ اور ایک سورة ابراہیم میں ہے۔ آیت وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال اگرچہ ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں اور سورة انبیاء میں ہے آیت وکنا لحکمہم شہدین اور ہم ان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے۔ اور اسی میں یہ بھی آیت وہ ہم من کل حدب ینسلون اور وہ رہر بلندی سے دوڑتے چلے آئیں گے اور سورة حج میں آیت یاتین من کل فج عمیق دور درزاز راشتوں سے آئیں گے اور سورة الشعراء میں ہے آیت فعلتہا اذا وانا من الضالین جب میں نے وہ کام کیا تھا تو جاہلوں میں سے تھا اور سور نم میں ہے آیت اعبد رب ہذہ البلدۃ الذی حرمہا کہ اس میں شہر کے مالک کی بندگی کروں جس نے اسے عزت دی ہے اور سورة الصافات میں ہے آیت فلما اسلما وتلہ للجبین پس جب دونوں نے تسلیم کرلی اور اس کی عزت کور اور اس کی پاکی بیان کرو اور سورة النجم میں ہے آیت ولقد جاء ہم من ربہم الہدی اور تمہارے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے اور اس میں ہے آیت ان یتبعون الا الظن۔ تم نہیں تابعداری کرتے مگر گمان کی اور سورة الحدید میں ہے آیت لئلا یعلم اہل الکتب الا یقدرون علی شیء۔ تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ کسی چیز پر قادر نہیں اور سورة ن میں ہے آیت لو ان تدارکتہ نعمۃ من ربہ۔ تانیث پر۔ اگر اس کے رب کی رحمت اسے نہ سنبھال لیتی۔ اور سورة اذا الشمس کورت میں ہے آیت واذا الموؤ دۃ سئلت بای ذنب قتلت اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا اور اسی م ہیں ہے آیت وما ہو علی الغیب بضنین اور وہ غیب کی باتوں پر بخیل نہیں ہے اور سورة اللیل میں ہے آیت خلق الذکر والانثی اور اس کی قسم جس نے نر و مادہ کو بنایا۔ فرمایا یہ قسم ہے سو تم اس کو نہ توڑو۔ 10۔ ابن جریر نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراءت میں یوں آیت واللیل اذا یغشی والنہار اذا تجلی وما خلق الذکر والانثی رات کی قسم جب وہ چھا جائے اور دن کی جب وہ روشن ہو اور اس کی قسم کہ جس نے نر و مادہ کو بنایا۔
Ayah 92:3

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور قسم ہے اس کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا

11۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت وما خلق الذکر اور فرماتے تھے اس ذات کی قسم جس نے نرومادہ کو پیدا فرمایا۔
Ayah 92:4

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

کہ بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں

12۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان سعیکم بےش تمہاری کوشش میں السعی سے مراد ہے عمل۔ 13۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہاں قسم واقع ہوئی کہ آیت ان سعیکم لشتی یعنی تمہارے کوششیں مختلف ہیں۔ 14۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن عساکر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے ابوبکر صدیق ؓ نے بلال ؓ کو ابی بن خلف سے دھاری دار کپڑے اور دس اوقیہ کے بدلے میں خریدا پھر اس کو اللہ کے لیے آزاد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت واللیل اذا یغشی ان سعیکم لشتی سے لے کر یعنی کوشش کی ابوبکر ؓ نے اور امیہ نے اور ابی نے لیکن ان کی کوشش کی نوعیت مختلف ہے۔ آیت وکذب بالحسنی تک۔ اور حسنی سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ اور اس قول آتی فسنیسرہ للعسری تک فرمایا یہاں عسری سے مراد جہنم ہے یعنی ہم اس کے لیے جہنم کی راہیں آسان کردیں گے۔
Ayah 92:5

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا

15۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابیء حاتم وابن جریر وبیہوی نے شعب الایمان میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاما من اعطی یعنی جس نے اپنے فالتو مال میں سے راہ خدا میں دیا۔ آتی وتاقی یعنی اپنے رب سے ڈرتا رہا آیت وصدق بالحسنی۔ اور نیک باتوں کی تصدیق کی یعنی اللہ کی طرف سے خلیفہ ہونے کی تصدیق کی۔
Ayahs 92:6–10

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور الحسنیٰ کو سچا جانا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو ہم اس کے لیے راحت والی خصلت کو آسان کردیں گے

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے بخل کیا اور بےپروائی اختیار کی

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور الحسنیٰ کو جھٹلایا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت کو اختیار کرنا آسمان کو دیں گے

آیت فسنیسرہ للیسری۔ ہم اس کے لیے خیر کی راہیں آسان کردیں گے۔ آیت وامامن بخل واستغنی اور لیکن جس نے بخل کیا اور بےپرواہ رہا یعنی اپنے مال سے بخل کیا اور اپنے رب سے بےپرواہ رہا۔ آیت وکذب بالحسنی اور نیک بات کو جھٹلایا یعنی اللہ کی طرف سے خلیفہ ہونے کو جھٹلایا آیت فسنیسرہ للعسری۔ تو ہم اس کے لیے جہنم کی راہیں آسان کردیں گے۔ یعنی ہم اس کے لیے شر کی راہ آسان کردیں گے اللہ ی طرف سے 16۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما من اعطی یعنی اس نے اللہ کا حق ادا کیا اس پر تھا۔ آیت واقتی اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچتا رہا آیت وصدق بالحسنی اور اللہ کے ان ودعوں کی تصدیق کی جو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فرماتے ہیں آیت واما من بخل لیکن جس نے بخل کیا اللہ کے حق کو ادا کرنے میں جو اس پر تھا آتی واستغنی اور اپنی ذات کے بارے میں اپنے رب سے بےپرواہ رہا آیت وکذب بالحسن یعنی ان وعدوں کو جھٹلایا جو اللہ نے فرمائے۔ 17۔ ابن جریر نے کئی طرق سے ابن عبسا ؓ سے روایت کیا کہ آیت وصدق بالحسنی سے مراد ہے کہ خلیفہ ہونے کا یقین کیا۔ 18۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت وصدق بالحسنی یعنی لا اللہ الا اللہ کی تصدیق کی آیت واما من من بخل واسغنی یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نے غنی بنایا پھر اس نے زکوٰۃ دینے سے بخل کیا۔ 19۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وصدق بالحسنی یعنی اس نے تصدیق کی جنگ کی۔ 21۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ آیت فسنیسرہ للیسری میں للیسریٰ سے مراد جنت ہے یعنی ہم اس کے لیے جنت کی راہ آسان ردیں گے۔ کمزول غلاموں کو آزاد کرنے کی فضیلت۔ 22۔ ابن جریر وابن عساکر نے عامر بن عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ مکہ میں اسلام کے نام پر غلاموں کو آزاد کرتے تھے۔ انہوں نے بوڑھی اور دوسری عورتوں کو آزاد کی اجب وہ مسلمان ہوگئیں۔ ان کے والد نے ان سے کہا اے میرے بیٹے ! میں تجھ کو دیکھتا ہوں کہ تو ضعیف لوگوں کو آزاد کرتا ہے اگر تو طاقتور اور مضبوط لوگوں کو آزاد کراتا تو وہ تیرے ساتھ کھڑے ہوں گے اور تیرے حفاظت کریں گے۔ اور تجھ سے دشمنوں کو دور ہٹائیں گے تو ابوبکر ؓ نے فرمایا اے میرے والد محترم ! میں تو صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی چالتا ہوں۔ راوی نے کہا میرے بعض گھروالوں نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ آیت فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسرہ للیسری ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ 23۔ عبد بن حمید وابن مردویہ وابن عساکر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ اس آیت فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسرہ للیسری سے مراد ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ اور آیت واما من بخل واستغنی وکزب بالحسنی سے مراد ابو سفیان بن حرب ہیں۔ 24۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن جریر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک جنازہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل ہوئے۔ آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایس انہیں ہے مگر اس کا ٹھکانہ جنت یا اس کا ٹھکانہ دوزخ میں لکھا ہوا ہے۔ تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم اس لکھے ہوئے پر بھروسہ نہ کرلیں آپ نے فرمایا عمل کرتے رہو ہر ایک کے لیے وہ آسان بنا دیا گیا۔ جس کے لیے وہ پید کیا گیا ہے اگر وہ اہل سعادت میں سے ہے تو اس کے لیے اہل سعادت کا عمل آسان بنا دیا جاتا ہے۔ اور جو اہ شقاوت میں سے اس کے لیے اہل شقاوت کا عمل آسان بنادیا جاتا ہے پھر یہ آیت پڑھی آیت فاما من اعطی واقتی سے لے کر للعسریٰ تک۔ 52 ابن جریر نے ابو عبدالرحمن السلمی ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت انا کل شیء خلقنہ بقدر (القمر آیت 49) کہ ہم ہر چیز کو ایک اندازہ سے پیدا کیا ناز ہوئی تو ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ پھر عمل میں کیا ہے یا ہم کسی چیز میں نئے سرے سے شروع کرسکتے ہیں یا ہم ہر چیز سے فارغ کردئیے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمل کرتے رہو پس ہر عمل کو آسان بنادیا گیا ہے پس ہم اس کے لیے آسان راہ آسان کردیں اور ہم اس کے لیے مشکل راہ بھی آسان کردیں گے۔
Ayah 92:11

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور جس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا جب وہ برباد ہونے لگے گا

26۔ لطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اذا تردی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ جب وہ گرے گا اور جہنم میں داخل ہوگا اور یہ ابو جہل کے بارے میں نازل ہوا پھر پوچھا کی عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عدس بن زید کا قول نہیں سنا خطفہ منیۃ فتردی وہو فی الملک یا کل التع میرا ترجمہ : موت نے اس کو اچک لیا پس وہ گرپڑا حالانکہ وہ ملک میں تعمیر اور آبادی کی امید رکھتا تھا۔ 27۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا تردی سے مراد ہے جب وہ آگ میں گرے گا۔ 28۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے روایت کیا کہ آتی وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی اور اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا جبکہ وہ گھڑے میں گرے گا یعنی آگ میں۔ 29۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت اذا تردی یعنی جب وہ مرے گا اور فرمایا آیت نارا تلظی آگ بڑھکتی ہوئی یعنی تیز سلگائی ہوئی۔
Ayahs 92:12–13

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

واقعی ہمارے ذمہ راہ کا بتلا دینا ہے

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور ہمارے ہی قبضہ میں ہے آخرت اور دنیا

30۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان علینا للہدی۔ بیشک ہمارے ذمہ ہدایت دینا ہے یعنی اللہ کے ذمے ہے یہاں اور وضاحت یعنی اپنے حلال و حرام اور طاعت و معصیت کا بیان اللہ کے ذمہ ہے۔
Ayahs 92:14–15

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

تو میں تمہیں ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس میں وہی بدبخت داخل ہوگا

31۔ سعید بن منصور والفراء والبیہقی نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت فانذرتکم نارا تتلظی یعنی دو تاء کے ساتھ۔
Ayahs 92:16–18

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا مال اس غرض سے دیتا ہے کہ پاک ہوجائے

32۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ تم ضرور جنت میں داخل ہوگے مگر جس نے انکار کیا (وہ داخل ہوگا) لوگوں نے پوچھا اور کون جنت میں داخل ہونے سے انکار کرے گا۔ تو انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت الذی کذب وتولی جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ ہر مومن جنت میں داخل ہوگا۔ 33۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ اس امت میں کوئی باقی نہیں رہے گا مگر اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمادیں گے۔ سوائے اس کے جو اللہ کی اطاعت اس طرح نکل جائے جیسے کہ شریر اونٹ اپنے مالک کی اطاعت سے بھاگ جاتا ہ۔ سو جس نے میری تصدیق نہیں کی تو بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت لا یصلاہا الا الاشقی، الذی کذب وتولی۔ جس میں وہی بدبخت داخل نہ ہوگا جس نے جھٹلا یا اور منہ موڑا۔ فرماتے ہیں کہ اس میں نہیں داخل ہوگا مگر وہ بدبخت جس نے اس دین کو جھٹلا یا جو محمد ﷺ لے کر آئے اور اس سے منہ پھیرا۔ 34۔ احمد وحاکم نے ابو امامہ الباہلی ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس نرم ترین حکم کے بارے میں پوچھا جس کو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم سب کے سب جنت میں داخل ہوں گے سوائے اس کے جو اللہ کی اطاعت سے اس طرح نکل جائے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک کی اطاعت سے نکل جاتا ہے۔ 35۔ احمد و بخاری نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ ؓ نے فرمایا قیامت کے دن میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کی ا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا کون انکار کرتا ہے یا رسول اللہ ؟ فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہی جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینی طور پر اس نے انکار کیا۔ 36 احمد وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں نہیں داخل ہوگا مگر بدبخت۔ پوچھا گیا بدبخت کون ؟ فرمایا وہ شخص جو اللہ کی اطاعت کے مطابق عمل نہیں کرتا اور اللہ کی نافرمانی کو نہیں چھوڑتا۔ 37۔ ابن ابی حاتم نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ نے سات غلاموں کو آزاد کیا۔ ان میں ہر ایک کو اللہ کی راہ میں عذاب دیا جاتا تھا۔ حضرت بلال، عامر بن فہیرہ، النہدیہ اور اس کی بیٹی زنیرہ اور ام عیسیٰ اور بنو مومل کی باندی ؓ اور ان کے بارے میں یہ آیت وسیجنبھا الاتقی اور اس آگ سے وہ بڑا پرہیزگار دور رہے گا سورة کے آخر تک نازل ہوئی۔ 38۔ احمد ومسلم وابن حبان والطبرانی وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ سراقہ بن مالک ؓ نے کہا یارسول اللہ ! کونسی چیز میں ہم عمل کرسکتے ہیں۔ کیا کسی چیز کے بارے میں تقدیر ثابت ہوچکی ہے (اور اس میں قلم چل چکے ہیں) یا کسی چیز کے بارے میں ہم عمل کی طرف متوجہ ہوسکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا بلکہ ہر چیز میں تقدیر کا حکم ثابت ہوچکا ہے اور اس میں قلمیں جاری ہوچکی ہیں۔ سراقہ ؓ نے کہا یا رسول اللہ ! پھر عمل کس لیے ہے ؟ فرمایا عمل کرتے رہو ہر ایک کے لیے وہ عمل آسان کردیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت فاما من اعطی واتقی سے لے کر آیت فسنیسرہ للعسری تک۔ 39۔ ابن قانع وابن شاہین وعبد ان کلہم فی الصحابہ نے بشیر بن کعب اسلمی ؓ سے روایت کیا کہ ایک سائل نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا عمل کس چیز میں ہے ؟ فرمایا اس میں جس میں قلمیں خشک ہوچکی ہیں۔ اور تقدیر کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ مگر تم عمل کرتے رہو ہر ایک کے لیے وہی عمل آسان کیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا پھر یہ آیت پڑھی آیت فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسرہ للیسری۔ 40۔ الحاکم وصححہ نے عامر بن عبداللہ بن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو قحافہ نے اپنے بیٹے ابوبکر ؓ سے کہا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تو کمزور غلاموں کو آزاد کرتا ہے اگر تو قوی اور طاقتور لوگوں کو آزاد کرتا تو وہ تمہاری حفاظت کرتے جو تجھ سے دشمنوں کو روکتے۔ اور تیرے ساتھ کھڑے ہوتے۔ ابوبکر ؓ عن ہنے فرمایا اے ابا جان ! بیشک میں تو صرف اللہ کی رضا مندی کا ارادہ کرتا ہوں تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت فاما من اعطی واتقی سے لے کر آیت وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰ ولسوف یرضی تک اور اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جائے وہ تو صرف اپنے سب سے برتر رب کی رضامندی کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔
Ayahs 92:19–21

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا کہ اسکا بدلہ اتارنا ہو

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

اور بجز اپنے عالی شاہ پروردگار کی رضا جوئی کے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور یہ شخص عنقریب خوش ہوجائے گا

41۔ البزار وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن عدی وابن مردویہ وابن عساکر نے دوسری سند سے عامر بن الزبیر ؓ سے روایت وما لا حد عندہ من نعمۃ تجزی الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی۔ ولسوف یرضی۔ ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 42۔ ابن جریر نے سعید ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو آزاد کیا جن میں نہ کسی جزاء اور بدلے کی طلب کی اور نہ شکر کی امدی رکھی اور وہ چھ یا سات افراد تھے جن کو خرید کر آزاد کیا ان میں سے بلال اور عامر بن فہیرہ ؓ وغیرہ ہیں۔ 43۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی وسیجنبہا الاتقی اور اس آگ سے وہ بڑا پرہیزگار دور رہے گا۔ اور وہ ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ 44۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی سے مراد ہے کہ اس پر لوگوں کا بدلہ اور جزا دینا نہیں بلکہ اس کا یہ عطیہ صرف اللہ کے لیے ہے۔