92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : اس دنیا میں جو دار العمل ہے ہر انسان کی کوشش، جدوجہد اور عمل اسی طرح بہت مختلف ہے جس طرح دن اور رات، نر اور مادہ مختلف ہیں۔ ایک آدمی اللہ، اس کے رسول اور رسول کی لائی ہوئی تعلیمات پر ایمانلاکر فرماں برداری، تقویٰ ، پرہیز گاری، نیکی اور بھلائی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ دوسرا آدمی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہوئے ہر سچی بات کو جھٹلاتا ہے، گناہوں بھری زندگی اور ظلم و ستم کا راستہ اختیار کرکے مال و دولت کمانے میں لگا رہتا ہے۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ آدمی جس راستے پر چلنا چاہتا ہے وہ اس کو اسی راستے کی آسانیاں دیتا چلا جاتا ہے۔ نیکی اور بھلائی کا راستہ منتخب کرنے والوں کو سیدھے سچے راستے کی توفیق اور آسانی عطا کردی جاتی ہے۔ اور وہ لوگ جو اللہ و رسول کے نافرمان، گناہوں بھری زندگی کا راستہ چن لیتے ہیں ان کو سخت راستوں کی آسانیاں دیدی جاتی ہیں۔ ان کو زندگی بھر نیکیوں پر چلنے والے ناگوار اور برے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دونوں کا انجام یکساں اور ایک جیسا نہیں ہے۔ جہاں نیکی پر چلنے والوں کے لئے جنت کی راحتیں، اللہ کی رضا و خوشنودی اور آخرت کی کامیابی عطا کی جاتی ہیں وہیں گناہ آلود زندگی گزارنے والوں کے لئے ایک ایسی آگ تیار کی گئی ہے جس میں وہ ہمیشہ جھسلتے ہی رہیں گے۔ وہ مال و دولت جس کے پیچھے انسان زندگی بھر بھاگتا رہا ہے موت آنے کے بعد وہ اس کے کیا کام آئے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ راستہ دکھانا ہمارا کام تھا۔ دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب یہ انسان کا اپنا کام ہے۔ اسی اختیار پر اللہ کے ہاں سارے فیصلے کئے جائیں گے۔ ان ہی باتوں کو اللہ تعالیٰ نے سورة الیل میں ارشاد فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس رات کی قسم جو ہر چیز کو اپنے اندر ڈھانپ لیتی اور چھپا لیتی ہے۔ اس دن کی قسم جو ہر چیز کو روشن کردیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے کہ تم سب لوگوں کو کوششیں اور جدوجہد بہت مختلف ہیں۔ جس نے اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیا۔ اللہ کی نافرمانیوں سے بچتا رہا اور ہر نیک اور بھلی بات کو اس نے سچ مانا اس کو ہم راستے کی سہولتیں (توفیق) عطا کرتے چلے جائیں گے لیکن جس نے کفر کیا، بےنیازی دکھائی اور ہر بھلی بات کو جھٹلایا اس کو بھی ہم تنگ راستے کی سہولتیں دیدیں گے یعنی اس کو نیکی اور بھلائی کی توفیق ہی نصیب نہ ہوگی اور وہ مال و دولت کمانے میں مگن رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سوال فرمایا ہے جب اس کو موت آجائے گی تو آخر یہ مال و دولت اس کے کس کام آئے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ راستہ دکھانا ہمارا کام تھا۔ ہم ہی دنیا اور آخرت کے مالک و مختار ہیں۔ اگر تم نے گناہوں بھری زندگی اور نافرمانی اختیار کی تو تمہارے لئے ایسی جہنم کی آگ تیار کردی گئی ہے جس میں تم ہمیشہ ہی جھلستے اور جلتے رہو گے اور یہ انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی اور بدبختی ہوگی۔ فرمایا لیکن ان لوگوں کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا جو پرہیز گاری اختیار کرتے ہوئے اللہ کی رضا کے لئے اپنا مال و دولت خرچ کرتے ہیں۔ جو لوگ اپنے برتر و اعلیٰ پروردگار کی رضا و خوشنودی کے کام کرتے ہیں اور ان کے ذمے کسی کا احسان نہیں تھا کہ وہ اس کا بدلہ اتار رہے ہیں وہ اپنے دل کی خوشی سے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ اللہ ان کو جنت کی ایسی راحتیں عطا فرمائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔

Ayahs 92:1–21

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

اور میں قسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ چھا جاتی ہے

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور دن کی قسم جب وہ خوب روشن ہوجاتا ہے

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور اس کی قسم کہ جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہوتی ہیں

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

پھر بہرحال جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور وہ اللہ سے ڈرا

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور بھلائی کی ہر بات کی تصدیق کی

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

ہم اس کو آسانیاں عطا کردیں گے

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے کنجوسی اور بےپروائی اختیار کی

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور بھلائی کی بات کو جھٹلایا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو ہم اس کو ایسا سامان دیدیں گے جو اس کو تکلیف دینے والا ہوگا

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور جب وہ ہلاک اور برباد ہونے لگے گا تو اس کا مال اس کے کام نہ آسکے گا

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

بلا شتہ راستہ دکھانا ہماری ذمہ داری ہے

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور بیشک دنیا اور آخرت ہمارے اختیار (قبضہ) میں ہے

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہیں ایک بھڑکتی آگے سے آگاہ کردیا ہے

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس میں سوائے اس بدنصیب شخص کے اور کوئی داخل نہ ہوگا

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

نیک اور متقی شخص اس (جہنم) سے دور رکھا جائے گا

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جس نے اپنا مال اپنے آپ کو پاک کرنے کے لئے دیا

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور اس پر کسی کو کوئی احسان نہیں تھا جس کا بدلہ اسے دینا تھا

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ وہ اپنے بلندو برتر رب کی رضا و خوشنودی چاہتا ہے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور البتہ وہ بہت جلد (آخرت کی نعمتیں پا کر) خوش ہوجائے گا

لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے اپنا مال خر کرتا ہے۔ ہر نافرمانی سے دور رہ کر فرماں برداری کا پیکر ہے۔ جو ہر ایک بھلائی اور سچائی کی تصدیق کرتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف سے ہر طرح کی سہولتیں عطا کی جاتی ہیں۔ دوسرا وہ شخص ہے جو اللہ کے بندوں پر اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی اور بخل سے کام لیتا ہے۔ اپنے پیدا کرنے والے اللہ سے منہ پھیر کر چلتا ہے اور ہر بھلائی اور سچائی کو جھٹلانا جس کا مزاج بن چکا ہے، جس کی وجہ سے اس سے بھلائی کے راستے پر چلنے کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔ کیا یہ دونوں ایک جیسے ہیں کیا ان کا انجام یکساں ہے ؟ کبھی نہیں۔ ان دونوں کا انجام یکساں اور برابر نہیں ہوسکتا یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے رات کو دن اور نر کو مادہ کہہ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے نافرمان شخص سے پوچھا ہے کہ دنیا کی زیب وزینت، مال و دولت اسی وقت تک کام آسکتے ہیں جب تک زندگی کی یہ ڈور بندھی ہوئی ہے لیکن جب موت آجائے گی اور دنیا سے ہر سلسلہ کٹ جائے گا اس وقت یہ سب چیزیں تیرے کیا کام آئیں گی ؟ اللہ جو دونوں جہانوں کا مالک ہے اس نے اپنے پاکیزہ نفس پیغمبروں کے ذریعہ خیر وشر کے ہر راستے کی وضاحت کردی ہے۔ ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا اب یہ انسان کا کام ہے کیونکہ دونوں راستوں کا انجام بتا دیا گیا ہے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے سچائیوں سے انکار کیا اور ان سے اپنا منہ پھیرا اس کے لئے اللہ نے ایسی جہنم کی بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے جس میں ہر شخص جھلس کر رہ جائے گا۔ اور جس نے پاکیزگی نفس کے لئے اللہ کے بندوں پر اپنا مال خرچ کیا جس میں مھض اللہ کی رضا و خوشنودی مقصود تھی وہ اپنا مال اس لئے خرچ نہیں کرتا تھا کہ اس پر لوگوں کا کوئی احسان تھا جس کا وہ بدل چکا رہا ہے بلکہ اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لئے خرچ کرتا تھا اس کو نہ صرف جہنم کی آگ سے دور رکھا جائے گا بلکہ اس کو اللہ اپنی رضا عطا فرمائیں گے اور دونوں جہانوں میں تنا کچھ دیں گے جس سے وہ خوش ہوجائے گا۔