92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 92:1–4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھپالے،

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور قسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہوجائے

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور قسم ہے اس کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

کہ بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں،

یہ سورة اللیل کی تیرہ آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی تین آیات میں قسم ہے اور چوتھی آیت میں جواب قسم ہے، اولاً رات کی قسم کھائی جب کہ وہ دن پر چھا جائے پھر دن کی قسم کھائی جب وہ روشن ہوجائے پھر اپنی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ003﴾ (اور قسم ہے اس کی جس نے نر کو اور مادہ کو پیدا کیا) ۔ پھر بطور جواب قسم ارشاد فرمایا ﴿اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰىؕ004﴾ (بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں) ۔ انسان کی عام طور سے دو ہی صنفیں ہیں ایک مذکر اور مونث (نر اور مادہ) اور عمل کرنے والے انسان ان ہی دو جماعتوں پر منقسم ہیں اور اعمال دن میں ہوتے ہیں یا رات میں زمانہ کے دونوں حصوں کی اور بنی آدم کی دونوں قسموں کی قسم کھا کر فرمایا کہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں دنیا میں اہل ایمان بھی ہیں اور اہل کفر بھی، اچھے لوگ بھی ہیں اور برے لوگ بھی گناہوں پر جمنے والے بھی ہیں اور توبہ کرنے والے بھی۔ اعمال حسنہ اور سیہٴ کے اعتبار سے قیامت کے دن فیصلے ہوں گے۔ حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب صبح ہوتی ہے تو ہر شخص کام کاج کے لیے نکلتا ہے اور اپنے نفس کو مشغول کرتا ہے پھر اپنے نفس کو آزاد کرا لیتا ہے (یعنی دوزخ کے کاموں سے بچتا ہے) یا اسے ہلاک کردیتا ہے۔ (رواہ مسلم ص 118)
Ayahs 92:5–10

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور الحسنیٰ کو سچا جانا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو ہم اس کے لیے راحت والی خصلت کو آسان کردیں گے

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے بخل کیا اور بےپروائی اختیار کی

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور الحسنیٰ کو جھٹلایا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے

اس کے بعد اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا : ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ005 وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ006 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ007﴾ (سو جس نے دیا اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی سو ہم اس کے لیے آرام والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ﴿ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ008 وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ009 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى ؕ0010﴾ (اور جس نے کنجوسی کی اور بےپروائی اختیار کی اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کو جھٹلایا سو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ۔ یعنی دنیا میں مصیبتوں میں پڑے گا اور آخرت میں دوزخ میں جائے گا۔ بعض حضرات نے دونوں جگہ الحسنیٰ سے جنت مراد لی ہے یعنی ایمان لانے والے جنت پر ایمان لائے ہیں اور ان کے مخالف دوسرے فریق یعنی کافروں نے اس کو جھٹلایا۔ انسان جو دنیا میں آیا ہے کچھ نہ کچھ عمل کرتا ہے اور دنیا دار الامتحان ہے اس میں مومن بھی ہیں کافر بھی ہیں نیک بھی ہیں بد بھی ہیں پھر موت کے بعد انجام کے اعتبار سے بھی مختلف ہوں گے، انسانوں کے احوال مختلف ہیں دنیا کے حالات اور مجلسیں اور صحبتیں بدلتی رہتی ہیں اچھے لوگ برے اور برے لوگ اچھے بن جاتے ہیں۔ مومن ایمان چھوڑ بیٹھتے ہیں اور کافر ایمان لے آتے ہیں۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ لکھا ہوا ہے۔ دوزخ میں بھی اور جنت میں بھی (یعنی کسی کا دوزخ میں جانا لکھا ہے اور کسی کا جنت میں جانا نوشتہ ہے) ۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ تو کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کرلیں جو ہمارے بارے میں لکھا جا چکا ہے اور کیا عمل کو نہ چھوڑ دیں ؟ آپ نے فرمایا عمل کرتے رہو ہر شخص کے لیے وہی چیز آسان کردی جائے گی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے جو شخص اہل سعادت میں سے ہے یعنی نیک بخت ہے اس کے لیے سعادت والے اعمال آسان کردیئے جائیں گے اور جو شخص اہل شقاوت میں سے ہے اس کے لیے بد بختی والے اعمال آسان کردیئے جائیں گے اس کے بعد آپ نے آیات کریمہ ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ005 وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ006﴾ (الآیات) کی تلاوت فرمائیں۔ (رواہ البخاری صفحہ 737: ج 2، صفحہ 738: ج 2) آیت کریمہ میں الیسریٰ سے ایمان اور اعمال صالح اختیار کرنا مراد ہے جس کا ترجمہ راحت والی خصلت کیا گیا ہے۔ حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اگرچہ سب کچھ مقدر ہے لیکن انسان عمل میں اپنی سمجھ اور فہم کو استعمال کرے ایمان قبول کرے اعمال صالحہ میں لگا رہے۔ کفر و شرک سے دور رہے اور معاصی سے پرہیز کرتا رہے بندہ کا کام عقل و فہم کا استعمال کرنا اور ایمان قبول کرنا اور اچھے کاموں میں لگنا ہے۔ ﴿وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ006﴾ میں ایمان کو اور ﴿ وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ009﴾ میں کفر کو بیان فرما دیا اور ﴿اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ005 ﴾ میں اعمال صالحہ کی طرف اشارہ فرما دیا۔ ﴿اَعْطٰى﴾میں مال کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے اور اتقی میں تمام گناہوں سے بچنے کی تاکید فرما دی اور بخیل کا تذکرہ کرتے ہوئے جو واستغنی فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ بخل کرنے والا دنیا والے مال سے تو محبت کرتا ہے اور جمع کر کے رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے خرچ کرنے پر جو آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر وثواب ملنا ہے اس سے استغناء برتتا ہے گویا کہ اسے وہاں کی نعمتوں کی ضرورت ہی نہیں۔
Ayahs 92:11–12

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا جب وہ برباد ہونے لگے گا

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

واقعی ہمارے ذمہ راہ کا بتلا دینا ہے

﴿وَ مَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ0011 ﴾ (اور اس کا مال اسے نفع نہیں دے گا جب وہ ہلاک ہوگا) ۔ ﴿اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰىٞۖ0012﴾ (بیشک ہمارے ذمہ ہدایت ہے) ۔ بندوں کو عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ عبادت کے طریقے بتا دیئے ہدایت کے راستے بیان فرما دیئے رسولوں کو بھیج دیا کتابیں نازل فرما دیں اس کے بعد جو کوئی شخص راہ ہدایت کو اختیار نہ کرے گا، مجرم ہوگا اور اپنا ہی برا کرے گا۔
Ayah 92:13

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور ہمارے ہی قبضہ میں ہے آخرت اور دنیا۔

﴿وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى 0013﴾ (اور بلاشبہ ہمارے ہی لیے آخرت اور اولیٰ ہے) ۔ دنیا کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کا اختیار ہے جیسا چاہے اپنی مخلوق میں تصرف فرمائے اور آخرت میں بھی اسی کا اختیار ہوگا وہ اپنے اختیار سے اہل ہدایت کو انعام دے گا اور اہل ضلالت کو عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں خود مختار ہوں اور آخرت میں میرا کچھ نہ بگڑے گا۔
Ayahs 92:14–18

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

تو میں تمہیں ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس میں وہی بد بخت داخل ہوگا

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا مال اس غرض سے دیتا ہے کہ پاک ہوجائے

گزشتہ آیات میں ایمان اور کفر اور اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کے نتائج کا فرق بیان فرمایا جس میں یہ بھی تھا کہ کفر عذاب میں مبتلا کرنے والی چیز ہے چونکہ یہ جلنے کا عذاب ہوگا کافر دوزخ میں داخل ہوں گے ان پر آگ مسلط ہوگی اس لیے دوزخ کے عذاب کی حقیقت بتادی اور فرما دیا کہ میں تمہیں ایسی آگ سے ڈراتا ہوں جو خوب اچھی طرح جلتی ہوگی۔ مزید فرمایا کہ اس میں صرف وہی داخل ہوگا جو سب سے بڑا بدبخت تھا جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی، آیت کے الفاظ سے جو حصر معلوم ہوتا ہے اس سے بظاہر فاسق مسلمانوں کے دوزخ میں داخلے کی نفی ہوتی ہے، صاحب روح المعانی نے یہ اشکال کیا ہے پھر یوں جواب دیا ہے کہ سخت ترین عذاب سب سے بڑے بدبخت یعنی کافر ہی کو ہوگا اور فاسق مسلم کا عذاب کافر کے عذاب سے بہت کم ہوگا۔ قولہ : ﴿تَلَظّٰى﴾ اصلہ تتلظی بالتائین حذفت احداھما کما فی تنزل الملئكة اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ0017﴾ (اور عنقریب بہت زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا شخص اس آگ سے بچا لیا جائے گا) الاتقیٰ مبالغہ کا صیغہ ہے جو کفر سے اور دوسرے معاصی سے بچنے پر دلالت کرتا ہے دوزخ سے بچائے جانے والے متقی کی صفت بتاتے ہوئے ﴿ الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى ۚ0018﴾ فرمایا۔ جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ اللہ کے نزدیک وہ پاک بندوں میں شمار ہوجائے۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب یتزکی مال خرچ کرنے والے سے متصل ہو اور اگر مال سے متعلق ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ اپنے بارے میں اللہ سے امید رکھتا ہے کہ اجر وثواب بڑھتا چڑھتا رہے اور خوب زیادہ ہو کر ملے جبکہ مال صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا جائے۔ دکھاوا اور شہرت مقصود نہ ہو، اس وقت رضائے الٰہی مطلوب ہوتی ہے۔ مزید فرمایا ﴿ وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ0019﴾ (اللہ کے لیے مال خرچ کرنے والے بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں کسی کا ان پر کچھ چاہنا نہیں ہے جس کا بدلہ اتار رہے ہیں ﴿ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى ۚ0020﴾ ان لوگوں کا خرچ کرنا صرف اللہ تعالیٰ رضا حاصل کرنے کے لیے ہے۔ وھو منصوب علی الاستثناء المنقطع من نعمة لان الا بتغاء لا یدرج فیھا فالمعنی لکنہ فعل ذلک لا بتغاء وجہ ربہ سبحانہ وطلب رضاء ہ عزوجل لا لمکافئة نعمة ﴿ وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى (رح) 0021﴾ (اور یہ مال خرچ کرنے والا عنقریب راضی ہوگا) یعنی موت کے بعد جنت میں داخل کردیا جائے گا اور اس کو وہ وہ نعمتیں ملیں گی جن سے خوش ہوگا۔ مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہ آخری آیات ﴿ وَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ0017﴾ سے لے کر آخیر تک حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا بہت ساتھ دیا جان سے بھی اور مال سے بھی ہجرت سے پہلے بھی اور ہجرت کے بعد بھی۔ حضرت بلال ؓ کو ایمان قبول کرنے کے بعد مشرکین کی طرف سے بہت زیادہ تکلیف دی جاتی تھی ان کی اذیت اور مار پیٹ انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ حضرت بلال ؓ ایک مشرک امیہ بن خلف کے غلام تھے اور حبشہ کے رہنے والے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا اشارہ پا کر حضرت ابوبکر ؓ نے ان کو خرید کر آزاد کردیا۔ مشرکوں کو جب اس بات کا پتہ چلا تو کہنے لگے کہ ابوبکر نے بلال کو خرید کر اس لیے آزاد کیا ہے کہ بلال کا ابوبکر پر کوئی احسان تھا اس کی تردید کی اور فرمایا ﴿ وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ0019﴾ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت بلال ؓ کو خرید لیا تو حضرت بلال ؓ نے کہا کہ آپ نے مجھے اپنے کاموں میں مشغول رکھنے کے لیے خریدا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے کاموں میں مشغول رہنے کے لیے خریدا ہے، حضرت بلال ؓ نے کہا بس تو مجھے اللہ کے اعمال کے لیے چھوڑ دیجئے، حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں آزاد چھوڑ دیا اور وہ پورے اہتمام کے ساتھ دین کے کاموں میں لگے رہے پھر ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ کے موذن بن گئے اور آپ کی حیات طیبہ کے آخر عمر تک یہ عہدہ ان کے سپرد رہا چونکہ مکہ معظمہ کی زندگی میں اسلام کے بارے میں مارے پیٹے جاتے تھے اللہ تعالیٰ شانہ نے انہیں دنیا میں یہ سعادت نصیب فرمائی کہ امن وامان کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ کے موذن رہے اور اذان و اقامت کا کام ان کے سپرد رہا اس طرح اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرتے رہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بڑے بڑے فضائل ہیں جن میں سے مال خرچ کرنے میں مسابقت کرنا بھی ہے، عموماً اللہ کی راہ میں تو مال خرچ کرتے ہی رہتے تھے ایک مرتبہ جو رسول اللہ ﷺ نے فی سبیل اللہ مال خرچ کرنے کی ترغیب دی تو سارا ہی مال لے کر آگئے اور خدمت عالی میں پیش کردیا، رسول اللہ ﷺ نے سوال فرمایا کہ اے ابوبکر ! تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی رکھا ؟ عرض کیا ان کے لیے اللہ اور رسول ہی کافی ہے۔ حضرت عمر ؓ خیال کر رہے تھے کہ اس مرتبہ میں ابوبکر ؓ سے آگے بڑھ جاؤں گا وہ اپنا آدھا مال لے کر آگئے جب یہ دیکھا کہ ابوبکر اپنا پورا ہی مال لے آئے ہیں تو کہنے لگے کہ میں ان سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے جو بھی کوئی احسان ہمارے ساتھ کیا ہے ہم نے ان سب کا بدلہ دے دیا، سوائے ابوبکر ؓ کے ان کے جو احسانات ہیں اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن ان کا بدلہ دے گا اور مجھے کسی کے مال سے کبھی اتنا نفع نہیں ہوا جتنا ابوبکر ؓ کے مال نے مجھے نفع دیا اور اگر میں کسی کو اپنا خلیل (یعنی ایسا دوست) بناتا (جس میں کسی کی ذرا بھی شرکت نہ ہو) تو ابوبکر کو خلیل بنا لیتا خوب سمجھ لو کہ میں اللہ کا خلیل ہوں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے نفع دیا، یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اور میرا مال آپ ہی کے لیے ہے۔ (سنن ابن ماجہ صفحہ 10) فائدہ : سورة واللیل کے آخر میں حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں ﴿ وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى (رح) 0021﴾ فرمایا اور اس کے بعد والی سورت یعنی سورة الضحیٰ میں رسول اللہ ﷺ سے وعدہ فرمایا : ﴿وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ005﴾ دیکھو رسول اکرم ﷺ اور آپ کے دوست اور معاون خاص یعنی ابو بکرصدیق ؓ سے اللہ تعالیٰ راضی ہے لیکن روافض (شیعہ) نہ اللہ تعالیٰ سے راضی جس نے یہ مرتبہ دیا نہ رسول اللہ ﷺ سے راضی جنہوں نے ابوبکر صدیق ؓ کو صدیق خاص اور رفیق غار بنایا اور نہ ابوبکر ؓ سے راضی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں سارا مال پیش کردیا اور ہر طرح سے سفر و حضر میں رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا۔ فائدہ : جو کوئی شخص کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا دھیان رکھنا چاہیے جب کبھی موقع ہو اس کی مکافات کر دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (من صنع الیکم معروفا فکا فؤہ فان لم تجدوا ما تکافؤہ فادعولہ حتی تروا انکم قد کا فا تم وہ ) ۔ (جو شخص تمہارے ساتھ کوئی حسن سلوک کر دے تو تم اس کا بدلہ دے دو اور اگر بدلہ دینے کو کچھ نہ ملے تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تمہارا دل گواہی دے دے کہ اس کا بدلہ اتر گیا) ۔ یاد رہے کہ احسن طریق سے اس کا بدلہ اتار دو اس سے یوں نہ کہے کہ یہ تمہارے فلان احسان کا بدلہ ہے اس سے دل رنجیدہ ہوگا اور شریف سخی آدمی بدلہ کے نام سے قبول بھی نہیں کرے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کے احسان کی مکافات کرنا بھی اچھی بات بلکہ مامور بہ ہے لیکن اپنی طرف سے احسان کرنا جو احسان کے بدلہ میں نہ ہو اس کی فضیلت زیادہ ہے۔
Ayahs 92:19–21

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا کہ اس کا بدلہ اتارنا ہو

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

اور بجز اپنے عالی شان پروردگار کی رضا جوئی کے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور یہ شخص عنقریب خوش ہوجائے گا۔

﴿وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ0019﴾ جو فرمایا ہے اس میں اسی بات کی فضیلت بیان فرمائی ہے یہ مطلب نہیں کہ بطور مکافات کسی کے ساتھ احسان کیا جائے تو اس میں ثواب نہ ہو۔