92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 92:1

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

(ہم کو) رات کی قسم جب وہ (دن کو) ڈھانک لے

Ayah 92:2

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور دن کی قسم جب وہ روشن ہو

Ayah 92:3

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور اس (ذات) کی (قسم) جس نے نرومادہ کو پیدا کیا۔

Ayahs 92:4–5

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

بیشک تم لوگوں کی کوششیں البتہ مختلف (طور کی) ہیں۔

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

تو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور پرہیزگاری (کی راہ اختیار) کی

[1] یہ ہے وہ بات جس پر رات اور دن اور نرومادہ کی پیدائش کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ یعنی جس طرح رات اور دن، نر اور مادہ مختلف اور متضاد چیزیں ہیں اسی طرح تمہارے اعمال اور کوششیں بھی مختلف اور متضاد ہیں لہذا ان اعمال و مساعی کے ثمرات و نتائج بھی مختلف ہوں گے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayah 92:6

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور اچھی بات کو سچ سمجھا۔

[2] یعنی کلمہ توحید لا الہ الا اللہ۔
Ayahs 92:7–9

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو البتہ ہم اس کو آسان کریں گے آسانی (کے گھر) کے لئے۔

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے (اللہ کی راہ میں دینے سے) بخل کیا اور (اللہ سے) بےنیازی برتی۔

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور اچھی بات کو جھٹلایا۔

[3] آسانی کے گھر سے مراد ہے جنت۔
Ayah 92:10

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو البتہ ہم اس کو آسان کریں گے سختی (کی جگہ) کے لئے۔

[4] سختی کی جگہ سے مراد ہے دوزخ۔
Ayahs 92:11–12

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔ جب وہ (جہنم کے گڑھے میں) گرے گا۔

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

بیشک راہ دکھانا ہمارا کام ہے،

[5] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سعی اور عمل کے اعتبار سے انسانوں کے دو گروہ بتلائے اور نمونے کے طور پر دونوں کے تین تین اوصاف کا ذکر فرمایا۔ پہلے گروہ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان لوگوں کو جنت کے لئے آسان کردیں گے اور دوسرے گروہ کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم ایسے لوگوں کو دوزخ کے لئے آسان کردیں گے۔ آسان یا مشکل ہونا اعمال ہی کی حقیقت ہوسکتی ہے، اشخاص نہ تو آسان ہوتے ہیں نہ مشکل۔ مگر قرآن کریم نے اس کی تعبیر اس طرح کی کہ خود ان لوگوں کی ذات اور وجود اعمال جنت یا دوزخ کے لئے آسان کر دئیے جائیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان کی طبیعتوں اور مزاجوں کو ایسا بنادیا جائے گا کہ پہلے گروہ کے لئے اعمال جنت ان کی طبیعت بن جائیں گے اور ان کے خلاف کرنے میں ہی تکلیف محسوس کریں گے۔ اسی طرح دوسرے گروہ کا مزاج اس طرح بنادیا جائے گا کہ اس کو اعمال جہنم ہی پسند آئیں گے۔ انہیں میں ان کو راحت ملے گی اور اعمال جنت سے نفرت ہوگی۔ ان دونوں گروہوں کے مزاجوں میں یہ کیفیات پیدا کردینے کو اس سے تعبیر فرمایا کہ یہ لوگ خود ان کاموں کے لئے آسان ہوگئے۔
Ayahs 92:13–21

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور ہمارے ہی اختیار میں ہے دنیا بھی اور آخرت بھی۔

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

تو (لوگو) ہم نے تم کو (دوزخ کی) بھڑکتی ہوئی آگ سے خبردار کردیا ہے۔

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

(اور) بدبخت ہے جو اس میں داخل ہوگا

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جو (دنیا میں حق کو) جھٹلاتا اور (اس سے) روگردانی کرتا رہا

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور اس سے دور رکھا جائے گا وہ شخص جو بڑا پرہیزگار ہے۔

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

(اور) جو اپنا مال (اللہ کی راہ میں اس لئے) دیتا ہے کہ (گناہوں سے) پاک ہوجائے۔

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ (اس دینے سے اس کو) اس کا بدلہ اتارنا (مقصود) ہو۔

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

(وہ تو) صرف اپنے رب عالی مقام کی رضا جوئی کے لئے (یہ کرتا ہے) ۔

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور عنقریب وہ (اللہ بھی اس سے) راضی ہوجائے گا۔

[6] یعنی ہماری حکمت اس کی مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کردیں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمے لیا ہے کہ لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہ سمجھا دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق ہم اس سے برتاؤ کریں گے۔