Ayah 92:1یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا (وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى) رات کی قسم۔ جب وہ چھا جائے۔ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔
Ayah 92:2(وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى) اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہوجائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہوجائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔
Ayah 92:3(وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰٓى) یہاں اگر ماموصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور گر مامصدریہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہوجائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
Ayah 92:4(اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى) اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے یعنی اے مکلفوا۔ تمہاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے تو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا ؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت و مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضحمل ہوجائے گی ؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔
Ayah 92:5بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا (فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى) تو جس نے اللہ کے راستے میں مال دیا۔ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا مثلا، زکوۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلا، نماز روز وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں مثلا حج اور عمرہ وغیرہ انہیں ادا کیا۔ (واتقی) ۔ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔
Ayah 92:6(وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى) اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔ یعنی اس نے لا الہ الا اللہ اور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی، جو اس لا الہ الا اللہ کی تائید کرتی ہیں۔
Ayah 92:7(فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى) تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کردیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنادیتے ہیں کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کردیا۔
Ayah 92:8(وَاَمَّا مَنْۢ بَخِلَ ) اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا انفاق واجب ومستحب کو ترک کردیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا (وَاسْتَغْنٰى) اور اللہ تعالیٰ سے بےنیاز بنارہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کردیا۔ نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوزوفلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔
Ayah 92:9(وَكَذَّبَ بِالْحُسْنٰى) اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔
Ayah 92:10(فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى) تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں، یعنی حالت نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کردیے جائیں گے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
Ayah 92:11(وَمَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗٓ) جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ اللہ سے بےنیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا اس کے کچھ کام نہ آئے گا یعنی جب وہ ہلاک ہوگا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکوۃ وغیرہ ادا نہیں کی تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اسمیں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔
Ayah 92:12(اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰى) بیشک ہمارے ذمے تو راہ دکھادینا ہے یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں گمراہی کے راستے، ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔
Ayah 92:13(وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى) یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔
Ayah 92:14(فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰى) میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے۔
Ayahs 92:15–16(لَا يَصْلٰىهَآ اِلَّا الْاَشْقَى۔ الَّذِيْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى) اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑابد بخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا اور حکم سے منہ موڑا۔
Ayahs 92:17–18(وَسَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى۔ الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى) اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو ہم اسے بچالیں گے آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب ترک واجب، مثلا قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ لوٹایاجائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کررہا ہے اور اس پر واجب فوت ہورہا ہے۔
Ayahs 92:19–21(وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰٓى) یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے بسا اوقت لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے پس وہ بندے پر اللہ تعالیٰ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیر خواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سرانجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔
آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق ہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر کے سبب ہی سے نازل ہوئی۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان کوئی نہیں تھا۔ کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہو حتی کہ رسول اللہ کا بھی آپ پر کوئی دنیاوی احسان نہ تھا البتہ بحثییت رسول احسان تھا جس بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں یہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیاجاسکتا ہے نہ مقابلہ کیا جاسکتا ہے تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہوگا اس کا مصداق ٹھہرے گا۔ پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمے باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے لہذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اس لیے فرمایا (اِلَّا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى۔ وَلَسَوْفَ يَرْضٰى) وہ صرف اپنے رب اعلی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہوگا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔