Ayah 92:1(1) رات کی قسم جبکہ وہ چھا جائے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے، یعنی وہ چھا جائے ہر طرف اور ہر چیز پر، اور گھپ اندھیرا ہوجائے اور سورج کی روشنی اور اس کے آثار مٹ جائیں اور اس طرح دن اور رات کے ان دونوں عظیم الشان نشان ہائے قدرت کے تقابل و تضاد پوری طرح واضح ہوجائے، سو دن کے بعد رات کی آمد، اور دن کی روشنی کی سفید چادر کو لپیٹ کر رات کی سیاہ چادر کو تان دینے کے اس عمل کے اندر نگاہ عبرت و بصیرت رکھنے والوں کے لیے عظیم الشان سامان غور و فکر اور نشانہائے قدرت و حکمت ہیں، جو حضڑت حق خالق مجدہ کی وحدانیت ویکتائی اس کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے عظیم الشان دلائل اور اس کے آثار و مظاہر ہیں، ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور اس سے ان کو راہ حق و ہدایت سے سرفرازی کی دولت نصیب ہوسکتی ہے، وباللہ التوفیق، یہاں پر " یغشی " فعل کا مفعول نہیں ذکر فرمایا گیا جس سے عموم و شمول کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، یعنی رات کا اندھیرا سورج کو بھی ڈھانک لیتا ہے، جیسا کہ پچھلی سورت میں ارشاد فرمایا گیا ہے " واللیل اذا یغشھا " اور اس کے علاوہ رات کا اندھیرا ہر چیز پر چھا جاتا ہے اور اس کو اپنی سیاہ چادر کی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جو حضرت حکیم جل جلالہ کی قدرت و حکمت کا ایک عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے، فلہ الحمد ولہ الشکر، سبحانہ و تعالیٰ بکل حال من الاحوال۔
Ayah 92:2(2) اور دن کی قسم جبکہ وہ روشن ہوجائے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور دن کی قسم جبکہ وہ روشن ہوجائے، یعنی وہ اس طرح روشن ہوجائے کہ ہر چیز اس روشنی اور اجالے میں پوری طرح نکھر کر سامنے آجائے، سو شب و روز کی اس نہایت ہی پر حکمت آمد و رفت، اور ان کے اس قدر پابندی و انتظام کے ساتھ ادلنے بدلنے میں اور ان میں پائے جانے والے طرح طرح کے اور عظیم الشان فوائد و منافع میں بڑے درسہائے عبرت اور سامان فکر و بصیرت ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں، سو تم لوگ ذرہ سوچو کہ آخر یہ کس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت شاملہ کا کرشمہ ہے کہ اس نے اس اندھیری رات کی سیاہ چادر کو ہٹا کر تمہارے لیے دن کے اجالے کی اس سفید چادر کو اس طرح پھیلا دیا، اور وہ ایسا لگاتار کیے جارہا ہے، تاکہ رات کے اس سناٹے اور اس کے پرکیف اندھیرے میں تم لوگ سکون و اطمینان کی گہری نیند سو سکو، اور دن کی آنکھوں کو کھلونے والی اس روشنی میں تم اپنے رزق و فضل اور ضروریات زندگی کا سامان کرسکو، سو وہی ہے اللہ خالق ومالک تم سب کا اور اسی کا حق ہے تم سب اس کے آگے دل و جان سے جھک جھک جاؤ، اور ہمیشہ جھکے ہی رہو، اور اس طرح تم لوگ خود اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 92:3(3) زوجین کی تخلیق کی قسم کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو " اور اس قدر حکیمانہ انداز میں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر ناقص و ناتمام ہے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے تسکین و تسلی کا سبب اور ذریعہ ہے، سو یہ سب کچھ حق تعالیٰ کی عظیم الشان مظاہر قدرت اور اس کے آثار رحمت و عنایت میں سے ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اور ان اضداد کے اندر اس طرح حکمتوں بھرے تو افق کا پایا جانا اس بات کا ایک واضح ثبوت اور کھلی دلیل ہے کہ ان سب پر ایک ہی ارادہ کارفرما ہے، سو یہ سب کچھ حضرت حق جل مجدہ کے وجود یا اس جود اس کی قدرت کاملہ رحمت شاملہ حکمت بالغہ اور اس کی وحدانیت مطلقہ کا قطعی اور کھلا ثبوت ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس رات اور دن اور نر و مادہ کے اضداد کے اندر پایا جانے والا یہ عظیم الشان اور پر حکمت توافق اور اس قدر عظیم الشان اور پر حکمت کہ ان میں سے ہر ایک کا وجود دوسرے کے بغیر ناقص و نامکمل ہے، دونوں ملکر اس مقصد کو پورا کرتے ہیں جس کے لیے حضرت خالق جل مجدہ نے ان کو پیدا فرمایا ہے، اور ان میں سے ہر ایک کے اندر کا خلا دوسرے کے وجود کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا، اور اس کا وجود بےمقصد اور بےفائدہ ہو کر رہ جاتا ہے، سو اضداد ہونے کے باوجود ان کے اندر پائے جانے والے اس پر حکمت توافق میں عظیم الشان اور چشم کشا دلائل عبرت و بصیرت ہیں عقلمندوں کے لیے اور ایسے عظیم الشان کہ ان سے راہ حق و ہدایت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ فالحمد للہ رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 92:4(4) مقصود قسم کی تصریح و توضیح : سو ان قسموں سے مقصود اور جواب قسم کی تصریح و توضیح کے لیے ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ تم سب کی کوششیں ( اے لوگو) یکسر مختلف ہیں۔ پس جس اندھیری رات اور روشن دن آپس میں برابر نہیں ہوسکتے اور نر و مادہ باہم یکساں نہیں ہوسکتے، اسی طرح تمہاری سعی و کوشش بھی اے لوگو، ایک برابر نہیں ہوسکتی، نہ اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے اور نہ اپنے انجام اور نتیجہ و مآل کے لحاظ سے، بلکہ دونوں کے نتائج وثمرات باہم مختلف اور متضاد ہیں اور ہوں گے، کسی کی سعی و کوشش اس کو ابدی خسران اور تباہی سے دوچار کرے گی، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس کے برعکس کسی کی سعی و کوشش کے نتیجے میں اس کو جنت کی ابدی و سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی، اللہ ہمیں انہی میں سے کرے، آمین ثم آمین، اور اس کا آخری اور عملی فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوسکے گا، جہاں ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھر پور صلہ وثمرہ پائے گا، پس تم لوگ کبھی بھی اور کسی بھی طور پر اس خوش فہمی میں مبتلا نہ ہونا کہ اللہ تعالیٰ کے باغی و سرکش جن کو دنیاوی زندگی کی اس عارضی اور امتحانی فرصت میں ڈھیل ملی ہوئی ہے، یہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے، سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، القلم 35, 36 پ 29) یعنی کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے، تم لوگوں کو کیا ہوگیا ؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو ؟ نیز جس طرح اوپر کی شہادتوں سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ہر چیز کا باہم جوڑا ہونا اور اپنے جوڑے ہی کے ذریعے ہر چیز کا اپنی غایت کو پہنچنا، اور اپنے مقصد وجود کو پورا کرنا اس بات کا متقاضی ہے کہ اس دنیا کا بھی ایک مقابل اور اس کا بھی ایک جوڑا ہو، اس کے تسلیم کیے بغیر اس دنیا کا وجود ہی عبث اور بےمقصد قرار پاتا ہے، سو وہی ہے آخرت جس کا وقوع ضروری اور لازمی ہے تاکہ اس دنیا کے مقصد وجود کا تحقق ہوسکے، ورنہ اس دنیا کا وجود عبث اور بیکار ہو کر رہ جائے گا، والعیاذ باللہ۔ سو اسی آخرت میں تمہارے ان باہم مختلف اعمال کے نتائج اپنی اصل اور کامل شکل میں سامنے آئیں گے اور اس طرح نیک اور بد دونوں قسم کے لوگوں کے آخری کامل فیصلہ ہوجائے گا، پس ان اضداد میں توحید، رسالت، اور آخرت کے تینوں بنیادی عقائد کے لیے عظیم الشان دلائل موجود ہیں، مگر یہ سب کچھ انہی لوگوں کے لیے ہے جو صحیح طور غورو فکر سے کام لیتے ہیں، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 92:5(5) سعی محمود اور فائز المرامی کی پہلی اصل کا ذکرو بیان : سو سعی محمود و مطلوب کے اصولوں کے ذکر وبیان کے سلسلے میں پہلی اصل کے بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے دیا یعنی ( اپنے رب کی رضا کے لیے) کہ اس وحدہ لا شریک کی رضا و خوشنودی ہی اصل مقصود ہے کہ بندے کے پاس جو بھی کچھ ہے وہ اسی واہب مطلق سبحانہ و تعالیٰ کا دیا بخشا ہے جس کا طبعی اور فطری تقاضا یہی ہے کہ یہ سب کچھ اسی کی راہ میں اور اسی کی رضا کے لیے خرچ ہو، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے اس فرق و اختلاف کو واضح فرمایا گیا جو نیکوں بدوں کی کمائی اور اچھوں بروں کی سعی و محنت کے درمیان پایا جاتا ہے اور پایا جانا چاہے، اس ضمن میں پہلی اصل جو بیان فرمائی گئی وہ ہے انفاق فی سبیل اللہ، یعنی اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے خرچ کرنا، سو انسان زر پرستی اور ذخیرہ اندوزی میں مبتلا ہونے کی بجائے اس کو اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں صرف کرے۔ اس طرح وہ حب دنیا اور زر پرستی کے رذائل سے بھی بچ جائے گا اور اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کے شرف سے مشرف ہونے کا اہل بھی بن جائے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال فی کل موطن من الموطن فی الحیاۃ۔
(6) سعی محمود و مطلوب کا دوسرا عنصر خوف و خشیت خداوندی : سو سعی محمود و مطلوب کے دوسرے عنصر کے ذکرو بیان کے طور پر فرمایا گیا کہ وہ ڈرتا اور بچتا رہا اپنے رب کی ناراضگی سے ماخوذ و مشتق ہے " اتقائ " سے جس کے اصل معنی بچنے کے آتے ہیں نہ کہ ڈرنے کے جیسا کہ عام طور پر کہا اور سمجھا جاتا ہے، سو ڈرنا دراصل اس کے لوازم میں سے ہے، یا یوں کہا جائے کہ یہ اس کا اصل محرک ہے کہ بندہ جب اپنے خالق ومالک کی گرفت و پکڑ اور اس کی ناراضگی سے ڈرتا ہے، تو وہ اس کی نافرمانی سے بچنے کی فکر و کوشش کرتا ہے، ہم نے اپنے ترجمے کے اندر اسی بنیادی مفہوم اور فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ والحمدللہ رب العالمین، پس مومن صادق ہر وقت اسی بات کو پیش نظر رکھتا ہے کہ میرا رب مجھ سے ناراض نہ ہوجائے، اس کی زندگی اسی محو پر گھومتی ہے اور یہی کامیابی کی شاہ کلید ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ( آیت، النازعات 40, 41 پ 30) اللہ نصیب فرمائے، آمین۔ سو " اعطی " کے بعد " اتقی " کے ذکر سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ انفاق سے مقصود ریا و نمود وغیرہ کوئی دوسری غرض اس کے پیش نظر نہ ہو، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور یوم حساب کا خوف و اندیشہ ہی اس کا باعث اور متحرک ہو، جیسا کہ سورة دہر میں اس کی تصڑیح فرمائی گئی ہے۔ ( آیت، الدھر 7 تا 10 پ 29) وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان و حین۔
Ayah 92:6(7) سعی محمود و مطلوب کا تیسرا رکن تصدیق بالحسنی : سو سعی محمود و مطلوب کے تیسرے رکن یعنی تصدیق بالحسنی کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور اس نے تصدیق کی اس بھلائی کی، جو کہ منبع ومصدر ہے ہر خوبی و بھلائی کا، الحسنی صفت ہے اور اس کا موصوف ہے " العاقبہ " یعنی انجام، سو جو شخص عاقبہ حسنی یعنی اچھے انجام اور جنت و آخرت کی تصدیق کرتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے اسی کا راستہ صحیح ہوتا ہے، اور وہی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوتا ہے، کیونکہ دین و ایمان کے بغیر کسی بھی عمل کا اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی وزن اور اعتبار نہیں، کسی بھی عمل اور نیکی کی قبولیت کے لیے اولین شرط و اساس عقیدہ و ایمان ہے، سو حسنی یعنی بھلائی ایک وسیع المعنی لفظ ہے جو عقیدے، عمل اور اخلاق تینوں کی بھلائی کو شامل ہے، پس اس کا عقیدہ بھی صحیح وسالم اور اور رست ہو، اس میں کفر و شرک اور الحاد وبے دینی کی کوئی میل موجود نہ ہو، اور اس کے اعمال و اخلاق بھی صحیح اور دین و ایمان کی تعلیمات اور دن کے تقاضوں کے مطابق ہوں، اسی لیے " الحسنی " کے موصوف میں مختلف اقوال و احتمال ہیں۔ مثلا " الکلمۃ الحسنی " یعنی کلمہ توحید یا العاقبۃ الحسنی یا الغلیۃ الحسنی، وغیرہ ( جامع البیان، ابن کثیر، اور مراغی وغیرہ) اور ان میں کوئی تضاد اور منافات نہیں، بلکہ یہ سب ہی لازم و ملزوم کے قبیل سے ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں، سو کلمہ توحید کے اقرار و آخرت کے ایمان و یقین کے بغیر کسی بھی عمل کی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی قدروقیمت نہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وھو العزیز الوھاب۔
Ayahs 92:7–88 ۔ سعی محمود و مطلوب کا نتیجہ وثمرہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور سعی محمود و مطلوب کے نتیجہ وثمرہ کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے ہم آسانی مہیا کردیں گے اس بڑے آسان راستے کی "۔ یعنی حق و ہدایت کی اس راہ کو ہم اس کے لیے آسان کردیتے ہیں جو مومن صادق کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز رکتی ہے، کہ اس سے اس کو دنیا میں اس سے حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی، اللہ نصیب فرمائیے آمین۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ہماری اس تیسیر کے بعد انسان کے لیے حق و ہدایت کی راہ پر چلنا ایسا آسان ہوجاتا ہے کہ یہ اس کی طبیعت کا تقاضا بن جاتا ہے، سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و یقین کی قوت اور صدق و اخلاص کی دولت کے نتیجے میں انسان کے لیے راہ حق و صواب پر چلنا اور اپنی آخرت کو سنوارنے کی کوشش و فکر کرنا نہایت آسان اور سہل و میسور ہوجاتا ہے، سو اللہ پاک کی سنت اور اس کا قانون و دستور یہی ہے کہ جو شخص صدق و اخلاص کے ساتھ نیکی کی راہ اختیار کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی راہ کی مشکلات کو آسان کردیتا ہے اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے کی توفیق دیتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا والَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ ( العنکبوت 69 پ 21) یعنی " جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کریں گے ہم ان کو ضڑور اپنے راستوں کی ہدایت سے نوازیں گے، اور یقینا اللہ ساتھ ہے نیکو کاروں کے، اور یہاں پر ایسے لوگوں کی راہ جو جو " یسری " سے تعبیر فرمایا گیا تو اس میں ان کے لیے یہ بشارت ہے کہ ان کا حساب آسان ہوگا جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ( انشقاق 8 پ 30) یعنی ایسوں سے آسان حساب لیا جائے گا، یعنی ایسا حساب جو محض عرض اور پیشی سے عبارت ہے، جس میں کوئی مناقشہ نہیں ہوگا کیونکہ جس کا مناقشہ ہوا وہ مارا گیا جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا " من نوقش فقد ھلک " سو صدق و اخلاص اعطاء و انفاق اور تقوی و پرہیزگاری فوز و فلاح اور نجات و رستگاری اصل اساس ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال فی کل موطن من المواطن وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 92:99 ۔ ناکام و نامراد لوگوں کی نشاندہی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور فائز المرام اور کامیاب لوگوں کے اوصاف و خصال کے ذکرو بیان کے بعد ناکام و نامراد لوگوں کی نشاندہی کے طور پر فرمایا گیا " جس نے بخل سے کام لیا، اس نے بےنیازی و لاپرواہی برتی اور اس نے جھٹلایا اس بڑی بھلائی کو " یعنی اس نے اوپر کی تین عمدہ صفات و خصال کو اپنانے کی بجائے الٹا ان کی ضد اور مخالف ان تینوں صفتوں کو اپنایا، تو وہ ناکام و نامرد ہوں گے، اور اس طرح وہ تباہی کی راہ چل پڑا، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے ناکام و نامراد لوگوں کی نشاندہی کردی گئی، کیونکہ ایسے لوگ اسی دنیاوی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور وہ اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں، وہ آخرت کو جھٹلا کر اور اس کے تقاضوں کو فراموش کر کے نچنت و بےفکر ہوجاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ اور ایسے لوگ اپنے اموال کو اللہ کی راہ اور اس کی رضا کے لیے خڑچ کر کے ان کو ابدی دولت بنانے کی بجائے ان پر گنج بن کر بیٹھ جاتے ہیں، یہاں تک کہ حیات دنیا کی فرصت محدود تمام ہوجاتی ہے، اور وہ ہمیشہ ہمیش کے اس خسارے میں پڑجاتے ہیں، جس سے بچنے کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہیں ہوتی، اور یہی ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا، سو ایسے لوگوں کا نتیجہ و حشر اوپر والے لوگوں کے بالکل برعکس اور اس کے یکسر خلاف ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
Ayah 92:1010 ۔ ٹیڑھے لوگوں کے لیے کٹھن راستہ، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ٹیڑھے لوگوں کے لیے کٹھن راستے کی آسانی دی جائے گی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے شخص کو ہم آسانی مہیا کردیں گے اس بڑے کٹھن راستے کی، جو کہ فطرت کے خلاف اور اس سے متصادم راستہ ہے، اور یہ اس لیے کہ ایسے شخص نے ہلاکت و تباہی کی جس راہ خود اپنایا ہم نے اس کو اسی پر چھوڑ دیا، کہ ہمارا اصول اور ضابطہ یہی ہے کہ جو کوئی جدھر چلنا چاہے اس کو ہم ادھر ہی چلتا کردیتے ہیں، اور جو حق سے منہ موڑے گا اس کا انجام بہرحال برا اور بہت برا ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسے شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا (النساء 115 پ 4) یعنی جو کوئی راہ حق و ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اس سے پھرے گا اس کو ہم ادھر ہی چلتا کریں گے جدھر کو وہ خود لچا ہے اور آخر کار اس کو ہم جہنم میں جھونک دیں گے اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ، پھر یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اتباع ھوی کی راہ اگرچہ بظاہر بڑی آسان معلوم ہوتی ہے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑٰ ہی کٹھن مشکل اور گھٹن و فساد کی راہ ہے، کیونکہ ایسے انسان کو ہمیشہ اپنے وطن، اپنے گردو پیش، قوانین قدرت، نوامیس فطرت اور خود اپنے ضمیر سے لڑنا اور ٹکرانا پڑتا ہے، یہاں تک کہ اس تصادم اور ٹکراؤ کے نتیجے میں اس کا ضمیر ہی سرے سے مر کر فنا ہوجائے اور اس کو اپنی برائی بھی برائی نہ لگے، سو یہ اتنہا درجے کی خرابی اور سب سے بڑی محرومی ہے، بلکہ اگر مزید غور و خوض سے کام لیا جائے تو نظر آئے گا کہ اپنے خالق ومالک کا باغی و سرکش انسان، والعیاذ باللہ دراصل اس کی پیدا کردہ اس پوری کائنات سے ٹکراتا اور متصادم ہوتا ہے، کیونکہ انسان اور جن کی دو با اختیار مخلوق کے سوا باقی تمام مخلوق اپنے خالق ومالک کی مطیع و فرمانبردار ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ( البقرہ 116 پ 1) یعنی اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں ہے۔ سب اسی کے فرمانبردار ہیں، نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا (مریم 93 پ 16) یعنی " آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ان سب نے حاضر ہونا ہے خدائے رحمان کے سامنے اس کے بندے اور غلام بن کر " وغیرہ۔ اور یہ اس لیے کہ باقی مخلوق مخیر نہیں مسیر ہے، اس لیے وہ ہر طرح سے اللہ پاک کے حکم کے پابند ہیں، سو باغی اور سرکش انسان دراصل اس کی اس پوری کائنات کے خلاف اور اس سے ٹکراتا ہے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ پاک کے باغی اور سرکش انسان کی زندگی کس قدر کٹھن اور کتنی گھٹن کی زندگی ہوتی ہے، کہ اس کی پوری زندگی در حقیقت اللہ پاک کی اس پوری کائنات سے ٹکراؤ پر مبنی ہوتی ہے، اسی لیے یہاں پر اس کو " العسر " تنگی کا راستہ فرمایا گیا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اسی بنا پر اس کو آخرت میں ایک بڑی ہی ہولناک چڑھائی ہوگی، جس کو دوسرے مقام پر " الصعود " فرمایا گیا ہے۔ چناچہ سورة مدثر میں ارشاد ہوتا ہے سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًا ( المدثر 17 پ 29) یعنی " میں اس کو عنقریب ہی ایک سخت چڑھائی پر چڑھا دوں گا۔ اور سنن ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صعود دوزخ میں آگ کا ایک پہاڑ ہوگا جس پر دوزخی ستر برس تک زور لگا لگا کر چڑھتے رہیں گے اور پھر اسی طرح اس سے گرتے جائیں گے، اور ان کے ساتھ ہمیشہ ایسے ہی ہوتا جائے گا۔ ( مشکوۃ، باب صفۃ النار واھلھا) والعیاذ باللہ العظیم، من کل نوع من انواع العذاب، فی الدنیا والاخرۃ ومن کل سواء وانحراف۔
Ayah 92:1111 ۔ بخیلوں اور زر پرستوں کو تنبیہ : سو بخیلوں اور زر پرستوں کو تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور کچھ کام نہیں آسکے گا اس کو اس کا مال جبکہ یہ گرے گا ہلاکت کے گڑھے میں۔ اور اس طرح اس کا وہ مال جس کو کمانے اور جوڑنے میں اور اس کو بڑھانے اور جمع کرنے میں اس نے اپنی عمر کی پوری پونجی لٹا دی تھی، وہ اس کے لیے وہ بھی موجب حسرت بنے گا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ اس ارشاد کا ایک مطلب ہوا جس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ کلمہ " ما " یہاں پر نافیہ ہے جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ بھی موجود ہے کہ یہ ما استفہامیہ ہو، یعنی اس کے کس کام آئے گا اس کا مال جبکہ وہ اپنے اس ہولناک انجام سے دوچار ہوگا، معنی کے لحاظ سے اگرچہ ان دونوں صورتوں میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوگا، لیکن استفہامیہ میں زور زیادہ ہے، سو اس میں ان لوگوں کو بانداز سوال تنبیہ اور ملامت فرمائی گئی ہے، جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بجائے اس کو جوڑنے اور جمع کرنے کی فکر میں مشغول ہیں کہ ایسے شخص کو اس کا مال کیا کام آئے گا جبکہ یہ جہنم کے کھڈے میں جاگرے گا ؟ مطلب یہ کہ مال کا اگر کوئی فائدہ اور مستقبل ہے تو صرف اس صورت میں ہے جبکہ اس کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے خرچ کر کے اپنی ابدی زندگی کے لیے محفوظ کرلیا جائے، ورنہ یہ مال اس کے خیر کی بجائے ہمیشہ کے لیے موجب وبال بن جائے گا، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اللہ پاک کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے خرچ کیا جانے والا مال نہ صرف یہ کہ اس کے لیے محفوظ رہے گا بلکہ وہ اس کو کئی گنا بڑھ کر اور کہیں بہتر شکل میں ملے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کو اس طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ مثلا ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا (مزمل 20 پ 29) وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ و تعالیٰ جل وعلا۔
Ayah 92:1212 ۔ منکرین کو ایک خاص تنبیہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کو تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہمارے ذمہ کرم پر ہے راست بنانا اور حق و ہدایت کی راہنمائی کرنا، تاکہ اس راہ حق و ہدایت پر چل کر لوگ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کا سامان کرسکیں اور شقاوت و بدبختی کی طرف لے جانے والی ٹیڑھی ترچھی راہوں اور ہلاکت و تباہی کی پگ ڈنڈیوں سے بچ سکیں کہ حق کی راہ بہرحال ایک ہی راہ ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ (النحل 9 پ 14) سو راہ حق و ہدایت سے آگہی بخشنا ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے، اور ہم نے یہ کام اپنا رسول بھیج کر اور اپنی کتاب اتار کر پورا کدیا، آگے ماننا نہ ماننا بندوں کی اپنی مرضی پر ہے، اس میں کوئی جبر واکراہ بہرحال نہیں۔ سو اس میں منکرین کے لیے تنبیہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے راستہ بتادینا ہے اور بس۔ سو اس کی تکمیل کردی گئی، آگے یہ ذمہ داری ان کی نہیں کہ لوگوں کو اس راستے پر چلا بھی دیں، یہ لوگوں کی اپنی مرضی اور صوابدید پر ہے، اگر وہ مانیں گے اور اس کو اپنائیں گے تو یہ خود ان کی اپنی صلاح و فلاح کا ذریعہ ہوگا، اور اگر نہیں مانیں گے تو اس کا وبال و بھگتان بھی خود انہی کو بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائی۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وھو العزیز الوھاب، تبارکت وتعالیت۔
Ayahs 92:13–1513 ۔ دنیا وآخرت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو تنبیہ مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا ہمارے ہی لیے ہے آخرت بھی اور اس سے پہلے یہ دنیا بھی، کہ ان دونوں کے خالق بھی ہم ہیں اور مالک بھی ہم، اور حاکم و متصرف بھی ہم جس کو جو چاہیں اور جب جیسے چاہیں عطا کریں اور جو چاہیں حکم دیں اور قانون بنائیں، کیونکہ ہی ہم جانتے ہیں کہ کس کے لیے کیا بہتر و مفید ہے، اور کیا مضر و نقصان دہ ہے، سو انسان کے لیے بہتری اور بھلائی اور دارین کی سعادت و سرخروئی اسی میں اور صرف اسی میں ہے کہ وہ صدق دل سے ہمارے اوامرو احکام کی پیروی کرے، بہرکیف دنیا و آخرت دونوں کے سب معاملات ہمارے ہی قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ پس کوئی محض اپنے زور و اختیار اور اپنی تدبیر سے نہ اس دنیا میں کچھ بنا سکتا ہے اور نہ آخرت میں بنا سکے گا، لہذا اگر کسی کو اپنے خاندانی شرف پر ناز ہے یا اپنے خیالی معبودوں اور سفارشیوں کا گھمنڈ ہے تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ آخرت میں اس کو اس طرح کی کوئی بھی چیز کام نہیں آئے گی، بلکہ معاملہ اس روز سب کا سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں اس طرح تصریح فرمائی گئی وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ (انفطار 19 پ 30) اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان، وانت العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayahs 92:16–2114 ۔ انجام اور مآل کار کی تذکیر و یاد دہانی : سو آخر میں انجام اور مآل کار کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ میں نے تم لوگوں کو خبردار کردیا دہکتی بھڑکتی آگ سے جس میں وہی داخل ہوگا جو سب سے بڑا بدبخت ہوگا جس نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا اور اس سے بچا لیا جائے گا اس خدا ترس کو جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ وہ پاک ہوجائے۔ مال کی محبت اور دوسرے اخلاقی رذائل سے کیونکہ مال کی محبت جب کسی کے دل میں جڑ پکڑ لیتی ہے والعیاذ باللہ تو اس سے آگے کئی طرح کے مفاسد جنم لیتے اور خرابیاں رونما ہوتی ہیں، سو ایسا شخص اس طرح کے مفاسد سے بچنے اور ایسی خرابیوں سے پاک ہونے کے لیے اپنا مال خرچ کرتا ہے۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں مقابلہ کم شقی اور زیادہ شقی یا کم متقی اور زیادہ مقتی کے درمیان ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا اور اس سے آگے انہوں نے یہ غلط نتیجہ نکالا کہ دوزخ میں صرف زیادہ شقی انسان ہی جائے گا۔ کم شقی نہیں جائے گا۔ نہیں بلکہ یہاں پر مقابلہ دراصل مکذبین اور مصدقین کے درمیان ہے، سو رسول کی تکذیب کرنے والے سب ہی " اشقی " یعنی بڑے بدبخت ہیں، اسی لیے یہاں پر " اشقی " کی تعیین و تشخیص کے طور پر اس کے بعد ارشاد فرمایا گیا الَّذِيْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى یعنی جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ اور اس کے بالمقابل پیغمبر کی تصدیق کرنے والے اتقی ہیں کہ وہ ایمان و یقین کے اس نور سے بہرہ مند و سرفراز ہوگئے جو تقوی و پرہیزگاری کی اصل اساس و بنیاد ہے، اس کے بعد آگے ترقی درجات کا مرحلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، فعلیک نتوکل وبہ نسعین۔