وَاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ ۟ؕوَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡؕ
اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And as for the petitioner, do not repel [him].
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
وَاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ ۟ؕوَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡؕ
اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And as for the petitioner, do not repel [him].
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa
اور سائل کو نہ جھڑکو
اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا
اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ
اور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں۔
اور منگتا کو نہ جھڑکو
اور (اپنے در کے) کسی منگتے کو نہ جھڑکیں،
اور لیکن سائل، پس (اسے) مت جھڑک۔
اور نہ ہی کسی سائل کو جھڑکیے
اور جو سائل ہو اس کو نہ جھڑکیو ،
اور سوال کرنے والے کو جھڑکنا نہیں
اور سائل کو مت جھڑکئے
اور آپ ﷺ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔
اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا
and chide not him who asks,
and as for the beggar, do not scold him.
and as for the beggar, do not scold him.
And repulse not the one who asks.
Therefor the beggar drive not away,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And as for the petitioner, do not repel [him].
and do not reject the beggars
And as for him who asks, do not chide (him),
And as to the beggar, chide thou him not.
Nor repulse the petitioner (unheard);
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…
Read the full tafseer →سورة الضُّحٰی 10 اس کے دو معنی ہیں اگر سائل کو مدد مانگنے والے حاجت کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مدد کرسکتے ہو تو کردو، نہ کرسکتے ہو تو نرمی کے ساتھ معذرت کردو، مگر بہرحال اسے جھڑکو نہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے جواب میں ہے کہ " تم نادار تھے پھر اس نے تمہیں مالدار کردیا "۔ اور اگر سائل کو پوچھنے والے، یعنی دین کا کوئی مسئلہ یا حکم دریافت کرنے والے کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص خواہ کیسا ہی جاہل اور اجڈ ہو، اور بظاہر خواہ کتنے ہی نامعقول طریقے سے سوال کرے یا اپنے ذہن کی الجھن پیش کرے، بہرحال شفقت کے ساتھ اسے جواب دو اور…
Read the full tafseer →دوسرا حکم اما السائل فلاتنھر، تنہر، نہر سے مشتق ہے جس کے معنے زجر اور جھڑکنے کے ہیں اور سائل کے معنے سوال کرنے والا، اس میں وہ بھی داخل ہے جو کسی مال کا سوال کرے اور وہ بھی جو علمی تحقیق کا سوال کرے، دونوں کو جھڑکنے ڈانٹنے سے آنحضرت ﷺ کو منع فرمایا گیا، بتر یہ ہے کہ سائل کو کچھ دے کر رخصت کرے اور نہیں دے سکتا تو نرمی سے عذر کر دے اسی طرح کسی علمی مسئلہ کا سوال کرنے والے کے جواب میں بھی سختی اور بدخوئی ممنوع ہے نرمی اور شفقت سے جواب دینا چاہئے بجز اس کے کہ سائل کسی طرح مانے ہی نہیں تو بضرورت زجر بھی جائز ہے۔
Read the full tafseer →دوسرے انعام کا حق: ’وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ‘۔ یہ اس انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اوپر ’وَوَجَدَکَ ضَالّاً فَہَدٰی‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ لفظ ’سائل‘ یہاں محدود معنی میں نہیں بلکہ وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ خواہ سائل اپنے پیٹ اور تن کی کسی ضرورت کے تحت سوال کرے یا اپنی کسی ذہنی و عقلی الجھن سے متعلق سوال کرے یا اپنے دین سے متعلق سوال کرے، غرض جس طرح کی بھی مدد و رہنمائی کا طالب ہو حتی الامکان اس کی مدد و رہنمائی کی جائے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو خوبصورتی کے ساتھ اس کے سامنے معذرت پیش کر دی جائے، اس کو جھڑکا اور ڈانٹا نہ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات یاد رکھنا کہ ایک دور تم پر بھی…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی اس سے سختی اور تکبر نہ کر، نہ درشت اور تلخ لہجہ اختیار کر، بلکہ جواب بھی دینا ہو تو پیار اور محبت سے دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6: سوال کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہوسکتا ہے جو مالی مدد چاہتا ہو، اور وہ بھی جو حق طلبی کے ساتھ دین کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہتا ہو۔ دونوں کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو نرمی سے معذرت کرلینی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فاما ........................................ فحدث یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ…
Read the full tafseer →2 یعنی تم نادار تھے، اللہ تعالیٰ نے غناء عطا فرمایا۔ اب شکر گزار بندے کا حوصلہ یہی ہونا چاہیے کہ مانگنے والوں سے تنگ دل نہ ہو اور حاجتمندوں کے سوال سے گھبرا کر جھڑکنے ڈانٹنے کا شیوہ اختیار نہ کرے۔ بلکہ فراخدلی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ احادیث میں سائلین کے مقابلہ پر آپ ﷺ کی وسعت اخلاق کے جو قصے منقول ہیں وہ بڑے سے بڑے مخالف کو آپ ﷺ کے اخلاق کا گرویدہ بنا دیتے ہیں (تنبیہ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ سائل کے زجر کی ممانعت اس صورت میں ہے جب وہ نرمی سے مان جائے۔ ورنہ اگر اڑی لگا کر کھڑا ہوجائے اور کسی طرح نہ مانے اس وقت زجر جائز ہے۔
Read the full tafseer →آیت 10{ وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ۔ } ”اور آپ ﷺ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔“ ایک وقت تھا جب آپ ﷺ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے اور ہم نے آپ ﷺ کو ہدایت عطا فرمائی تھی۔ اب اگر آپ ﷺ کے پاس کوئی سائل اپنی حاجت لے کر آئے تو اس کی حاجت روائی کریں اور اسے جھڑکیں نہیں۔ ظاہر ہے سائل بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کوئی مالی معاونت کے لیے سوال کرتا ہے تو کوئی علم کی تلاش میں لوگوں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے۔
Read the full tafseer →9 سائل سے نرم برتاؤ :۔ سائل کا معنی کوئی چیز مانگنے والا بھی ہے اور کوئی بات پوچھنے والا بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ اگر تم سے کوئی چیز مانگنے والا آئے تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور دے دو اور دینے کو کچھ نہ ہو تو نرمی سے معذرت کردو۔ یعنی سائل کو جھڑک دینا جائز نہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ 1۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس جب کوئی سائل آتا یا کوئی شخص اپنی حاجت بیان کرتا تو آپ ﷺ صحابہ سے فرماتے کہ تم بھی سفارش کرو۔ تمہیں اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی زبان سے جو چاہے گا حکم دے گا۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا) 2۔ عبدالرحمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
6۔ یعنی ان نعمتوں کا شکریہ قولی وفعلی ہر طرح ادا کرتے رہئے۔ (آیت) ” فاما الیتیم فلا تقھر “۔ عرب جاہلیت میں یتیم بیچاے کی کوئی قدر نہ تھی، اور وہ کسی عزت یا جائداد کا حقدار نہ تھا۔ وکذا کانت العرب یتیمی کو یاد کرلیاکیجئے، اور اس غریب مخلوق یعنی یتیم کے ساتھ ہر طرح کا حسن سلوک ومدارات برتاکیجئے۔ یہ آیت ماقبل کی (آیت) ” الم یجدک یتیما فاوی “۔ کے مقابلہ پر ہے، (آیت) ” واما لسآئل فلا تنھر “۔ جاہلی تہذیبیں ایسی بکثرت گزری ہیں، جن میں محتاج سائل کا کوئی حق کسی قسم کا تسلیم ہی نہیں کیا گیا تھا آپ ﷺ کو تعلیم مل رہی ہے کہ خود اپنی حاجت مندی کے زمانہ کو یاد کرلیا کیجئے۔ اور کسی صاحب احتیاج سائل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ووجدک عالاً فاغنی ” غنی کرنے “ کا مطلب ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو اپنے سواہر ایک سے بےنیاز کردیا پس آپ ﷺ فقر میں صابر اور غنی میں شاکر رہے خود نبی ﷺ کا بھی فرمان ہے کہ تو نگری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں اصل تو نگری دل کی تو نگری ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الزکوۃ)
Read the full tafseer →واما السائل فلا تنھر . سائل کو نہ جھڑکو۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ دروازہ پر جو سائل آئے ‘ اس کو نہ جھڑکو ‘ نہ ڈانٹو کیونکہ تم بھی نادار ‘ محتاج تھے یا تو اس کو کھانا دے دو ورنہ نرمی اور خوش خلقی کے ساتھ اس کو واپس کر دو ۔ اس آیت کے ذیل میں حسن (رح) نے کہا کہ طالب علم اگر کچھ پوچھے تو اس کو نہ جھڑکو۔ حضرت ابن مسعود کی روایت ہے جس نے مستحقین علم سے علم کو چھپایا ‘ قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام لگائی جائے گی۔ تفسیر دوم (یعنی حسن بصری کے قول) کی بناء پر اس آیت کی وابستگی وَوَجَدَکَ ضَالّا فَھَدٰی سے ہوگی اور لف و نشر مرتب ہوگا (یعنی دوسرے مجموعہ کے اوّل حصہ کا تعلق اول مجموعہ کے اوّل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) تو اب ان نعمتوں کے شکریہ میں آپ یتیم پر سختی نہ کیجیے اور سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کیجیے اور نہ اس کو جھڑکیے۔ اور نبوت واسلام کا لوگوں کے درمیان تذکرہ کرتے رہا کیجیے اور ان کو اس سے آگاہ کردیجیے۔ شان نزول : وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ امام بخاری و مسلم نے حضرت جندب سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو کچھ تکلیف ہوگئی جس کی وجہ سے ایک یا دو راتوں کو آپ تہجد نہ پڑھ سکے تو آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی اے محمد ﷺ میرے خیال میں (معاذ الل) آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ سعید بن منصور اور…
Read the full tafseer →(واما السآئل فلا تنھر : اسی طرح آپ نے تنگ دستی دیکھی ہے اور اللہ تعالیٰ کا غنی کرنا بھی، ان دونوں کا تقاضا ہے کہ سائل کی ضرورت پوری کرو۔ اگر نہیں کرسکتے تو لطف و کرم سے پیش آؤ، جھڑکی نہ دو اور آپ نے کتاب اور ایمان سے نا واقفی کا زمانہ دیکھا ہے، پھر اللہ نے آپ کو یہ نعمتیں دیں، اب اگر کوئی علم کے متعلق سوال کرے یا کسی چیز کا سوال کرے تو اسے ڈانٹنا ہرگز نہیں ! بلکہ کوئی علم کا طالب ہو یا ملا کا، اس سے حسن خلق کے ساتھ پیش ائٓیں، اس کی حاجت پوری کریں یا اچھے طریقے سے عذر پیش کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سائل اور اس کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ۔ مسئلہ نمبر 3۔ واما السائل فلاتنھر۔ سائل کو نہ جھڑکیں۔ یہ مسائل کے بارے میں سخت بات کرنے سے نہی ہے بلکہ اسے تھوڑا مال دے کر یا اچھا جواب دے کر واپس کردو، یہ قتادہ اور دوسرے علماء نے قول کیا ہے حضررت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جب سائل سوال کرے تو تم میں سے کسی کو اسے عطا کرنے سے کوئی چیز نہ روکے اگرچہ وہ عطا کرنے والا سائل کے ہاتھوں میں دو سونے کے کنگن دیکھے حضرت ابراہیم ابن ادہم نے کہا، سائلین کتنے اچھے لوگ ہیں جو ہمارا زاد راہ آخرت کے لیے اٹھا کرلے جاتے ہیں ابراہیم نخعی نے کہا، سائل آخرت کا ڈا کیا ہے وہ تمہارے دروازے پر آتا ہے وہ کہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
39۔ ابن الانباری نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی کسی یتیم کو حقیر نہ جانو۔ اور ذکر کیا گیا کہ عبداللہ ؓ کے مصحف میں یوں ہے آیت فلا تکھر۔ 41۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا تقہر یعنی کسی یتیم پر ظلم اور زیادتی نہ کیجیے۔ 42۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی کسی یتیم پر ظلم نہ کیجیے۔ 43۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی یتیم کے لیے رحیم باپ کی طرح ہوجائیے آیت وما السائل فلا تنہر اور سائل کو نہ جھڑکو یعنی کسی سائل کا جواب…
Read the full tafseer →[وَاَمَا : اور وہ جو ہے، تو ][ السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ : کسی بھی مانگنے والے کو پس آپ ﷺ مت جھڑکیں ] نوٹ۔ 7: آیت۔ 10 ۔ کے دو معنی ہیں۔ اگر سائل کو مدد مانگنے والے حاجت مند کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مدد کرسکتے ہو تو کر دو ، ورنہ نرمی کے ساتھ معذرت کرلو، مگر بہرحال اسے جھڑ کو نہیں۔ اور اگر سائل کو پوچھنے والے کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پوچھنے والا خواہ کیسا ہی جاہل اور اجڈ ہو اور خواہ کتنے ہی نامعقول طریقے سے سوال کرے، بہرحال اسے شفقت کے ساتھ جواب دو اور علم کا زعم رکھنے والے بدمزاج لوگوں کی طرح اسے جھڑک کر دور مت کرو۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 8: نعمت کا…
Read the full tafseer →﴿ وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ0010﴾ (اور سوال کرنے والے کو مت جھڑکیے) جس طرح یتیم بچہ بےیارو مددگار ہوتا ہے اس کے لیے رحمت اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بعض مرتبہ غیر یتیم بھی حاجت مند ہوجاتا ہے اور حاجت مندی اسے سوال کرنے پر مجبور کردیتی ہے جب کوئی سوال کرنے آئے تو اسے کچھ دیکر خوش کر کے رخصت کیا جائے اگر اپنے پاس کچھ دینے کے لیے نہ ہو تو کم از کم اس سے نرمی سے بات کرلیں تاکہ اس تکلیف پر اضافہ نہ ہو جس نے سوال کرنے پر مجبور کیا، سائل جو جھڑکنا ظلم و زیادتی کی بات ہے ایک تو اس کو کچھ دیا نہیں اور پھر اوپر سے جھڑک دیا، یہ اہل ایمان کی شان کے خلاف ہے۔ ایک حدیث میں یہ ارشاد ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
5:۔ ” فاما الیتیم “ یہ تینوں امور پہلے تینوں امور پر مرتب ہیں بطور لف و نشر مرتب۔ امر اول، ” الم یجدک یتیما فاوی “ پر مرتب ہے۔ چونکہ آپ بھی اس حال سے گذرے ہیں اور یتیمی کا مزہ آپ نے بھی چکھا ہے اس لیے کسی یتیم پر سختی نہ کرنا اور نہ اس کو جھڑکنا۔ ” واما السائل فلا تنھر “ یہ ” ووجدک ضالا فھدی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و شریعت کے علوم و معارف سے مالا مال کردیا ہے اس لیے اگر کوئی علم دین کا سائل حاضر خدمت ہو تو اس کو مت ڈانٹنا بلکہ اس کو علم دین سے سیراب کردینا ” واما بنعمۃ ربک فحدث “ یہ ” ووجدک عائلا فاغنی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دولت عطا کی اس لیے اللہ تعالیٰ کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
گزشتہ سے پیوستہ ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ چند دن کے لئے وحی کے منقطع ہونے پر مشرکین جو اعتراضات کرتے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اس مقام پر دن اور رات کی قسم کھا کر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا پروردگار مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ نہ اس نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ اس نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں پر دھوپ کے روشن ہونے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے جس طرح چاشت کے وقت دن خوب روشن ہوتا ہے اور ہر چیز واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی الٰہی کے نزول پر حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کا منقطع ہونا بھی ترق کی علامت ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْہَرْ 10 ۭ سَّائِلَ ويعبّر عن الفقیر إذا کان مستدعیا لشیء بالسّائل، نحو : وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَرْ [ الضحی/ 10] ، وقوله : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] . فقیر کو بھی جب وہ کسی چیز کی استدعا کرے تو اسے سائل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَرْ [ الضحی/ 10] اور مانگنے کو جھڑی کی نہ دینا ۔ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] مانگنے والے اور نہ مانگنے والے ۔ نَّهْرُ ) جھڑکنا) والانتهارُ : الزّجر بمغالظة، يقال : نَهَرَهُ وانتهره، قال : فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُما[ الإسراء/ 23] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ترکیب ¦ الم یجدک ھذا شروع فیما انعم اللہ علیہ والہمزۃ لانکار النفی وتقریر المنفی فکانہ قال قدو جدک یتیما والوجود بمعنی العلم۔ فآ وٰی قرء الجمھور بالالف بعد الھمزۃ رباعیا من آواہ یویہ وقریٔ ثلاثیا وھوا ما بمعنی الرباعی اوھو من آوی لہ اذا رحمہ ووجدک ضا لا فہدی معطوف علی المضارع المنفی وقیل علی ما یقتضیہ الکلام السابق والضلال ھھنا بمعنی الغفلۃ کما قال الزجاج ونظیرہ قولہ تعالیٰ ولا یضل ربی ولا ینسیٰ وقولہ تعالیٰ ان تضل احدا ھما فتذکر احدا ھما الاخرٰی وقیل من الطلب والمحبتہ کقولہ تعالیٰ انک لفی ضلالک القدیم ووجدک عائلا الخ معطوف علی الکلام السابق یقال عال الرجل یعیل عیلۃ اذا افتقرا ما الیتیم منصوب…
Read the full tafseer →وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلاَ تَنْھَرْ ۔ (الضحیٰ : 10) (اور سائل کو مت جھڑکیے۔ ) دوسرے احسان کا حق سائل کے دو معنی ہیں 1 مدد مانگنے والے حاجت مند کو کہتے ہیں، 2 دین کی کوئی بات پوچھنے والا یا شریعت کا کوئی حکم معلوم کرنے والا۔ یہاں دونوں ہی مراد ہیں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جو حاجت مند آپ کے دروازے پر مدد مانگنے کے لیے آئے آپ اس کی مدد کرسکتے ہیں تو کر دیجئے۔ اور اگر حالات ایسے ہیں کہ آپ اس کی مدد نہیں کرسکتے تو نرمی کے ساتھ معذرت کردیجیے۔ مگر کسی حال میں بھی اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کیجیے اور جھڑک کر دور نہ ہٹایئے۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے شکر کے طور پر ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کو یتیموں اور غریبوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی خصوصی تلقین۔ یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہر صاحب حیثیت کا فرض ہے لیکن یہ فرض اس شخص کے لیے زیادہ اہم ہوجاتا ہے جس نے یتیمی میں آنکھ کھولی اور غریبی میں پرورش پائی ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے مقام عطا فرمائے اور وسائل سے ہمکنار کرے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دوسروں سے بڑھ کر یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو امت کا سربراہ بنایا اور فتح مکہ کے بعد وسائل کے دروازے کھول دئیے۔ اس لیے آپ کو حکم دیا گیا کہ یتیم کو نہیں جھڑکنا اور سائل سے روگردانی اختیار نہیں کرنی اور اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →10 : وَاَمَّا السَّآ ئِلَ فَـلَا تَنْھَرْ (اور سائل کو مت جھڑکیے) نہ ڈانٹیں پس تھوڑا خرچ کردیں یا اچھے انداز سے واپس لوٹا دیں۔ بقول سدی : مراد اس سے طالب علم ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آجائے تو مت جھڑکیں۔
Read the full tafseer →10 ۔” واما السائل فلا تنھر “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں دروازے پر سوال کرنے والا مرد ہے۔ فرماتے ہیں اس کو نہ ڈانٹیں جب وہ آپ (علیہ السلام) سے سوال کرے۔ پس آپ (علیہ السلام) خود تنگدست تھے۔ پس آپ (علیہ السلام) یا تو ان کو کھانا کھلا دیں یا اس کو نرمی سے جواب دے دیں۔ کہا جاتا ہے ” نھرہ وانتھرہ “ جب اس کا استقبال ایسی کلام سے کرے جو اس کو ڈانٹے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں سائل کو نرمی اور رحمت سے واپس کریں۔ ابراہیم بن ادھم (رح) فرماتے ہیں سوال کرنے والی قوم بہت اچھی ہے، تم میں سے کسی ایک کے دروازہ پر آتا ہے ، پھر کہتا ہے کیا تم اپنے اہل (مردوں) کی طرف کسی چیز کے ذریعے توجہ کرتے ہو ؟ اور حسن (رح) سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اس لیے فرمایا (فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ ) یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجئے۔ آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں بلکہ اس کا اکرام کریں جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے (وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ ) یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات، یعنی ڈانٹ اور ترش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کردیجئے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجئے۔ اس میں مال کا سوال کرنے والا علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سائل کو نہ جھڑکو قول باری ہے (واما السائل فلا تنھر۔ اور سائل کو نہ جھڑکو) اس میں سائل کو سخت بات کہنے کی ممانعت ہے کیونکہ انتھار کے معنی جھڑکنے اور سخت بات کہنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے آیت میں سائل کو اچھی بات کہنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے (واما تعرصن عنھم ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا فقل لھم قولا میسورا۔ اور اگر ان سے (یعنی حاجتمند رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کررہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو ) اگرچہ آیت میں حضور ﷺ کو خطاب ہے لیکن اس سے تمام مکلفین مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 ۔ یتیم پر سختی کی ممانعت کا ذکرو بیان : سو مذکورہ بالا انعامات کے حق نعمت کے ذکرو بیان کے سلسلے میں سب سے پہلے یتیم کے حق کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " پس یتیم پر کبھی سختی نہیں کرنا " بلکہ اس سے ہمدردی اور شفقت ہی کا برتاؤ ہی کیجیے گا، کہ آپ خود اس مرحلے سے گزر چکے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے یتیموں کی پرورش و خیر خواہی سے متعلق علمی اور عملی طور پر دنیا کو جن تعلیمات عالیہ سے نوازا ان کی نظیر تو کیا ان کا عشر عشیر بھی کہیں اور نہیں مل سکے گا، آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں ( انا و کا فل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ہو سکے تو کچھ دے دو اور نہ ہو سکے تو کشادہ روئی اور نرمی سے جواب دے دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(93:9) فاما الیتیم فلا تقھر : اما بمعنی لیکن یا سو۔ حرف شرط ہے اور اکثر حالت میں تفصیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تاکید کے لئے بھی۔ یہاں تفصیل کے لئے آیا ہے۔ لاتقھر فعل نہی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو نہ دبا۔ تو ظلم نہ کر۔ قھر (باب فتح) سے جس کے معنی دوسرے پر غلبہ کرنے۔ دبانے اور ذلیل کرنے کے ہیں۔ قھر کے معنی غلبہ اور تذلیل دونوں ایک ساتھ ملحوظ ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک معنی میں علیحدہ علیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ وھو القاھر فوق عبادہ (6:18) (وہی غالب ہے اپنے بندوں پر) میں محض غلبہ کے معنی میں آیا ہے۔ اور آیر زیر مطالعہ میں محض تذلیل کے معنی میں آیا ہے کہ یتیم کو ذلیل مت کرو۔ تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…
Read the full tafseer →(ف 2) ارشاد ہے کہ سائل سے تنگ دل نہ ہو اور حاجت مندوں کے سوال سے گبھراکر جھڑکنے ڈانٹنے کاشیوہ اختیار نہ کرے، بلکہ فراخدلی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے احادیث میں سائلین کے مقابلہ میں آپ کی وسعت اخلاق کے جو قصے منقول ہیں وہ بڑے سے برے مخالف کو آپ کے اخلاق کا گرویدہ بنادیتے ہیں ، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ سائل کے زجر کی ممانعت اس صورت میں ہے جب وہ نرمی سے مان جائے ورنہ اگر اڑی لگاکرکھڑے ہوجائے اور کسی طرح نہ مانے، اس وقت زجر جائز ہے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ سائل سے طالب علم مراد ہے اس کا اکرام کرنا چاہیے، اور جو اس کی حاجت ہو اس کو پورا کرنا اس کے ساتھ بدخلقی نہ کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
[3] یعنی آنے والے حالات آپ کے لئے گزشتہ حالات سے بہتر و برتر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 1: فرمایا ۔ ان انعامات کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اظہار تشکر کے طور پر یتیموں کے حق میں بدرجہ غایت شفیق ہوجائیں ۔ ان پر سختی نہ کریں اور سائل کو نہ جھڑکیں اور اپنے قول وفعل سے اپنے رب کی نعمتوں کا اعتبار کرتے رہیں ۔ حل لغات :۔ وجدک ضآلا ۔ قطبی نے قوضلالت کے معنی ضلالت وکفر کے ہی لئے ہیں اور یہ وہ جسارت ہے جس کو نقل کرنے میں قلم کا جگر شق ہوجاتا ہے ۔ مگر امام رازی نے کوئی بیس وجوہ تاویل کا ذکر کیا ہے ۔ جن میں سے ایک وجہ جو پسندیدہ ہے ۔ یہ ہے کہ ضلالت کے معنی محبت اور شوق کے بھی ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وارفتگی و محبت کے متعلق ان کے لڑکوں نے کہا تھا ۔ انک لفی ضلالک القدیر ۔ اس…
Read the full tafseer →(10) اور آپ مانگنے والے کو نہ جھڑکیے - یعنی جیسا ہم نے آپ کو یتیمی پر آپ کے ساتھ مہربانی اور شفقت کی آپ بھی اس کے شکر میں یتیم پر کوئی بےجا دبائو نہ ڈالیے جس طرح ہم نے تم کو ٹھکانا دیا آپ بھی ٹھکانا دیجئے یہ مکارم اخلاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وصف اور اس کے اخلاق کو اختیار کیا جائے۔ تخلقوا ب اخلاق اللہ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سے وہ گھر بہتر ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کا جاتا ہو اور تمام گھروں میں سے وہ گھر بدترین ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہو نیز سائل کو نہ جھڑکیے کیونکہ ہم نے آپ کو فقر کو دیکھ کر آپ کو غنی کیا اس کا شکریہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 4۔ اس طرح کہ حضرت خدیجہ ؓ کے مال میں آپ ﷺ مضارب ہوئے اور اس میں نفع ملا، پھر حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کرلیا اور اپنا تمام مال حاضر کردیا۔
Read the full tafseer →اور سائل کو مت جھڑک 10 ؎ (تنھر) تو ڈانٹے ، تو جھڑکے نھر سے جس کے معنی سختی کے ساتھ ڈانٹنے اور جھڑکنے کے ہیں ۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر اور اس جگہ لا نہیں موجود ہے اس لیے فعل نہی ہے یعنی مت ڈانٹ ڈپٹ اور اس جگہ خطاب اگرچہ رسول اللہ ﷺ ہی سے ہے لیکن مراد اس سے محمد رسول اللہ ﷺ ہی کو درس دینا ہے نہ یہ کہ آپ ﷺ نے کسی سائل کو کبھی ڈانٹا ہو جس سے آپ ﷺ کو منع کیا گیا ہے اور یہ انداز خطاب عام ہے ۔ مانگنے والوں سے برا فروختہ کون ہوتا ہے ؟ وہی جس کے باپ دینے کو تو بہت کچھ ہو لیکن وہ اس کو محض اپنے لیے روک کر رکھنے کی کوشش کرے اور سائل کو دینے کے لیے وہ تیار نہ ہو وہ شخص جس کے پاس جو کچھ ہے وہ وہی کچھ دینے…
Read the full tafseer →Injunction [ 2] وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ (and as for the beggar, do not scold him....93:10). The verb tanhar is derived from nahr which means 'to scold'. The word sa'il means 'one who asks'. It includes a person who asks people's wealth, that is, a beggar, and it also includes the one who asks a question of knowledge, that is, an academic investigator. The Holy Prophet ﷺ has forbidden to berate either of them. The best course of action is to give the beggar something. If one is unable to give a beggar anything, one should at least apologise to him politely [ so as not to give him…
Read the full tafseer →10 It has two meanings. (1) If sa Ul is taken in the sense of a needy person, who asks for help, it would mean that if you can,, you should help him; if you cannot you should excuse yourself politely, but should never scold him. In this sense the instruction corresponds to Allah's this favour: "You were poor, then Allah enriched you. " And if sa'il is taken in the sense of the one who inquires, i. e. asks for enlightenment on a religious matter or injunction, it would mean that even if such a person be extremely ignorant and ill-mannered and might put the question, or present his problem,…
Read the full tafseer →