Explained with ayahs 1–11
مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا :
ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت
یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔
طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…
Read the full tafseer →سورة الضُّحٰی 11
نعمت کا لفظ عام ہے جس سے مراد وہ نعمتیں بھی ہیں جو اس سورة کے نزول کے وقت تک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پاک کو عطا فرمائی تھیں، اور وہ نعمتیں بھی جو بعد میں اس نے اپنے ان وعدوں کے مطابق آپ کو عطا کیں جو اس سورة میں اس نے کیے تھے اور جن کو اس نے بدرجہ اتم پورا کیا۔ پھر حکم یہ ہے کہ اے نبی ہر نعمت جو اللہ نے تم کو دی ہے اس کا ذکر اور اس کا اظہار کرو۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ نعمتوں کے ذکر و اظہار کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں اور ہر نعمت اپنی نوعیت کے لحاظ سے اظہار کی ایک خاص صورت چاہتی ہے۔ مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ زبان سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اس بات…
Read the full tafseer →تیسرا حکم واما بنعمة ربک فحدث حدث، تحدیب سے مشتق ہے جس کے معنے بات کرنے کے ہیں مراد یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا لوگوں کے سامنے ذکر کیا کریں کہ یہ بھی ایک طریقہ شکر گزاری کا ہے یہاں تک کہ آدمی جو کسی آدمی پر احسان کرے اس کا بھی شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے جو شخص لوگوں کے احسان پر ان کا شکر نہیں کرتے وہ اللہ کا بھی شکر نہیں کریگا (رواہ احمد درداتہ ثفات، مظہری)
ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص تم پر کوئی احسان کرے تو چاہئے کہ آپ بھی اس کے احسان کا بدلہ دو ، اور اگر مالی بدلہ دینے کی استطاعت نہیں تو یہی کرو کہ لوگوں کے سامنے اس کی تعریف کرو کیونکہ جس نے لوگوں کے جمع میں اس…
Read the full tafseer →لوگوں کو اللہ کی حکمت سے بہرہ مند کرو: ’وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اوپر ’وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنٰی‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ ہم اس کی وضاحت کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سے صرف وہ غنا مراد نہیں ہے جو حضور کو حضرت خدیجہ کے مال سے حاصل ہوا بلکہ اصلاً اس سے دین کی وہ حکمت اور شریعت کی وہ دولت مراد ہے جس کی شان قرآن میں یہ بیان ہوئی ہے کہ
’وَمَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ أُوۡتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا‘ (البقرہ ۲: ۲۶۹)
(اور جس کو حکمت عطا ہوئی اس کو خیر کثیر کا خزانہ بخشا گیا)۔
یہاں لفظ ’فَحَدِّثْ‘ خاص طور پر نگاہ میں رکھیے۔…
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کیے ہیں، مثلا ہدایت اور رسالت و نبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت و سرپرستی کا انتظام کیا، تجھے قناعت و تونگری عطا کی وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6: سوال کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہوسکتا ہے جو مالی مدد چاہتا ہو، اور وہ بھی جو حق طلبی کے ساتھ دین کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہتا ہو۔ دونوں کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو نرمی سے معذرت کرلینی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فاما ........................................ فحدث
یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ…
Read the full tafseer →3 محسن کے احسانات کا بہ نیت شکر گذاری (نہ بقصد فخرو مباہات) چرچا کرنا شرعاً محمود ہے۔ لہذا جو انعامات اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر فرمائے ان کو بیان کیجئے۔ خصوصاً وہ نعمت ہدایت جس کا ذکر " ووجدک ضالافھدی " میں ہوا۔ اس کا لوگوں میں پھیلانا اور کھول کھول کر بیان کرنا تو آپ ﷺ کا فرض منصبی ہے۔ شاید آپ ﷺ کے ارشادات وغیرہ کو جو حدیث کہا جاتا ہے۔ وہ اسی لفظ فحدث سے لیا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 1 1{ وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۔ } ”اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں۔“
یہ ہدایت جو آپ ﷺ کو عطا ہوئی ہے ‘ یہ آپ ﷺ کے رب کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر شکر کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ اس کی اس نعمت کا چرچا کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں۔ اس حکم میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہدایت کی نعمت کو اگر انسان اپنی ذات تک محدود کر کے بیٹھ رہے تو اس کا یہ طرزعمل بخل کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا جس کسی کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نوازے اسے چاہیے کہ اس خیر کو عام کرے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔
Read the full tafseer →10 تحدیثنعمت کا مطلب :۔ کچھ نعمتوں کا ذکر تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں کردیا۔ ان کے علاوہ آپ ﷺ پر اللہ کے بیشمار احسانات تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے ذکر اور اظہار کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تہ دل سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ اور قطعاً یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھ میں کوئی خاص اہلیت اور قابلیت تھی جس کی وجہ سے مجھ پر اللہ نے یہ احسان کیے۔ بلکہ انہیں محض اللہ کے فضل و کرم پر محمول کیا جائے اور ان نعمتوں کا اسی جذبہ کے تحت دوسرے لوگوں کے سامنے بھی اقرار و اعتراف کیا جائے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس اقرار و اعتراف میں فخر و مباہات کا شائبہ تک نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
6۔ یعنی ان نعمتوں کا شکریہ قولی وفعلی ہر طرح ادا کرتے رہئے۔ (آیت) ” فاما الیتیم فلا تقھر “۔ عرب جاہلیت میں یتیم بیچاے کی کوئی قدر نہ تھی، اور وہ کسی عزت یا جائداد کا حقدار نہ تھا۔ وکذا کانت العرب یتیمی کو یاد کرلیاکیجئے، اور اس غریب مخلوق یعنی یتیم کے ساتھ ہر طرح کا حسن سلوک ومدارات برتاکیجئے۔ یہ آیت ماقبل کی (آیت) ” الم یجدک یتیما فاوی “۔ کے مقابلہ پر ہے، (آیت) ” واما لسآئل فلا تنھر “۔ جاہلی تہذیبیں ایسی بکثرت گزری ہیں، جن میں محتاج سائل کا کوئی حق کسی قسم کا تسلیم ہی نہیں کیا گیا تھا آپ ﷺ کو تعلیم مل رہی ہے کہ خود اپنی حاجت مندی کے زمانہ کو یاد کرلیا کیجئے۔ اور کسی صاحب احتیاج سائل کو…
Read the full tafseer →واما بنعمۃ ربک فحدث، حدث تحدیث سے مشتق ہے اس کے معنی بات کرنے کے ہیں، مطلب یہ کہ آپ ﷺ اللہ کی نعمتوں کا لوگوں کے سامنے ذکر کیا کریں، کہ یہ بھی شکر گزاری کا ایک طریقہ ہے حتی کہ آدمی جو کسی پر احسان کرے اس کا بھی شکر ادا کرنے کا حکم ہے۔
مسئلہ :۔ ہر نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے، مالی نعمت کا شکریہ ہے کہ اس مال میں سے کچھ اللہ کے لئے اخلاص نیت کے ساتھ خرچ کرے اور نعمت بدنی کا شکریہ ہے کہ جسمانی طاقت کو اللہ تعالیٰ کے واجبات ادا کرنے میں صرف کرے۔
Read the full tafseer →واما بنعمۃ ربک فحدث . یعنی خدادا نعمت کا شکر ادا کرو۔ لف و نشر مرتب کی صورت میں اس جملہ کا تعلق
ووجدک عائلا فاغنٰی سے ہوگا۔
واما بنعمۃ ربک فحدث : یعنی اپنے رب کی عطا کی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرو۔ سنان بن سنیہ نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھانے والا (پھر کھانے کا) شکر ادا کرنے والا (بھوک ‘ پیاس وغیرہ پر) صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے۔ (رواہ احمد و ابن ماجہ والدارمی باسناد صحیح رواہ الترمذی من حدیث ابی ہریرۃ ؓ
حضرت اشعث بن قیس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کا سب سے زیادہ شکر گزار وہ ہے جو لوگوں (کے احسان) کا بہت شکر ادا کرنے والا ہو۔ ایک روایت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) تو اب ان نعمتوں کے شکریہ میں آپ یتیم پر سختی نہ کیجیے اور سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کیجیے اور نہ اس کو جھڑکیے۔ اور نبوت واسلام کا لوگوں کے درمیان تذکرہ کرتے رہا کیجیے اور ان کو اس سے آگاہ کردیجیے۔
شان نزول : وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ
امام بخاری و مسلم نے حضرت جندب سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو کچھ تکلیف ہوگئی جس کی وجہ سے ایک یا دو راتوں کو آپ تہجد نہ پڑھ سکے تو آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی اے محمد ﷺ میرے خیال میں (معاذ الل) آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ
سعید بن منصور اور…
Read the full tafseer →(واما بنعمۃ ربک فحدث : اور شکر ادا کرنے کے لئے اپنے رب کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سائل اور اس کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ۔
مسئلہ نمبر 3۔ واما السائل فلاتنھر۔ سائل کو نہ جھڑکیں۔ یہ مسائل کے بارے میں سخت بات کرنے سے نہی ہے بلکہ اسے تھوڑا مال دے کر یا اچھا جواب دے کر واپس کردو، یہ قتادہ اور دوسرے علماء نے قول کیا ہے حضررت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جب سائل سوال کرے تو تم میں سے کسی کو اسے عطا کرنے سے کوئی چیز نہ روکے اگرچہ وہ عطا کرنے والا سائل کے ہاتھوں میں دو سونے کے کنگن دیکھے حضرت ابراہیم ابن ادہم نے کہا، سائلین کتنے اچھے لوگ ہیں جو ہمارا زاد راہ آخرت کے لیے اٹھا کرلے جاتے ہیں ابراہیم نخعی نے کہا، سائل آخرت کا ڈا کیا ہے وہ تمہارے دروازے پر آتا ہے وہ کہتا…
Read the full tafseer →45۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واما بنعمۃ ربک فحدث اور ہر حال میں اپنے رب کا احسان کا ذکر کیا کرو۔ یعنی آپ کے رب نے جو نبوت کی صورت میں آپ کو نعمت عطا کی ہے اس کا ذکر کرتے رہیے۔
46۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واما بنعمۃ ربک فحدث میں نعمت سے مراد ہے قرآن
بوقت ملاقات مصافحہ کرنا
47۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مقسم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن بن علی بن ابی طالب ؓ سے ملاقات کی اور ان سے مصافحہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونا مومن کا مصافحہ ہے میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول…
Read the full tafseer →[وَاَمَا : اور وہ جو ہے آپ ][ بِنِعْمَةِ رَبِكَ فَحَدِّثْ : اپنے رب کی نعمت کا آپ ﷺ چرچا کریں ]
Read the full tafseer →﴿ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (رح) 0011﴾ (اور آپ اپنے رب کی نعمت کو بیان کیجئے) ۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بڑی تعداد میں نعمتیں عطا فرمائیں، دنیا میں بھی نعمتوں سے سرفراز فرمایا، مال بھی دیا، شہرت و عظمت بھی دی اور سب سے بڑی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا وہ نبوت اور رسالت کی نعمت ہے، آپ کے کروڑوں امتی گزر چکے ہیں اور کروڑوں موجود ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ کروڑوں قیامت تک آئیں گے اور ہر وقت آپ پر کروڑوں درود بھیجے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان نعمتوں کی قدردانی کریں اس قدردانی میں یہ بھی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان فرمائیں۔ اس میں آپ کی امت کو بھی تعلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
انعامات خاصہ :
برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔
(ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔
قسم ہے دھوپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
5:۔ ” فاما الیتیم “ یہ تینوں امور پہلے تینوں امور پر مرتب ہیں بطور لف و نشر مرتب۔ امر اول، ” الم یجدک یتیما فاوی “ پر مرتب ہے۔ چونکہ آپ بھی اس حال سے گذرے ہیں اور یتیمی کا مزہ آپ نے بھی چکھا ہے اس لیے کسی یتیم پر سختی نہ کرنا اور نہ اس کو جھڑکنا۔ ” واما السائل فلا تنھر “ یہ ” ووجدک ضالا فھدی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و شریعت کے علوم و معارف سے مالا مال کردیا ہے اس لیے اگر کوئی علم دین کا سائل حاضر خدمت ہو تو اس کو مت ڈانٹنا بلکہ اس کو علم دین سے سیراب کردینا ” واما بنعمۃ ربک فحدث “ یہ ” ووجدک عائلا فاغنی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دولت عطا کی اس لیے اللہ تعالیٰ کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
گزشتہ سے پیوستہ
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ چند دن کے لئے وحی کے منقطع ہونے پر مشرکین جو اعتراضات کرتے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اس مقام پر دن اور رات کی قسم کھا کر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا پروردگار مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ نہ اس نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ اس نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں پر دھوپ کے روشن ہونے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے جس طرح چاشت کے وقت دن خوب روشن ہوتا ہے اور ہر چیز واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی الٰہی کے نزول پر حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کا منقطع ہونا بھی ترق کی علامت ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ 11 ۧ
«أمَّا»
و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ترکیب ¦ الم یجدک ھذا شروع فیما انعم اللہ علیہ والہمزۃ لانکار النفی وتقریر المنفی فکانہ قال قدو جدک یتیما والوجود بمعنی العلم۔ فآ وٰی قرء الجمھور بالالف بعد الھمزۃ رباعیا من آواہ یویہ وقریٔ ثلاثیا وھوا ما بمعنی الرباعی اوھو من آوی لہ اذا رحمہ ووجدک ضا لا فہدی معطوف علی المضارع المنفی وقیل علی ما یقتضیہ الکلام السابق والضلال ھھنا بمعنی الغفلۃ کما قال الزجاج ونظیرہ قولہ تعالیٰ ولا یضل ربی ولا ینسیٰ وقولہ تعالیٰ ان تضل احدا ھما فتذکر احدا ھما الاخرٰی وقیل من الطلب والمحبتہ کقولہ تعالیٰ انک لفی ضلالک القدیم ووجدک عائلا الخ معطوف علی الکلام السابق یقال عال الرجل یعیل عیلۃ اذا افتقرا ما الیتیم منصوب…
Read the full tafseer →وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ۔ (الضحیٰ : 11)
(اور اپنے رب کی نعمت کو کھول کر بیان کیجیے۔ )
نعمت کی وضاحت
آیتِ کریمہ میں جس نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے سوال یہ ہے کہ وہ نعمت کونسی ہے۔ روح المعانی میں علامہ آلوسی فرماتے ہیں اس نعمت سے مراد وہ گوناگوں نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پاک ﷺ پر فرمائیں۔ جن میں سے چند وہ ہیں جن کا ذکر ابھی اوپر ہوچکا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو بیشمار احسانات کیے اور جن بےپایاں نعمتوں سے نوازا وہ بھی مراد ہیں اور وہ نعمتیں بھی مراد ہیں جن سے قیامت کے دن آپ کو نوازا جائے گا۔ دنیا کی نعمتوں کو تو لوگوں نے اپنی آنکھوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو یتیموں اور غریبوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی خصوصی تلقین۔
یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہر صاحب حیثیت کا فرض ہے لیکن یہ فرض اس شخص کے لیے زیادہ اہم ہوجاتا ہے جس نے یتیمی میں آنکھ کھولی اور غریبی میں پرورش پائی ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے مقام عطا فرمائے اور وسائل سے ہمکنار کرے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دوسروں سے بڑھ کر یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو امت کا سربراہ بنایا اور فتح مکہ کے بعد وسائل کے دروازے کھول دئیے۔ اس لیے آپ کو حکم دیا گیا کہ یتیم کو نہیں جھڑکنا اور سائل سے روگردانی اختیار نہیں کرنی اور اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →11 : وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (اور اپنے رب کے انعامات کا تذکرہ کرتے رہا کریں) اس نبوت والے انعام کو بیان کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے دیا اور یہ نعمتوں میں عظیم ترین نعمت ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کو شامل ہے اس کے ماتحت قرآن مجید کی تعلیم اور احکامات کی تعلیم بھی شامل ہے۔
Read the full tafseer →واما بنعمۃ ربک فحدث کی تفسیر
11 ۔” واما بنعمۃ ربک فحدث “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں یعنی نبوت۔ ان سے ابوبشر نے روایت کیا ہے اور اس کو زجاج (رح) نے اختیار کیا ہے اور فرمایا یعنی آپ تبلیغ کریں اس کی جس کے ساتھ آپ (علیہ السلام) بھیجے گئے ہیں اور اس نبوت کو بیان کریں جو آپ (علیہ السلام) کو دی ہے اور لیث نے مجاہد سے نقل کیا ہے یعنی قرآن اور یہی کلبی (رح) کا قول ہے۔ آپ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ قرآن کو پڑھیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان نعمتوں کا شکر کریں جو اس سورت میں آپ (علیہ السلام) کو یاد دلائی گئی ہیں ضلالت کے بعدہدایت فقر کے بعد غنی کرنا اور اللہ کی نعمتوں کو شکرانہ کے طور پر بیان کریں۔ جابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(فرمایا وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ) اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ۔ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ کی حمد وثنا بیان کیجئے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجئے ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعلی الاطلاق ذکر کیجئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر اس پر شکرگزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی، کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سائل کو نہ جھڑکو
قول باری ہے (واما السائل فلا تنھر۔ اور سائل کو نہ جھڑکو) اس میں سائل کو سخت بات کہنے کی ممانعت ہے کیونکہ انتھار کے معنی جھڑکنے اور سخت بات کہنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے آیت میں سائل کو اچھی بات کہنے کا حکم دیا ہے۔
چنانچہ ارشاد ہے (واما تعرصن عنھم ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا فقل لھم قولا میسورا۔ اور اگر ان سے (یعنی حاجتمند رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کررہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو ) اگرچہ آیت میں حضور ﷺ کو خطاب ہے لیکن اس سے تمام مکلفین مراد ہیں۔
Read the full tafseer →11 ۔ تحدیث نعمت کا حکم و ارشاد : سو انعامات مذکورہ بالا میں سے نعمت غنا کے حق کے ذکر وبیان کے سلسلے میں تحدیث نعمت کے حکم و ارشاد کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " کہ بیان کیا کرو اپنے رب کی نعمتوں کا "۔ کیونکہ یہ بھی شکر نعمت کا مقتضی ہے جبکہ مقصود اس ذکرو بیان سے فخرو مباہات نہ ہو، بلکہ اللہ پاک کی نعمتوں کا ذکر و استحضار اور ان کی قدر دانی ہو کہ یہ بھی حق نعمت کا تقاضا ہے، کہ منعم اور اس کی نعمت کا ذکر و تذکرہ کیا جائے، اور اس کا شکر بجا لایا جائے اور یوں بھی شکر نعمت نعمت کی بقا اور اس کے دوام کا ایک اہم ذریعہ ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ و بالشکر تدوم النعم۔ یعنی شکر کے ذریعے نعمتوں کا دوام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ
تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة الضحی۔
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔
قبض وبسط۔
یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی یعنی ہو سکے تو کچھ دے دو اور نہ ہو سکے تو شادہ روئی اور نرمی سے جواب دے دو ۔
Read the full tafseer →(93:11) واما بنعمۃ ربک فحدث واؤ عاطفہ، اما (ملاحظہ ہو 93:9 مذکورہ بالا) نعمۃ۔ انعامات۔ مضاف ، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر نعمۃ کا مضاف الیہ ۔
حدث فعل امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ ، تحدث (تفعیل) مصدر سے۔ تو بیان کر تو بیان کرتا رہ۔ شکر ادا کر۔ یا ۔ کرتارہ۔
نعمتوں سے کیا مراد ہے ؟ تین نعمتیں تو اوپر بیان ہوئیں ۔ (1) یتیمی میں سہارے کا بندوبست۔ (2) راہ حق کی طلب میں راہ نمائی۔ (3) تنگ دستی سے خلاصی دلا کرکے غنی بنادینا۔
علاوہ ازیں بعض کے نزدیک فھدی میں ہدایت کی نعمت سے مراد نبوت ہے۔ جو بلاشبہ بہت بڑی نعمت ہے۔ ان کے علاوہ اور ان گنت نعمتیں جو پروردگار عالم نے اپنے حبیب ﷺ پر ہر طرف سے نش اور کیں ان سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔
تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…
Read the full tafseer →(ف 3) نعموں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو عطا فرمائیں، اور وہ بھی جن کا حضور سے وعدہ فرمایا، نعمتوں کے ذکر کاس لیے حکم فرمایا کہ نعمت کا بیان کرنا شکرگزاری ہے اور تمام مسلمانوں کے حق میں رسول کریم کا اس عالم میں تشریف لانا نعمت عظمی ہے پس اس آیت کے حکم کے موافق اس نعمت کا بیان مسلمانوں کو ضرور چاہے، اسی لیے علماء ربانی اور الیاء اللہ نے مجلس مولود شریف کو مرتب کیا تاکہ آپ کی تشریف آوری کا حال بیان کیا جائے کیونکہ آپ کی تشریف آوری ہمارے حق میں نعمت ہے اور نعمت کا ذکر کرنا ماموربہ ہے اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے ہر شخص کو اپنے رسول کریم کی پیروی پر قائم رہنے کی توفیق دے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
[3] یعنی آنے والے حالات آپ کے لئے گزشتہ حالات سے بہتر و برتر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 1: فرمایا ۔ ان انعامات کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اظہار تشکر کے طور پر یتیموں کے حق میں بدرجہ غایت شفیق ہوجائیں ۔ ان پر سختی نہ کریں اور سائل کو نہ جھڑکیں اور اپنے قول وفعل سے اپنے رب کی نعمتوں کا اعتبار کرتے رہیں ۔
حل لغات :۔ وجدک ضآلا ۔ قطبی نے قوضلالت کے معنی ضلالت وکفر کے ہی لئے ہیں اور یہ وہ جسارت ہے جس کو نقل کرنے میں قلم کا جگر شق ہوجاتا ہے ۔ مگر امام رازی نے کوئی بیس وجوہ تاویل کا ذکر کیا ہے ۔ جن میں سے ایک وجہ جو پسندیدہ ہے ۔ یہ ہے کہ ضلالت کے معنی محبت اور شوق کے بھی ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وارفتگی و محبت کے متعلق ان کے لڑکوں نے کہا تھا ۔ انک لفی ضلالک القدیر ۔ اس…
Read the full tafseer →(11) اور آپ اپنے پروردگار کے احسانات کا تذکرہ کرتے رہا کیجئے - یہ بھی ایک طریقہ محسن کے شکرادا کرنے کا ہے کہ اس کے احسان کا تذکرہ کیا جائے اور وہ جدک ضالاً فہدی کا یہی شکر ہے کہ اس کا چرچا کرو اور لوگوں کو اس ہدایت کی دعوت دو جس سے آپ کو نوازا گیا ہے اور یہی تحدیث اصل میں تبلیغ ہے بعض نے کہا اس نعمت سے مراد قرآن ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن مخلوق کو سناتے رہیے۔
حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں ہے جس شخص نے کسی کے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا شکریہ ہے کہ اس بھی کچھ دے اور اگر دینے کو نہ ہو تو اس کی تعریف کرے اور اس کی ثنا بیان کرے اور اس کے لئے دعا کیا کرو، اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو اس نے محسن کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 4۔ اس طرح کہ حضرت خدیجہ ؓ کے مال میں آپ ﷺ مضارب ہوئے اور اس میں نفع ملا، پھر حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کرلیا اور اپنا تمام مال حاضر کردیا۔
Read the full tafseer →اور تو اپنے رب کی نعمت کا ضرور اظہار کرتا رہ
11 ؎ ( حدث) تو بیان کر تحدیث سے جس کے معنی بیان کرنے کے ہیں ۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بھی بندے پر کوئی کسی طرح کا فضل و کرم فرمائے اس کا ذکر اور اس کا اظہار کرنا بھی خوبی ہے جو اظہار شکر میں آتا ہے ۔ ہاں ! یہ بات کہ اس نعمت سے کونسی نعمت مراد ہے ہمارے خیال میں نعمت عام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو دو جود بخشا ہے وہ کامل و مکمل انعام خداوندی ہے اور یہ ایک ایسا انعام ہے کہ اس کل سے اس کی ہر جز زیادہ بڑا احسان ہے اپنے کل سے اور یہ معلوم کرنے کے لیے اس آدمی سے آپ دریافت کریں جس کے سارے اعضا درست ہیں لیکن کوئی…
Read the full tafseer →Injunction [ 3]
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (And about the bounty of your Lord, do talk....93:11). The verb haddith is derived from tahdith which means 'to talk' meaning, 'just as you were poor and needy, and Allah made you wealthy, then talk about Allah's favours upon you'. Talking about Divine favours to people is one way of thanking Allah. If a person has done something good to another, he should be thanked. Therefore, the Holy Prophet is reported to have said: "Whoever is not thankful to people on their favours is not thankful to Allah." [ This is transmitted by Ahmad. The…
Read the full tafseer →11 The word ni 'mat . (bounty) is general, which also implies those bounties, which Allah had bestowed on His Messenger until the revelation of this Surah as well as those which He bestowed on him afterwards according to the promise made in this Surah, which He fulfilled completely. Then, it is enjoined:"O Prophet, mention and proclaim every bounty that Allah has favoured you with." Now, obviously, there can be different forms and ways of mentioning and proclaiming the bounties and every bounty in view of its nature, requires a special form or its mention and proclamation. As a whole, the way…
Read the full tafseer →