Ash-Sharh 94:1

94. Ash-Sharhالشرح

The Consolation · Meccan · 8 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ۟ۙاَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَـكَ صَدۡرَكَۙ

(اے محمدﷺ) کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ (بےشک کھول دیا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Did We not expand for you, [O Muhammad], your breast?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Sharh

All translations of 94:1

(اے نبیؐ) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ (بےشک کھول دیا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کھول نہیں دیا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لئے) کشادہ نہیں فرما دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا ہم نے تیرے لیے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ہم نے کھول نہیں دیا آپ ﷺ کے لئے آپ ﷺ کے سینے کو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے نبی ﷺ !) کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا ؟ (بیشک کھول دیا ہے)۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), Did We not lay open your breast

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have We not caused your bosom to be wide open for you?

— Muhammad Taqi Usmani

Have We not caused your bosom to be wide open for you?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have We not opened your breast for you

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have We not caused thy bosom to dilate,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Did We not expand for you, [O Muhammad], your breast?

— Saheeh International

(Muhammad), have We not comforted your heart,

— Muhammad Sarwar

Have We not expanded for you your breast,

— Muhammad Habib Shakir

Have We not opened forth for thee thy breast?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 94:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

یعنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الْاِنْشِرَاح 1 اس سوال سے کلام کا آغاز، اور پھر بعد کا مضمون یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس زمانے میں ان شدید مشکلات پر سخت پریشان تھے جو دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی دور میں آپ کو پیش آ رہی تھیں۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی، کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں کی ہیں ؟ پھر ان ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں ہوتے ہو ؟ سینہ کھولنے کا لفظ قرآن مجید میں جن مواقع پر آیا ہے ان پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو معنی ہیں (1) سورة انعام آیت 125 میں فرمایا " فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (علم و حلم سے) کشادہ نہیں کردیا (یعنی علم بھی وسیع عطا فرمایا اور تبلیغ میں جو مخالفین کی مزاحمت سے ایذا پش آتی ہے اس میں تحمل اور حلم بھی دیا کذا قال احلسن کما فی الدرالمنشور) اور ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ کی کمر توڑی رکھی تھی (وزر سے مراد وہ مباح اور جائز امور ہیں جو کبھی کبھی کسی حکمت و مصلحت کے پیش نظر آپ سے صادر ہوجاتے تھے اور بعد میں ان کا خلاف حکمت و خلاف اولیٰ ہونا ثبات ہوتا تھا اور آپ بوجہ علوشان وغایت قرب کے اس سے ایسے مغموم ہوتے تھے جس طرح گناہ سے کوئی مغموم ہوتا ہے، اس میں بشارت ہے ایسے امور پر مواذہ نہ ہونے کی کذا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وہ سنت الٰہی جو دعوت حق کی کامیابی کے لیے مقرر ہے: سابق سورہ کی تفسیر میں نبی ﷺ کی ان ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں کی تفصیل بیان ہو چکی ہے جو بعثت سے پہلے آپ کو جستجوئے حقیقت کی راہ میں اور ابتدائے بعثت کے دور میں مخالفوں کی مخالفت کی شدت اور اعوان و انصار کی قلت کے سبب سے لاحق ہوئیں۔ ساتھ ہی اس میں یہ بشارت بھی دی گئی کہ اس وقت آپ جن حالات و مشکلات سے دوچار ہیں یہ وقتی و عارضی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جلد دور فرما دے گا اور آپ کی دعوت کا مستقبل اس کے ماضی و حاضر سے بہت زیادہ روشن ہو گا۔ بعد میں جب وحئ الٰہی کی روشنی نے آپ کے دل کے خلجان دور کر دیے اور حقیقت روشن ہو کر سامنے آ گئی تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 گزشتہ سورت میں تین انعامات کا ذکر تھا، اس سورت میں مزید تین احسانات جتلائے جا رہے ہیں، سینہ کھول دینا ان میں پہلا ہے۔ اس کا مطلب ہے سینے کا منور اور فراخ ہوجانا، تاکہ حق واضح ہوجائے اور دل میں بھی سما جائے اسی مفہوم میں قرآن کی یہ آیت ہے (فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ) 6۔ الانعام :125) جس کو اللہ ہدایت سے نوازنے کا ارادہ کرے، اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے، یعنی وہ اسلام کو دین حق کے طور پر پہچان بھی لیتا ہے اور اسے قبول بھی کرلیتا ہے اس شرح صدر میں وہ شق صدر بھی آتا ہے جو معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی کریم ﷺ کا ہوا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی روح میں کوئی تنگی تھی اور آپ دعوت اسلامی کے سلسلے میں کچھ مشکلات محسوس فرماتے تھے۔ آپ پریشان تھے کیونکہ آپ کے خلاف سازشیں ہورہی تھیں اور آپ کے دل پر ان کے اثرات پڑ رہے تھے اور آپ سمجھتے تھے کہ یہ ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں اور یہ کہ آپ کو اللہ کی امداد نصرت اور خصوصی زادراہ کی ضرورت ہے۔ چناچہ اس موقعہ پر آپ کے ساتھ یہ بیٹھا مکالمہ ہوا۔ انداز گفتگو ایسا ہے کہ بات محبتوں سے بھری ہے۔ الم نشرح .................... صدرک (1:94) ”(اے نبی) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا “۔ آپک کا سینہ دعوت اسلامی کے کام کے لئے کھل گیا ، اور آپ کے لئے اس ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 کہ اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازم نبوت اور فرائض رسالت برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا کہ بیشمار دشمنوں کی عداوت اور مخالفوں کی مزاحمت سے گھبرانے نہ پائیں (تنبیہ) احادیث و سیر سے ثابت ہے کہ ظاہری طور پر بھی فرشتوں نے متعدد مرتبہ آپ ﷺ کا سینہ چاک کیا۔ لیکن مدلول آیت کا بظاہر وہ معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 شرح صدر کے دو مفہوم :۔ شرح صدر کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی بات، نظریہ، عقیدہ یا معاملہ کی انسان کو پوری طرح سمجھ آجائے۔ اس میں کوئی شک و شبہ یا ابہام باقی نہ رہے اور انسان کو جو کچھ سمجھ میں آئے اس پر اسے یقین اور اطمینان حاصل ہوجائے جیسے فرمایا : (فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ ۭ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 125۔ ) 6 ۔ الانعام :125) یعنی جس شخص کو اللہ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ (اور اسے معارف وحقائق سے بھر نہیں دیا ؟ ) شرح صدر، وہ مقام ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طلب و آرزو کے بعد عنایت ہوا تھا۔ (آیت) ” رب اشرح لی صدری “۔ (طہ) المراد من شرح الصدر ما یرجع الی المعرفۃ والطاعۃ (کبیر) وشرح الصدر تنویرہ بالحکمۃ وتوسیعہ لتلقی مایوحی الیہ قالہ الجمھور (بحر) صوفیہ محققین کے ہاں شرح صدر بڑی دولت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ کیا ہم نے تیرا سینہ نبوت وغیرہ کے لئے نہیں کھول دیا استفہام تقریری ہے، یعنی کھول دیا اور ہم نے تجھ سے تیرا وہ بوجھ اتار دیا جس نے تیری پیٹھ توڑ دی یعنی جس نے تیری کمر کو گراں بار کردیا، اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ’ دلیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ اور ہم نے تیرا ذکر بلند کردیا بایں طور کہ اذان و اقامت میں اور تشہد اور خطبہ وغیرہ میں میرے ذکر کے ساتھ تیرا بھی ذکر کیا جاتا ہے یقینامشکل کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، اور نبی ﷺ نے کفار کی جانب سے (بہت) اذیت برداشت فرمائی، پھر آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم نشرح لک صدرک . بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ جملہ اور اس کے بعد والے جملے آیت : الم یجدک یتیمًا فاوٰی . ووجدک ضالا فھدٰی ووجدک عائلاً فاغنٰی سے وابستہ ہیں ‘ اگر یہ روایت صحیح مانی جائے تو پھر یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ مذکورہ سابق حالت میں ہی رسول اللہ ﷺ کی درخواست کے بعد اس سورت کا بھی نزول ہوا۔ خواہ سوال واقعی آپ نے کیا ہو یا سوال فرض کیا جائے۔ بہرحال آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تمہارا سینہ کھول دیا ‘ جس کے اندر بنور الٰہی ایسے علوم صادقہ اور معارف دینیہ سما گئے جو کسی دانشمند کو دانش کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتے تھے اور دل کے اندر اللہ کی طرف کامل توجہ بھی پیدا کردی گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس کا تعلق اوپر والی آیت وَوَجَدَکَ عَائِلًا سے ہے یعنی کیا ہم نے محمد ﷺ اسلام اور آپ کی خاطر آپ کا دل کشادہ نہیں کردیا، یا یہ کہ آپ کے دل کو میثاق معرفت و فہم اور نصرت عقل ویقین کے لیے نرم نہیں کردیا، یا یہ کہ آپ کے قلب کو نبوت کے لیے فراخ نہیں کردیا۔ اس پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا بیشک

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(الم نشرح لک صدرک : سینہ کھول دینے سے مراد اسلام کے حق ہونے پر اطمینان ، دل کا نور ہدایت سے روشن ہونا اور ذکر الٰہی سے نرم ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام) (الانعام : 125)”تو جسے اللہ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔“ اور فرمایا (افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ، فویل للقسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ اولئک فی ضلل مبین) (الزمر : 22)”تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو ایسا نہیں ؟) پس ویل ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الم نشرح لک صدرک۔ شرح صدر سے مراد اس کا کھولنا ہے یعنی کیا ہم نے آپ کے سینہ کو اسلام کے لیے کھول نہیں دیا، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کے دل کو نرم نہیں کردیا، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ کیا سینہ کو کھولا جاتا ہے ؟ فرمایا، ہاں اسے کھولا جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اس کی کوئی نشانی ہے ؟ فرمایا، ہاں دنیا (دھوکے کے گھر) سے پہلوتہی اور آخرت (دار خلود) کی طرف رجوع اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری، یہ معنی سورة الزمر میں آیت افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ (زمر 22) میں گزرچکا ہے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن المنذر نے وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت الم نشرح لک صدرک کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کا سینہ مبارک حلم سے اور علم سے بھردیا آیت ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک اور کیا آپ سے آپ کا وہ بوجھ نہیں اتار دیا۔ یعنی جس نے بوجھ کو انتہائی بوجھ اور بھاری کردیا آتی ورفعنا لک ذکرک اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا یعنی جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا جائے گا۔ شق صدر کا ذکر 3۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلَمْ نَشْرَحْ : کیا ہم نے کھول نہیں دیا ][ لَكَ صَدْرَكَ : آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو ] نوٹ 1: شرح صدر (سینہ کھولنے) کا لفظ قرآن میں جن مواقع پر آیا ہے ان پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر قسم کے ذہنی خلجان اور تردد سے پاک ہوکر اس بات پر مطمئن ہوجانا کہ اسلام کا راستہ ہی برحق ہے۔ دوسرا یہ کہ نبوت کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالنے کی اس میں ہمت پیدا ہوجائے۔ مثلاً سورة انعام۔ آیت۔ 125 ۔ میں ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت بخشنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ یہاں یہ لفظ پہلے معنی میں ہے۔ جبکہ سورة طٰہٰ ۔ آیات 25 ۔ 26 ۔ میں ہے کہ نبوت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہ پوری سورة الم نشرح کا ترجمہ ہے (جو سورة الانشراح کے نام سے معروف ہے) اس میں بھی اللہ تعالیٰ شانہ نے رسول اللہ ﷺ پر اپنے بڑے بڑے انعامات کا امتنان فرمایا ہے۔ ﴿ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ001﴾ (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا) ۔ یہ استفہام تقریری ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ اس کو جانتے اور مانتے ہیں کہ ہم نے آپ کا سینہ کھول دیا سینہ کو نور نبوت سے بھی بھر دیا اور علم و معرفت سے بھی ایمان کی دولت سے بھی، صبر و شکر سے بھی، کتاب و حکمت سے بھی، قوت برداشت سے بھی، وحی کی ذمہ داری اٹھانے سے بھی، دعوت ایمان پر اور ددعوت احکام پر استقامت سے بھی، اللہ تعالیٰ نے جو آپ پر انعام فرمائے ان میں ایک بہت بڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

بشارت بانشراح صدر ورفع گرانی قلب وازالہ شدائد ہمت شکن : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم نشرح لک صدرک ....... الی ......... والی ربک فارغب “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر رب العالمین کی طرف سے فائز کردہ انعامات خاصہ کا ذکر تھا اور اسی کے ضمن میں آپ کے معالی اخلاق اور محاسن اوصاف بھی بیان کردیئے گئے تھے، اب اس سورت میں مزید ایک انعام شرح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر کمال یقین استقامت اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” الم نشرح “ انعام اول۔ مشرکین نے اعتراض کیا کہ مسلمانوں کے پاس دولت نہیں ہمارے پاس دولت ہے ہم ان سے زیادہ قابل عزت ہیں اس سے طبع طور پر رسول اللہ ﷺ کو غم لگا تو اس سورت میں آپ کو تسلی دی گئی کہ اس قسم کی تنگی اور شدت بطور ابتلاء مومنوں پر آتی رہتی ہے لیکن آخر کار اللہ تعالیٰ ان پر فراخی فرما دیتا ہے استفہام تقریری ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے پہلے ہی سے اسلام اور علوم و معارف کے لیے آپ کا سینہ کھول دیا اور اسلام کے بارے میں آپ کے دل کو اطمینان اور اذعان و ایقان سے لبریز کردیا۔ تائید : ” فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام “ (انعام رکوع 15) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

پہلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة دراصل پہلی سورة والضحی کا تتمہ ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر کئے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں بعض احکام صادر فرمائے تھے۔ اس سورة میں بھی بعض اضافی انعامات کا ذکر ہے جو رب کریم نے نبی علیہ اسللام پر کئے یہاں بھی سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے بعض احکام ہیں۔ شرح صدر سورة کی ابتداء احسانات کے تذکرہ سے ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان احسان شرح صدر ہے ، جو حضور ﷺ پر کیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ یہاں پر استفہامیہ طریقے سے بات کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یقینا آپ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۝ 1 ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب ¦ الم نشرح الخ الاستفہام تقریری والمعنی قد شرحنا لک صدرک ووضعنا عنک معطوف علی معنی ماتقدم وعنک متعلق بوضعنا و تقدیمہ علی المفعول الصریح مع ان حقہ التاخر لتعجیل المسرۃ والتشویق المؤخر الذی الخ وصف الوزر ورفعنا الخ معطوف علی السابق یسرا اسم ان مع العسر خبرھا والعسرفی الموضعین واحد لان المعرفۃ اذا اعیدت یرادبھا الاول والیسر غیر الاول ولذا قال النبی ﷺ لن یغلب عسریسرین ان اللہ یقول ان مع العسریسرا الخ۔ اخرجہ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان وغیرھم تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ و ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں آٹھ آیات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ نَشْرَحْ لَـکَ صَدْرَکَ ۔ (النشرح : 1) (اے نبی کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کھول نہیں دیا۔ ) شرح صدر کا مفہوم اعلانِ نبوت کے بعد آپ کو تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں جو مشکلات پیش آئیں اس کا سبب ایک تو قریش اور دیگر اہل مکہ کے خیالات کا جمود اور اپنے اعتقادات پر خطرناک حد تک تعصب تھا کہ وہ ان سے مختلف بات سننے کے روادار تک نہ تھے۔ اور دوسری یہ بات کہ مسلسل جہالت اور جاہلیت نے ان کے دل و دماغ کے سانچے ایسے بنا دیئے تھے کہ ان کی کجیوں کو درست کرنا اور ان کے پھرے ہوئے زاویوں کو راست کرنا انتہائی مشکل کام ہوگیا تھا۔ وہ سہل سے سہل بات اور سیدھی سے سیدھی بات بھی آسانی سے قبول کرنے کو تیار نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : والضحیٰ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ اپنے رب کی نعمت کو یاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ذات پر بےانتہا نعمتوں کا نزول فرمایا جن میں سر فہرست تین نعمتیں ہیں، جن کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ 1۔ وحی حفظ کرنے، اسے سمجھنے، پھر اسے بیان کرنے کے لیے آپ ﷺ کا سینہ کھول دیا گیا۔ 2۔ پیغام نبوت کو من وعن لوگوں تک پہچانے کا عظیم بوجھ آپ ﷺ کے لیے بہت حد تک آسان کردیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کام اور نام کو ہمیشہ کے لیے سربلند فرما دیا۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ ہر نیک کام کرنے سے پہلے اس کے لیے اسے انشراح صدر حاصل ہو، ایک داعی پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہوتا ہے کہ دعوت دینے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

علوم و حکم کے لئے سینے کی وسعت : 1 : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ (کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا) یہ استفہام انکاری ہے۔ انکار نفی ثبوت کو ظاہر کرتا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ شرحنا لک صدرک ہم نے آپ کا سینہ کھول دیا۔ اسی وجہ سے وضعناؔ کو معنی کا لحاظ کرتے ہوئے اسپر عطف کیا۔ یعنی ہم نے سینے کو علوم وحکم کیلئے وسیع کردیا۔ یہاں تک اس میں نبوت کی فکر اور ثقلین کی دعوت کی گنجائش پیدا ہوگئی ہم نے اس تنگی اور حرج کو زائل کردیا۔ جو عمیٰ وجہل کے ساتھ ہوتا ہے۔ قول حسن (رح) : حکمت و علم سے بھردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” الم نشرح لک صدرک “ کیا ہم نے نہیں کھولا اور وسیع کیا اور نرم کیا آپ کے لئے آپ (علیہ السلام) کے دل کو ایمان اور نبوت اور علم اور حکمت کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ سینے کے کھول دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے سینہ پر جو دل کا قلعہ کہلاتا ہے شیطان کا کسی طرح کا کچھ تسلط باقی نہیں رہا۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اور شیطان کے شیاطینوں میں سے ایک شیطان ہر شخص کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اللہ کے فرشتہ نیک کام کی رغبت دلانے کے لئے ہے اور شیطان برے کام کی رغبت کے لئے مگر میرے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے میرا ایسا فرمانبردار کردیا ہے کہ وہ بجائے برے کام کی رغبت کے نیک کام کی رغبت مجھ کو دلاتا رہتا ہے اسی مطلب کی صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس ؓ کی وہ روایت ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ (اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ) یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کردیا ؟ پس آپ کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ اس کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

(1) شرح صدر کی نعمت کا ذکر اور اس سے مقصود ؟ سو شرح صدر کی نعمت سے سرفرازی کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور تقریر و تاکید کی غرض سے بطور سوال و استفہام ذکر فرمایا گیا کہ " کیا ہم نے کھول نہیں دیا آپ کے لیے ( پیغمبر) آپ کے سینے کو ؟ " جس سے آپ کا قلب مبارک پوری طرح مطمئن ہوگیا کہ اسلام ہی دین حق ہے، اور اسی کی تعلیمات مقدسہ ہیں جو کہ ہر طرح سے حق اور صدق ہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ شرح صدر اللہ پاک کی ایک عظیم الشان نعمت ہے، جیسا کہ سورة انعام کی آیت نمبر 125 میں فرمایا گیا ( آیت، الانعام 125 پ 8) یعنی " اللہ جس کو ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے "۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

نبی ﷺ کے لیے دنیا میں انعامات کی خوشخبری تشریح : بڑی ہی خوبصورت اور جامع سورت ہے اس میں بہت سے حقائق زندگی انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اللہ کی نعمتوں ' برکتوں ' فضل وکرم اور مہربانیوں کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ اور ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ سب کو برابر عطا کرتا ہے مگر یہاں خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے خاص طور سے ان پر مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پچھلی سورت میں بھی کیا گیا تھا۔ یہ احسان جتانے کے طور پر نہیں بلکہ تسلی دینے کے لیے ہمت بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ انسان ہونے کے ناطے گبھراہٹ ' پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الانشراح۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ آپ کا سینہ مبارکہ علم وحلم کے لیے اس قدر وسیع کردیا کہ دنیا کے تمام حکماء مل کر بھی اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں کرسکے ، قیامت تک کی ساری انسانیت کو دنیا وآخرت کے ہرمسئلے کا حل اور ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس قدر مشکلات برداشت کیں اور صدمات جھیلے کہ آپ ہی کی شان ہے اور آپ کے لیے وہ عظیم ذمہ داری کی ساری انسانیت کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور ظلم کو روک کر حق کا نفاظ کفر کو پھاڑ کر توحید کی روشنی مہیا کرنا اتنا بڑا بوجھ تھا کہ اس نے کمردوہری کردی مگر ہم نے ـآساں کردیا اور آپ کے نام نامی کو بلند کردیا کہ اپنے نام کے ساتھ کلمے کا جز بنادیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی اسے منور کیا۔ اس میں علوم و معارف کے خزانے بھر دیئے اور وہ اطمینان اور حصولہ دیا جس سے آپ نبوت جیسے منصب عظیم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہوگئے۔ قرآن میں شرح صدر کا یہی مفہوم مذکور ہے۔ (زمر آیت 33) یوں روایات سے ثابت ہے کہ معراج کے موقع پر ( اور اس سے پہلے ایک مرتبہ بچپن میں) فرشتوں نے ظاہری طور پر بھی آنحضرت کا سینہ چاک کیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ایمان و اطمینان کا نور بھرا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(94:1) الم نشرح لک صدرک : ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے اور یہ انکار نفی (لم نشرح) کے لئے ہے۔ انکار نفی۔ اثبات کو مستلزم ہے۔ گویا الم نشرح لک صدرک کا مطلب ہوا۔ شرحنا لک صدرک ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول دیا ہے لم نشرح مضارع منفی جحد بلم۔ جمع متکلم۔ شرح (باب فتح) مصدر سے۔ (کیا) ہم نے نہیں کھولا۔ یا کھول دیا۔ صدرک مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا سینہ۔ اکثر علماء نے شرح صدر کو شق صدر کے معنی میں لیا ہے حالانکہ عربی زبان کے لحاظ سے شرح صدر کو کسی طرح بھی شق صدر کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔ علامہ آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں رقمطراز ہیں :۔ حمل الشرح علی شق الصدر ضعیف عند المحققین (محققین کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ الم نشرح۔ کیا ہم نے نہیں کھول دیا۔ صدر۔ سینہ۔ وضعنا۔ ہم نے اتارا۔ ورز۔ بوجھ۔ انقض۔ توڑ دیا تھا۔ ظھر۔ پیٹھ۔ رفعنا۔ ہم نے بلند کردیا۔ فرغت۔ تو نے فراغت حاصل کرلی۔ انصب۔ (عبادت کی) تکلیف اٹھا۔ ارغب۔ رغبت کر۔ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1۔ شرح صدر 2۔ وضع و زر 3۔ اور رفع ذکر 1۔ سوالیہ اندازپر ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ہم نے آپ کو شرح صدر عطا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے آپ کے ہر اس بوجھ کو جو آپ کی کمر کو جھکائے دے رہا تھا آپ کے اوپر سے نہیں اتارا ؟ کیا ہم نے آپ کے ذکر کو بلند نہیں کیا ؟ نشرح کے معنی کھول دینا،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی ہم نے آپ کو سینہ کو کشادہ اور وسیع کیا، ہدایت معرفت اور موعظت ونبوت اور علم و حکمت کے لیے یہاں تک کہ عالم غیب وشہادت اس کی وسعت میں سماگئے ، اور علائق جسمانیہ انوار روحانیہ کے لیے مانع نہ ہوسکے، اور علوم لدنیہ وحکم الٰہیہ معارف ربانیہ وحقائق رحمانیہ سینہ پاک میں جلوہ نما ہوئے اور ظاہری شرح صدر بھی بار بار ہو اور ابتدائے نزول وحی اور شب معراج جیسا کہ احادیث میں آیا ہے کہ اس کی شکل یہ تھی کہ جبرائیلی امین نے سینہ پاک کو چاک کرکے قلب مبارک نکالا اور زین طشت میں آب زم زم سے غسل دیا اور نور حکمت سے بھر کاس کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] کہ اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دئیے اور فرائض رسالت کی سختیاں برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا تاکہ دشمنوں کی عداوت اور مخالفوں کی مزاحمت سے گھبرانے نہ پاؤ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) کیا ہم نے آپ کے لئے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا - یعنی آپ کے نفع کے لئے آپ کے سینے کو کشادہ کردیا تاکہ آپ کا سینہ کشادہ ہوجائے اور آپ کا حوصلہ بڑھ جائے اور خلق کی دعوت کا کام اور امت کا غم اور ہمارے راز ونیاز کے اسرار اس میں سماجائیں اور میل و کدورت بغض و عداوت اور تمام اخلاق ذمیمہ اس سے نکل جائیں۔ شرح صدر کے سلسلہ میں ہم اپنی اس مختصر تفسیر میں کئی جگہ کلام کرچکے ہیں اس نعمت سے ہر مسلمان کو اپنے اپنے مرتبے کے موافق حصہ ملنا ہے۔ یہ ایک قسم کی روشنی اور نور ہوتا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں پر اور خا ص لوگوں پر نیکیاں آسان ہوجاتی ہیں اور برے کاموں کی رغبت کم ہوجاتی ہے۔ انبیا علیہم الصلوٰۃ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 5۔ یعنی علم بھی وسیع عطا فرمایا اور تبلیغ مخالفین کی مزاحمت سے ایذاء پیش آتی ہے اس میں تحمل اور علم بھی دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ہم نے آپ ﷺ کے سینہ کو ہدایت کے لیے کشادہ نہیں کیا ؟ 1 ؎ گزشتہ سورت کی آیت 4 میں یہ پیش گوئی بیان کی تھی کہ آپ ﷺ کی زندگی میں اب ہر آنے والی گھڑی گزرنے والی گھڑی سے بہتر ثابت ہوگی اور پھر آیت 8 میں ارشاد فرمایا تھا کہ ہم نے آپ ﷺ کو متلاشی پایا تو منزل مقصود تک پہنچا دیا ۔ اب زیر نظر سورت کی اس پہلی آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اصل بندش اور گھٹن جو فطری طور پر آپ ﷺ کے اندر ہی اندربند رہ کر زور لگا رہی تھی اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ یہ کہ ہم نے آپ ﷺ کے سینہ کو کشادہ کردیا۔ ( نشرح) جمع متکلم مضارع منفی مجزوم شرح مصدر ( فتح) کیا ہم نے نہیں کھول دیا ۔ شرح کا اصل معنی ہے گوشت کو پھیلا دینا (…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary It was mentioned at the end of the preceding Surah that twenty-two Surahs from Surah Ad-Duha to the end of the Qur'an are mainly concerned with Divine favours conferred upon the Holy Prophet ' and with his greatness. Only a few Surahs are concerned with the conditions of the Hereafter or some other subject. Surah Al-Inshirah is concerned with special favours that Allah conferred upon the Holy Prophet ﷺ . Its style is the same as that of the preceding Surah - the interrogative style. In the preceding Surah, the style was 'Did He not find you...?' [ Here the style is ]: أَلَمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 To begin the discourse with this question, and then the subsequent theme, shows that the Holy Messenger (upon whom be Allah's peace) at that time was very disturbed and distressed at the great hardships that he was passing through in the initial stage of his mission of calling the people to Islam. Under those conditions Allah addressed him and consoling him, said: "O Prophet, have We not blessed you with such and such favour? Then, why do you feel so disturbed and distressed at these initial difficulties?" A little consideration of the context wherever the word sharh sadr (opening up of the…

Read the full tafseer →