Ayah 94:11۔ ابن المنذر نے وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت الم نشرح لک صدرک کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کا سینہ مبارک حلم سے اور علم سے بھردیا آیت ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک اور کیا آپ سے آپ کا وہ بوجھ نہیں اتار دیا۔ یعنی جس نے بوجھ کو انتہائی بوجھ اور بھاری کردیا آتی ورفعنا لک ذکرک اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا یعنی جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا جائے گا۔
شق صدر کا ذکر
3۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں ابراہیم بن طہمان (رح) سے روایت کیا میں نے سعد ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت الم نشرح لک سدرک کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے قتادہ (رح) کے واسطے سے انس ؓ سے مجھے یہ حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ کے پیٹ مبارک کو آپ کے سینہ مبارک سے لے کر پیٹ کے نیچے تک شق کیا گیا اور آپ کے دل مبارک کو نکالا گیا۔ پھر سونے کشت میں اس کو دھویا گیا پھر اس میں ایمان اور حکمت کو بھر کر اس کی جگہ یہ رکھ دیا گیا۔
4۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! نبوت کی علامات میں سے آپ نے کون سی چیز سب سے پہلے دیکھی یہ سن کر رسول اللہ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا ابوہریرہ تو نے سوال کیا ہے تو سن لے میں بیس سال اور کچھ ماہ کا تھا اور میں ایک جنگل میں تھا اچانک اپنے سرکے اوپر سے کچھ گفتگو سنی اور اچانک ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہہ رہا تھا کیا یہ وہی ہے ؟ پس وہ دونوں میری طرف آئے۔ ان کے چہرے ایسے تھے کہ میں نے مخلوق میں سے ان جیسا چہرہ کسی کا نہیں دیکھا تھا اور ایسی روحوں کو میں کبھی مخلوق میں نہیں پایا۔ اور ان پر لباس ایسے تھے میں کبھی کسی مخلوق کو ایسے کپڑے پہنے ہوئے نہیں دیکھا وہ میرے پاس چلتے ہوئے آئے یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک نے میرا بازو پکڑ لیا اور مجھے اس کے پکڑنے کا احساس بھی نہ ہوا کہ پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا اس کو لٹادو۔ پس اس نے مجھے بغیر تکلیف اور درد پہنچائے لٹا دیا۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا اس کے سینے کو پھاڑ دو پھر ان میں سے ایک میرے سینے کی طرف جھکا اور اس کو پھاڑ دیا میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔ نہ اس میں سے خون نکلا اور نہ درد ہوا پھر اس نے اس سے کہا کینہ اور حسد کو نکال دو تو اس نے ایک جمے ہوئے خون کی طرح ایک چیز نکال دی۔ اور اس کو کھینچ کر دور پھینک دیا۔ پھر دوسرے نے اس سے کہا نرمی اور رحمت کو داخل کردے۔ اچانک جو کچھ نکالا تھا اسی کے برابر یہ چاندی کی طرح تھا پھر میرے داہنے پاؤں کے انگوٹھے کو ہلایا۔ اور کہا چلو اور سلامت رہو چناچہ میں اس حال میں لوٹا کہ اس کے ذریعہ مجھ میں چھوٹوں کے لیے نرمی اور بڑوں کے لیے رحمت کے جذبات تھے۔
5۔ احمد نے عتبہ بن عبدالسلمی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کہا یارسول اللہ آپ کی پہلی حالت کیا تھی۔ تو فرمایا سعد بن بکر کی بیٹی نے میر پرورش کی۔
Ayahs 94:2–36۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووضعنا عنک وزرک یعنی آپ کے گناہ کو دور کردیا آیت الذی انقض ظہرک۔ جس نے آپ کی کمر جھکادی تھی۔ یعنی جو بھاری بوجھ تھا۔
7۔ ابن ابی حاتم نے شریح بن عبید الحضرمی (رح) سے آیت ووضعنا عنک وزرک کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے آپ کے لیے آپ کے گناہوں کو بخش دیا۔
رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ ہر جگہ ہوتا ہے
8۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت وحللنا عنک وقرک اور ہم نے اتاردیا آپ سے آپ کے بھاری بوجھ کو۔
Ayah 94:49۔ الشافی فی الرسالۃ وعبد الرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں مجاہد رحمہا للہ آیت ورفعنا لک زکرک کے بارے میں روایت کیا کہ میرا ذکر نہیں کیا جائے گا مگر میرے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا۔ یعنی آشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ۔
10۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں قتادہ (رح) سے آیت ورفعنا لک ذکرک کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دنیا اور آخر میں بلند کردیا۔ کوئی خطیب کوئی تشہد پڑھنے وال اور کوئی نماز والا ایسا نہیں مگر وہ یہ اعلان کرتا ہے اشہد ان لا الہ الا اللہ۔
11۔ سعید بن منصور وابن عساکر وابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا جب میر اذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے گا اور نہیں جائز ہے کوئی خطبہ اور نہ کوئی نکاح مگر میرے ساتھ تیرے ذکر کے بغیر۔
13۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے آیت ورفعنا لک ذکر کے بارے میں روایت کیا کہ تو نے نہیں دیکھا کہ جہاں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے نبی کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔
14۔ بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں حسن (رح) سے آیت ورفعنا لک ذکر کے بارے میں روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے رسول کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔
15۔ ابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حبان وابن مردویہ اور ابو نعیم نے دلائل میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا کہ آپ کے رب کریم فرماتے ہی کیا آپ جانتے ہیں کہ کیسے میں نے تیرے ذکر کو بلند کیا۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہی بہتر جاننے والے ہیں پھر فرمایا جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا جائے گا۔
16۔ ابن ابی حاتم نے عدی بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب کریم سے سوال کیا اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں ان سے سوال نہ کروں۔ میں نے عرض کیا اے میرے رب ! آپ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ! کیا میں نے تجھے یتیم نہیں پایا پھر میں نے ٹھکانہ دیا اور میں نے تجھے بےراہ پایا پھر راہ دکھایا۔ اور میں نے تجھے حاجت مند پایا تو غنی کردیا۔ اور آپ کی خاطر میں نے آپ کا سینہ کشادہ کردیا۔ اور آپ سے آپ کا بوجھ اتار دیا۔ اور میں نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا اور میرا ذکر نہیں کیا جائے گا مگر میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے گا۔ اور میں نے آپ کو دوست بنایا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی عظمت شان
17۔ ابو نعیم نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میں آسمانوں اور زمین کے امور سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا اے میرے رب ! کہ مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں ہوا مگر آپ نے اس کو عزت و تکریم عطا فرمائی ہے تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کلیم بنای اور داوٗد (علیہ السلام) کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو مسخر کردیا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے مردوں کو زندہ کردیا اور میرے لیے آپ نے کیا بنایا ؟ تو آللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تجھ کو ان سب سے افضل چیزیں عطا نہیں کیں ؟ کہ جب میرا ذکر کیا گیا تو میرے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا اور میں نے تیرے امت کے سینوں کو اتنا وسیع اور کشادہ کردیا ہے اور وہ قرآن کو یاد پڑھتے ہیں۔ اور یہ نعمت کسی امت کو نہیں دی اور میں نے تجھ کو اپنے عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ عطا کیا اور وہ آیت لا حول ولا قوۃ الا باللہ اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ کسی میں نیکی کرنے کی طاقت ہے نہ برائی سے بچنے کی قوت۔
18۔ ابن عساکر نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے آیت ورفعنا لک ذکرک کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا جائے گا مگر آپ کا بھی سات ذکر کیا جائے گا۔
Ayahs 94:5–619۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے یعنی پیچھے آتی ہے ہر تنگی کے بعد آسانی۔
20۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا بیشک ہر مشکل کے ساتھ آصانی ہے بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ہر کو ذکر گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے ساتھ اپنے اصحاب کو خوشخبری دی۔ اور فرمایا ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آئے گی۔
21۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن مردویہ نے حسن (رح) سے روایت کیا جب یہ آیت ان مع العسر یسرا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم خوش ہوجاؤ تمہارے پاس آسانی آگئی۔ ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آئے گی۔
ابو عبیدہ بن جراح ؓ کا لشکر
22۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور ہم تین سو سے کچھ زائد تھے۔ ہم پر ابو عبیدہ بن الجراح ؓ امری تھے ہمارے ساتھ بوجھ اٹھانے والی سواریاں نہیں تھیں مگر جن پر ہم سوار تھے رسول اللہ ﷺ نے ہم کو کھجور کے دو تھیلے زاد راہ کے لیے دئیے۔ ہمارے بعض نے بعض سے کہا : رسول اللہ ﷺ جان چکے ہیں کہ کہاں کا ارادہ رکھتے ہو اور تم بھی جان چکے ہو کہ تمہارے ساتھ زاد راہ کتنا ہے۔ اگر تم رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ جاؤ ور ان سے تم سوال کرو کہ وہ تم کو مزید زاد راہ عطا فرمائیں۔ تو ہم آپ کے پاس لوٹ آئے تو آپ نے فرمایا میں جان چکا ہوں کہ تم کس لیے آئے ہو اگر میرے پاس اس کے علاوہ کچھ اور ہوتا جو میں نے تم کو زاد راہ دیا ہے تو میں تم کو اور بھی زاد راہ دیتا ہے اس پر ہم چلے گئے اور یہ آیت نازل ہوئی آیت فان مع العسر یسر ان مع العسر یسرا اور اللہ کے نبی ﷺ نے ہمارے بعض کی طرف یہ پیغام بھیجا اور ان کو بلایا۔ اور فرمایا تو خوش ہوجاؤ بیشک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا کہ ہرگز ایک مشکل، دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔
23۔ البزار وابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط والحاکم وابن مردویہ و بیہقی نے شعب میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا آپ نے فرمایا گر تنگی آجائے اور وہ اس پتھر میں داخل ہوجائے تو یقیناً آسانی بھی آئے گی یہاں تک کہ اس میں داخل ہو کر اس کو نکال دے گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا اور طبرانی کے الفاظ یوں ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا۔
24۔ ابن النجار نے حمید نے حماد کے طریق سے عائذ سے روایت کیا اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بقیع غرقد میں بیٹھے ہوئے تھے پھر آپ ایک باغ میں اترے پھر فرمایا اے وہ لوگو ! جو کہاں حاضر ہو اللہ کی قسم ! اگر تنگی آکر اس پتھر میں داخل ہوجائے تو یقیناً آسانی بھی آئے گی یہاں تک کہ اس کو نکال دے گی اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا۔
25۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تنگی اس پتھر میں داخل ہوجائے تو اس پر آسانی بھی داخل ہوگی یہاں تک کہ اس کو نکال دے گی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا پڑھی۔
26۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی (رح) ادنیا فی الصبر وابن المنذر و بیہقی نے شعب الایمان نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اگر تنگی کسی پتھر میں ہوگی تو اس کے پیچھے آسانی بھی آئے گی۔ یہاں تک کہ اس پر داخل ہو کر اس کو نکال دے گی۔ اور ایک تنگی دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آئے گی بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا۔
27۔ عبدالرزاق وابن جریر والحاکم اور بیہقی نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ایک دن انتہائی خوش ہوتے ہوئے باہر تشریف لائے اور آپ مسکراتے ہوئے فرما رہے تھے۔ ہرگز ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا۔
28۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لوگ کہا کرتے تھے۔ ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔
Ayahs 94:7–829۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت آیت فاذا فرغت فانصب پس جب آپ فارغ ہوں تو ریاضت کیجیے یعنی جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں تو دعا میں مشغول ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور اس کی طرف رغبت کریں۔
30۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : جب تو اپنی نماز سے فارغ ہوجائے اور تشہد پڑھ لیں تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اور اس سے اپنی حاجت مانگیں۔
31۔ ابن ابی الدنیا نے الذکر میں ابن مسعود ؓ سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ جب آپ فارغ ہوجائیں تو دعا میں مشغول ہوجائیں آیت والی ربک فارغب یعنی اپنے رب سے مانگنے میں راغب ہوجائیں۔
32۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ فرماتے تھے کہ جس شخص کو اس کی نماز کے آخر میں کوئی حدث پیش آجائے تو یقینی طور پر اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت فاذا فرغت فانصب یعنی جب آپ فارغ ہوجائیں رکوع اور سجود سے آیت والی ربک فارغب اور اپنے رب کی طرف دل لگائیں یعنی اپنے رب سے مانگنے میں متوجہ ہوجائیں اور راغب ہوجائیں حالانکہ آپ بیٹھے ہوئے ہیں۔
33۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ جب تو فارغ ہوجائے فرائض سے تو قیام اللیل (یعنی تہجد) میں لگ جائیں۔
34۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ جب تو بیٹھ جائے تو پھر دعا میں اللہ سے مانگنے میں محنت کر۔
35۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ جب آپ اپنے ذاتی معاملات اور اسباب سے فارغ ہوجائیں تو نماز میں مشغول ہوجائیں اور آیت والی ربک فارغب یعنی اپنی ساری رغبت کو اپنے رب کی طرف کرلیں۔
36۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا فرغت فانصب سے مراد ہے کہ جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوجائیں تو دعا میں مشغول ہوجائیں۔
37۔ عبد بن حمید وابن نصر نے ضحاک سے روایت کیا کہ آیت فاذا فرغت یعنی جب آپ فارغ ہوجائیں فرض نماز سے۔ آیت والی ربک فرغب تو اپنے رب سے مانگنے میں اور دعا کرنے میں اپنے رب کی طرف متوجہ اور راغب ہوجائیں۔
38۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو حکم دیا گیا کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں تو اپنے رب کی طرف دعا کرنے میں راغب ہوجائیں اور حسن (رح) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کے حکم دیا کہ جب آپ جنگ سے فارگ ہوجائیں تو عبادت میں لگ جائیں۔
39۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا فرغت فانصب سے مراد ہے کہ جب آپ جہاد سے فارغ ہوجائیں۔ تو پھر عبادت اور ریا ضت میں لگ جائیں۔