94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

کیا ہم نے تیرے لیے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔

(الم نشرح لک صدرک : سینہ کھول دینے سے مراد اسلام کے حق ہونے پر اطمینان ، دل کا نور ہدایت سے روشن ہونا اور ذکر الٰہی سے نرم ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام) (الانعام : 125)”تو جسے اللہ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔“ اور فرمایا (افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ، فویل للقسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ اولئک فی ضلل مبین) (الزمر : 22)”تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو ایسا نہیں ؟) پس ویل ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہیں، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔“ اس کے علاوہ شرح صدر سے مراد طبیعت کا رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے خوش دلی کے ساتھ آمادہ ہونا بیھ ہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا تو انہوں نے کہا :(ویضیق صدری) (الشعرائ : 13)”اور میرا سینہ اس سے تنگ ہوتا ہے۔“ اور دعا کی :(رب اشرح لی صدری) (طہ : 25)”اے میرے رب ! میرے لئے میرا سینہ کھول دے“ شرح صدر میں آپ ﷺ کے بچپن میں اور نزول وحی کے آغاز میں اور معراج کی رات شق صدر کے بعد آپ کے سینے کو ایمان و حکمت سے بھر دینا بھی شامل ہے، جیسا کہ صحیحین اور دوسری کتاب احادیث میں آیا ہے۔
Ayahs 94:2–3

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ سے تیرا بوجھ اتار دیا۔

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

وہ جس نے تیری پیٹھ توڑ دی۔

ووضعنا عنک وزرک…: بوجھ اتار دینے سے مراد وحی الٰہی برداشت کرنے کی استعداد پیدا کرنا ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(انا سنلقی علیک قولاً ثقیلاً) (المزمل : 5)”یقیناً ہم تجھ پر ایک بھاری بات نازل کریں گے۔“ حدیث میں ہے کہ جب آپ ﷺ پر وحی اترتی تو اس کے بوجھ سے وہ اونٹنی جس پر آپ سوار ہوتے بیٹھ جاتی (مسند احمد : 6/18 ، ح : 23868، سندہ صحیح) اس کے علاوہ نبوت کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی مراد ہے، جسے آپ بہت شدت سے محسوس کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا :(لعلک باخع نفسک الا یکونوا مومنین) (الشعرائ : 3)”شاید آپ اپنے آپ کو اس لئے ہلاک کرلیں گے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر یہ بوجھ بھی اتار دیا، (لیس علیک ھدھم ولکن اللہ یھدی من یشآئ) (البقرۃ : 282) ”تیرے ذمے انہیں ہدایت دینا نہیں اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کردیا۔

(1) ورفعنا لک ذکرک : یعنی دنیا اور آخرت میں اپ کا نام بلند کیا، زمین کے مشرق و مغرب تک آپ کی امت کی حکومت پھیلا دی، کلمہ شہادت، اذان، اقامت اور خطبہ و تشہد وغیرہ میں اللہ کے نا م کے ساتھ آپ کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ اللہ کی اطاعت کے ساتھ آپ کی اطاعت فرض ہے، کوئی وقت ایسا نہیں جس میں کہیں نہ کہیں آپ کا ذکر خیر نہ ہو رہا ہے۔ قیامت کو اولاد آدم کی سیادت ، کوثر، لواء الحمد، مقام محمود اور شفاعت کبریٰ کے ساتھ آپ کا ذکر بلند ہوگا۔ (2) یہاں تین نعمتوں کا ذکر ہے، شرح صدر، وضع وزر اور رفع ذکر، تینوں کو بیان کرتے ہوئے ”لک“ یا ”عنک“ فرمایا، اس میں آپ ﷺ کی عزت افزائی کا اظہار ہو رہا ہے کہ یہ سب کچھ آپ کی خاطر کیا گیا ہے۔
Ayahs 94:5–6

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

پس بیشک ہر مشکل کے ساتھ ایک آسانی ہے۔

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

بیشک اسی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی ہے۔

(1) فان مع العسر یسراً …: اس میں آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے بشارت ہے کہ مشکلات کے دن تھوڑے ہیں، ہر مشلک کے بعد بلکہ اس کے ساتھ ہی آسانی شروع ہوجاتی ہے۔”ان مع العسر یسراً“ کا یہی مطلب ہے۔ دوسری بشارت یہ ہے کہ ایک ایک مشکل کے ساتھ دو دو آسانیاں ہیں۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے ان کی سند کے ساتھ حسن بصری ؒ کا قول نقل کیا ہے، انہوں نے فرمایا :”کانوا یقولون لا یغلب عسر واحد یسرین اثنین“”وہ (صحابہ) کہا کرتے تھے کہ ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔“ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ ابن کثیر نے اس کی تفصیل یہ بیان فرمیئا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دہرا کر یہ بات فرمائی ہے :(فان مع العسر یسراً ، ان مع العسر یسراً) اور عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ اگر کوئی اسم دوسری دفعہ معرفہ ہو کر آئخے تو اس سے مراد پہلا اسم ہی ہوتا ہے اور اگر وہ پہلے نکرہ آئے اور دوبارہ بھی نکرہ ہو کر آئے تو وہ پہلے نکرہ سے لاگہ وتا ہے۔ یہاں دوسری دفعہ ”العسر“ معرفہ آیا ہے جب کہ ”یسراً“ دوسری دفعہ بھی نکرہ ہو کر آیا ہے، تو معنی یہ ہوا کہ ”اسی پہلی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی ہے۔“ یعنی ایک مشکل کے ساتھ دو آسانیاں ہیں۔ اس قاعدے کی ایک مثال سورة مزمل میں ہے، فرمایا :(انا ارسلنا الیکم رسولاً شاھداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً فعصی فرعون الرسول) (الزمل : 15، 16)”ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا جو تم پر شہادت دینے والا ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا، تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی۔“ پہلے ”رسولاً“ سے مراد ہمارے نبی کریم ﷺ ہیں، دوسرے سے موسیٰ ؑ اور تیسرا ”الرسول“ معرفہ آیا ہے اور اس سے مراد وہی رسول ہے جو اس سے پہلے مذکور ہے اور وہ موسیٰ ؑ ہیں۔ (2) یاد رہے کہ نکرہ کو دوبارہ نکرہ کی صورت میں لانے کا یہ قاعدہ اکثر مفسرین نے بیان کیا ہے، مگر یہ قاعدہ کلیہ نہیں بلکہ مشہور نحوی ابن ہشام نے ”مغنی اللبیب“ میں اسے خطا قرار دیا ہے، کیونکہ کئی دفعہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس لئے ابن عاشور نے ”التحریر والتنویر“ میں اور زمخشری نے ”کشاف“ میں حسن بصری اور قتادہ کے اقوال اور بعض مرسل روایات میں آنے والی بات کہ ”لن یعلب عسر یسرین“ (ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آئے گی) کے متعلق فرمایا کہ آیت سے یہ بات اس کے تکرار کی وجہ سے نکلتی ہے، اس قاعدے کی وجہ سے نہیں، پھر دونوں مفسروں نے اپنے اپنے انداز سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔
Ayahs 94:7–8

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

تو جب تو فارغ ہوجائے تو محنت کر۔

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے رب ہی کی طرف پس رغبت کر۔

(1) فاذا فرعت فانصب…: آپ کے دنیا کے کام ہوں یا تبلیغ دین یا جہاد فی سبیل اللہ، اگرچہ یہ سب عبادات اور نیکیاں ہیں مگر ان میں پھر بھی مخلوق سے کچھ نہ کچھ رابطہ رہتا ہے، جب بھی ان کاموں سے کچھ فراغت ملے، تو ہر چیز سے منقطع ہو کر اپنے رب سے تعلق جوڑ کر ذکر الٰہی، تلاوت قرآن، قیام اور رکوع و سجود کی محنت کریں اور اپنی متام رغبت اپنے رب ہی کی طرف رکھیں۔ یہ وہی بات ہے جو سورة مزمل کے شروع میں کہی گئی ہے، فرمایا :(ان لک فی النھار سبحاً طویلاً ، واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلاً (المزمل : 8: 8) ”یقیناً تجھے دن میں بہت لمبی مصروفیت ہے اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے کٹ کر اسی کی طرف متوجہ ہوجا۔“ (2) فانصب :”نصب ینصب نصباً“ (س) کے مفہوم میں محنت و مشقت کے ساتھ تھکن بھی اشملہے، یعنی صرف راحت کے وقت ہی نہیں، طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی عبادت اور ذکر الٰہی کی مشقت جاری رکھ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت اتنا قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم آجاتا، جیسا کہ صحیحین میں عائشہ ؓ سے مروی ہے۔