Ayah 95:1(1) والتین والزیتون : انجیر اور زیتون دو ایسے پھل ہیں جو اپنی جامعیت اور فوائد کی کثرت میں انسان کے جامع الفضائل ہونے کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں، اس لئے انہیں انسان کے احسن تقویم میں پیدا کئے جانے کے شاہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے انجیر اور زیتون سے مراد سر زمین شام لی ہے جہاں یہ کثرت سے ہوتے ہیں اور جہاں عیسیٰ ؑ اور اللہ کے بہت سے پیغمبر پیدا ہوئے ہیں اور یہی بات راجح ہے، کیونکہ اس کے بعد طور سینا اور بلد امین کا ذکر ہے۔
Ayah 95:2(وطور سینین): طور سینا جہاں اللہ تعالیٰ موسیٰ ؑ سے ہم کلام ہوئے۔ مزید دیکھیے سورة مومنون (20)۔
Ayah 95:3(وھذا البلد الامین : شہر مکہ میں جو ابراہیم اور اسماعیل ؑ نے آباد کیا اور جہاں رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ اسے بلد امین اس لئے فرمایا ہے کہ ابراہیم ؑ نے اس کے لئے دعا کی تھی :(رب اجعل ھذا بلداً امناً) (البقرۃ : 126)”اے میرے رب ! اس (جگہ) کو ایک امن والا شہر بنا دے۔“
Ayah 95:4لقد خلقنا الانسان…: قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ سر زمین شام میں پیدا ہونے والے جلیل القدر پیغمبروں اور طور سینا اور شہر مکہ کی شہرت کا باعث بننے والے پیغمبروں کی زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔
Ayah 95:5(ثم رددنہ اسفل سفلین : اس بہترین بناوٹ میں اس کی شکل و صورت کا حسن، اس کی عقل، اس کی فطرت پر پیدائش اور وہ سب کچھ شامل ہے جو کسی حیوان کو حاصل نہیں۔ پھر اگر وہ اس عقل اور فطرت کے تقاضوں پر عمل نہ کرے بلکہ انسانیت سے اتر کر حیوانیت میں جا گرے اور شہوت و غضب اور دوسری حیوانی صفات سے مغلوب ہوجائے، تو اس سے زیادہ نیچا اور ذلیل کوئی نہیں، کیو کہ پھر وہ اس حد تک گر جاتا ہے کہ کوئی حیوان نہیں بھی گرتا ، حتیٰ کہ وہ اپنے مالک و خالق کو بھی بھول جاتا ہے، اس کے ساتھ شریک بنانے لگتا ہے اور زمین میں ایسا فساد برپا کرتا ہے جو کوئی حیوان بھی نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ آگ ہے اور اس میں گرنے والوں سے نیچا اور ذلیل کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(اولئک کالانعام بل ھم اضل) (الاعراف : 189)”یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔“
Ayah 95:6(الا الذین امنوا و عملوا الصلحت…: اور اگر یہ احسن تقویم کے مطابق ایمان لا کر عمل صالح کرے تو اس کو ایسا اجر ملے گا جو کبھی نمنقطع نہیں ہوگا۔
Ayah 95:7(فما یکذبک بعد بالدین : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا، پھر بعض نے تو اس ساخت کے تقاضوں کے مطاق ایمان اور عمل صالح اختیار کیا اور بعض نافرمانی کی وجہ سے ”اسفل السلافلین“ ٹھہرے۔ ان دونوں کے عمل کا لازمی نتیجہ ہے کہ ایک دن ایسا ہو جس میں ہر ایک کو نیکی اور بدی کی جزا و سزا دی جائے۔ اتنی واضح دلیل کے بعد اے انسان ! تجھے کون سی چیز آمادہ کر رہی ہے کہ تو جزا کو جھٹلا دے ؟ اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے :”اے نبی ! اس کے بعد کون ہے جو تجھے جزا کے بارے میں جھٹلائے ؟“
Ayah 95:8(الیس اللہ باحکم الحکمین :) کوئی معمولی سا انصاف کرنے والا ہو وہ بھی اپنے اختیار میں جزا و سزا کا اہتمام کئے بغیر نہیں رہے گا، تو اللہ جو سب حاموں سے بڑا حاکم ہے، وہ اس کا اہتمام کیوں نہیں کرے گا ؟
ترمذی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جب تم میں سے کوئی سورت ”والتین والزیتون“ پڑھے اور ”الیس اللہ باحکم الحکمین“ پر پہنچے تو کہے :(بلی وانا علی ذلک من الشاھدین) (ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة والتین : 3338)”کیوں نہیں ! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں۔“ مگر یہ روایت صحیح نہیں، کیونکہ ترمذی ؒ نے فرمایا کہ ابوہریرہ ؓ سے ایک اعرابی نے یہ روایت بیان کی ہے جس کا نام ہی معلوم نہیں۔