Ayah 96:1(1) اقرا باسم ربک الذی خلق : پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم دینے سے پڑھنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
(2) اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دیتے وقت اپنے رب ہونے اور پیدا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ سب سے پہلی اور بڑی نعمت پیدا کرنا ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے بعد ہیں، خلق ہی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ دوسری نعمت رب ہونا، یعنی پرورش کرنا ہے۔ یعنی ان نعمتوں والی ہستی کے نام کی برکت سے پڑھ، اس کی برکت سے تو قاری بھی بن جائے گا۔
(3) ”الذی خلق“ (جس نے پیدا کیا) کا مفعول حذف کردیا گیا ہے کہ کسے پیدا کیا ؟ یعنی جب پیدا کرنا اس کا کام ہے، تو پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کسے پیدا کیا۔
Ayah 96:2(خلق الانسان من علق :) رحم میں قرار پکڑنے کے بعد نطفہ سب سے پہلے ”علقہ“ کی شکل اختیار کرتا ہے۔”علق یعلق“ (س) چمٹنے کو کہتے ہیں۔ ”علقہ“ جما ہوا خون، جو رحم کی دیوار کے کسی حصے سے چپک جاتا ہے۔ ”علقہ“ کا دوسرا معنی جونک ہے، وہ بھی کسی نہ کسی کو چمٹ جاتی ہے۔ خون کی وہ پھٹکی شکل و صورت میں جونک سے ملتی جلتی ہوتی ہے، اس میں نہ جان ہوتی ہے نہ شعور اور نہ عقل و علم۔ پھر اللہ تعالیٰ اس حقیر سی پھٹکی سے انسان جیسی عظیم مخلوق پیدا فرما دیتا ہے۔
Ayahs 96:3–4(1) اقرا و ربک الاکرم…: رسول اللہ ﷺ کے دہشت زدہ ہوجانے کی وجہ یس دوبارہ فرمایا، پڑھ ! تجھے وہ پڑھا رہا ہے جس سے زیادہ کرم والا کوئی نہیں۔
(2) یہ اس کے کرم کی انتہا ہے کہ اتنی حقیر چیز سے پیدا ہونے والے انسان کو علم جیسی بلند ترین صفت سے نواز دیا، بلکہ قلم کے ساتھ علم سکھایا، جس سے علم محفوظ ہوتا اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے۔ یہ نہ ہوتا تو علم محدود اور پھر معدوم ہوجاتا۔
Ayah 96:5(علم الانسان مالم یعلم): انسان پیدا ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں جانتا (دیکھیے نحل : 78) اللہ تعالیٰ ہی اسے آہستہ آہستہ سب کچھ سکھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی اپنے ایک ان پڑھ بندے کو اعلم بلکہ عالموں کا استاذ بنائے گا۔
Ayahs 96:6–8(1) کلا ان الانسان لیطغی …:”کلا“ کا معنی ”ہرگز نہیں“ ،”خبر ’ ار“ اور ”حق یہ ہے“ میں سے موقع کی مناسبت سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔”الرجعی“”رجع یرجع“) (ض) سے ”بشری“ کے وزن پر مصدر ہے۔
(2) یہ آیات پہلی پانچ آیات کے بعد وقفہ سے نازل ہوئیں، جب ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آیا اور کہنے لگا :”کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا ؟“ یہ بات اس نے تین بار کہی۔ نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اسے ڈانٹا، اس پر ابوجہل کہنے لگا :”تم جانتے ہو اس شہر میں مجلس کے ساتھ مجھ سے زیادہ کسی کے نہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں :(فلیدع نادیہ، سندع الربانیۃ) (العلق : 18، 18) ’ پس وہ اپنی مجلس کو بلا لے۔ ہم عنقریب جہنم کے فرشوتں کو بلا لیں گے۔“ (ترمذی : تفسیر القرآن، باب ومن سورة اقرا باسم ربک : 3339) ترمذی اور البانی ؒ نے اسے صحیح کا ہے۔
(3) سورت کی ابتدائی پانچ آیات کے ساتھ ان آیات کی مناسبت یہ ہے کہ انسان اتنی نعمتیں جو اوپر ذکر ہوئیں، ملنے کے باوجود احسان ماننے اور شکر کرنے کے بجائے سرکشی اختیار کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ اسے ضرورت کی ہر چیز دے کر دوسروں سے غنی کردیتا ہے تو وہ بندگی کی حد سے نکل کر مقابلے پر آجاتا ہے۔ فرمایا، بندے ! جتنی چاہے سرکشی کرلے، یقیناً تجھے اپنے رب کے پاس واپس آنا ہے۔
Ayahs 96:9–14(ارء یت الذی ینھی…: ان آیات میں ابوجلہ کے رویے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرمایا اے مخاطب ! بھلا تو نے اس شخص کو دیکھا جو اللہ کے بندے یعنی رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے ؟ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے جس سے وہ منع کر رہا ہے ؟ پھر تو نے دیکھا، اگر یہ نماز پڑھنے والا راہ راست پر ہو یا امر بالمعروف کر رہا ہو تو کیا اس سے یہ سلوک ہونا چاہیے ؟ پھر کیا تو نے دیکھا کہ اگر یہم نع کرنے والا جھٹلا رہا ہو اور منہ موڑ رہا ہو تو کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ؟ آیت :(ارء یت ان کان علی الھدی ، او ام بالتقویٰ) کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کیا تو نے دیکھا کہ یہ نماز سے منع کرنے والا نماز سے روکنے کے بجائے ہدایت پر ہوتا یا نیکی کا حکم یدتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔
Ayahs 96:15–1818(1) کلا لئن لم ینتہ ، لنسفعاً …:”لم ینتہ“ (وہ باز نہ آیا)”انتھی ینتھی انتھائ“ (افتعال) سے حجد معکم ہے۔ ”ینتہ“ اصل میں ”ینتھی“ تھا، حرف جزم ”لم“ کی وجہ سے یاء گرگئی۔ ”لنسفعاً“ اصل میں ”لنسفعن“ ہے، جو ”سفع یسفع“ (ف) (زور سے کھینچ کر گھسیٹنا) سے جمع متکلم مضارع معلوم بانون تاکید خفیہ ہے۔ چونکہ وقف کی حالت میں نون تاکید خفیفہ (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، جیسا کہ نون تنوین (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، اس لئے نون تنوین ”خبیراً“ اور ”بصیرات“ کی طرح اسے بھی ”لنستفعن“ کے بجائے ”لنسفعاً“ کی صورت میں لکھا گیا ہے اور اس میں مصحف عثمانی کی پیروی کی گئی ہے۔ ”ولیکونا من الصغرین“ بھی ایسے ہی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یوسف کی آیت (32) کی تفسیر۔
”الناصیۃ“ سر کے اگلے حصے کے بالوں کو ”ناصیہ“ کہا جاتا ہے۔”الزبانیۃ“ ”زبنیۃ“ کی جمع ہے۔ عرب پولیس کے سپاہی کو ”زبنیۃ“ کہتے ہیں۔ یہ ”زبن یزبن زبنا“ (ض) سے مشتق ہے جس کا معنی ”ہٹانا ، دھکا دینا“ ہے۔ چونکہ افسر جس سے ناراض ہو سپاہی اسے دھکے مار کر نکال دیں گے، بلکہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کرز دیں گے۔
(2) ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ابوجہل نے کہا :”کیا محمد (ﷺ) تمہارے ہوتے ہوئے اپنا چہرہ زمین پر رکھتا ہے ؟“ کہا گیا :”ہاں !“ ابوجہل نے کہا :”لات اور عزیٰ کی قسم ! اگر میں نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا، یا اس کے چہرے کو مٹی سے لت پت کر دوں گا۔“ چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ اس وقت نمازپ ڑھ رہے تھے۔ اس کا ارادہ آپ کی گردن کو روندنے کا تھا، اچانک لوگوں نے دیکھنا کہ وہ ایڑیوں پر واپس پلٹ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ کسی چیز سے بچ رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا :”تجھے کیا ہ وا ؟“ اس نے کہا :”میرے اور اس کے دریمان آگ کی ایک خندق، بڑا ہولناک منظر اور پر ہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لو دنا منی لاختطفتہ الملائکۃ عضوا عضواً) (مسلم صفات المنافقین باب قولہ :(ان الانسان لطعی …): 2898)”اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اسے ایک ایک عضو کر کے اچک لیتے۔“
Ayah 96:19(1) کلا لاتطعہ واسجد واقترب : فرمایا : وہ آپ کو نماز سے روکتا ہے تو آپ اس کا کہنا ہرگز نہ مانیں، بلکہ آپ نماز پڑھتے، سجدہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کا رقب حاصل کرتے رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اقرب ما یکون العبد من ربہ وھو ساجد فاکثرو الدعائ) (مسلم ، الصلاۃ ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود ؟: 382)”بندہ اللہ کے سب سے زیادہق ریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو تو تم (سجدے میں) دعا زیادہ کا یک رو۔“ صحیح مسلم ہی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت پر سکدہ کرتے تھے۔ (دیکھیے مسلم، المساجد، باب سجود التلاوۃ : 108/588)
(2) اگرچہ ان آیات کا اولین مصداق ابوجہل ہے، مگر الفاظ عام ہونے کی وجہ سے ہر وہ شخص ان کا مصداق ہے جس میں یہ سجدہ کرتا رہے اور اس کا قرب تلاش کرتا رہے۔