94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

کیا ہم نے نہیں کھول دیا تیرا سینہ4

4 کہ اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازم نبوت اور فرائض رسالت برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا کہ بیشمار دشمنوں کی عداوت اور مخالفوں کی مزاحمت سے گھبرانے نہ پائیں (تنبیہ) احادیث و سیر سے ثابت ہے کہ ظاہری طور پر بھی فرشتوں نے متعدد مرتبہ آپ ﷺ کا سینہ چاک کیا۔ لیکن مدلول آیت کا بظاہر وہ معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 94:2–3

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

اور اتار رکھا ہم نے تجھ پر سے بوجھ تیرا

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جس نے جھکا دی تھی پیٹھ تیری5

5 وحی کا اترنا اول سخت مشکل تھا۔ پھر آسان ہوگیا۔ یا منصب رسالت کی ذمہ داریوں کو محسوس کر کے خاطر شریف پر گرانی گزرتی ہوگی۔ وہ رفع کردی گئی۔ یا " وزر " سے وہ امور مباحہ مراد ہوں جو گاہ بگاہ آپ ﷺ قرین حکمت و صواب سمجھ کرلیتے تھے۔ اور بعد میں ان کا خلاف حکمت یا خلاف اولیٰ ہونا ظاہر ہوتا تھا اور آپ ﷺ بوجہ علو شان اور غایت قرب کے اس سے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے تو اس آیت میں ان پر مواخذہ نہ ہونے کی بشارت ہوئی۔ کذاروی عن بعض السلف۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ہمت عالی اور پیدایشی استعداد جن کمالات و مقامات پر پہنچنے کا تقاضا کرتی تھی۔ قلب مبارک کو جسمانی ترکیب یا نفسانی تشویشات کی وجہ سے ان پر فائز ہونا دشوار معلوم ہوتا ہوگا۔ اللہ نے جب سینہ کھول دیا اور حوصلہ کشادہ کردیا، وہ دشواریاں جاتی رہیں اور سب بوجھ ہلکا ہوگیا۔
Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور بلند کیا ہم نے مذکور تیرا6

6 یعنی پیغمبروں اور فرشتوں میں آپ ﷺ کا نام بلند ہے۔ دنیا میں تمام سمجھدار انسان نہایت عزت و وقعت سے آپ ﷺ کا ذکر کرتے ہیں۔ اذان، اقامت، خطبہ، کلمہ طیبہ اور التحیات وغیرہ میں اللہ کے نام کے بعد آپ ﷺ کا نام لیا جاتا ہے اور خدا نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں ساتھ کے ساتھ آپ ﷺ کی فرمانبرداری کی تاکید کی ہے۔
Ayahs 94:5–6

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

سو البتہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

البتہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے7

7 یعنی اللہ کی رضا جوئی میں جو سختیاں آپ ﷺ نے برداشت کیں اور رنج و تعب کھینچے۔ ان میں سے ہر ایک سختی کے ساتھ کئی کئی آسانیاں ہیں۔ مثلاً حوصلہ فراخ کردینا جس سے ان مشکلات کا اٹھانا سہل ہوگیا، اور ذکر کا بلند کرنا، جس کا تصور بڑی بڑی مصیبتوں کے تحمل کو آسان کردیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب ہم نے آپ ﷺ کو روحانی راحت دی اور روحانی کلفت رفع کردی جیسا کہ " الم نشرح " الخ سے معلوم ہوا تو اس سے دنیاوی راحت و محنت میں بھی ہمارے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہیے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بیشک موجودہ مشکلات کے بعد آسانی ہونے والی ہے اور تاکید مزید کے لئے پھر کہتے ہیں کہ ضرور موجودہ سختی کے بعد آسانی ہو کر رہے گی۔ چناچہ احادیث و سیر سے معلوم ہوچکا کہ وہ سب مشکلات ایک ایک کر کے دور کردی گئیں۔ اور ہر ایک سختی اپنے بعد کئی کئی آسانیاں لے کر آئی۔ اب بھی عادۃ اللہ یہی ہے کہ جو شخص سختی پر صبر کرے اور سچے دل سے اللہ پر اعتماد رکھے اور ہر طرف سے ٹوٹ کر اسی سے لو لگائے۔ اسی کے فضل و رحمت کا امیدوار رہے، امتداد زمانہ سے گھبرا کر آس نہ توڑ بیٹھے ضرور اللہ اس کے حق میں آسانی کرے گا۔ ایک طرح کی نہیں، کئی طرح کی، وفی الحدیث " لن یغلب عسر یسرین " وفیہ ایضا " لوجا العسر فدخل ھٰذا الحجر لجاء الیسر حتی ید خل علیہ فیخرجہ "
Ayahs 94:7–8

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

پھر جب تو فارغ ہو تو محنت کر

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کی طرف دل لگا8

8 یعنی جب خلق کے سمجھانے سے فراغت پائے تو خلوت میں بیٹھ کر محنت کر، تاکہ مزید یسر کا سبب بنے۔ اور اپنے رب کی طرف (بلاواسطہ) متوجہ ہو (تنبیہ) خلق کو سمجھانا اور نصیحت کرنا آپ ﷺ کی اعلیٰ ترین عبادت تھی۔ لیکن اس میں فی الجملہ مخلوق کا توسط ہوتا تھا۔ مطلوب یہ ہے کہ ادھر سے ہٹ کر بلاواسطہ بھی متوجہ ہونا چاہئے۔ اس کی تفسیر اور کئی طرح کی گئی ہے۔ مگر اقرب یہی معلوم ہوتی ہے۔