Ayah 94:11۔ (اور اسے معارف وحقائق سے بھر نہیں دیا ؟ ) شرح صدر، وہ مقام ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طلب و آرزو کے بعد عنایت ہوا تھا۔ (آیت) ” رب اشرح لی صدری “۔ (طہ) المراد من شرح الصدر ما یرجع الی المعرفۃ والطاعۃ (کبیر) وشرح الصدر تنویرہ بالحکمۃ وتوسیعہ لتلقی مایوحی الیہ قالہ الجمھور (بحر) صوفیہ محققین کے ہاں شرح صدر بڑی دولت ہے۔
Ayahs 94:2–32۔ وزر کے اصل معنی صرف بوجھ یا بار کے ہیں۔ الوزر الثقل (راغب) سو اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسا ایسا عظیم الشان بار آپ ﷺ پر تھا، جس سے آپ ﷺ اتنا گرانبار ہورہے تھے، اور قرآن کہتا ہے کہ وہ آپ سے دور کردیا گیا ؟ وہ بار صرف ایک ہی ہوسکتا ہے۔ قبل نبوت اپنی قوم کی حالت پر تاسف و حسرت اور ان کی فلاح واصلاح کی فکر، اس کا توڑتویوں ہوا کہ آپ ﷺ پر راہ ہدایت پوری تفصیلات کے ساتھ واضح کردی گئی، اور آپ ﷺ کے سپرد خلق کی رہنمائی کردی گئی۔ بعد نبوت سب سے بڑی فکر آپ ﷺ کو تبلیغ احکام اور اس کے نتائج کی رہی۔ قرآن مجید نے اس غم سے بھی آپ ﷺ کو یہ کہہ کر سبکدوش کردیا کہ آپ ﷺ پر کسی کے ایمان لانے نہ لانے کی کوئی ذمہ داری نہیں (آیت) ” لست علیھم بمصیطر “۔ اور (آیت) ” وماعلیک الا یزکی “۔ اور لعلک باخع نفسک الایکونوا مومنین وغیرھا۔ وزر کے معنی گناہ کے بھی کئے گئے ہیں۔ یعبر بذلک عن الاثم (راغب) اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ ہم نے آپ ﷺ سے گناہوں کو دور رکھا ہے جن کی فکر آپ ﷺ کو کھائے جاتی تھی۔
Ayah 94:43۔ (چنانچہ کلمہ شہادت میں، اذان میں، اقامت میں، تشہد میں، خالق کے نام کے ساتھ ساتھ اگر مخلوق میں سے کسی کا نام آتا ہے تو وہ آپ ﷺ ہی کا) (آیت) ” رفعنا “۔ ضمیر متکلم قابل غور ہے۔ یہ آپ ﷺ کا آوازہ تو ہم نے بلند کر رکھا ہے، نہ کسی کی مخالفت چلنے پائی، نہ کسی معاند کی کوئی تدبیر کارگر ہونے پائی۔ لک۔ ل تخصیص کا ہے۔ یعنی ایسی رفعت آپ ہی کے لئے ہے، کوئی اس میں آپ ﷺ کا شریک نہیں۔ رفع ذکر “۔ (آوازۂ بلند) کی ایک فرد یہ بھی ہے کہ منکرین ومعاندین میں جو چوٹی کے سردار و اکابر ہیں، ان تک کو آپ ﷺ کی عظمت و جلالت کا اعتراف ہے، ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayahs 94:5–64۔ (اور اس پر یقین واعتماد رکھیے کہ عناد ومخالفت کے یہ سارے بادل چھٹ کر رہیں گے اور مظفر ومنصور آپ ہی ہوں گے) آیت کی تکرار، وعدہ کی تاکید کے لیے ہے، تاکہ مسلمانوں کے دل بڑھے ہوئے رہیں۔ اور ان پرامید کا پہلو غالب رہے۔ کر رہ لتاکید الوعد وتعظیم الرجاء (معالم)
Ayah 94:75۔ یعنی کثرت عبادات ومجاہدات میں مشغول رہا کیجئے کہ آپ کی شان کے یہی مناسب ہے۔ (آیت) ” فاذا فرغت “۔ یعنی جب آپ ﷺ اپنے منصب و مرتبہ کے فرائض یاتبلیغ احکام رسالت سے فرصت پائیے۔
Ayah 94:86۔ (بلاواسطہ مخلوق، اور براہ راست) عبادت اور بہترین عبادت کے حکم میں تو آپ کی مشغولی تبلیغ واصلاح خلق بھی داخل تھی، لیکن بہرحال اس میں ایک واسطہ مخلوق کا رہتا تھا، آیت میں حکم یہ مل رہا ہے کہ اس نوعیت کی عبادت کے علاوہ براہ راست توجہ الی الحق بھی رکھیے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ جب ارشاد وافادہ سے فارغ ہوجائے تو چاہیے کہ خلوت میں فکر ومناجات میں لگ جائے، اور اپنے کو مجاہدہ سے مستغنی نہ سمجھے۔