94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا،

یہ پوری سورة الم نشرح کا ترجمہ ہے (جو سورة الانشراح کے نام سے معروف ہے) اس میں بھی اللہ تعالیٰ شانہ نے رسول اللہ ﷺ پر اپنے بڑے بڑے انعامات کا امتنان فرمایا ہے۔ ﴿ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ001﴾ (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا) ۔ یہ استفہام تقریری ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ اس کو جانتے اور مانتے ہیں کہ ہم نے آپ کا سینہ کھول دیا سینہ کو نور نبوت سے بھی بھر دیا اور علم و معرفت سے بھی ایمان کی دولت سے بھی، صبر و شکر سے بھی، کتاب و حکمت سے بھی، قوت برداشت سے بھی، وحی کی ذمہ داری اٹھانے سے بھی، دعوت ایمان پر اور ددعوت احکام پر استقامت سے بھی، اللہ تعالیٰ نے جو آپ پر انعام فرمائے ان میں ایک بہت بڑا انعام شرح صدر بھی ہے آپ کی برکت سے آپ کی امت کو بھی شرح صدر کی نعمت حاصل ہوگئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ کی تلاوت کی پھر فرمایا بیشک جب نور سینہ میں داخل ہوتا ہے تو پھیل جاتا ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا اس کی کوئی نشانی ہے فرمایا ہاں اس کی یہ نشانی ہے کہ دار الغرور (دھوکہ والا گھر یعنی دنیا) سے بچتا رہے اور دار الخلود (یعنی ہمیشہ رہنے کے گھر) کی طرف توجہ رکھے اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری رکھے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کما فی المشکوٰۃ صفحہ 446) بعض حضرات نے یہاں ان روایات کا بھی ذکر کیا ہے جن میں آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک کو چاک کر کے علم اور حکمت سے بھر دیا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا جنہوں نے یہ کام کیا۔ ایک مرتبہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ اپنی رضاعی والدہ حلیمہ سعدیہ کے یہاں بچپن میں رہتے تھے اور ایک مرتبہ معراج کی رات میں پیش آیا۔ (كما رواہ المسلم و بخاری) اسی طرح کا ایک اور واقعہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے در منثور میں صفحہ 363 ص ج 6 میں نقل کیا ہے اس وقت آپ کی عمر بیس سال چند ماہ تھی صاحب در منثور نے یہ واقعہ زوائد مسند احمد سے نقل کیا ہے۔
Ayahs 94:2–3

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

اور ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی

﴿ وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ002 الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ003﴾ (اور ہم نے آپ کا وہ بوجھ اٹھا دیا یعنی دور کردیا جس نے آپ کی کمر توڑ دی) اس بوجھ سے کون سا بوجھ مراد ہے، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت سورة ٴ فتح کی آیت ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ ﴾ کے ہم معنی ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ چھوٹے موٹے اعمال جو آپ سے لغزش کے طور پر بلا ارادہ یا خطاء اجتہادی کے طور پر صادر ہوئے ان کا جو بوجھ آپ محسوس کرتے تھے اور اس بوجھ کا اس قدر احساس تھا کہ اس احساس نے آپ کی کمر توڑ دی تھی یعنی خوب زیادہ بوجھل بنا دیا تھا، وہ بوجھ ہم نے ہٹا دیا یعنی سب کچھ معاف کردیا۔ احقر کے خیال میں اس آیت کو سورة ٴ فتح کی آیت میں لینے کے بجائے یہ معنی لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے جو علامہ قرطبی (رح) نے عبدالعزیز بن یحییٰ اور حضرت ابو عبیدہ سے نقل کیا، یعنی خففنا عنک اعباء النبوة والقیام بھا حتی لا تثقل علیک۔ یعنی ہم نے نبوت سے متعلقہ ذمہ داریوں کو ہلکا کر دیاتا کہ آپکو بھاری معلوم نہ ہوں، درحقیقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت بھی بہت دی اور کام بھی بہت دیا مشرکین کے درمیان توحید کی بات اٹھانا بڑا سخت مرحلہ تھا۔ آپ کو تکلیفیں بہت پہنچیں جن کو آپ برداشت کرتے چلے گئے اللہ تعالیٰ نے صبر دیا اور استقامت بخشی پھر ایمان کے راستے کھل گئے، آپ کے صحابہ بھی کار دعوت میں آپ کے ساتھ لگ گئے اور عرب و عجم میں آپ کی دعوت عام ہوگئی۔ فصلی اللّٰہ علیہ وعلی الہ وعلی من جاھد معہ۔
Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کی خاطر ذکر آپ کا بلند کیا،

﴿وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ004﴾ (اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا) اس کی تفصیل بہت بڑی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر کو اپنے ذکر کے ساتھ ملا دیا اذان میں، اقامت میں، تشہد میں، خطبوں میں، کتابوں میں، وعظوں میں، تقریروں میں، تحریروں میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عالم بالا میں بلایا آسمانوں کی سیر کرائی، سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا جب کسی آسمان تک پہنچتے تھے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دروازہ کھلواتے تھے، وہاں سے پوچھا جاتا تھا کہ آپ کون ہیں ؟ وہ جواب دیتے تھے کہ میں جبرائیل ہوں پھر سوال ہوتا تھا کہ آپ کے ساتھ کون ہے، وہ جواب دیتے تھے کہ محمد ﷺ ، اس طرح سے تمام آسمانوں میں آپ کی رفعت شان کا چرچا ہوا۔ علامہ قرطبی نے بعض حضرات سے اس کی تفسیر میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام پر نازل ہونے والی کتابوں میں آپ کا تذکرہ فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ آپ کی تشریف لانے کی بشارت دیں اور آخرت میں آپ کا ذکر بلند ہوگا۔ جبکہ آپ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا اور اس وقت اولین و آخرین رشک کریں گے۔ آپ کو کوثر عطا کردیا جائے گا۔ دنیا میں اہل ایمان تو محبت اور عقیدت سے آپ کا ذکر کرتے ہی ہیں اہل کفر میں بھی بڑی تعداد میں ایسے لوگ گزرے ہیں اور اب بھی موجود ہیں جنہوں نے دنیا داری کی وجہ سے ایمان قبول نہیں کیا لیکن آپ کی رسالت و نبوت اور رفعت و عظمت کے قائل ہوئے آپ کی توصیف و تعریف میں کافروں نے مضامین بھی لکھے ہیں اور نعتیں بھی کہی ہیں اور سیرت کے جلسوں میں حاضر ہو کر آپ کی صفات اور کمالات برابر بیان کرتے رہتے ہیں۔
Ayahs 94:5–6

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

سو بیشک موجودہ مشکلات کے ساتھ آسانی ہے

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

بیشک موجودہ مشکلات کے ساتھ آسانی ہے،

﴿فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاۙ005 اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاؕ006﴾ (بےشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ جو مشکلات درپیش ہیں یہ ہمیشہ نہیں رہیں گی اور اسے مستقل ایک قانون کے طریقہ پر بیان فرما دیا کہ بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے اس کلمہ کو دو مرتبہ فرمایا جو آپ کے لیے بہت زیادہ تسلی کا باعث ہے، آپ کے بعد آنے والے آپ کی امت کے افراد و اشخاص جب آپ کے بتائے ہوئے کاموں میں لگیں اور دینی دعوت میں مشغول ہوں تو مشکلات سے پریشان نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ سے ان کے دور ہونے کی امید رکھیں، ابتدا میں مشکلات ہوتی ہیں پھر ایک ایک کر کے چھٹتی چلی جاتی ہیں۔ تفسیر درمنثور میں بحوالہ عبدالرزاق و ابن جریر و حاکم و بیہقی حضرت حسن سے (مرسلاً ) نقل کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ بہت خوشی کی حالت میں ہنستے ہوئے باہر تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے لن یغلب عسر یسرین (کہ ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں ہوگی) اور آپ یہ پڑھ رہے تھے : ﴿فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاۙ005 اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاؕ006﴾ دوسری روایت میں یوں ہے جو بحوالہ طبرانی اور حاکم و بیہقی (فی شعب الایمان) حضرت انس بن مالک ؓ سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی مشکل آئے جو اس پتھر میں اندر داخل ہوجائے تو آسانی بھی آئے گی جو اس کے پیچھے سے داخل ہوگی اور اس کو نکال دے گی اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت کریمہ ﴿فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاۙ005 اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاؕ006﴾ نازل فرمائی۔ حضرات علماء کرام نے فرمایا ہے کہ جب کسی اسم کو معرف باللام ذکر کیا جائے پھر اسی طرح دوبارہ اس کا اعادہ کیا جائے تو دونوں ایک ہی شمار ہوں گے اور اگر کسی اسم کو نکرہ لایا جائے اور پھر اس کا بصورت نکرہ اعادہ کردیا جائے تو دونوں کو علیحدہ علیحدہ سمجھا جائے گا۔ جب آیت کریمہ میں عسر کو دو بار معرفہ لایا گیا اور یسر کو دو بار نکرہ لایا گیا تو ایک مشکل کے ساتھ دو آسانیوں کا وعدہ ہوگیا اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا ایک ہی ہے اس میں جو مشکلات ہیں ان کا مجموعہ شئی واحد ہے مشکلات کے بعد دنیا ہی میں آسانی آتی رہتی ہے ایک آسانی تو یہ ہوئی، اور دوسری آسانی وہ ہے جو اہل ایمان کو آخرت میں نصیب ہوگی جس کا ﴿فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ007﴾ میں وعدہ فرمایا ہے اور وہ بہت بڑی نعمت ہے یہ دنیا کی تھوڑی سی مشکلات جن کے بعد دنیا میں اور آخرت میں بڑی بڑی آسانیاں نصیب ہوجائیں اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔
Ayah 94:7

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

سو آپ جب فارغ ہوجایا کریں تو محنت کیا کیجئے

اس کے بعد اللہ جل شانہٗ نے حکم فرمایا ﴿ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ007﴾ (جب آپ فارغ ہوجائیں تو محنت کے کام میں لگ جائیں) یعنی داعیانہ محنت میں آپ کا اشتغال خوب زیادہ ہے آپ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو دین حق کی دعوت دیتے ہیں اللہ کے احکام پہنچاتے ہیں اس میں بہت سا وقت خرچ ہوجاتا ہے یہ خیر ہے اللہ تعالیٰ شانہ کے حکم سے ہے اس میں مشغول ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور اس کا اجر بھی بہت زیادہ ہے لیکن ایسی عبادت جس میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع ہو بندوں کا توسط بالکل ہی نہ ہو ایسی عبادت کرنا ضروری ہے جب آپ کو دعوت اور تبلیغ کے کاموں میں فرصت مل جایا کرے تو آپ اپنی خلوتوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جایا کریں، تاکہ اس عبادت کا کیف بھی حاصل ہو اور وہ اجر وثواب بھی ملے جو براہ راست عبادت اور انابت میں ہے۔ اور حقیقت میں یہ جو بلاواسطہ ہے یہی اصل عبادت ہے بندوں کو جو توحید اور ایمان کی دعوت دی جاتی ہے اس کا حاصل بھی تو یہی ہے کہ سب لوگ ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوں جس کے لیے ان کی تخلیق ہوئی ہے جسے سورة ٴ والذاریات کی آیت ﴿وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ 0056﴾ میں بیان فرمایا ہے رسول اللہ ﷺ اس پر عمل کرتے تھے فرائض بھی ادا کرتے تھے ان کے ساتھ عبادات میں بھی مشغول رہتے تھے آپ راتوں رات نماز میں کھڑے رہتے تھے جس سے آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔
Ayah 94:8

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کی طرف توجہ رکھیے۔

﴿وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ (رح) 008﴾ (اور اپنے رب کی طرف رغبت کیجئے) ۔ یعنی نماز، دعا، مناجات، ذكر، تضرع، زاری میں مشغول ہوجائیں۔ فَانْصَبْ کا ترجمہ ” محنت کیا کیجئے “ کیا گیا ہے کیونکہ یہ نصب بمعنی مشقت سے مشتق ہے، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ عبادات میں اس قدر لگنا چاہیے کہ نفس تھکن محسوس کرنے لگے، نفس کو آسانی پر نہ چھوڑیئے اگر نفس کا آرام اور رضا مندی دیکھی جائے تو وہ فرض بھی ٹھیک طرح سے ادا نہ کرنے دے گا۔ وھذا آخر تفسیر سورة الانشراح والحمد للہ العلیم العلی الفتاح، والصلوٰة علی سید رسلہ صاحب الانشراح ومروح الارواح وعلی الٰہ وصحبہ اصحاب النجاح والفلاح وعلی من قام بعدھم بالصلاح والاصلاح