94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ (بےشک کھول دیا)

الم نشرح لک صدرک . بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ جملہ اور اس کے بعد والے جملے آیت : الم یجدک یتیمًا فاوٰی . ووجدک ضالا فھدٰی ووجدک عائلاً فاغنٰی سے وابستہ ہیں ‘ اگر یہ روایت صحیح مانی جائے تو پھر یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ مذکورہ سابق حالت میں ہی رسول اللہ ﷺ کی درخواست کے بعد اس سورت کا بھی نزول ہوا۔ خواہ سوال واقعی آپ نے کیا ہو یا سوال فرض کیا جائے۔ بہرحال آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تمہارا سینہ کھول دیا ‘ جس کے اندر بنور الٰہی ایسے علوم صادقہ اور معارف دینیہ سما گئے جو کسی دانشمند کو دانش کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتے تھے اور دل کے اندر اللہ کی طرف کامل توجہ بھی پیدا کردی گئی (تاکہ مرتبہ عروج کی تکمیل ہوجائے) اور حضور کامل کے ساتھ مخلوق کی طرف بھی اس کا دعوتی اور تبلیغی رخ کردیا گیا تاکہ مرتبہ نزول بھی حاصل ہوجائے۔ پس حالت نزول میں بھی تمہارا نقطاع اللہ سے نہیں ہے کہ تم کو اسکا رنج ہو۔ اس عالم شہور میں رسول اللہ ﷺ کا دو مرتبہ شرح صدر ہوا۔ ایک بار تو بچپن میں ہوا تھا جیسا کہ حضرت انس کی روایت سے مسلم نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ‘ اچانک جبرئیل آگئے اور آپ ﷺ کو پکڑ کر زمین پر گرا کر سینہ چیر کر دل نکالا اور دل کے اندر سے خون کا لوتھڑا نکال ڈالا اور کہا : دل کے اندر یہ شیطان کا حصہ تھا ‘ جس کو میں نے نکال ڈالا۔ پھر ایک طشت میں زمزم کے پانی سے دل کو دھویا اور دل کو جوڑ کر دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا اور سینہ جوڑ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی ماں یعنی انّا (دودھ پلانے والی) کے پاس پہنچے اور کہا محمد ﷺ کو قتل کردیا گیا ‘ لوگ لینے کو گئے تو آتے ہوئے مل گئے۔ مگر آپ ﷺ کا رنگ اترا ہوا تھا۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ سینۂ مبارک پر میں (کھال کو جوڑ کر) سینے کا نشان دیکھتا تھا۔ دوسری بار شق صدر ‘ شب معراج میں ہوا جیسا کہ صحیحین میں حضرت انس ؓ نے حضرت ابوذر ؓ کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کا واقعہ ذکر کیا۔ اس تذکرہ میں یہ بات بھی تھی کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جبرئیل ( علیہ السلام) نے نازل ہو کر میرا سینہ چاک کیا ‘ پھر زمزم کے پانی سے اس کو دھویا ‘ پھر حکمت و ایمان سے بھرا ہوا سونے کا طشت لا کر میرے سینے میں الٹ دیا۔ پھر سینہ کو بند کردیا۔ صحیحین میں حضرت انس کی روایت بحوالہ حضرت مالک بن صعصعہ آئی ہے کہ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ سے بیان کیا کہ جبرئیل نے اس کے اور اس کے درمیان یعنی ہنسلی کے گڑھے سے (پیٹ کے) بالوں تک (سینہ) چاک کیا ‘ پھر دل کو باہر نکالا ‘ پھر ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لا کر دل کو دھویا ‘ پھر اس کو (ایمان سے) بھر دیا ‘ پھر دوبارہ دل کو (اس کی جگہ) رکھ دیا۔ ایک اور روایت میں آیا ہے ‘ پھر پیٹ کو زمزم کے پانی سے دھویا پھر اس (دل) کو ایمان و حکمت سے بھر دیا۔ (الحدیث) میں کہتا ہوں جس لوتھڑے کو رسول اللہ ﷺ کے دل سے نکال دیا گیا تھا ‘ وہ عنصری اور نفسانی اور قلبی رذائل تھے جو نفس کو امارہ بالسوء ہونے اور اعضاء جسم کو گناہوں پر ابھارتے ہیں۔
Ayah 94:2

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا

ووضعنا عنک وزوک . اس کا عطف الم نشرح پر ہے کیونکہ (الم نشرح میں استفہام انکاری ہے اور انکار نفی کے لیے ثبوت لازم ہے اس لیے) الم نشرح کا معنی ہوگیا شرحنا لک صدرک وزرٌ کا اصلی لغوی معنی ہے ‘ پہاڑ۔ اللہ نے فرمایا : کلا لاوزر۔ یعنی کوئی پہاڑ نہ ہوگا کہ اس پر پناہ لی جاسکے۔ یہاں مجازی معنی مراد ہے یعنی بڑا بار۔ بار یا تو غم فرق اور تو ہم انقطاع کامل تھا جس نے غمگین بنا دیا تھا اور آپ کی قوت (صبر) توڑ دی تھی۔ پھر اللہ نے سورة الضحیٰ اور الم نشرح کو نازل فرما کر اس رنج و غم کو دور کردیا اور آپ ﷺ کے دل کو قرار اور طبیعت کو سکون حاصل ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ وہ فراق (وحی کی بندش) انقطاع کلی اور ناراضگی کی وجہ سے نہ تھا بلکہ حکمت اور منفعت کے زیر اثر تھا۔ پس ازالہ غم کو ہی اللہ نے اپنا انعام قرار دیا۔ یا بار سے مراد ہے شرعی احکام کا بار۔ دعوت حق ‘ تبلیغ احکام ‘ ادائے اوامر اور ممنوعات سے بازداشت کیونکہ تکالیف شرعیہ کی پابندی بڑی دشوار ہے۔ دیکھو آسمانوں ‘ زمینوں اور پہاڑوں نے اس بار کو اٹھانے پر رضامندی ظاہر نہ کی اور اس کو اٹھانے سے ڈر گئے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وانھا لکبیرۃ الاعلٰی الخاشعین۔ پس جب اللہ نے ایمان و عمل سے رسول اللہ ﷺ کا سینہ کھول دیا اور دل کے اندر جو شیطانی حصہ تھا اس کو دور کردیا اور نفسانی خبائث جو فطرت نفوس میں داخل ہیں ‘ دور کردیں تو شرعی تکالیف آپ کے لیے مرغوب ‘ محبوب اور فطری ہوگئیں۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ نے فرما دیا : میری آنکھ کی خنکی (یعنی دل کا سکھ اور راحت) نماز میں کردی گئی ہے۔ یہی مرتبہ جس کو اللہ نے ازالہ بار سے تعبیر فرمایا ہے۔ صو فیہ کے نزدیک ایمان حقیقی ہے اور صوفی جو کہتا ہے کہ صوفیہ سے تکالیف شرعیہ ساقط ہوجاتی ہیں ‘ اس قول کی مراد بھی یہی ہے (کہ تکالیف شرعیہ تکالیف نہیں رہتیں بلکہ مرغوب اور محبوب اور راحت آفریں ہوجاتی ہیں) یہ اونچا مرتبہ یعنی شرح صدر اور ازالہ بار کا درجہ رسول اللہ ﷺ کو ظاہری طور پر اور علی الاعلان حاصل ہوا تھا۔ مگر اولیاء امت کو آپ کے وسیلہ سے باطنی طور پر حاصل ہوجاتا ہے یعنی عالم مثال میں اس مرتبہ کا ظہور ہوتا ہے مگر یہ بات نفس اور نفسانیات کی مکمل فناء کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ نفس کی نام و نمود مٹ جانے کے بعد ہی صوفیہ کو شرح صدر اور ایمان حقیقی کی بشارت دی جاتی ہے۔ حضرت مجدد (رح) نے یہی فرمایا ہے اور دوسرے مشائخ کرام کے ملفوظات سے بھی ہم نے یہی استفادہ کیا ہے۔ عبداللہ بن یحییٰ اور ابو عبیدہ (رح) نے (تفسیر آیت کے متعلق) کہا ‘ ہم نے تم پر نبوت کا بار ہلکا کردیا اور فریضہ نبوت کی ادائیگی کو خفیف بنا دیا ‘ یہ مطلب بھی تفسیر دوئم کے مناسب ہے۔ بعض لوگوں نے کہا : آیت کی مراد یہ ہے کہ دور جاہلیت میں جو لغزشیں تم سے ہوگئی تھیں ‘ ہم نے ان کو ساقط کردیا (یعنی معاف کردیا) مگر یہ مطلب غلط ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی شان صدور لغزش سے بلندو برتر تھی۔ بعض علماء نے کہا : وزر سے مراد یہ ہے کہ فاضل کو کیا جائے اور افضل کو ترک کردیا جائے۔ یہ محض تکلف ہے۔
Ayah 94:3

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

الذی انقض ظھرک . یعنی جس بار نے تمہاری پشت کو بھاری اور کمزور کردیا تھا ‘ ہم نے اس کو دور کردیا۔ جس طرح زیادہ بھاری بوجھ لادنے سے پالان شتر سے چرچراہٹ کی آواز پیدا ہوتی ہے ‘ جس کو نقیض کہا جاتا ہے ‘ اسی طرح زیادہ بار پڑنے سے جو تمہاری پشت سے آواز پیدا ہوگئی تھی ‘ اس کو ہم نے دور کردیا۔ یہ جملہ وِزْرَ کی صفت ہے۔ اگر وزر سے مراد غم فراق ہو تو مطلب کی وضاحت کے لیے کسی تکلف کی ضرورت نہیں کیونکہ غم فراق نے حضور ﷺ کی کمر کو کمزور کر ہی دیا تھا۔ اور اگر وزر سے احکام شرعیہ کی مشقت مراد ہو تو یہ معنی ہوگا کہ اگر تمہارا شرح صدر نہ کرتے اور بار ہلکا نہ کردیتے ‘ تو تکلیفی احکام کی مشقت تمہاری پشت کو کمزور بنا دیتی اور واجب الادا حقوق کو تم ادا نہ کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : اگر اللہ (کا فضل) نہ ہوتا تو ہم راہ راست نہ پاتے ‘ نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے۔ چونکہ تکالیف شرعیہ کی مشقت دنیا میں ہی پشت شکنی کی موجب اور ادائے فرض سے مانع ہے ‘ اس لیے انقض بصیغۂ ماضی فرمایا اور رسول اللہ ﷺ معصوم تھے ‘ مگر گناہ صرف آخرت میں قوت برداشت توڑ دینے والے ہوں گے اس لیے آخرت کے لحاظ سے مستقبل کا صیغہ ذکر کرنا مناسب ہے۔
Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور تمہارا ذکر بلند کیا

ورفعنا لک ذکرک . بخاری نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل سے آیت : ورفعنا لک ذکرک کے معنی پو چھے۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : اللہ فرماتا ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں اس آیت اور حدیث کا تقاضا ہے کہ ملاء اعلیٰ (آسمانی ملائکہ) جب اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اسی کے ساتھ محمد ﷺ کا بھی ذکر کرتے ہیں اور یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا نام ساق عرش پر لکھا ہوا تھا۔ سورة البروج میں ہم لکھ چکے ہیں کہ بغوی نے اپنی اسناد سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ لوح محفوظ کے و سط میں لکھا ہوا ہے : لا الٰہ الاّ اللہ وحدہ دینہ الاسلام و محمد عبدہٗ و رسولہٗ ۔ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اسلام اس کا دین ہے اور محمد ﷺ اسکے بندے اور رسول ہیں۔ (الحدیث) عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت میں ذکر سے مراد اذان ‘ اقامت ‘ تشہد اور خطبۂ منبر (میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر) ہے ‘ اگر کوئی شخص اللہ کی عبادت اور تصدیق کرے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی (رسالت کی) شہادت نہ دے تو اس کے لیے بالکل بےسود ہے ‘ وہ کافر ہی رہے گا۔ حضرت حسان بن ثابت ؓ کے شعر ہیں۔ ترجمہ : اللہ نے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی ﷺ کا نام ملادیا ہے۔ جبکہ پانچوں وقت مؤذن اذان میں اشہد کہتا ہے اور انکی عزت افزائی کیلئے اپنے ہی نام سے انکا نام نکالا ہے۔ پس مالک عرش تو محمود ہے اور وہ محمد ﷺ ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ رفعت ذکر نبی ﷺ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے لیے اللہ نے (ازل میں) تمام انبیاء ( علیہ السلام) سے میثاق لیا تھا اور آپ ﷺ پر ایمان لانے کو لازم کیا تھا اور آپ ﷺ کی فضیلت کا اقرار کرایا تھا۔
Ayah 94:5

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

ہاں ہاں مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے

فان مع العسر یسرا . یعنی جس دشواری میں آپ ہیں ‘ اسکے ساتھ بڑی سہولت بھی ہے۔ یسرًا میں تنوین یسر کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے۔ یہ جملہ گویا کلام محذوف کی علت ہے۔ گویا اصل کلام یوں تھا کہ آپ ﷺ پر جو دشواری پڑی ہے اس سے آپ ﷺ رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ عسر کے ساتھ یسر بھی آئے گا۔ بعض لوگوں نے دوسری آیت میں یسرًا کی تنوین کو وعدہ کی تاکید اور امید کی تعظیم کے لیے قرار دیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ از سر نو وعدہ ہے (وعدۂ سابقہ کی تاکید نہیں ہے) مطلب یہ ہے کہ عسر کے ساتھ ایک دوسرا یسر بھی آئے گا۔ عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں اور حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں مرسل حدیث نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم کو بشارت ہو۔ یُسر تمہارے لیے آپہنچا۔ ایک دشواری دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہ آسکے گی۔ اس حدیث کو ابن مردویہ نے بھی ضعیف سند کے ساتھ حضرت جابر کی روایت سے نقل کیا ہے۔ امام مالک (رح) نے موطا میں اور حاکم نے (مستدرک میں) اس حدیث کی شاہد ایک اور حدیث نقل کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : اگر عسر کسی سوراخ کے اندر بھی ہوگی تو یسر اس کی تلاش میں سوراخ کے اندر بھی جا گھسے گی۔ ایک عسر دو یسر پر کبھی غالب نہیں ہوگی۔ علماء لغت عربی کا قول ہے کہ اگر کسی لفظ کو بصورت معرفہ دوبارہ ذکر کیا جائے تو وہ بعینہٖ اوّل لفظ ہی ہوتا ہے (یعنی دوسرے لفظ سے مراد پہلے لفظ کے معنی کی تاکید ہوتی ہے) خواہ پہلا لفظ معرفہ ہو یا نکرہ کیونکہ اصل لغت میں الف لام عہدی ہی ہوتا ہے (جنسی اور استغراقی اور ذہنی ثانوی حیثیت رکھتے ہیں) اور اگر پہلے کلمہ کو بصورت نکرہ دوبارہ ذکر کیا جائے تو دوسرا پہلے سے غیر ہوتا ہے۔ (یعنی دو سرے لفظ سے اوّل لفظ کے معنی کی تاکید نہیں ہوتی بلکہ کوئی جدید معنی مراد ہوتا ہے) خواہ اوّل لفظإ معرفہ ہو یا نکرہ ہو کیونکہ کلام کو تکرار اور تاکید پر محمول کرنے سے نئے معنی مراد لینا اولیٰ ہے۔ تنقیح الاصول میں آیا ہے کہ اگر ہزار روپیہ (اپنے ذمہ ہونے) کا کسی نے اقرار کیا اور دو مرتبہ اقرار کیا مگر مندرجۂ دستاویز کی قید لگا دی ‘ تو صرف ایک ہزار روپیہ اس کے ذمہ ثابت ہوں گے اور اگر بلا قید لگائے دوسری مرتبہ اقرار کیا تو دو ہزار واجب ہوجائیں گے۔ یہ امام اعظم (رح) کا مسلک ہے۔ مگر مجلس اگر ایک ہی ہو (تو قید لگانے یا نہ لگانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ بہرحال ایک ہی ہزار کا اقرار مانا جائیگا) ۔ میں کہتا ہوں دوسرے اقرار کو اوّل اقرار کی تاکید اس وقت کہا جائے گا کہ اس کا قرینہ موجود ہو (ورنہ اصل کلام میں استیناف ہی ہے ‘ جتنی مرتبہ اقرار کرے گا ‘ ہر مرتبہ کا کلام مستقل اقرار مانا جائے گا) ۔ ایک شبہ مذکورۂ بالا ضابطہ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ : ان مع الفارس سیفا ان مع الفارس سیفًا میں دونوں جگہ الفارس ایک ہی سوار اور دونوں جگہ سیف سے الگ الگ دو تلواریں مراد نہیں ہوتیں (بلکہ دوسرا کلام پہلے کلام کی تاکید ہوتا ہے) ۔ ازالہ ہم کہتے ہیں کہ اگر تاکید کا قرینہ موجود ہو تو دونوں لفظوں سے مراد ایک ہی معنی ہوتا ہے (اور قرینہ نہ ہو تو تاکید نہیں استیناف ہوتا ہے) اور پیش کردہ مثال میں قرینہ (اتحاد مجلس ‘ سیاق ! عبارت وغیرہ) موجود ہے (اس لیے دونوں جگہ ایک ہی معنی مراد ہے) لیکن آیت میں (لغت کے اعتبار سے) دونوں تاویلیں درست ہیں (تاکید بھی اور استیناف بھی) مگر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ؓ نے جو تفسیر فرمائی ‘ اس نے صحیح تاویل کی تعیین کردی (اس لیے العسر سے مراد وہی عسر اوّل ہے اور یسر اً سے مراد دوسرا یسر ہے) ۔ بغوی نے ایک اور تشریح کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت میں ایک عسر کے ساتھ دو یسر کا مراد ہونا اس وجہ سے نہیں کہ نکرہ بصورت نکرہ مکرر آیا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق گزشتہ کلام سے ہے۔ گزشتہ کلام میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی تھی اور خصوصیت کے ساتھ دنیا میں یسر اور غنا عطا کرنے کا وعدہ فرمایا تھا۔ چناچہ اس وعدہ کو اللہ نے پورا بھی کیا۔ رسول اللہ ﷺ کو فراخ دست بنا دیا۔ مختلف بستیاں آپ ﷺ کے زیر اقتدار کردیں ‘ یہاں تک کہ (بعض حالات میں) آپ ﷺ نے دو ‘ دو سو اونٹ ایک ایک شخص کو عطا کیے اور بیش قیمت چیزیں عنایت فرمائیں۔
Ayah 94:6

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

(اور) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

ان مع العسر یسرا . قرینہ دلالت کر رہا ہے کہ یہ استینافی کلام ہے (سابق کی تاکید محض نہیں) کیونکہ یہاں نہ فاء عاطفہ ہے نہ واؤ۔ اس میں تمام مؤمنوں سے وعدۂ جزا ہے اور رسول اللہ ﷺ سے بھی وعدہ ہے۔ مگر مؤمنوں سے وعدہ ہے کہ عسر دنیوی کے بعد یسر اخروی ملے گا اور رسول اللہ ﷺ سے وعدہ ہے کہ ایک عسر کا ایک یسر دنیا میں اور ایک یسر آخرت میں حاصل ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا تھا کہ ایک عسر دو یسر پر ہرگز غالب نہ ہوگا ‘ اسکا مطلب یہ ہے کہ دنیوی عسر اگر ایک یسر یعنی دنیوی یسر پر غالب آ بھی جائے (اور مؤمن دنیا کے اندر مدۃ العمر تنگی میں رہے) تو آجائے مگر آخرت کے یسر پر غالب نہیں آسکتا اور آخرت کا یسر ہی عظیم الشان اور لازوال ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ العسر میں الف لام عہدی ہے اور دوسرے العسر میں جنسی ‘ واللہ اعلم۔ بعض اہل تفسیر نے اسکی تشریح میں کہا ہے کہ العسر سے مراد وہ ناداری اور شدت و مصیبت ہے جو مشرکوں کے ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تھی اور آپ ﷺ نے اس کا شکوہ اللہ سے کیا تھا اور پہلے یسر سے مراد ہے اس حالت کا زوال اور فقر کی بجائے غنا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ العسر سے مراد ہے سینہ کی تنگی ‘ پشت شکن بار ‘ قوم کی گمراہی اور ان کی طرف سے اذیت یابی اور پہلے یسر سے مراد ہے شرح صدر ‘ بوجھ دور کردینا ‘ قوم کا ہدایت کی توفیق پانا اور اطاعت کرنا اور دوسرے یسر سے سب کے نزدیک ثواب آخرت مراد ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ : ان مع العسر یسرًاکا معنی ہے ان بعد العسر یسرًا . بعد کی جگہ مع کا استعمال یہ بتانے کے لیے ہے کہ عسر کے بعد یسر کا حصول اتنا متصل ہے کہ گویا دونوں ساتھ ہی ساتھ ہیں۔ میرے نزدیک العسر سے مراد ہے مقام نزول میں مخلوق کی طرف توجہ کرنا (اور قلب کا مکمل ہر وقت رخ خالق کی طرف ہونا) جس کا رسول اللہ ﷺ کو ملال اور دکھ تھا اور یسر اوّل سے مراد ہے اسی مقام نزول میں خالق کی طرف رخ ہونا ‘ کیونکہ نزولی حالت میں بظاہر صوفی کا رخ خدا کی طرف نہیں ہوتا ‘ مخلوق کی طرف ہوتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ خدا کی طرف سے رخ گرداں نہیں ہوتا بلکہ اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور دو نوں رخوں کی وجہ سے اس کو شرح صدر حاصل ہوتا ہے بلکہ مخلوق کی طرف توجہ چونکہ اللہ کے حکم سے اور اس کی مرضی کے موافق ہوتی ہے اس لیے وہ بھی اللہ ہی کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی اس یسر کو سیر من اللہ باللہ کہتا ہے (یعنی اللہ کی طرف سے رخ کو موڑ کر مخلوق کی طرف کرنا۔ مگر اللہ کے حکم سے اور اس کی رضا کے موافق) اس صورت میں لفظ مَعَ اپنے حقیقی معنی پر ہے یعنی پہلے جملہ میں مَعَ مقارنت کے لیے ہی ہے لیکن دوسرے جملہ میں بیشک مَعَ کا استعمال مجازی ہے (اور مَعَ بجائے بَعْدَ کے لایا گیا ہے) ۔ اس توجیہ پر مطلب یہ ہوگا کہ تم رنجیدہ نہ ہو۔ یہ عسر اور مخلوق کی طرف توجہ جو تمہارے لیے موجب حزن ہے اسی کے ساتھ یسر اور خالق کی طرف توجہ بھی ہے ‘ آخرت میں تمہاے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہ رہے گا اور خلوص توجہ سے کوئی مانع نہ ہوگا۔
Ayah 94:7

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو

فاذا فرغت فانصب . اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ نصب کا معنی ہے تھکان۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم دعوت خلق سے فارغ ہو تو عبادت کی محنت کرو تاکہ مذکورۂ سابق نعمتیں جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں اور آئندہ جن نعمتوں کا وعدہ کیا ہے ‘ ان سب کا شکر ادا ہو یا یہ مطلب ہے کہ جب ایک عبادت سے فارغ ہو تو دوسری عبادت کی محنت کرو ‘ کوئی وقت عبادت سے خالی نہ چھوڑو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت کو بس اس وقت کا افسوس ہوگا جو یاد خدا کے بغیر (دنیا میں) ان کا گزرا ہوگا۔ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ ‘ ضحاک ‘ مقاتل اور کلبی نے یہ معنی بیان کیے کہ جب فرض نماز یا مطلق نماز سے فارغ ہو تو دعا کرنے کے لیے محنت کرو اور رب سے مانگنے کی طرف راغب ہو ‘ یعنی تشہد کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے یا سلام کے بعد۔ شعبی نے کہا : جب تشہد سے فارغ ہو تو اپنی دنیا اور آخرت کے لیے دعا کرو۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : جب فرائض کی ادائیگی سے فارغ ہو تو نماز شب میں محنت کرو۔ حسن اور زید بن اسلم نے کہا : جب دشمن سے جہاد کرنے سے فارغ ہو تو عبادت کے لیے محنت کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : ہم جہاد اصغر سے لوٹ آئے اور جہاد اکبر کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے۔ منصور کی روایت سے مجاہد کا قول آیا ہے کہ جب امور دنیا سے فارغ ہو تو عبادتِ رب میں محنت کرو۔ ابن حبان کی روایت سے کلبی کا قول آیا ہے ‘ جب تبلیغ رسالت سے فارغ ہو تو اپنے لیے اور اہل ایمان کے لیے استغفار کرو ‘ ان صورتوں میں گزشتہ آیت سے اس آیت کا ربط اس طرح ہوگا کہ (گزشتہ آیات میں عطاء نعمت کا اظہار تھا اور) نعمت موجب شکر ہے (لہٰذا نعمت کے شکریہ میں عبادت کرو) ہماری تفسیر کے مطابق اس آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ جب دعوت خلق سے فارغ ہو اور مرتبۂ نزول کامل کا یہی مقصد ہے تو مراتب عروج و مقام شہود کی طرف اٹھو۔ اس وقت انصب کا معنی ہوگا : انتَصِب اور انتصب کا معنی ہے ارتفع۔ صحاح میں ہے کہ نصب الشئی کا معنی ہے کسی چیز کو رکھنا جیسے غلّہ یا مکان یا پتھر کو (ایک خاص وضع پر) رکھنا۔ قاموس میں ہے کہ نصب اضداد میں سے ہے۔ نصب الشئی کسی چیز کو نیچے رکھا یا اوپر اٹھایا۔ نصب (متعدی) سے انتصب (لازم) اور تنصَّب آتا ہے۔ ناقۃٌ نصباء اٹھے ہوء سینے والی اونٹنی۔ تنصب العذابُ ۔ کوّ ا اٹھا۔ اس تفسیر کے بموجب رسول اللہ ﷺ کو ویسا ہی پیام تسلی ہوگا جیسے آیت : ان مع العسر یسرًا میں ہے۔
Ayah 94:8

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جایا کرو

والی ربک فارغب . یہ فانصَب پر عطف تفسیری ہے۔ یعنی اللہ سے مانگنے کی رغبت کرو ‘ دوسرے سے مت مانگو عطاء نے (اس جملہ کی تفسیر میں) کہا : دوزخ کے خوف اور جنت کی رغبت رکھتے ہوئے اللہ کے سامنے زاری کرو۔ بعض نے اس طرح معنی کیا کہ اپنے تمام احوال میں اللہ ہی کی طرف راغب ہو۔ صاحب مواج نے کہا : اپنے میلان طبع کو خدائے واحد کی طرف کرلو۔ اِلٰی ربّک فعل محذوف سے متعلق ہے یعنی فارغب الی ربک فارغب۔ میں کہتا ہوں کہ دو مرتبہ راغب ہونے کا حکم اسلئے دیا کہ پہلی رغبت تو اللہ کے انعامات اور صفات کی جانب ہونی چاہیے اور دوسری رغبت اللہ کی ذات مجرد کی طرف جو تمام کیفیات اور اعتبارات سے منزّہ ہے۔ نوٹ مقام نزول میں الم نشرح لک صدرک کی قراءت اور مقام عروج میں سبح اسم ربک الاعلٰی کی قراءت (حصول مرتبہ کے لیے) مؤید ہے۔ اس کا بیان ہم سور ۃ الاعلیٰ میں کرچکے ہیں۔