Ayah 94:1کیا ہم نے آپ ﷺ کے سینہ کو ہدایت کے لیے کشادہ نہیں کیا ؟
1 ؎ گزشتہ سورت کی آیت 4 میں یہ پیش گوئی بیان کی تھی کہ آپ ﷺ کی زندگی میں اب ہر آنے والی گھڑی گزرنے والی گھڑی سے بہتر ثابت ہوگی اور پھر آیت 8 میں ارشاد فرمایا تھا کہ ہم نے آپ ﷺ کو متلاشی پایا تو منزل مقصود تک پہنچا دیا ۔ اب زیر نظر سورت کی اس پہلی آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اصل بندش اور گھٹن جو فطری طور پر آپ ﷺ کے اندر ہی اندربند رہ کر زور لگا رہی تھی اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ یہ کہ ہم نے آپ ﷺ کے سینہ کو کشادہ کردیا۔ ( نشرح) جمع متکلم مضارع منفی مجزوم شرح مصدر ( فتح) کیا ہم نے نہیں کھول دیا ۔ شرح کا اصل معنی ہے گوشت کو پھیلا دینا ( تشریح) کا بھی اصل معنی یہی ہے شرحت اللحم اور شرحت دونوں ہم معنی ہیں ۔ توسیع استعمال کے بعد شرح الصدر کا معنی ہوگیا سینہ کو کشادہ کردینا ۔ اللہ کی طرف سے دل میں ایک خاص نور پیدا کردینا جس سے سکون و اطمینان پیدا ہوجائے ۔ شرح الکلام کسی کلام کے پوشیدہ معانی کا اظہار ، مبہم کی توضیح اور مجمل کی تفصیل ۔ اس جگہ آپ ﷺ کی شرح صدر پر جو کچھ لکھا گیا ہے ہمارے علم میں ہے لیکن کسی بات میں بھی جس طرح تفریط سے کام بگڑتا ہے بالکل اسی طرح افراد سے بھی کام بگڑتا ہے اور اسی افراط وتفریط نے یہود و نصاریٰ کو مبغوض اور ضالین بنایا ہے پھر جو چیز نقصان دہ ہو بلکہ دین کو ہلاک کر کے رکھ دینے والی ہو اس کو اختیار کر کے انسان ہلاک ہی ہوگا اس کے لیے بہتری کب ہو سکتی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح آپ ﷺ کی شرح صدر کا بیان کیا گیا ہے بالکل اسی طرح دوسرے ایمان والوں کے لیے بھی بیان کیا گیا ہے جیسا کہ اس کی وضاحت عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم سورة الانعام کی آیت 125 میں گزر چکی ہے اور پھر یہ بھی کہ جس طرح اہل ایما کا شرح صدر ایمان پر کیا گیا ہے اسی طرح کفار کے لیے شرح صدر کفر پر بھی کیا گیا ہے جس کی وضاحت عروۃ الوثقیٰ ، جلد پنجم سورة النحل کی آیت 106 میں کردی ہے اور وہ بھی قرآن کریم ہی ہے اور اس کا بیان بھی اسی طرح ہوا جیسا کہ آپ ﷺ کے شرح صدر کا اور پھر شرح صدر کے مقابلہ میں کفار کا قاسیۃ قلوب ہونے کا بیان کر کے اس مضمون کی مزید وضاحت فرما دی ہے جس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہفتم میں سورة الزمر کی آیت 22 میں کردی ہے ۔ ان محولہ سورتوں کے حوالوں کو جب آپ دیکھیں گے تو اس کی وضاحت خود بخود ہوجائے گی اس شرح صدر کا مفہوم و مطلب کیا ہے ؟ جب قرآن کریم ایک وضاحت خود پیش کر رہا ہے تو اس کی وضاحت کو چھوڑ کر کسی علاقہ ، فہامہ ، حضرت العلام اور مفتی و مولوی کی وضاحت کی کیا ضرورت ہے کہ ہم اس کو اختیار کریں ۔ بس یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس طرح اس کی تفسیر بیان نہیں کی جس طرح ہمارے اکثر مفسرین نے کی ہے بلکہ ہم نے وہ طریقہ اختیار کیا ہے جس کی وضاحت خود قرآن کریم نے کی ہے اور نہ ہم اس تفسیر سے نا بلد اور ناواقف ہیں جو مفسرین نے اس جگہ اختیار کی ہے اور آپ دیکھیں گے کہ زیر نظر آیت کی وضاحت اس جگہ آنے والی آیت کس طرح کر رہی ہے۔
Ayah 94:2اور آپ ﷺ کے اس بوجھ کو آپ ﷺ سے اتار کر پھینک نہیں دیا ؟
2 ؎ ( وزرک) اسم مفرد منصوب مضاف ک ضمیر مضاف الیہ تیرا بوجھ ۔ وزر سے مراد اس جگہ قوم کی رسومات اور قوم کے رہنے سہنے کے طریقے اور معاشرت ہے جس طرح مکہ کے لوگ زندگی گزار رہے تھے اور آپ ﷺ اس کو دیکھ کر اندر ہی اندر اس بوجھ کے نیچے دبے جا رہے تھے اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وحی کی نعمت سے نوازا اور معاشرت انسانی کا صحیح طریقہ بتا دیا جس میں توحید الٰہی کا درس تھا اور ان رسومات کی تردید تھی جن رسومات کو مکہ کے لوگ لازم و ضروری سمجھتے تھے اس کی وضاحت اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے کردی تو یہی آپ کے سینہ اقدس کو کھولنا ہے اور یہی آپ ﷺ کے بوجھ کو اتار پھینکنا ہے اور اس کی یہی وضاحت درست ہے اور تقریباً یہی وضاحت مفسرین نے اس جگہ کی ہے اس کو دو طرح سے ہم بیان کرسکتے ہیں کیونکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے جو مفید مطلب ہے۔
ا۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو اپنی قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی تھی ۔ آپ ﷺ کی قوم کا مخلوق کو پوجنا اور خالق کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا ۔ فسق و فجور میں غرق رہنا ۔ قماربازی ، شراب نوشی میں اپنی صحبت اور دولت کو برباد کرنا ، غریبوں پر ظلم ڈھانا ، ان کے حقوق غضب کرنا ، باہمی جنگ وجدال اور قتل و غارت ، ان کی اخلاقی پستی ، ان کی معاشی بد حالی اور ان کی سیاسی ابتری ان تمام چیزوں کو دیکھ کر آپ ﷺ کو دکھ ہوتا تھا اور اس صورتحال کو یکسربدل ڈالنے کے لیے دل ہر وقت مضطرب رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو منصب نبوت و رسالت پر فائز کیا اور قرآن کریم جیسا صحیفہ ٔ رشد و ہدایت عطا فرمایا ۔ دین اسلام جیسا جامع اور مکمل نظام حیات مرحمت فرمایا جس سے بوجھ اتر گیا ۔ منزل کا یقین بھی ہوگیا اور اس منزل کی طرف لے جانے والا راستہ بھی نور نبوت سے روشن ہوگیا ۔ اس کے بعد کبھی آپ ﷺ کے دل پر باز نہ گزرا ۔
ب۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس بوجھ سے بارنبوت و رسالت مراد ہو کیونکہ ایسے لوگ جو صد ہا سال سے معبود ان باطل کی پاجا پاٹ میں مشغول تھے جن کی کئی پشتیں اخلاقی آوارگی کی نذر ہوچکی تھیں ، ظلم و ستم ، لوٹ مار جن کے نزدیک فخر و مباہات کا باعث تھی ان کو ان پستیوں سے نکال کر توحید ، اخلاق حسنہ ، نظم و ضبط کی بلندیوں پر لے جانا جان جو کھوں کا کام تھا اس راستہ میں مشکلات کے فلک بوس پہاڑ سینہ تان کر کھڑے تھے اور ناکامیوں کی عمیق غاریں منہ کھولے ہوئے نگل جانے کے لیے بےتاب تھیں اس غرض کی ادائیگی کا احساس دل کو ہر وقت بےچنص رکھتا تھا۔ ان کے تعصب وعناد باطل سے چمٹے رہنے پر ان کا احمقانہ اصرار اس بےچینی میں مزید اضافہ کردیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے شرح صدر کی دولت سے آپ ﷺ کو مالا مال فرما دیا جس سے آپ ﷺ کا بوجھ بہت ہلکا ہوگیا طبیعت میں قلق و اضطراب کی جگہ صبر و عزیمت نے لے لی ۔ اپنی قوم کی بےاعتنائی اور دلآوایزیوں پر دل گرفتہ ہونے کی بجائے ہمت و حوصلہ پیدا ہوگیا ۔
ولی الٰہی خاندان کے چشم و چراغ شاہ عبد العزیز (رح) نے زیر نظر آیت کی وضاحت میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” آپ ﷺ کی ہمت مال اور پیدائش استعداد جن کمالات و مقامات پر پہنچنے کا تقاضا کرتی تھی قلب مبارک کو جسمانی ترکیب یا جسمانی تشویشات کی وجہ سے ان پر قائم ہونا دشوار معلوم ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جب سینہ اقدس کو کھول دیا اور حوصلہ کشادہ کردیا وہ دشواریاں جاتی رہیں اور سب بوجھ ہلکا ہوگیا “ اور یہی بات ہم نے اوپر عرض کی ہے۔
Ayah 94:3ایسا بوجھ جو آپ ﷺ کی پیٹھ توڑ رہا تھا
3 ؎ گزشتہ آیت میں جس چیز کو ( وزرک) سے تعبیر کیا گیا ہے زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت کردی ہے کہ وہ بوجھ ایسا بوجھ تھا جو آپ ﷺ کی کمر کو دوہرے کیے ہوئے تھا یا آپ ﷺ کی پشت کو جھکا رہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ نہایت زبردست اور شدید بوجھ تھا کوئی معمولی قسم کا بوجھ نہیں تھا۔ اس کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے کہ آپ ﷺ نے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ ﷺ حقیقت کی تلاش میں تھے اور جوں جوں وقت گزرتا گیا آپ ﷺ کی سرگردانی اور حیرانی بڑھتی ہی گئی لیکن حقیقت کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا آخر وہ وقت بھی آیا کہ آپ ﷺ کا اضطراب اس حد تک بڑھ گیا کہ قدرت ِ الٰہی یکبارگی جنبش میں آئی اور اس نے تمام پردے چاک کردیئے اور آپ ﷺ کے لیے راہ ہدایت کھول دی اور اس طرح کھولی کہ ایک دنیا حیران و گرداں ہو کر رہ گئی کہ آپ ﷺ ایک ناخواندہ انسان خواندہ ہی نہ بن گئے بلکہ جہانوں کے معلم بنا دیئے گئے اور جہاں آپ ﷺ کو حروف شناسی بھی نہیں آتی تھی وہاں آپ ﷺ نے فر فر پڑھنا شروع کردیا اور لکھنے سے آپ ﷺ شناساہی نہ تھے لیکن یکا یک آپ ﷺ کو لکھنا بھی آگیا اور جہاں آپ ﷺ کا دل تنگ پڑتا تھا اس میں ایسا انشراح پیدا ہوا کہ اس کے بعد اگر کوئی گھٹن محسوس ہوتی تو وہ وحی الٰہی کے ذوق و شوق میں تھی ، مخالفین و معاندین کی طرف سے آپ ﷺ نے کبھی گھٹن محسوس نہ کی بلکہ جوں جوں حالات میں سختیاں اور تکلیفیں بڑھتی گئیں ویسے ویسے آپ ﷺ کی وہ وسعت بھی مزید بڑھتی چلی گئی اور اس طرح کی تنگی کا اس کے بعد کبھی شائبہ تک پیدا نہ ہوا۔ اس بات کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے کہ نہ یہ کہ آپ ﷺ کا بوجھ صرف ہلکا کردیا بلکہ وہ بوجھ اتار کر پھینک دیا جو آپ ﷺ کی کمر کو دوہرے کیے جا رہا تھا اس کے بعد آپ ﷺ کو کبھی انقباض نہ ہوا بلکہ بسط میں روز افزوں کشادگی آتی تھی۔
Ayah 94:4اور آپ ﷺ کے ذکر کو بھی ہم نے بلند کر دیا
4 ؎ جس طرح پہلی آیت میں ( لک) کا اختصاص ہے اور اسی طرح اس آیت میں بھی ہے وہاں بھی اس کو تائید و نصرت کے اظہار کے لیے بیان کیا ہے اور یہاں بھی مراد اس کی تائید و نصرت کا اظہار ہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کی تقویت اور حوصلہ افزائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا ذکر دور دور تک پھیلادیا ہے یا پھیلا دینے کا وعدہ کیا ہے گویا آپ ﷺ کو باور کرایا جا رہا ہے کہ مکہ والوں کی مخالفت آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کیونکہ مکہ سے باہر دور دور تک آپ ﷺ کے نام کا چرچا ہو رہا ہے اور آپ ﷺ کے کام کی باتیں سنی اور سنائی جا رہی ہیں ۔ اگر مکہ کے لوگ آپ ﷺ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا اعلان ان کو ہضم نہیں ہو رہا ہے اور یہ لوگ غور و فکر نہیں کر رہے تو آپ ﷺ ان کی ان سرکشیوں کے باعث بد دل نہ ہوں اس طرح گویا آپ ﷺ کو یہ تسلی بھی دی گئی ہے اور یہ بات بھی سمجھائی گئی ہے کہ آپ ﷺ صرف ان سادات مکہ ہی کے لیے نبی و رسول نہیں بنائے گئے بلکہ سارے عالم انسانیت کے لیے نبی و رسول بنائے گئے ہیں اس لیے جس جگہ بھی آپ ﷺ کی بات چلے گی وہ رنگ لائے گی اگر دیئے کی پیٹھ پیچھے اندھیرا ندھیراہی دکھائی دیتا ہے تو کیا اس کی روشنی سے انکار کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں ! روشنی کا ایک اپنا مقام ہے اور اندھیرے کا ایک اپنا مقام ہے صرف اندھیرا دیکھ کر روشنی کا انکار کردینا صحیح نہیں ہے یہ مکہ والوں کو بھول لگی ہے اگر ان کو بھول لگی ہے کہ یہ دیئے کی پیٹھ ہی اندھیرے کو دیکھ رہے ہیں تو یہ لوگ اپنی سعادت و خوش نصیبی پر خود ٹانگ پھیر رہے ہیں ہم نے تو خاندانی طور پر ان ہی کی پذیرائی کا انتظام کیا ہے اگر وہ اس سے فائدہ حاصل نہیں کر رہے تو اس سے فائدہ حاصل کرنے والے بھی موجود ہیں ۔ اب آپ ﷺ کو سمجھ لینا چاہیے کہ آپ ﷺ کا نام دبنے والا نہیں ہے بلکہ بچہ بچہ کی زبان پر پڑھنے والا ہے۔ قریش مکہ اگر اس پر دھیان نہیں دے رہے تو مکہ کے اطراف و اکناف میں اشھد ان لا الا اللہ واشھد ان محمد ًاعبدہٗ ورسولہٗ پڑھا جا رہا ہے اور آپ ﷺ کے لیے یہ وہ سعادت ہے جس سعادت سے انکار کرنے والے بہرے ، اندھے اور گونگے ہو سکتے ہیں جو کچھ شعور سے کام لینے والے ہیں وہ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کا نام بھی بلند ہے اور کام بھی اور یہ بھی کہ آپ ﷺ کے نام کو بلند ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا اور نہ ہی کام کے بلند ہونے کو کوئی روک سکتا ہے۔ یہ وعدہ الٰہی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کا نام بلند ہوگا وہاں آپ ﷺ کا نام بھی بلند ہوگا کیونکہ اللہ کے نام کے مظہر آپ ﷺ ہیں جہاں اللہ اکبر کی صدا بلند ہوگی وہاں آپ ﷺ کی عبدیت اور رسالت کا اقرار بھی کیا جائے گا جہاں خالق کا ذکر آئے گا وہاں مخلوق کا ذکر کیوں نہیں ہوگا کیونکہ مخلوق کے نظریہ ہی نے خالق کے نام کو بلند کیا ہے اور اب دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں تو مخلوق کو مخلوق باور کرانے کے نام کو درمیان سے کیسے حذف کیا جاسکتا ہے ۔ اسلام کے کلمہ اول پر غور کرو کہ وہ صرف لا الہ الا اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے الٰہ ہونے پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کی تکمیل ہوتی ہے پھر آپ ﷺ کے نام کے بلند کرنے کا اور کیا سرٹیفکیٹ دیا جاسکتا ہے یا یوں کہو کہ اس سے زیادہ بڑی سند اور کیا ہو سکتی ہے ؟
ذرا غور کرو کہ کیا حکمت ہے ان الفاظ میں جو قرآن کریم میں نازل کیے گئے ؟ فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کا ذکر بلند کردیا یہ ” آپ کے لیے “ کے الفاظ کیوں بولے گئے ؟ محض اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کا محتاج نہیں تھا کہ آپ ﷺ کا ذکر بلند کرنے میں اس کی کوئی احتیاج تھی یہ محض آپ ﷺ کی خاطر ہے کہ آپ ﷺ کے اعداء اور دشمن اپنی عداوت اور دشمنی کے اندر گھل گھل کر مر جائیں اور جس کا نام لینے میں ان کو نفرت ہے ، جس کام سے ان کو نفرت ہے ان کی نفرت کے علی الرغم وہ نام اور وہ کام ان کے چو طرفہ بلند ہونا شروع ہوجائے اور ان کی دشمنی و عداوت آپ ﷺ کا نام بلند ہونے اور آپ ﷺ کا کام جاری ہونے میں باوجود مزاحمت کے مزاحم نہ ہو سکے تو یہ سو جو توں کا ایک جوتا ہے جو نبی اعظم وآخر ﷺ کے دشمنوں اور مخالفوں کے سر پر پڑا ہے اور یہی وہ خدا کی لاٹھی ہے جس سے آواز بھی پیدا نہیں ہوتی اور اس نے آپ ﷺ کی مخالفتوں کا بھی کام تمام کردیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذکر خیر کو بھی بلند کیا اور ایک وہ وقت تھا کہ آپ ﷺ کے نام کو کوئی جانتا ہی نہ تھا اور چار دانگ اس کا شہر بلند کرا دیا ۔ آپ ﷺ کے ابتدائی زمانہ کے حالات کو پڑھو اور آپ ﷺ کی تنہائی ، گمنامی ، بےکسی اور بےبسی پر غور کرو اور آپ ﷺ کی اس عظمت و شان پر نگاہ ڈالو جو اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے بعد آپ ﷺ کو عطا کی تو ساری بات خود بخود واضح ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم شامل حال ہو تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ دنیا کے شہنشاہ اس کے جوتوں کو اٹھانا اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم۔
Ayah 94:5پس بلا شبہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے
5 ؎ کیا زریں اصول ہے جو صرف دو الفاظ میں بند کردیا گیا ہے اور کتنی وسعت ہے جو اس کے اندر سمودی گئی ہے اگر انسان اس کو سمجھ جائے اور اس پر یقین رکھتا ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی یہ تو ایک انسان کا حال ہے اور اگر کوئی جماعت ایسی ہو جس کا اس پر پختہ یقین ہو اور اس کا ہر فرد اس بات پر ایمان رکھتا ہو تو اس کی ہمت کو بلند اور حوصلہ کو وسیع کردیتا ہے اور صبر اور استقامت اور جدوجہد کی روح اس کے اندر پیدا کردیتا ہے ۔ غور کرو کہ یہ وعدہ الٰیک کوئی معمولی چیز نہیں ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کوئی مشکل دنیا میں ایسی نہیں ہے جو آسان نہ کردی گئی ہو مطلب یہ ہے کہ کوئی مشکل ایسی نہیں ہے کہ جو کسی نہ کسی آسانی کا پیش خیمہ نہ ہو ۔ گویا ہر مشکل کے ساتھ آسانی لازم ہے اور یہ وہ بات ہے جو بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی انسان کا حوصلہ پست نہیں ہونے دیتی ؎
رنج خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں مجھ پر اتنی پڑیں کہ آساں ہو گئیں
پھر اس کی حکمت پر ذرا غور کرو کہ عسر پر الف لام لگا کر اسے تو خاص کردیا اور یسر کو نکرہ ہی رکھا گیا اور اس فقرہ کو دوہرا کر وعدہ اس طرح کیا گیا کہ ہر عسر کے ساتھ دوگنا یسر رکھا گیا ہے یعنی مشکل کے بعد جو آسانی آتی ہے وہ مشکل سے دو چند ہوتی ہے ۔ گویا جتنی مشکل بڑی اور پھر بڑی سے بھی بڑی اتنی ہی آسانی سے بڑی اور پھر بڑی سے بھی بڑی ۔ پھر اسی اصول پر رکھ کر آپ ﷺ کی کسی مشکل کو دیکھو تو ایمان تازہ ہوجائے گا کہ یہ بات کتنی بڑی حقیقت ہے پھر صرف آپ ﷺ ہی کی نہیں آپ اپنی کسی مشکل پر نظر دوڑائیں اور پھر مشکل کے بعد جو آسانی ملی اس پر نظر کریں کیونکہ یہ وعدہ الٰہی صرف نبی اعظم و آخر ﷺ سے خاص نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کے ساتھ ہے جو اس پر ایمان رکھتا ہو اور اس حقیقت کو ایک حقیقت سمجھتا ہو ۔ یہ دوسری بات ہے کہ جتنا پختہ ایمان نبی کریم ﷺ کا اس پر تھا اتنا پختہ ایمان کسی دوسرے کا نہ ہو تو ظاہر ہے کہ جو بات مشروط ہے وہ شرط کے ساتھ لازم ہے ایک شرط جتنی مضبوط ہوگی دوسری اتنی ہی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائے گی اور ایک شرط اگر فوت ہوجائے تو دوسری خود بخود فوت ہوجاتی ہے۔ اس طرح ایک شرط جتنی ڈھیلی ہوگی دوسری بھی اتنی ہی ڈھیلی ہوجائے گی کہ اصول اس میں یہ ہے کہ فات الشرط فات المشروط مختصر یہ کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہونے کے اصول نے انسان کو بہت کچھ دیا ہے اتنا کچھ کہ اگر اس کی وضاحت کی جائے تو جس طرح علوم ختم نہیں ہوں گے ان کی وضاحت بھی ختم نہیں ہوگی اور اگر صرف اور صرف یہ ایک اصول پیش نظر رہ جائے تو لاریب کوئی مشکل خواہ وہ کتنی بڑی ہی مشکل ہو مشکل نہیں رہتی اور پھر اس آیت کے دوہرانے میں جو تاکید نکلتی ہے وہ اس کے علاوہ ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
Ayah 94:6بلا شبہ ہر تنگی کے بعد فراخی لازم ہے
6 ؎ گزشتہ بات کی تائید و تاکید کے لیے دوبارہ دہرایا گیا ہے اور اس دور میں اس کو دہرایا گیا ہے جن حالات میں ساری دنیا مخالف ہے ۔ مکہ کے نامور سادات و سردار اور چند نفوس کے علاوہ سارے کے سارے عوام اللہ تعالیٰ کی اس روشنی کو بجھانے کے درپے ہیں ۔ جس گلی سے گزرتے ہیں وہاں کوڑے اور غلاظت کے ڈھیر لگائے جاتے ہیں ۔ کوئی پوچھے کہ اس گلی سے صرف اور صرف آپ ﷺ ہی کا گزر ہوتا ہے ؟ بلا شبہ نہیں لیکن آپ ﷺ کو دکھ دینے کے لیے خود بھی دکھ برداشت کر رہے ہیں لیکن عادت سے باز نہیں آتے ۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں جب کہ آپ ﷺ بیت اللہ کے اندر ہیں اور لوگ مرے ہوئے اونٹ کا بوجھ لا کر آپ ﷺ کی پیٹھ پر رکھ دیتے ہیں ۔ دشمنی تو آپ ﷺ کے ساتھ تھی لیکن نا پاک انہوں نے بیت اللہ کو بھی کردیا جس کی پاکیزگی اور طہارت کا ان کو بھی انکار نہیں ہے اور پھر اس اوجھ کو لا کر رکھنے کی صعوبت و تکلیف بھی کچھ کم نہ تھی لیکن انہوں نے اس کو بھی برداشت کیا ، کیوں ؟ محض آپ ﷺ کی دشمنی میں لیکن ان حالات کے پیش نظر آیت جو نازل ہو رہی ہے وہ تحدی اور چیلنج کے ساتھ نازل کی گئی ہے اس وقت کون اس کا تصور کرسکتا ہے کہ آپ ﷺ کا ذکر مبارک دنیا کے گوشہ گوشہ میں بلند ہوگا اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی روشنی سے مہذب دنیا کا بہت بڑا علاقہ منور ہوگا اور کروڑوں انسان آپ ﷺ کے نام پر جان دینے کو اپنے لیے باعث سعادت تصور کریں گے لیکن جو وعدہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اپنے بر گزیدہ بندے اور اپنے نبی و رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے کیا وہ حرف بہ حرف پورا ہو کر رہا اور قیامت تک آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا آفتاب کبھی نہیں ڈوبے گا ۔ وہ وقت تھا کہ کفار مسلمانوں کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ تم نادار اور مفلس ہو ، تم کمزور اور ناتواں ہو ، ہم تم کو پیس کر رکھ دیں گے ۔ ہم تمہارا نام و نشان تک مٹا دیں گے اور پھر وہ جو شخص اسلام کو قبول کرتا اس کو ہر قسم کے ظلم و ستم کا نشانہ بناتے اور جب وہ درد سے فریاد کرتا تو اس کی فریاد کو سن کر سب مل کر ایک خوب قہقہہ لگاتے اور اس کو تڑپتے دیکھ کر خوب پٹاخے دارتالیاں بجاتے اور خوشی کے نعرے بلند کرتے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے ذریعہ ان کی ڈھارس بندھا رہے ہیں کہ ان تکلفواں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہمارا یہ قانون ہے کہ ہر تکلیف کے بعد راحت ہوتی ہے ۔ یہ تکالیف جن سے مسلمان دو چار ہیں اور یہ عسرت اور تنگی جس کے باعث بیگانے زبان طعن دراز کیا کرتے ہیں یقینا ختم ہوجائے گی اور عزت و اقبال ، خوش حالی اور فارغ البالی کا ایک درخشاں دور شروع ہوگا اور بلا شبہ ہمارا قانون حرکت میں آئے گا اور نالائقوں کی نالائقیوں کو طشت ازبام کر دے گا اور یہ بھی کہ آپ ﷺ کی مشکلات آسانیوں میں بدلنا شروع ہوجائیں گی لیکن ابھی آپ ﷺ کے کرنے کے کام بہت ہیں اور ان کی طرف آپ ﷺ کی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔
Ayah 94:7پس جب بھی آپ ﷺ کو فراغت ملے تو مزید کوشش میں لگا جائو
7 ؎ یہ دنیائے دوں ایک ایسی جگہ ہے کہ اس میں کسی شخص کے لیے ہمیشگی نہیں ہے خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ اس لیے جو کام ہم نے آپ ﷺ کے ذمہ لگایا ہے اس کو دلجمعی سے کرتے رہو اور مخالفین کے پروپیگنڈے کا خیال نہ کرو کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں کرتے اس سلسلہ میں ہماری ہدایت پر کان لگائو اور ہماری بات کو خوب اچھی طرح سن لو کہ جب نبوت و رسالت کی تبلیغ سے تھک جائو اور ہار جائو تو آخرت کی تیاری میں لگ جائو ۔ اس سے فطرت انسانی کے کتنے باب کھل جاتے ہیں غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا ہم صرف اشارہ کرسکتے ہیں اور وہ کرتے آ رہے ہیں۔ اس میں فطرت انسانی کا جو مسئلہ بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ایک مضمون کا یا ایک کام کرنے کے بعد جب انسان تھک جائے اور آج کل کی زبان کے مطابق بور (Bore) ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ وہ دوسرا کام شروع کر دے ۔ گویا صرف مصروفیت میں مصروفیت کا پہلو بدلنے سے بھی بہت فرق پڑجاتا ہے اور ذہنی ریفرش منٹ (Mental Refreshemnt) اس سے بھی ہوجاتی ہے اور آدمی بیکار کھیل تماشے سے بھی بچ جاتا ہے۔ زندگی کی مسلسل جدوجہد بھی جاری رہتی ہے اور یہی اصول زیر نظر آیت نے بتایا ہے کہ بار نبوت و رسالت کی ادائیگی اگر تھکا دے تو خالصتا ً عبادت ِ خداوندی یعنی نماز اور تلاوت قرآن کریم سے دل کو اطمینان دلائو اس طرح اپنی جدوجہد کا ذرا پہلو بدل کر اپنی تھکاوٹ کو بھی دور کرلو اور تمہاری سعی و کوشش بھی مسلسل جاری رہے گی اور یہی وہ طریقہ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک پنتھ دو کاج۔ (فرغت) واحد مذکر حاضر معروف ۔ جب تم فارغ ہو جائو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچانے سے (فانصب) پس تو محنت کر نصب جس کے معنی جدوجہد کرنے کے ہیں ۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر یہاں عبارت میں جدوجہد کا ذکر ہے یعنی الگ تھلگ ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جائو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے آپ ﷺ کا دل مطمئن ہوگا اور لوگوں کی بےرخیوں کا سارا بوجھ آپ ﷺ کے ذہن سے ایک بار اٹھ جائے گا اور یہ حقیقت ہے کہ دل کے اطمینان پانے سے تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور ذہنی بوجھ بھی کافی حد تک ہلکا ہوجاتا ہے ۔ آج اپنی زندگی کی مصروفیات پر غور کرو اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کا تجزیہ بھی کر کے دیکھو کہ جو کچھ کر رہے ہو اس میں کتنا ہے جو محض اس دنیاوی زندگی کی رنگ رلیوں کے لیے ہے اور کتنا ہے جو آخرت کی فکر میں کیا گام ہے اور اس طرح یہ بھی اندازہ لگائو کہ دنیوی زندگی کے لیے جو محنت و مشقت کی ہے اس میں امانت ودیانت کا کتناحصہ ہے اور کتنا حصہ وہ ہے جس میں امانت و دیانت کا نام و نشان بھی نہیں پایا جاتا اس طرح یہ بھی کہ جس کو امانت و دیانت پر مبنی سمجھ رہے ہو اس میں مجبوری کتنی ہے اور آزادی کتنی ؟ اس پر غور کرنے کے بعد پھر غور کرو کہ جب آپ زندگی کی اس محنت و مشقت سے تھک گئے تو تم نے قریش (Fresh) ہونے کے لیے کیا کیا کھیل پسند کیے اور پھر اس کھیل سے کتنا اطمینان تم نے حاصل کیا اگر اس نہج پر تم نے غور کیا تو شاید تمہاری اصلاح کی کوئی صورت نکل آئے ورنہ اس وقت اس طرح کا خیال کرنا بھی بیوقوف کہلانا ہے کیونکہ آج کل کام ، کام اور کام کی بجائے کھیل ، کھیل اور کھیل کی اصطلاح چلتی ہے ۔ کام ، کام اور کام والی اصطلاح ہم نے کراچی کے ایک کونے میں مزار قائداعظم میں دفن کر کے اوپر پختہ عمارت بنا دی ہے تاکہ یہ دوبارہ نکل کر ہم کو بیزار نہ کرے اور اس کی جگہ اب نئی اصطلاح جو لائی گئی ہے اس کو کب دفن کرنا ہے اور اس کی بجائے کیا نئی اصطلاح رائج کرنا ہے یہ آنے والا وقت بتا دے گا ۔
بہر حال اسلام ایک سچا دین ہے اس کی اصطلاحوں کو بدلا نہیں جاسکتا ۔ ہاں ! اس پر جو عمل نہیں کرتے ان کی حالت قریش مکہ اور دوسرے مخالفین اور معاندین کی حالت سے خود اندازہ کرلو اور تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرو تو تم کو یقین آئے گا کہ ان کا حل وہی ہوگا جو اس وقت ہوا اور وہ بالکل وہی ہے جو اس وقت بھی دیکھنے والی آنکھیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہیں اور سمجھنے والے دل اپنے دلوں کے اندر خوب سمجھ چکے ہیں اگرچہ ان کے لبوں پر مہر لگی ہوئی ہے کہ وہ بول نہیں سکتے ۔
Ayah 94:8اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جا
8 ؎ یہ ہے وہ ساری پریشانیوں ، ساری تھکاوٹوں اور ساری محنتوں اور مشقتوں کا الٰہی حل جس سے یہ سب کچھ بھسم ہو کر رہ جاتا ہے کہ آدمی جب تھک ہارے جائے اور نہایت بور (Bore) ہوجائے تو وہ بغیر کسی حیل و حجت کے اللہ تعالیٰ کی طرف راغب ہو یہی حل اس کا اس وقت تھا جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں موجود تھے اور یہی حال اس کا آج ہے اگر کوئی اس حل کو حل سمجھے لیکن اگر کوئی شخص بھی اس حل کو حل نہ سمجھے تو کیا اس کے نہ سمجھنے سے حقیقت بھی اپنا آپ بدل دے گی ؟ ہرگز نہیں حقیقت تو کہتے ہی اس کو ہیں جو موم کی ناک کی طرح بدلتی نہ رہ بلکہ اپنی جگہ قائم و دائم رہے ۔ جو کام دنای میں اس کے سپرد کیا جائے اس کو پوری دیانت و امانت کے ساتھ کرے اور کرتا ہی رہے تا آنکہ اس کام کی تکمیل ہوجائے یا تکمیل کرنے والے کی زندگی کی تکمیل ہوجائے لیکن آپ ﷺ کے ساتھ تو عدہ الٰہی تھا کہ آپ ﷺ اپنے کام کی تکمیل کریں گے اور بحمد اللہ آپ ﷺ نے اپنے کام کی تکمیل کردی اور کوئی مقام ایسا نہ رہا جہاں پیغام رسالت کو پہنچایا نہ گیا اس کی مزید وضاحت آگے سورة نصر میں آنے والی ہے۔ (ارغب) تو دل لگا ، تو رغبت کر رغبۃ سے جس کے معنی دل لگانے اور متوجہ ہونے کے ہیں ۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ جو پہلے ہی رغبت کر رہا ہو اور خوب رغبت کر رہا ہو اس کو مزید تاکید کرنا کیا مطلب اپنے اندر رکھتا ہے ؟ یہی کہ جو رغبت نہ رکھتے ہوں ان کو باور کرایا جائے یہ کام رغبت رکھنے کے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار تاکید مزید کی جا رہی ہے اور ایک کو کہہ کر دوسرے کو سمجھانے کا یہی مطلب ہوتا ہے اور تفہیم کا یہ طریقہ قرآن کریم میں عام ہے کہ مخاطب سے کچھ کہا ہی نہیں اور جو کچھ کہا جاسکتا تھا وہ سب کچھ کہہ بھی دیا ہے ۔ یہی وہ ہدایت ہے جس ہدایت نے آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ راغب کردیا اور جہاں آپ ﷺ قرآن کریم کا ایک دور جبریل سے کرتے تھے اس سال دو دور کرلیے اور جہاں آپ ﷺ ایک عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے اس سال دو عشرہ کا کرلیا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس طرح منہمک ہوگئے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے ہو کر رہ گئے اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا ہوگیا اور یہ بات قابل بحث نہیں ہے کہ کیا پہلے آپ ﷺ اللہ کے نہیں تھے ؟ کیوں نہیں۔ مطلب بیان فقط یہ ہے کہ ایک آدمی کے ایک اللہ کا ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت میں پہلے سے بھی زیادہ سر گرم عمل ہوجائے نہ یہ کہ عبادت کی پابندیوں سے وہ مستثنیٰ قرار دے دیا جائے جیسا کہ جہلاء کا خیال ہے اور بحمد اللہ اسی مضمون پر ہم سورة الانشراح کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں ۔ ربنا افرغ علینا صبر اوثت اقدامنا فانصر نا علی القوم الکافرین۔