94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsانوار البیان

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا

(94:1) الم نشرح لک صدرک : ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے اور یہ انکار نفی (لم نشرح) کے لئے ہے۔ انکار نفی۔ اثبات کو مستلزم ہے۔ گویا الم نشرح لک صدرک کا مطلب ہوا۔ شرحنا لک صدرک ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول دیا ہے لم نشرح مضارع منفی جحد بلم۔ جمع متکلم۔ شرح (باب فتح) مصدر سے۔ (کیا) ہم نے نہیں کھولا۔ یا کھول دیا۔ صدرک مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا سینہ۔ اکثر علماء نے شرح صدر کو شق صدر کے معنی میں لیا ہے حالانکہ عربی زبان کے لحاظ سے شرح صدر کو کسی طرح بھی شق صدر کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔ علامہ آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں رقمطراز ہیں :۔ حمل الشرح علی شق الصدر ضعیف عند المحققین (محققین کے نزدیک اس آیت میں شرح صدر کو شق صدر پر محمول کرنا ایک کمزور بات ہے۔ (تفہیم القرآن) انشراح صدر سے مراد یہ ہے کہ نبوت سے قبل اگرچہ رسول کریم ﷺ کی زندگی ہر قسم کے ملحدانہ اور مشرکانہ اعتقادات سے پاک و منزہ تھی اور آپ کا کوئی قول یا فعل شریعت کے خلاف نہ تھا لیکن دل میں اصل حقیقت کے متعلق ایک خلجان اور تردد سا رہتا تھا جو غیر اطمینانی کیفیت پیدا کئے رکھتا تھا۔ خدا نے تمام حقائق اور سربستہ راز آپ پر عیاں کر دئیے جس پر آپ کی ذہنی گھٹن ختم ہوکر دل کو اطمینان اور سکون آگیا۔ نبوت کے بعد آپ کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں ۔ نامساعد حالات کے مدنظر فرائض نبوت سے عہدہ برآ ہونا دشوار معلوم دیتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات کا خاطر خواہ مقابلہ کرنے طاقت بخشی کہ آپ کو مطمئن کردیا۔ ایسی ہی دشواریوں کے پیش نظر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تھی۔ رب اشرح لی صدری ۔۔ لیکن یہ شرح صدر مانگے پر ملی اور وہ بن مانگے عطا ہوئی۔
Ayah 94:2

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

بیشک کھول دیا اور تم سے بوجھ بھی اتار دیا

(94:2) ووضعنا عنک وزرک : جملہ کا عطف الم نشرح پر ہے۔ ووضعنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم وضع (باب فتح) مصدر سے۔ ہم نے اتار دیا۔ ہم نے ہلکا کردیا۔ عنک متعلق وضعنا ۔ وزرک مضاف مضاف الیہ مل کر وضعنا کا مفعول۔ وزر۔ بوجھ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولاتزر وازرۃ وزراخری۔ (6:165) اور کوئی شخص کسی (کے گنا) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ وزر سے مراد امور مباحہ جو احیانا آپ سے بنا بر تصور کسی حکمت کے صادر ہوجاتے تھے اور بعد میں ان کا خلاف حکمت و خلاف اولیٰ ہونا ثابت ہوجاتا تھا اور آپ بوجہ علوشان وغایت قرب کے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے۔ اس میں بشارت ہے ان امور پر مؤاخذہ نہ ہونے کی۔ (کذا فی الدر المنثور عن مجاہد و شریح بن عبید الحضرمی) ترجمہ :۔ اور کیا ہم نے آپ سے آپ کا (وہ) بوجھ نہیں اتار دیا جو ۔۔
Ayah 94:3

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

(94:3) الذی انقض ظھرک۔ یہ جملہ وزر کی صفت ہے۔ الذی اسم موصول انقص صلہ۔ ظھرک مضاف مضاف الیہ مل کر متعلق انقض۔ انقض ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب انقاض (افعال) مصدر سے۔ اس نے توڑ دی۔ اس نے جھکادی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی۔
Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور تمہارا ذکر بلند کیا

(94:4) ورفعنا لک ذکر ک : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور کیا ہم نے آپ کے ذکر کا آوازہ بلند نہیں کیا۔ یعنی ہم نے آپ کے لئے آپ کا ذکر بلند کردیا۔ کیسے بلند کیا ؟ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ اتانی جبریل (علیہ السلام) وقال ان ربک یقول قتدری کیف رفعت ذکر ک قلت اللہ تعالیٰ اعلم بہ ۔ قال اذا ذکرت ذکرت معی۔ میرے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے اور کہا کہ آپ کا رب پوچھتا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے ذکر کو کیسے بلند کیا میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جبریل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا جائے گا۔ اور صورت رفع ذکر کی یہ ہے حضرت حسان بن ثابت کا شعر ہے :۔ وضم الالہ اسم الببی الی اسمہ اذا قال فی الخمس المؤذن اشھد وشق لہ من اسمہ لیجلہ فذوا العرش محمود وھذا محمد اللہ نے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا دیا ہے۔ جب کہ پانچوں وقت مؤذن اشھد کہتا ہے۔ اور ان کی عزت افزائی کے لئے اپنے ہی نام سے ان کا نام نکالا ہوا ہے۔ پس مالک عرش تو محمود ہے اور وہ محمد ﷺ ہیں۔ علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں :۔ ترجمہ :۔ اور اس سے بڑھ کر رفع ذکر کیا ہوسکتا ہے کہ کلمہ شہادت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ اپنے محبوب کا نام ملا دیا۔ حضور کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ ملائکہ کے ساتھ آپ پر درود بھیجا۔ اور مؤمنوں کو درود پاک پڑھنے کا حکم دیا۔ اور جب بھی خطاب کیا معزر القاب سے مخاطف کیا۔ جیسے یایھا المدثر۔ یایھا المزمل پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی آپ کا ذکر فرمایا۔ تمام انبیاء اور ان کی امتوں سے وعدہ لیا کہ وہ آپ پر ایمان لے آئیں۔ علی ھذا القیاس رفع ذکر کی ہزاروں مثالیں مل سکتی ہیں۔
Ayah 94:5

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

(اور) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

(94:5) فان مع العسر یسرا : ان حرف مشبہ بالفعل وحرف تحقیق۔ اسم ان مع العسر اس کی خبر۔ العسر دشواری، تنگی، سختی، مشکل، یہ یسر کی ضد ہے۔ عسر مصدر ہے اور اس کا فعل باب سمع اور کرم سے آتا ہے۔ چونکہ فقیری میں بھی تنگی اور سختی ہوتی ہے اس لئے تنگ دست ہونے میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ عسیر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بمعنی سخت، بھاری، مشکل (74:9) یسرا اسم نکرہ۔ آسانی۔ سہولت۔ عسر کی ضد ہے۔ ترجمہ :۔ پھر بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔
Ayah 94:6

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

(اور) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

(94:6) ان مع العسر یسرا۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ صاحب تفہیم القرآن حاشیہ پر لکھتے ہیں :۔ اس بات کو (یعنی بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہے) دو دفعہ دہرایا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ کو پوری طرح تسلی ہوجائے کہ جن سخت حالات سے آپ گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر تک رہنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے بعد قریب ہی اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتی ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہو کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی ہو کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کی بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کئے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آرہا ہے۔ آیت کی تکرار وعدہ کی تاکید کے لئے آئی ہے۔ (تفسیر ماجدی) کر رہ لتاکید الوعد۔ آیت کی تکرار وعدہ کی تاکید کے لئے آئی ہے۔ (الخازن) یحتمل ان یکون تکریرا للجملۃ السابقۃ لتقریر معناھا۔ (روح المعانی) ہوسکتا ہے کہ تکرار آیت سابقہ آیت کے معنی کی تائید میں ہو۔ بعض مفسرین نے لغوی باریکیوں میں جاکر اور معانی بھی اخذ کئے ہیں جس کے لئے تفسیر مظہری، روح المعانی، مدارک التنزیل وغیرہ تفاسیر کی طرف رجوع کیا جائے۔
Ayah 94:7

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو

(94:7) فاذا فرغت فانصب : اذا شرطیہ ہے۔ فاذا فرغت جملہ شرطیہ ہے۔جواب شرط کے لئے ہے انصب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، نصب (باب سمع) مصدر سے ۔ جس کے معنی جدوجہد کرنا ہے۔ اس جگہ عبادت میں جدوجہد کا حکم ہے۔ جب تو (تبلیغ احکام سے) فارغ ہوجائے تو عبادت میں محنت کیا کر۔ حضرت ابن عباس، قتادہ ، حضاک، مقاتل، اور کلبی نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جب فرض نماز یا مطلق نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دعا کرنے کے لئے محنت کرو۔ اور رب سے مانگنے کی طرف راغب ہو۔ حسن اور زید بن اسلم نے کہا کہ :۔ جب دشمن سے جہاد کرنے سے فارغ ہوجاؤ تو عبادت کے لئے محنت کرو۔ منصور کی روایت سے مجاہد کا قول منقول ہے کہ جب امور دنیا سے فارغ ہوجاؤ تو عبادت رب میں محنت کرو۔
Ayah 94:8

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوجایا کرو

(94:8) والی ربک فارغب : یہ فانصب پر عطف تفسیری ہے۔ یعنی اللہ سے مانگنے کی رغبت کرو دوسرے سے مت مانگو۔ الی ربک فعل محذوف سے متعلق ہے ای فارغب الی ربک فارغب پس اپنے رب کی عبادت کی طرف اچھی طرح لگ جا۔ ارغب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ رغبۃ (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی دل لگانے اور متوجہ ہونے کے ہیں۔