وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ ۟ۙوَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَۙ
اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And We removed from you your burden
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz
وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ ۟ۙوَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَۙ
اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And We removed from you your burden
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Sharh
اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار دیا
اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا
اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا
اور ہم نے تم سے تمہارا وہ بوجھ اتار دیا ہے۔
اور تم پر سے تمہارا بوجھ اتار لیا،
اور ہم نے آپ کا (غمِ امت کا وہ) بار آپ سے اتار دیا،
اور ہم نے تجھ سے تیرا بوجھ اتار دیا۔
اور آپ سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا
اور جو بوجھ تمہاری کمر کو توڑے دے رہا تھا
اور کیا ہم نے اتار نہیں دیا آپ ﷺ سے آپ ﷺ کا وہ بھاری بوجھ ؟
اور ہم نے آپ پر سے وہ آپ کا بوجھ اتار دیا
اور ہم نے اتار نہیں دیا آپ ﷺ سے آپ ﷺ کا وہ بوجھ ؟
اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا
and relieve you of the burden
And We removed from you your burden
And We removed from you your burden
And removed from you your burden.
And eased thee of the burden
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And We removed from you your burden
relieved you of the burden
And taken off from you your burden,
And We have taken off from thee thy burthen,
And removed from thee thy burden
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
یعنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الْاِنْشِرَاح 1 اس سوال سے کلام کا آغاز، اور پھر بعد کا مضمون یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس زمانے میں ان شدید مشکلات پر سخت پریشان تھے جو دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی دور میں آپ کو پیش آ رہی تھیں۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی، کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں کی ہیں ؟ پھر ان ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں ہوتے ہو ؟ سینہ کھولنے کا لفظ قرآن مجید میں جن مواقع پر آیا ہے ان پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو معنی ہیں (1) سورة انعام آیت 125 میں فرمایا " فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ووضعنا عنک وزرک الذی انقص ظہرک وزر کے لفظی معنے بوجھ کے ہیں اور نقض ظہر کے لفظیم عنے کم رتوڑ دینے یعنی کمر کو جھکا دینے کے ہیں جیسا کوئی بڑا بوجھ انسان پر لاد دیا جائے تو اس کی کمر جھک جاتی ہے، اس آیت میں ارشاد یہ ہے کہ وہ بوجھ جس نے آپ کی کمر جھکا دی تھی ہم نے اس کو آپ سے ہٹا دیا۔ وہ بوجھ کیا تھا اس کی ایک تفسیر تو وہ ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں آچکی ہے کہ اس سے وہ جائز اور مباح کام ہیں جن کو بعض اوقات رسول اللہ ﷺ نے قرین حکمت و مصلحت سمجھ کر اختیار کرلیا بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مصلحت کیخلاف یا خلاف اولیٰ تھے رسول اللہ ﷺ کو اپنی علوشان اور تقریب الٰہی میں خاص مقام حاصل ہونے کی بناء پر ایسی…
Read the full tafseer →’وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ‘۔ یہ جملہ معناً پہلے ہی جملہ پر عطف ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ ہم نے اسی کے تحت کیا ہے۔ سورۂ نبا کی تفسیر میں اس اسلوب کی وضاحت ہو چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ 1 یہ بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے۔ اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ ﷺ کو گناہوں سے محفوظ رکھا، کسی بت کے سامنے آپ ﷺ سجدہ ریز نہیں ہوئے، کبھی شراب نوشی نہیں کی اور بھی دیگر برائیوں سے دامن کش رہے، تاہم معروف معنوں میں اللہ کی عبادت و اطاعت کا نہ آپ ﷺ کو علم تھا نہ آپ ﷺ نے کی، لیکن آپ ﷺ کے احساس و شعور نے اسے بوجھ بنا رکھا تھا اللہ نے اسے اتار دینے کا اعلان فرما کر آپ ﷺ پر احسان فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ووضعنا ............................ ظھرک (3:94) ” اور تم پر سے وہ باری بوجھ اتاردیا جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا “۔ یعنی دعوت اسلامی کا بوجھ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ آپ کی کمر ہی توڑ دے۔ ہم نے آپ کو شرح صدر عطا کیا اور یہ بوجھ ہلکا ہوگیا ، آپ کو کام کرنے کی توفیق دی ، آپ کے لئے دعوت کا کام آسان کردیا اور یہ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے لگی۔ وحی کا سلسلہ جاری ہوگیا اور بذریعہ وحی حقائق کا انکشاف ہونے لگا۔ اور یوں یہ دعوت دلوں میں اترنے لگی۔ اور بذریعہ وحی یہ کام نہایت آسانی ، نرمی اور سکون سے ہونے لگا۔ کیا آپ اس تبدیلی کو اس بوجھ میں محسوس نہیں کرتے جس نے آپ کی کمر توڑ دی اور اب یہ ہلکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
5 وحی کا اترنا اول سخت مشکل تھا۔ پھر آسان ہوگیا۔ یا منصب رسالت کی ذمہ داریوں کو محسوس کر کے خاطر شریف پر گرانی گزرتی ہوگی۔ وہ رفع کردی گئی۔ یا " وزر " سے وہ امور مباحہ مراد ہوں جو گاہ بگاہ آپ ﷺ قرین حکمت و صواب سمجھ کرلیتے تھے۔ اور بعد میں ان کا خلاف حکمت یا خلاف اولیٰ ہونا ظاہر ہوتا تھا اور آپ ﷺ بوجہ علو شان اور غایت قرب کے اس سے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے تو اس آیت میں ان پر مواخذہ نہ ہونے کی بشارت ہوئی۔ کذاروی عن بعض السلف۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ہمت عالی اور پیدایشی استعداد جن کمالات و مقامات پر پہنچنے کا تقاضا کرتی تھی۔ قلب مبارک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 شرح صدر کے دو مفہوم :۔ شرح صدر کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی بات، نظریہ، عقیدہ یا معاملہ کی انسان کو پوری طرح سمجھ آجائے۔ اس میں کوئی شک و شبہ یا ابہام باقی نہ رہے اور انسان کو جو کچھ سمجھ میں آئے اس پر اسے یقین اور اطمینان حاصل ہوجائے جیسے فرمایا : (فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ ۭ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 125۔ ) 6 ۔ الانعام :125) یعنی جس شخص کو اللہ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ وزر کے اصل معنی صرف بوجھ یا بار کے ہیں۔ الوزر الثقل (راغب) سو اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسا ایسا عظیم الشان بار آپ ﷺ پر تھا، جس سے آپ ﷺ اتنا گرانبار ہورہے تھے، اور قرآن کہتا ہے کہ وہ آپ سے دور کردیا گیا ؟ وہ بار صرف ایک ہی ہوسکتا ہے۔ قبل نبوت اپنی قوم کی حالت پر تاسف و حسرت اور ان کی فلاح واصلاح کی فکر، اس کا توڑتویوں ہوا کہ آپ ﷺ پر راہ ہدایت پوری تفصیلات کے ساتھ واضح کردی گئی، اور آپ ﷺ کے سپرد خلق کی رہنمائی کردی گئی۔ بعد نبوت سب سے بڑی فکر آپ ﷺ کو تبلیغ احکام اور اس کے نتائج کی رہی۔ قرآن مجید نے اس غم سے بھی آپ ﷺ کو یہ کہہ کر سبکدوش کردیا کہ آپ ﷺ پر کسی کے ایمان لانے نہ لانے کی کوئی ذمہ داری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ووضعناعنک وزرک الذی انقض ظھرک وزر کے معنی بوجھ کے ہیں اور نقض کے معنی کمر توڑ دینے یعنی کمر جھکا دینے کے ہیں، اس آیت میں ارشاد یہ ہے کہ وہ بوجھ جس نے آپ ﷺ کی کمر جھکا دی تھی ہم نے اس کو آپ سے ہٹا دیا وہ بوجھ کیا تھا . بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ بوجھ جائز اور مباح کام ہیں جن کو بعض اوقات آپ ﷺ نے قرین حکمت و مصلحت سمجھ کر اختیار فرمایا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مصلحت کے خلاف یا خلاف اولی تھے رسول اللہ ﷺ کو اپنی علوشان اور تقرب الٰہی میں خاص مقام حاصل ہونے کی بنا پر ایسی چیزوں پر بھی سخت رنج و ملال اور صدمہ ہوتا تھا حق تعالیٰ نے اس آیت میں بشارت سنا کر وہ بوجھ آپ سے ہٹا دیا کہ ایسی چیزوں پر آپ سے…
Read the full tafseer →ووضعنا عنک وزوک . اس کا عطف الم نشرح پر ہے کیونکہ (الم نشرح میں استفہام انکاری ہے اور انکار نفی کے لیے ثبوت لازم ہے اس لیے) الم نشرح کا معنی ہوگیا شرحنا لک صدرک وزرٌ کا اصلی لغوی معنی ہے ‘ پہاڑ۔ اللہ نے فرمایا : کلا لاوزر۔ یعنی کوئی پہاڑ نہ ہوگا کہ اس پر پناہ لی جاسکے۔ یہاں مجازی معنی مراد ہے یعنی بڑا بار۔ بار یا تو غم فرق اور تو ہم انقطاع کامل تھا جس نے غمگین بنا دیا تھا اور آپ کی قوت (صبر) توڑ دی تھی۔ پھر اللہ نے سورة الضحیٰ اور الم نشرح کو نازل فرما کر اس رنج و غم کو دور کردیا اور آپ ﷺ کے دل کو قرار اور طبیعت کو سکون حاصل ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ وہ فراق (وحی کی بندش) انقطاع کلی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(2۔ 5) نیز ہم نے آپ سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ کی کمر ٹیڑھی کر رکھی تھی، یا یہ کہ بار نبوت، حضور ﷺ نے فرمایا بےشک۔ اور نیز ہم نے اذان، دعا، تشہد میں آپ کا ذکر بلند کردیا کہ جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ کا بھی ذکر ہوتا ہے اب فقر وفاقہ پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی فرماتے ہیں بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہے اور بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہونے والی تو دو فراخیوں کے درمیان ایک تنگی کا ذکر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ووضعنا عنک وزرک…: بوجھ اتار دینے سے مراد وحی الٰہی برداشت کرنے کی استعداد پیدا کرنا ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(انا سنلقی علیک قولاً ثقیلاً) (المزمل : 5)”یقیناً ہم تجھ پر ایک بھاری بات نازل کریں گے۔“ حدیث میں ہے کہ جب آپ ﷺ پر وحی اترتی تو اس کے بوجھ سے وہ اونٹنی جس پر آپ سوار ہوتے بیٹھ جاتی (مسند احمد : 6/18 ، ح : 23868، سندہ صحیح) اس کے علاوہ نبوت کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی مراد ہے، جسے آپ بہت شدت سے محسوس کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا :(لعلک باخع نفسک الا یکونوا مومنین) (الشعرائ : 3)”شاید آپ اپنے آپ کو اس لئے ہلاک کرلیں گے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ووضعنا عنک۔۔۔ تا۔۔۔۔ ظھرک۔ ووضعنا عنک وزرک۔ ہم نے آپ سے گناہ کو اتار دیا۔ حضرت انس نے وحللنا وحططنا بھی پڑھا ہے حضرت ابن مسعود نے اسے وحللناعنک وقرک پڑھا ہے۔ یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے لیغفرک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نبوت سے قبل جو کچھ تھا اس کو آپ سے دور کردیا، وزر کا معنی گناہ ہے معنی یہ ہوگا کہ دورجاہلیت کے جن معمولات میں آپ عمل پیرا تھے ان کو آپ سے دور کردیا کیونکہ نبی کریم کے اکثر معمولات زندگی اپنی قوم جیسے تھے اگرچہ آپ نے کسی بت کی کبھی بھی عبادت نہ کی، قتادہ، حسن بصری اور ضحاک نے کہا، نبی کریم کے کچھ اعمال تھے جنہوں نے آپ کو بوجھل کررکھا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
6۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووضعنا عنک وزرک یعنی آپ کے گناہ کو دور کردیا آیت الذی انقض ظہرک۔ جس نے آپ کی کمر جھکادی تھی۔ یعنی جو بھاری بوجھ تھا۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے شریح بن عبید الحضرمی (رح) سے آیت ووضعنا عنک وزرک کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے آپ کے لیے آپ کے گناہوں کو بخش دیا۔ رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ ہر جگہ ہوتا ہے 8۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت وحللنا عنک وقرک اور ہم نے اتاردیا آپ سے آپ کے بھاری بوجھ کو۔
Read the full tafseer →[وَوَضَعْنَا : اور ہم نے اتارا ][ عَنْكَ وِزْرَكَ : آپ ﷺ سے آپ ﷺ کے بوجھ کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
﴿ وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ002 الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ003﴾ (اور ہم نے آپ کا وہ بوجھ اٹھا دیا یعنی دور کردیا جس نے آپ کی کمر توڑ دی) اس بوجھ سے کون سا بوجھ مراد ہے، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت سورة ٴ فتح کی آیت ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ ﴾ کے ہم معنی ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ چھوٹے موٹے اعمال جو آپ سے لغزش کے طور پر بلا ارادہ یا خطاء اجتہادی کے طور پر صادر ہوئے ان کا جو بوجھ آپ محسوس کرتے تھے اور اس بوجھ کا اس قدر احساس تھا کہ اس احساس نے آپ کی کمر توڑ دی تھی یعنی خوب زیادہ بوجھل بنا دیا تھا، وہ بوجھ ہم نے ہٹا دیا یعنی سب کچھ معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
بشارت بانشراح صدر ورفع گرانی قلب وازالہ شدائد ہمت شکن : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم نشرح لک صدرک ....... الی ......... والی ربک فارغب “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر رب العالمین کی طرف سے فائز کردہ انعامات خاصہ کا ذکر تھا اور اسی کے ضمن میں آپ کے معالی اخلاق اور محاسن اوصاف بھی بیان کردیئے گئے تھے، اب اس سورت میں مزید ایک انعام شرح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر کمال یقین استقامت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” ووضعنا “ ، وزر سے کفر و شرک اور معاصی کا بوجھ مراد ہے۔ یعنی ہم نے کفر و شرک اور دیگر معاصی کا بوجھ ہٹا دیا اور ان کو آپ کے قریب تک نہیں آنے دیا اور آپ کو ان سے بالکلیہ محفوظ رکھا۔ ” الذی انقض ظھرک “ ماضی بمعنی مستقبل ہے یعنی آپ کو ایسے تمام گناہوں سے محفوظ رکھا کہ اگر ان میں سے ایک بھی آپ سے ایسا کوئی گناہ صادر ہوجاتا تو آپ کی کمر توڑ دیتا مگر واقع میں ایسا نہیں ہوا اور ہم نے آپ سے ایسا کوئی گناہ صادر نہیں ہونے دیا یا وزر سے زلات مراد ہیں جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” عفا اللہ عنک لم اذنت لہم الخ “ (توبہ رکوع 7) ۔ اور ” وماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض الخ “ (انفال رکوع 9) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
پہلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة دراصل پہلی سورة والضحی کا تتمہ ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر کئے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں بعض احکام صادر فرمائے تھے۔ اس سورة میں بھی بعض اضافی انعامات کا ذکر ہے جو رب کریم نے نبی علیہ اسللام پر کئے یہاں بھی سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے بعض احکام ہیں۔ شرح صدر سورة کی ابتداء احسانات کے تذکرہ سے ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان احسان شرح صدر ہے ، جو حضور ﷺ پر کیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ یہاں پر استفہامیہ طریقے سے بات کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یقینا آپ…
Read the full tafseer →وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ 2 ۙ وضع الوَضْعُ أعمّ من الحطّ ، ومنه : المَوْضِعُ. قال تعالی: يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ [ النساء/ 46] ويقال ذلک في الحمل والحمل، ويقال : وَضَعَتِ الحملَ فهو مَوْضُوعٌ. قال تعالی: وَأَكْوابٌ مَوْضُوعَةٌ [ الغاشية/ 14] ، وَالْأَرْضَ وَضَعَها لِلْأَنامِ [ الرحمن/ 10] فهذا الوَضْعُ عبارة عن الإيجاد والخلق، ووَضَعَتِ المرأةُ الحمل وَضْعاً. قال تعالی: فَلَمَّا وَضَعَتْها قالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُها أُنْثى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِما وَضَعَتْ [ آل عمران/ 36] فأما الوُضْعُ والتُّضْعُ فأن تحمل في آخر طهرها في مقبل الحیض . ووَضْعُ البیتِ : بناؤُهُ. قال اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ الم نشرح الخ الاستفہام تقریری والمعنی قد شرحنا لک صدرک ووضعنا عنک معطوف علی معنی ماتقدم وعنک متعلق بوضعنا و تقدیمہ علی المفعول الصریح مع ان حقہ التاخر لتعجیل المسرۃ والتشویق المؤخر الذی الخ وصف الوزر ورفعنا الخ معطوف علی السابق یسرا اسم ان مع العسر خبرھا والعسرفی الموضعین واحد لان المعرفۃ اذا اعیدت یرادبھا الاول والیسر غیر الاول ولذا قال النبی ﷺ لن یغلب عسریسرین ان اللہ یقول ان مع العسریسرا الخ۔ اخرجہ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان وغیرھم تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ و ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں آٹھ آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ۔ الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ ۔ (النشرح : 2، 3) (اور ہم نے اتار دیا ہے آپ سے آپ کا بوجھ۔ جو آپ کی کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ ) نبوت اور نزول قرآن نے آپ کے شدید احساس کا بند تالا کھول دیا نبوت سے پہلے اپنی طبع سلیم اور خداداد معصومیت کے باعث نہ صرف کہ کسی ایسے کام کے قریب نہیں جاتے تھے جن کاموں میں آپ کی قوم ملوث تھی، بلکہ آپ ان کاموں سے ایسی گھن محسوس کرتے تھے جس طرح ایک صاف ستھرا اور مہذب آدمی گندگی سے گھن محسوس کرتا ہے۔ آپ دیکھتے تھے کہ بےجان بتوں کو پوجا جارہا ہے، شرک اور مشرکانہ اوہام اور رسوم کا بازار گرم ہے، اخلاق کی گندگی اور بےحیائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، قمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن ربط سورت : والضحیٰ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ اپنے رب کی نعمت کو یاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ذات پر بےانتہا نعمتوں کا نزول فرمایا جن میں سر فہرست تین نعمتیں ہیں، جن کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ 1۔ وحی حفظ کرنے، اسے سمجھنے، پھر اسے بیان کرنے کے لیے آپ ﷺ کا سینہ کھول دیا گیا۔ 2۔ پیغام نبوت کو من وعن لوگوں تک پہچانے کا عظیم بوجھ آپ ﷺ کے لیے بہت حد تک آسان کردیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کام اور نام کو ہمیشہ کے لیے سربلند فرما دیا۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ ہر نیک کام کرنے سے پہلے اس کے لیے اسے انشراح صدر حاصل ہو، ایک داعی پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہوتا ہے کہ دعوت دینے اور…
Read the full tafseer →2 : وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ (اور ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا) نبوت کی ذمہ داری میں تخفیف کردی اور بجا آوری میں سہولت دے دی۔ ایک قول یہ ہے کہ بوجھ وہ لغزش ہے جس کو ہم معین طور پر نہیں جانتے۔ وہ افضل کو ترک کر کے فاضل کو انجام دینا ہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کو اس قسم کی باتوں پر عتاب کیا جاتا ہے۔ اور وضعہؔ سے مراد اس کا معاف و درگزر کرنا۔ الوزرؔ بھاری بوجھ۔
Read the full tafseer →2 ۔” ووضعنا عنک وزرک “ حسن، مجاہد، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں ہم نے آپ (علیہ السلام) سے کرادیا جو آپ (علیہ السلام) سے جاہلیت میں گزرچکا اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر “ کی طرح ہے اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں یعنی خطاء اور بھول۔ اورکہا گیا آپ (علیہ السلام) کی امت کے گناہ ۔ پس ان کی نسبت آپ ﷺ کی طرف کردی ہے۔ آپ (علیہ السلام) کے دل کو امت کی وجہ سے مشغول ہونے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ سینے کے کھول دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے سینہ پر جو دل کا قلعہ کہلاتا ہے شیطان کا کسی طرح کا کچھ تسلط باقی نہیں رہا۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اور شیطان کے شیاطینوں میں سے ایک شیطان ہر شخص کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اللہ کے فرشتہ نیک کام کی رغبت دلانے کے لئے ہے اور شیطان برے کام کی رغبت کے لئے مگر میرے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے میرا ایسا فرمانبردار کردیا ہے کہ وہ بجائے برے کام کی رغبت کے نیک کام کی رغبت مجھ کو دلاتا رہتا ہے اسی مطلب کی صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس ؓ کی وہ روایت ہے۔ جس…
Read the full tafseer →(وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ ) یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) شرح صدر کی نعمت کا ذکر اور اس سے مقصود ؟ سو شرح صدر کی نعمت سے سرفرازی کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور تقریر و تاکید کی غرض سے بطور سوال و استفہام ذکر فرمایا گیا کہ " کیا ہم نے کھول نہیں دیا آپ کے لیے ( پیغمبر) آپ کے سینے کو ؟ " جس سے آپ کا قلب مبارک پوری طرح مطمئن ہوگیا کہ اسلام ہی دین حق ہے، اور اسی کی تعلیمات مقدسہ ہیں جو کہ ہر طرح سے حق اور صدق ہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ شرح صدر اللہ پاک کی ایک عظیم الشان نعمت ہے، جیسا کہ سورة انعام کی آیت نمبر 125 میں فرمایا گیا ( آیت، الانعام 125 پ 8) یعنی " اللہ جس کو ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے "۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نبی ﷺ کے لیے دنیا میں انعامات کی خوشخبری تشریح : بڑی ہی خوبصورت اور جامع سورت ہے اس میں بہت سے حقائق زندگی انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اللہ کی نعمتوں ' برکتوں ' فضل وکرم اور مہربانیوں کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ اور ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ سب کو برابر عطا کرتا ہے مگر یہاں خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے خاص طور سے ان پر مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پچھلی سورت میں بھی کیا گیا تھا۔ یہ احسان جتانے کے طور پر نہیں بلکہ تسلی دینے کے لیے ہمت بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ انسان ہونے کے ناطے گبھراہٹ ' پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الانشراح۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ آپ کا سینہ مبارکہ علم وحلم کے لیے اس قدر وسیع کردیا کہ دنیا کے تمام حکماء مل کر بھی اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں کرسکے ، قیامت تک کی ساری انسانیت کو دنیا وآخرت کے ہرمسئلے کا حل اور ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس قدر مشکلات برداشت کیں اور صدمات جھیلے کہ آپ ہی کی شان ہے اور آپ کے لیے وہ عظیم ذمہ داری کی ساری انسانیت کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور ظلم کو روک کر حق کا نفاظ کفر کو پھاڑ کر توحید کی روشنی مہیا کرنا اتنا بڑا بوجھ تھا کہ اس نے کمردوہری کردی مگر ہم نے ـآساں کردیا اور آپ کے نام نامی کو بلند کردیا کہ اپنے نام کے ساتھ کلمے کا جز بنادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 10 یعنی آپ کے تمام گناہ معاف کردیئے یا منصب رسالت جیسی کٹھن ذمہ داری کو آپ پر آسان کردیا۔
Read the full tafseer →(94:2) ووضعنا عنک وزرک : جملہ کا عطف الم نشرح پر ہے۔ ووضعنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم وضع (باب فتح) مصدر سے۔ ہم نے اتار دیا۔ ہم نے ہلکا کردیا۔ عنک متعلق وضعنا ۔ وزرک مضاف مضاف الیہ مل کر وضعنا کا مفعول۔ وزر۔ بوجھ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولاتزر وازرۃ وزراخری۔ (6:165) اور کوئی شخص کسی (کے گنا) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ وزر سے مراد امور مباحہ جو احیانا آپ سے بنا بر تصور کسی حکمت کے صادر ہوجاتے تھے اور بعد میں ان کا خلاف حکمت و خلاف اولیٰ ہونا ثابت ہوجاتا تھا اور آپ بوجہ علوشان وغایت قرب کے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے۔ اس میں بشارت ہے ان امور پر مؤاخذہ نہ ہونے کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔ الم نشرح۔ کیا ہم نے نہیں کھول دیا۔ صدر۔ سینہ۔ وضعنا۔ ہم نے اتارا۔ ورز۔ بوجھ۔ انقض۔ توڑ دیا تھا۔ ظھر۔ پیٹھ۔ رفعنا۔ ہم نے بلند کردیا۔ فرغت۔ تو نے فراغت حاصل کرلی۔ انصب۔ (عبادت کی) تکلیف اٹھا۔ ارغب۔ رغبت کر۔ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1۔ شرح صدر 2۔ وضع و زر 3۔ اور رفع ذکر 1۔ سوالیہ اندازپر ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ہم نے آپ کو شرح صدر عطا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے آپ کے ہر اس بوجھ کو جو آپ کی کمر کو جھکائے دے رہا تھا آپ کے اوپر سے نہیں اتارا ؟ کیا ہم نے آپ کے ذکر کو بلند نہیں کیا ؟ نشرح کے معنی کھول دینا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(ف 2) اس بوجھ سے مراد امت کے گناہوں کا غم ہے جس میں قلب مبارک مشغول رہتا تھا مراد یہ ہے کہ ہم نے آپ کو مقبول شفاعت کرکے وہ غم دور کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] کہ اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دئیے اور فرائض رسالت کی سختیاں برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا تاکہ دشمنوں کی عداوت اور مخالفوں کی مزاحمت سے گھبرانے نہ پاؤ۔
Read the full tafseer →(2) اور ہم نے آپ پر سے وہ بوجھ اتاردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 5۔ یعنی علم بھی وسیع عطا فرمایا اور تبلیغ مخالفین کی مزاحمت سے ایذاء پیش آتی ہے اس میں تحمل اور علم بھی دیا۔
Read the full tafseer →اور آپ ﷺ کے اس بوجھ کو آپ ﷺ سے اتار کر پھینک نہیں دیا ؟ 2 ؎ ( وزرک) اسم مفرد منصوب مضاف ک ضمیر مضاف الیہ تیرا بوجھ ۔ وزر سے مراد اس جگہ قوم کی رسومات اور قوم کے رہنے سہنے کے طریقے اور معاشرت ہے جس طرح مکہ کے لوگ زندگی گزار رہے تھے اور آپ ﷺ اس کو دیکھ کر اندر ہی اندر اس بوجھ کے نیچے دبے جا رہے تھے اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وحی کی نعمت سے نوازا اور معاشرت انسانی کا صحیح طریقہ بتا دیا جس میں توحید الٰہی کا درس تھا اور ان رسومات کی تردید تھی جن رسومات کو مکہ کے لوگ لازم و ضروری سمجھتے تھے اس کی وضاحت اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے کردی تو یہی آپ کے سینہ اقدس کو کھولنا ہے اور یہی آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ (And We removed from you your burden that had [ almost ] broken your back...94:2-3). The word wizr literally denotes 'burden' and the phrase naqd-uz-zahr means 'to break one's back as for instance when a heavy load is put on one's back, it bends'. This verse signifies that Allah had relieved him of his burden that was breaking his back. What was that burden or heavy load? One answer to this question is that now and then the Holy Prophet ﷺ did certain permissible deeds, thinking that they were of benefit and in the interest [ of spiritual…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 To begin the discourse with this question, and then the subsequent theme, shows that the Holy Messenger (upon whom be Allah's peace) at that time was very disturbed and distressed at the great hardships that he was passing through in the initial stage of his mission of calling the people to Islam. Under those conditions Allah addressed him and consoling him, said: "O Prophet, have We not blessed you with such and such favour? Then, why do you feel so disturbed and distressed at these initial difficulties?" A little consideration of the context wherever the word sharh sadr (opening up of the…
Read the full tafseer →