Ash-Sharh 94:3

Ash-Sharh · from ayah 3

94:3

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ ۟ۙالَّذِىۡۤ اَنۡقَضَ ظَهۡرَكَۙ‏

جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Which had weighed upon your back

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Sharh

All translations of 94:3

جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس نے تمہاری کمر توڑ رکھی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس نے تمہاری پیٹھ توڑی تھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو آپ کی پشتِ (مبارک) پر گراں ہو رہا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جس نے تیری پیٹھ توڑ دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کو تمہارے اوپر سے اتار نہیں دیا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو توڑے ڈال رہا تھا آپ کی کمر کو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

جس نے آپ کی پست توڑ رکھی تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو آپ کی کمر کو توڑے دے رہا تھا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

— محترمہ رفعت اعجاز

that had well-nigh broken your back?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

that had (almost) broken your back,

— Muhammad Taqi Usmani

that had (almost) broken your back,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Which weighed down your back

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which had weighed upon your back

— Saheeh International

which had been a heavy weight upon your back

— Muhammad Sarwar

Which pressed heavily upon your back,

— Muhammad Habib Shakir

Which weighed down thy back.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 94:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

یعنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاِنْشِرَاح 2 مفسرین میں سے بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نبوت سے پہلے ایام جاہلیت میں نبی ﷺ سے کچھ قصور ایسے ہوگئے تھے جن کی فکر آپ کو سخت گراں گزر رہی تھی اور یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطمئن کردیا کہ آپ کے وہ قصور ہم نے معاف کردیے۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ معنی لینا سخت غلطی ہے۔ اول تو لفظ وزر کے معنی لازماً گناہ ہی کے نہیں ہیں بلکہ یہ لفظ بھاری بوجھ کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس کو خواہ مخواہ برے معنی میں لیا جائے۔ دوسرے حضور کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی اس قدر پاکیزہ تھی کہ قرآن میں مخالفین کے سامنے اس کو ایک چلینج کے طور پر پیش کیا گیا تھا چناچہ نبی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

ووضعنا عنک وزرک الذی انقص ظہرک وزر کے لفظی معنے بوجھ کے ہیں اور نقض ظہر کے لفظیم عنے کم رتوڑ دینے یعنی کمر کو جھکا دینے کے ہیں جیسا کوئی بڑا بوجھ انسان پر لاد دیا جائے تو اس کی کمر جھک جاتی ہے، اس آیت میں ارشاد یہ ہے کہ وہ بوجھ جس نے آپ کی کمر جھکا دی تھی ہم نے اس کو آپ سے ہٹا دیا۔ وہ بوجھ کیا تھا اس کی ایک تفسیر تو وہ ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں آچکی ہے کہ اس سے وہ جائز اور مباح کام ہیں جن کو بعض اوقات رسول اللہ ﷺ نے قرین حکمت و مصلحت سمجھ کر اختیار کرلیا بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مصلحت کیخلاف یا خلاف اولیٰ تھے رسول اللہ ﷺ کو اپنی علوشان اور تقریب الٰہی میں خاص مقام حاصل ہونے کی بناء پر ایسی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

غم بالائے غم! یہ اس ’وِزْر‘ (بوجھ) کی صفت ہے کہ اس نے تمہاری کمر توڑ رکھی تھی۔ یہ وہی بارغم ہے جو بعثت سے پہلے آپ کے دل پر اس سبب سے تھا کہ آپ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں و حیران تھے لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا پھر جب اللہ نے آپ پر ہدایت کی راہ کھول دی تو اس غم پر مزید اضافہ اس سبب سے ہوا کہ آپ کی پوری قوم اس کی دشمن بن کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس غم کو ’اَلَّذِیْ أَنقَضَ ظَہْرَکَ‘ (کمر شکن) کی صفت سے تعبیر کرنا کوئی مبالغہ نہیں بلکہ یکسر حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس ہدایت سے آپ کا سینہ کھول دیا اس کے متعلق آپ کا یہ احساس ایک امر فطری تھا کہ جس طرح اس نے آپ کے سینہ میں گھر کر لیا اسی طرح ہر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 2–3

2۔ 1 یہ بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے۔ اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ ﷺ کو گناہوں سے محفوظ رکھا، کسی بت کے سامنے آپ ﷺ سجدہ ریز نہیں ہوئے، کبھی شراب نوشی نہیں کی اور بھی دیگر برائیوں سے دامن کش رہے، تاہم معروف معنوں میں اللہ کی عبادت و اطاعت کا نہ آپ ﷺ کو علم تھا نہ آپ ﷺ نے کی، لیکن آپ ﷺ کے احساس و شعور نے اسے بوجھ بنا رکھا تھا اللہ نے اسے اتار دینے کا اعلان فرما کر آپ ﷺ پر احسان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: جب حضور اقدس ﷺ کو نبوت کی عظیم ذمہ داریاں سونپی گئیں تو شروع میں آپ نے ان کا زبردست بوجھ محسوس کیا، اس بوجھ کی وجہ سے شروع میں آپ بےچین رہتے تھے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ حوصلہ عطا فرمایا جس کے نتیجے میں آپ نے مشکل سے مشکل کام انتہائی اطمینان اور سکون کے ساتھ انجام دیئے، اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے اسی انعام کا تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 2–3

ووضعنا ............................ ظھرک (3:94) ” اور تم پر سے وہ باری بوجھ اتاردیا جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا “۔ یعنی دعوت اسلامی کا بوجھ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ آپ کی کمر ہی توڑ دے۔ ہم نے آپ کو شرح صدر عطا کیا اور یہ بوجھ ہلکا ہوگیا ، آپ کو کام کرنے کی توفیق دی ، آپ کے لئے دعوت کا کام آسان کردیا اور یہ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے لگی۔ وحی کا سلسلہ جاری ہوگیا اور بذریعہ وحی حقائق کا انکشاف ہونے لگا۔ اور یوں یہ دعوت دلوں میں اترنے لگی۔ اور بذریعہ وحی یہ کام نہایت آسانی ، نرمی اور سکون سے ہونے لگا۔ کیا آپ اس تبدیلی کو اس بوجھ میں محسوس نہیں کرتے جس نے آپ کی کمر توڑ دی اور اب یہ ہلکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–3

5 وحی کا اترنا اول سخت مشکل تھا۔ پھر آسان ہوگیا۔ یا منصب رسالت کی ذمہ داریوں کو محسوس کر کے خاطر شریف پر گرانی گزرتی ہوگی۔ وہ رفع کردی گئی۔ یا " وزر " سے وہ امور مباحہ مراد ہوں جو گاہ بگاہ آپ ﷺ قرین حکمت و صواب سمجھ کرلیتے تھے۔ اور بعد میں ان کا خلاف حکمت یا خلاف اولیٰ ہونا ظاہر ہوتا تھا اور آپ ﷺ بوجہ علو شان اور غایت قرب کے اس سے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے تو اس آیت میں ان پر مواخذہ نہ ہونے کی بشارت ہوئی۔ کذاروی عن بعض السلف۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ہمت عالی اور پیدایشی استعداد جن کمالات و مقامات پر پہنچنے کا تقاضا کرتی تھی۔ قلب مبارک کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 وزر کے دو مفہوم :۔ وِزْرَ کا لفظ بھاری بوجھ کے لیے آتا ہے اور اس کی جمع اوزار ہے لیکن اس کا اکثر استعمال معنوی بوجھ کے لیے ہوتا ہے بالخصوص بار گناہ اور کسی طرح کے بھی ذہنی بوجھ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہاں وزر سے مراد وہ ذہنی بوجھ ہے جو نبوت سے پہلے ہی آپ کو لاحق تھا۔ جب آپ اپنی قوم کو کفر و شرک کی گمراہیوں اور طرح طرح کی معاشرتی برائیوں میں مبتلا دیکھتے تھے تو آپ ﷺ پورے معاشرے کی اس حالت پر سخت دل گرفتہ رہتے تھے کہ کس طرح اس بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔ مگر اس کی کوئی صورت، کوئی طریقہ اور کوئی راہ نظر نہیں آتی تھی۔ بالآخر آپ پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور آپ ﷺ کو ٹھیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–3

2۔ وزر کے اصل معنی صرف بوجھ یا بار کے ہیں۔ الوزر الثقل (راغب) سو اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسا ایسا عظیم الشان بار آپ ﷺ پر تھا، جس سے آپ ﷺ اتنا گرانبار ہورہے تھے، اور قرآن کہتا ہے کہ وہ آپ سے دور کردیا گیا ؟ وہ بار صرف ایک ہی ہوسکتا ہے۔ قبل نبوت اپنی قوم کی حالت پر تاسف و حسرت اور ان کی فلاح واصلاح کی فکر، اس کا توڑتویوں ہوا کہ آپ ﷺ پر راہ ہدایت پوری تفصیلات کے ساتھ واضح کردی گئی، اور آپ ﷺ کے سپرد خلق کی رہنمائی کردی گئی۔ بعد نبوت سب سے بڑی فکر آپ ﷺ کو تبلیغ احکام اور اس کے نتائج کی رہی۔ قرآن مجید نے اس غم سے بھی آپ ﷺ کو یہ کہہ کر سبکدوش کردیا کہ آپ ﷺ پر کسی کے ایمان لانے نہ لانے کی کوئی ذمہ داری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–4

ووضعناعنک وزرک الذی انقض ظھرک وزر کے معنی بوجھ کے ہیں اور نقض کے معنی کمر توڑ دینے یعنی کمر جھکا دینے کے ہیں، اس آیت میں ارشاد یہ ہے کہ وہ بوجھ جس نے آپ ﷺ کی کمر جھکا دی تھی ہم نے اس کو آپ سے ہٹا دیا وہ بوجھ کیا تھا . بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ بوجھ جائز اور مباح کام ہیں جن کو بعض اوقات آپ ﷺ نے قرین حکمت و مصلحت سمجھ کر اختیار فرمایا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مصلحت کے خلاف یا خلاف اولی تھے رسول اللہ ﷺ کو اپنی علوشان اور تقرب الٰہی میں خاص مقام حاصل ہونے کی بنا پر ایسی چیزوں پر بھی سخت رنج و ملال اور صدمہ ہوتا تھا حق تعالیٰ نے اس آیت میں بشارت سنا کر وہ بوجھ آپ سے ہٹا دیا کہ ایسی چیزوں پر آپ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی انقض ظھرک . یعنی جس بار نے تمہاری پشت کو بھاری اور کمزور کردیا تھا ‘ ہم نے اس کو دور کردیا۔ جس طرح زیادہ بھاری بوجھ لادنے سے پالان شتر سے چرچراہٹ کی آواز پیدا ہوتی ہے ‘ جس کو نقیض کہا جاتا ہے ‘ اسی طرح زیادہ بار پڑنے سے جو تمہاری پشت سے آواز پیدا ہوگئی تھی ‘ اس کو ہم نے دور کردیا۔ یہ جملہ وِزْرَ کی صفت ہے۔ اگر وزر سے مراد غم فراق ہو تو مطلب کی وضاحت کے لیے کسی تکلف کی ضرورت نہیں کیونکہ غم فراق نے حضور ﷺ کی کمر کو کمزور کر ہی دیا تھا۔ اور اگر وزر سے احکام شرعیہ کی مشقت مراد ہو تو یہ معنی ہوگا کہ اگر تمہارا شرح صدر نہ کرتے اور بار ہلکا نہ کردیتے ‘ تو تکلیفی احکام کی مشقت تمہاری پشت کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–5

(2۔ 5) نیز ہم نے آپ سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ کی کمر ٹیڑھی کر رکھی تھی، یا یہ کہ بار نبوت، حضور ﷺ نے فرمایا بےشک۔ اور نیز ہم نے اذان، دعا، تشہد میں آپ کا ذکر بلند کردیا کہ جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ کا بھی ذکر ہوتا ہے اب فقر وفاقہ پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی فرماتے ہیں بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہے اور بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہونے والی تو دو فراخیوں کے درمیان ایک تنگی کا ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

ووضعنا عنک وزرک…: بوجھ اتار دینے سے مراد وحی الٰہی برداشت کرنے کی استعداد پیدا کرنا ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(انا سنلقی علیک قولاً ثقیلاً) (المزمل : 5)”یقیناً ہم تجھ پر ایک بھاری بات نازل کریں گے۔“ حدیث میں ہے کہ جب آپ ﷺ پر وحی اترتی تو اس کے بوجھ سے وہ اونٹنی جس پر آپ سوار ہوتے بیٹھ جاتی (مسند احمد : 6/18 ، ح : 23868، سندہ صحیح) اس کے علاوہ نبوت کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی مراد ہے، جسے آپ بہت شدت سے محسوس کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا :(لعلک باخع نفسک الا یکونوا مومنین) (الشعرائ : 3)”شاید آپ اپنے آپ کو اس لئے ہلاک کرلیں گے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–3

ووضعنا عنک۔۔۔ تا۔۔۔۔ ظھرک۔ ووضعنا عنک وزرک۔ ہم نے آپ سے گناہ کو اتار دیا۔ حضرت انس نے وحللنا وحططنا بھی پڑھا ہے حضرت ابن مسعود نے اسے وحللناعنک وقرک پڑھا ہے۔ یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے لیغفرک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نبوت سے قبل جو کچھ تھا اس کو آپ سے دور کردیا، وزر کا معنی گناہ ہے معنی یہ ہوگا کہ دورجاہلیت کے جن معمولات میں آپ عمل پیرا تھے ان کو آپ سے دور کردیا کیونکہ نبی کریم کے اکثر معمولات زندگی اپنی قوم جیسے تھے اگرچہ آپ نے کسی بت کی کبھی بھی عبادت نہ کی، قتادہ، حسن بصری اور ضحاک نے کہا، نبی کریم کے کچھ اعمال تھے جنہوں نے آپ کو بوجھل کررکھا تھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–3

6۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووضعنا عنک وزرک یعنی آپ کے گناہ کو دور کردیا آیت الذی انقض ظہرک۔ جس نے آپ کی کمر جھکادی تھی۔ یعنی جو بھاری بوجھ تھا۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے شریح بن عبید الحضرمی (رح) سے آیت ووضعنا عنک وزرک کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے آپ کے لیے آپ کے گناہوں کو بخش دیا۔ رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ ہر جگہ ہوتا ہے 8۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت وحللنا عنک وقرک اور ہم نے اتاردیا آپ سے آپ کے بھاری بوجھ کو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِيٓ انقَضَ : وہ (بوجھ) جس نے ٹوٹنے کے قریب کیا ][ ظَهْرَكَ : آپ ﷺ کی پیٹھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–3

﴿ وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ002 الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ003﴾ (اور ہم نے آپ کا وہ بوجھ اٹھا دیا یعنی دور کردیا جس نے آپ کی کمر توڑ دی) اس بوجھ سے کون سا بوجھ مراد ہے، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت سورة ٴ فتح کی آیت ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ ﴾ کے ہم معنی ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ چھوٹے موٹے اعمال جو آپ سے لغزش کے طور پر بلا ارادہ یا خطاء اجتہادی کے طور پر صادر ہوئے ان کا جو بوجھ آپ محسوس کرتے تھے اور اس بوجھ کا اس قدر احساس تھا کہ اس احساس نے آپ کی کمر توڑ دی تھی یعنی خوب زیادہ بوجھل بنا دیا تھا، وہ بوجھ ہم نے ہٹا دیا یعنی سب کچھ معاف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

بشارت بانشراح صدر ورفع گرانی قلب وازالہ شدائد ہمت شکن : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم نشرح لک صدرک ....... الی ......... والی ربک فارغب “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر رب العالمین کی طرف سے فائز کردہ انعامات خاصہ کا ذکر تھا اور اسی کے ضمن میں آپ کے معالی اخلاق اور محاسن اوصاف بھی بیان کردیئے گئے تھے، اب اس سورت میں مزید ایک انعام شرح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر کمال یقین استقامت اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–3

3:۔ ” ووضعنا “ ، وزر سے کفر و شرک اور معاصی کا بوجھ مراد ہے۔ یعنی ہم نے کفر و شرک اور دیگر معاصی کا بوجھ ہٹا دیا اور ان کو آپ کے قریب تک نہیں آنے دیا اور آپ کو ان سے بالکلیہ محفوظ رکھا۔ ” الذی انقض ظھرک “ ماضی بمعنی مستقبل ہے یعنی آپ کو ایسے تمام گناہوں سے محفوظ رکھا کہ اگر ان میں سے ایک بھی آپ سے ایسا کوئی گناہ صادر ہوجاتا تو آپ کی کمر توڑ دیتا مگر واقع میں ایسا نہیں ہوا اور ہم نے آپ سے ایسا کوئی گناہ صادر نہیں ہونے دیا یا وزر سے زلات مراد ہیں جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” عفا اللہ عنک لم اذنت لہم الخ “ (توبہ رکوع 7) ۔ اور ” وماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض الخ “ (انفال رکوع 9) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

پہلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة دراصل پہلی سورة والضحی کا تتمہ ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر کئے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں بعض احکام صادر فرمائے تھے۔ اس سورة میں بھی بعض اضافی انعامات کا ذکر ہے جو رب کریم نے نبی علیہ اسللام پر کئے یہاں بھی سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے بعض احکام ہیں۔ شرح صدر سورة کی ابتداء احسانات کے تذکرہ سے ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان احسان شرح صدر ہے ، جو حضور ﷺ پر کیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ یہاں پر استفہامیہ طریقے سے بات کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یقینا آپ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْٓ اَنْقَضَ ظَہْرَكَ۝ 3 ۙ نقض النَّقْضُ : انْتِثَارُ العَقْدِ مِنَ البِنَاءِ والحَبْلِ ، والعِقْدِ ، وهو ضِدُّ الإِبْرَامِ ، يقال : نَقَضْتُ البِنَاءَ والحَبْلَ والعِقْدَ ، وقد انْتَقَضَ انْتِقَاضاً ، والنِّقْضُ المَنْقُوضُ ، وذلک في الشِّعْر أكثرُ ، والنَّقْضُ كَذَلِكَ ، وذلک في البِنَاء أكثرُ «2» ، ومنه قيل للبعیر المهزول : نِقْضٌ ، ومُنْتَقِض الأَرْضِ من الكَمْأَةِ نِقْضٌ ، ومن نَقْضِ الحَبْل والعِقْد استُعِيرَ نَقْضُ العَهْدِ. قال تعالی: الَّذِينَ عاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ [ الأنفال/ 56] ، الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ [ البقرة/ 27] ، ( ن ق ض ) النقض یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب ¦ الم نشرح الخ الاستفہام تقریری والمعنی قد شرحنا لک صدرک ووضعنا عنک معطوف علی معنی ماتقدم وعنک متعلق بوضعنا و تقدیمہ علی المفعول الصریح مع ان حقہ التاخر لتعجیل المسرۃ والتشویق المؤخر الذی الخ وصف الوزر ورفعنا الخ معطوف علی السابق یسرا اسم ان مع العسر خبرھا والعسرفی الموضعین واحد لان المعرفۃ اذا اعیدت یرادبھا الاول والیسر غیر الاول ولذا قال النبی ﷺ لن یغلب عسریسرین ان اللہ یقول ان مع العسریسرا الخ۔ اخرجہ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان وغیرھم تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ و ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں آٹھ آیات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ۔ الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ ۔ (النشرح : 2، 3) (اور ہم نے اتار دیا ہے آپ سے آپ کا بوجھ۔ جو آپ کی کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ ) نبوت اور نزول قرآن نے آپ کے شدید احساس کا بند تالا کھول دیا نبوت سے پہلے اپنی طبع سلیم اور خداداد معصومیت کے باعث نہ صرف کہ کسی ایسے کام کے قریب نہیں جاتے تھے جن کاموں میں آپ کی قوم ملوث تھی، بلکہ آپ ان کاموں سے ایسی گھن محسوس کرتے تھے جس طرح ایک صاف ستھرا اور مہذب آدمی گندگی سے گھن محسوس کرتا ہے۔ آپ دیکھتے تھے کہ بےجان بتوں کو پوجا جارہا ہے، شرک اور مشرکانہ اوہام اور رسوم کا بازار گرم ہے، اخلاق کی گندگی اور بےحیائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، قمار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : والضحیٰ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ اپنے رب کی نعمت کو یاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ذات پر بےانتہا نعمتوں کا نزول فرمایا جن میں سر فہرست تین نعمتیں ہیں، جن کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ 1۔ وحی حفظ کرنے، اسے سمجھنے، پھر اسے بیان کرنے کے لیے آپ ﷺ کا سینہ کھول دیا گیا۔ 2۔ پیغام نبوت کو من وعن لوگوں تک پہچانے کا عظیم بوجھ آپ ﷺ کے لیے بہت حد تک آسان کردیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کام اور نام کو ہمیشہ کے لیے سربلند فرما دیا۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ ہر نیک کام کرنے سے پہلے اس کے لیے اسے انشراح صدر حاصل ہو، ایک داعی پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہوتا ہے کہ دعوت دینے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : الَّذِیْ اَنقَضَ ظَھْرَکَ (جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی) اس کو بوجھل کردیا یہاں تک کہ اس کے بوجھ سے تمہاری پشت میں آواز پیدا ہوگئی۔ انتقاضؔ پالان کی چرچراہٹ کی آواز۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” الذی انقض ظھرک “ آپ (علیہ السلام) کی پیٹھ پر بوجھ لاددیا جس نے اس کو کمزور کردیا حتیٰ کہ اس کی آواز سنی جاتی تھی اور عبدالعزیز بن یحییٰ اور ابو عبیدہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی ہم نے ہلکا کردیا۔ آپ (علیہ السلام) سے نبوت کی ذمہ داریوں اور بوجھ کو اور اس کے امر کے ساتھ قیام کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ سینے کے کھول دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے سینہ پر جو دل کا قلعہ کہلاتا ہے شیطان کا کسی طرح کا کچھ تسلط باقی نہیں رہا۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اور شیطان کے شیاطینوں میں سے ایک شیطان ہر شخص کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اللہ کے فرشتہ نیک کام کی رغبت دلانے کے لئے ہے اور شیطان برے کام کی رغبت کے لئے مگر میرے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے میرا ایسا فرمانبردار کردیا ہے کہ وہ بجائے برے کام کی رغبت کے نیک کام کی رغبت مجھ کو دلاتا رہتا ہے اسی مطلب کی صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس ؓ کی وہ روایت ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(الَّذِيْٓ اَنْقَضَ ) جس نے توڑ رکھا تھا۔ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا۔ ( ظَهْرَكَ ) آپ کی کمر کو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر۔ الفتح 2) ۔ تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے ان سب کو اللہ بخش دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(2) وضع وزر کی عنایت اور اس کا مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے اتار نہیں دیا آپ سے آپ کا وہ بوجھ جو توڑے ڈال رہا تھا آپ کی کمر کو ؟ یعنی وہ معنوی بوجھ جو کہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت پر لانے کے سلسلہ میں آپ کی انتہائی رحمت و شفقت کی بنا پر آپ کی حد درجہ حساس گرامی پر قوم کے فساد و بگاڑ کی وجہ سے سوار تھا، کہ ان کی اصلاح ہو تو کیسے ہو ؟ کفر و شرک اور بت پرستی کی اس گرم بازاری کا خاتمہ اور قلع قمع ہو تو کس طرح ہو ؟ اخلاق و کردار کے لحاظ سے حددرجہ بگڑی ہوئی اس قوم کو راہ راست پر لایا جائے تو کس طرح ؟ اور اس کے اس فساد و بگاڑ کو ختم کیا جائے تو کس طرح ؟ اور ان کو دوزخ کی آگ اور ابدی عذاب سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

نبی ﷺ کے لیے دنیا میں انعامات کی خوشخبری تشریح : بڑی ہی خوبصورت اور جامع سورت ہے اس میں بہت سے حقائق زندگی انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اللہ کی نعمتوں ' برکتوں ' فضل وکرم اور مہربانیوں کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ اور ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ سب کو برابر عطا کرتا ہے مگر یہاں خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے خاص طور سے ان پر مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پچھلی سورت میں بھی کیا گیا تھا۔ یہ احسان جتانے کے طور پر نہیں بلکہ تسلی دینے کے لیے ہمت بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ انسان ہونے کے ناطے گبھراہٹ ' پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الانشراح۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ آپ کا سینہ مبارکہ علم وحلم کے لیے اس قدر وسیع کردیا کہ دنیا کے تمام حکماء مل کر بھی اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں کرسکے ، قیامت تک کی ساری انسانیت کو دنیا وآخرت کے ہرمسئلے کا حل اور ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس قدر مشکلات برداشت کیں اور صدمات جھیلے کہ آپ ہی کی شان ہے اور آپ کے لیے وہ عظیم ذمہ داری کی ساری انسانیت کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور ظلم کو روک کر حق کا نفاظ کفر کو پھاڑ کر توحید کی روشنی مہیا کرنا اتنا بڑا بوجھ تھا کہ اس نے کمردوہری کردی مگر ہم نے ـآساں کردیا اور آپ کے نام نامی کو بلند کردیا کہ اپنے نام کے ساتھ کلمے کا جز بنادیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 10 یعنی آپ کے تمام گناہ معاف کردیئے یا منصب رسالت جیسی کٹھن ذمہ داری کو آپ پر آسان کردیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(94:3) الذی انقض ظھرک۔ یہ جملہ وزر کی صفت ہے۔ الذی اسم موصول انقص صلہ۔ ظھرک مضاف مضاف الیہ مل کر متعلق انقض۔ انقض ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب انقاض (افعال) مصدر سے۔ اس نے توڑ دی۔ اس نے جھکادی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ الم نشرح۔ کیا ہم نے نہیں کھول دیا۔ صدر۔ سینہ۔ وضعنا۔ ہم نے اتارا۔ ورز۔ بوجھ۔ انقض۔ توڑ دیا تھا۔ ظھر۔ پیٹھ۔ رفعنا۔ ہم نے بلند کردیا۔ فرغت۔ تو نے فراغت حاصل کرلی۔ انصب۔ (عبادت کی) تکلیف اٹھا۔ ارغب۔ رغبت کر۔ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1۔ شرح صدر 2۔ وضع و زر 3۔ اور رفع ذکر 1۔ سوالیہ اندازپر ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ہم نے آپ کو شرح صدر عطا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے آپ کے ہر اس بوجھ کو جو آپ کی کمر کو جھکائے دے رہا تھا آپ کے اوپر سے نہیں اتارا ؟ کیا ہم نے آپ کے ذکر کو بلند نہیں کیا ؟ نشرح کے معنی کھول دینا،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–3

(ف 2) اس بوجھ سے مراد امت کے گناہوں کا غم ہے جس میں قلب مبارک مشغول رہتا تھا مراد یہ ہے کہ ہم نے آپ کو مقبول شفاعت کرکے وہ غم دور کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–5

[2] سوال یہ ہے کہ وہ کون سا عظیم الشان بوجھ تھا جس سے آپ اس قدر گرانبار ہو رہے تھے کہ وہ آپ سے دور کردیا گیا ؟ وہ بوجھ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے یعنی قبل نبوت اپنی قوم کی حالت پر تاسف اور اس کی اصلاح کی فکر۔ اس کا توڑ یوں ہوا کہ آپ کو راہ ہدایت پوری تفصیلات کے ساتھ واضح کردی گئی اور آپ کے سپرد خلق کی رہنمائی کی گئی۔ بعد نبوت سب سے بڑی فکر آپ کو تبلیغ احکام اور اس کے نتائج کی رہی۔ قرآن نے اس غم سے بھی آپ کو یہ کہہ کر سبکدوش کردیا کہ آپ پر کسی کے ایمان لانے نہ لانے کی ذمہ داری نہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) جس نے آپ کی پیٹھ کو گراں بار کررکھا تھا - یعنی منصب رسالت کی ذمہ داریوں کو محسوس کرکے جو طبیعت پر گرانی تھی اس کو ہمنے شرح صدر کی برکت سے آپ پر ہلکا کردیا، ہوسکتا ہے کہ وحی کی گرانی کی طرف اشارہ ہو جو شروع شروع میں گراں معلوم ہوتی تھی یا زمانہ جاہلیت کی بعض نامناسب باتیں جواب شریعت کی روشنی میں نامناسب معلوم ہوئیں اس سے طبیعت مبارک پر گرانی ہوتی ہو کہ ان باتوں کا اب کیا ہوگا ان کی بشارت دی گئی ہو کہ وہ سب درگزر کردی گئیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی خلقی استعداد اور آپ کی علو ہمتی جن کمالات اور مقامات کے حصول کا تقاضا کرتی ہو اور حضور ﷺ کو ان کا حاصل کرنا دشوار معلوم ہوتا ہو اور ان کے عدم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ وزر سے مراد وہ مباح امور ہیں جو آپ سے احیانا بر بنا تصور کسی حکمت کے صادر ہوجاتے تھے اور بعد میں ان کا خلاف حکمت اور خلاف اولی ثابت ہوتا تھا اور آپ بوجہ علو شان وغایت قرب کے اس سے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے اس میں ان پر مواخذہ نہ ہونے کی بشارت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسا بوجھ جو آپ ﷺ کی پیٹھ توڑ رہا تھا 3 ؎ گزشتہ آیت میں جس چیز کو ( وزرک) سے تعبیر کیا گیا ہے زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت کردی ہے کہ وہ بوجھ ایسا بوجھ تھا جو آپ ﷺ کی کمر کو دوہرے کیے ہوئے تھا یا آپ ﷺ کی پشت کو جھکا رہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ نہایت زبردست اور شدید بوجھ تھا کوئی معمولی قسم کا بوجھ نہیں تھا۔ اس کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے کہ آپ ﷺ نے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ ﷺ حقیقت کی تلاش میں تھے اور جوں جوں وقت گزرتا گیا آپ ﷺ کی سرگردانی اور حیرانی بڑھتی ہی گئی لیکن حقیقت کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا آخر وہ وقت بھی آیا کہ آپ ﷺ کا اضطراب اس حد تک بڑھ گیا کہ قدرت ِ الٰہی یکبارگی جنبش میں آئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَ‌كَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَ‌كَ (And We removed from you your burden that had [ almost ] broken your back...94:2-3). The word wizr literally denotes 'burden' and the phrase naqd-uz-zahr means 'to break one's back as for instance when a heavy load is put on one's back, it bends'. This verse signifies that Allah had relieved him of his burden that was breaking his back. What was that burden or heavy load? One answer to this question is that now and then the Holy Prophet ﷺ did certain permissible deeds, thinking that they were of benefit and in the interest [ of spiritual…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 Some of the commentators have interpreted this to mean that before Prophethood, in the days of ignorance, the Holy Prophet (upon whom be peace) had happened to commit certain errors because of which he was feeling disturbed, and Allah by sending down this verse consoled and satisfied him, saying that He had forgiven him those errors. But jn our opinion it is a grave mistake to interpret this verse thus. In the first place, the word vizr dces not necessarily mean a sin, but it is also used for a heavy burden. Therefore, there is no reason why it should in every case be taken in the bad…

Read the full tafseer →