Ash-Sharh 94:4

Ash-Sharh · from ayah 4

94:4

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۟ؕوَرَفَعۡنَا لَـكَ ذِكۡرَكَؕ

اور تمہارا ذکر بلند کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And raised high for you your repute.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Sharh

All translations of 94:4

اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا ذکر بلند کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہمنے تیرا ذکر بلند کر دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارے تذکرے کو اونچا مقام عطا کردیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کردیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارا آواز بلند نہیں کیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کیا ہم نے بلند نہیں کردیا آپ کی خاطر آپ کے ذکر (و آوازہ) کو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کردیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے آپ ﷺ کے ذکر کو بلند کردیا ہے۔ (1)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارا ذکر بلند کیا

— محترمہ رفعت اعجاز

And did We not exalt your fame?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and We raised high your name.

— Muhammad Taqi Usmani

and We raised high your name.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And have We not raised high your fame

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And raised high for you your repute.

— Saheeh International

and granted you an exalted reputation?

— Muhammad Sarwar

And exalted for you your esteem?

— Muhammad Habib Shakir

And We have upraised for thee thy renown.

— Abdul Majid Daryabadi

And raised high the esteem (in which) thou (art held)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 94:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

یعنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة الْاِنْشِرَاح 3 یہ بات اس زمانہ میں فرمائی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فرد فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکہ تک محدود ہیں اس کا آوازہ دنیا بھر میں کیسے بلند ہوگا اور کیسی ناموری اس کو حاصل ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اس کو پورا کیا۔ سب سے پہلے آپ کے رفع ذکر کا کام اس نے خود آپ کے دشمنوں سے لیا۔ کفار مکہ نے آپ کو زک دینے کے لیے جو طریقے اختیار کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ حج کے موقع پر جب تمام عرب سے لوگ کھچ کھچ کر ان کے شہر میں آتے تھے، اس زمانہ میں کفار کے وفود حاجیوں کے ایک ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ورفعنا لک ذکر ک، رسول اللہ ﷺ کا رفع ذکر یہ ہے کہ تمام اسلامی شعائر میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کا نام مبارک لیا جاتا ہے جو ساری دنیا میں مناروں اور منبروں پر اشھد ان لا الہ الہ اللہ کے ساتھ اشھد ان محمداً رسول اللہ پکارا جاتا ہے اور دنیا میں کوئی سمجھدار انسان آپ کا نام بغیر تعظیم کے نہی لیتا اگرچہ وہ مسلمان بھی نہ ہو۔ فائدہ۔ یہاں تین نعمتوں کا ذکر ہے شرح صدر، وضع وزر، رفع ذکر، ان تینوں کو تین جملوں میں ذکر فرمایا ہے اور سب میں فعل اور مفعول کے درمیان ایک حرف لک یا عنک لایا گیا ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت اور خاص عظمت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب کام آپ کی خاطرکئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی کیا یہ بات نہیں ہے کہ ہم نے تمہارا آوازہ بلند کیا! ’لَکَ‘ جس طرح پہلی آیت میں اختصاص، تائید اور نصرت کے اظہار کے لیے ہے اسی طرح یہاں بھی ہے۔ یعنی تمہاری تقویت و حوصلہ افزائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارا ذکر دور دور تک پھیلا دیا۔ دعوت کا چرچا اطراف و اکناف میں: اس آیت سے سورہ کا زمانۂ نزول معین ہوتا ہے کہ یہ اس دور میں اتری ہے جب آپ کی دعوت کا چرچا عرب کے اطراف و اکناف میں پھیلنے لگا ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ مکہ کے سادات، جن کو نبی ﷺ نے سب سے پہلے دعوت دی، وہ تو ایک عرصہ تک دعوت اور داعی کی مخالفت پر جمے رہے لیکن حج کے موسم میں باہر کے جو لوگ آتے ان کے ذریعہ سے یہ دعوت مکہ کے اطراف،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–5

4۔ 1 یعنی جہاں اللہ کا نام آتا ہے وہیں آپ کا نام بھی آتا ہے، مثلا اذان، نماز، دیگر بہت سے مقامات پر، گزشتہ کتابوں میں آپ کا تذکرہ اور صفات کی تفصیل ہے۔ فرشتوں میں آپ کا ذکر خیر ہے آپ کی اطاعت کو اللہ نے اپنی اطاعت قرار دیا اور اپنی اطاعت کے ساتھ آپ کی اطاعت کا بھی حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

2: اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس ﷺ کے مبارک نام کو یہ بلند مقام عطا فرمایا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں پانچ وقت آپ کا مبارک نام اللہ تعالیٰ کے ساتھ مسجدوں سے بلند ہوتا ہے۔ نیز آپ کے مبارک تذکرے دنیا بھر میں انتہائی عقیدت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اور انہیں ایک عظیم عبادت قرار دیا جاتا ہے۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی الہ و اصحابہ وبارک وسلم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ورفعنا ................ ذکرک ( 4:94) ” اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آواز بلند کردیا “۔ آپ کا ذکر عالم بالا میں بلند ہونے لگا ، پوری زمین میں آپ کی دعوت کا غلغلہ بلندہوگیا۔ اس پوری کائنات میں آپ کا نام بلند ہوگیا اور پھر کلمہ طیبہ میں آپ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہ جب بھی کوئی کلمہ پڑھے گا آپ کا نام بلند ہوگا ، اس کے بعد آخر اور کیا مقام و مرتبہ ہوسکتا ہے ؟ یہ تو آپ کا ایک منفرد مقام ہے اور تمام مخلوقات کے مقابلے میں آپ کے لئے مخصوص ہے۔ ہم نے آپ کا ذکر لوح محفوظ میں کردیا کہ زمانے گزر جائیں گے ، نسلیں جائیں گی اور آئیں گی اور کروڑوں ہونٹ آپ کے اسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی پیغمبروں اور فرشتوں میں آپ ﷺ کا نام بلند ہے۔ دنیا میں تمام سمجھدار انسان نہایت عزت و وقعت سے آپ ﷺ کا ذکر کرتے ہیں۔ اذان، اقامت، خطبہ، کلمہ طیبہ اور التحیات وغیرہ میں اللہ کے نام کے بعد آپ ﷺ کا نام لیا جاتا ہے اور خدا نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں ساتھ کے ساتھ آپ ﷺ کی فرمانبرداری کی تاکید کی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 آپ کا ذکر بلند ہونے کے مختلف ذرائع پہلا ذریعہ خود کفار مکہ تھے :۔ آپ ﷺ کے ذکر خیر کی بلندی کا آغاز ابتدائے نبوت ہی سے شروع ہوگیا تھا اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ ہی سے لیا۔ مثل مشہور ہے۔ عدو شرے برانگیزد کہ خیر مادراں باشد (یعنی بعض دفعہ دشمن بھی ایس شرارتیں کرنے لگتا ہے جس میں ہماری بھلائی ہوتی ہے) کفار مکہ نے اسلام کو زک پہنچانے اور آپ ﷺ کی دعوت کے سدباب کے طور پر جو ذریعے اختیار کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ حج کے موقعہ پر تمام عرب قبائل حج کی غرض سے مکہ آتے تھے تو کفار نے آپس میں یہ طے کیا کہ ان وفود کو مل کر انہیں محمد ﷺ کی دعوت سے متنفر کیا جائے اور کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (چنانچہ کلمہ شہادت میں، اذان میں، اقامت میں، تشہد میں، خالق کے نام کے ساتھ ساتھ اگر مخلوق میں سے کسی کا نام آتا ہے تو وہ آپ ﷺ ہی کا) (آیت) ” رفعنا “۔ ضمیر متکلم قابل غور ہے۔ یہ آپ ﷺ کا آوازہ تو ہم نے بلند کر رکھا ہے، نہ کسی کی مخالفت چلنے پائی، نہ کسی معاند کی کوئی تدبیر کارگر ہونے پائی۔ لک۔ ل تخصیص کا ہے۔ یعنی ایسی رفعت آپ ہی کے لئے ہے، کوئی اس میں آپ ﷺ کا شریک نہیں۔ رفع ذکر “۔ (آوازۂ بلند) کی ایک فرد یہ بھی ہے کہ منکرین ومعاندین میں جو چوٹی کے سردار و اکابر ہیں، ان تک کو آپ ﷺ کی عظمت و جلالت کا اعتراف ہے، ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–4

ووضعناعنک وزرک الذی انقض ظھرک وزر کے معنی بوجھ کے ہیں اور نقض کے معنی کمر توڑ دینے یعنی کمر جھکا دینے کے ہیں، اس آیت میں ارشاد یہ ہے کہ وہ بوجھ جس نے آپ ﷺ کی کمر جھکا دی تھی ہم نے اس کو آپ سے ہٹا دیا وہ بوجھ کیا تھا . بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ بوجھ جائز اور مباح کام ہیں جن کو بعض اوقات آپ ﷺ نے قرین حکمت و مصلحت سمجھ کر اختیار فرمایا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مصلحت کے خلاف یا خلاف اولی تھے رسول اللہ ﷺ کو اپنی علوشان اور تقرب الٰہی میں خاص مقام حاصل ہونے کی بنا پر ایسی چیزوں پر بھی سخت رنج و ملال اور صدمہ ہوتا تھا حق تعالیٰ نے اس آیت میں بشارت سنا کر وہ بوجھ آپ سے ہٹا دیا کہ ایسی چیزوں پر آپ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ورفعنا لک ذکرک . بخاری نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل سے آیت : ورفعنا لک ذکرک کے معنی پو چھے۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : اللہ فرماتا ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں اس آیت اور حدیث کا تقاضا ہے کہ ملاء اعلیٰ (آسمانی ملائکہ) جب اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اسی کے ساتھ محمد ﷺ کا بھی ذکر کرتے ہیں اور یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا نام ساق عرش پر لکھا ہوا تھا۔ سورة البروج میں ہم لکھ چکے ہیں کہ بغوی نے اپنی اسناد سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ لوح محفوظ کے و سط میں لکھا ہوا ہے : لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–5

(2۔ 5) نیز ہم نے آپ سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ کی کمر ٹیڑھی کر رکھی تھی، یا یہ کہ بار نبوت، حضور ﷺ نے فرمایا بےشک۔ اور نیز ہم نے اذان، دعا، تشہد میں آپ کا ذکر بلند کردیا کہ جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ کا بھی ذکر ہوتا ہے اب فقر وفاقہ پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی فرماتے ہیں بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہے اور بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہونے والی تو دو فراخیوں کے درمیان ایک تنگی کا ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ورفعنا لک ذکرک : یعنی دنیا اور آخرت میں اپ کا نام بلند کیا، زمین کے مشرق و مغرب تک آپ کی امت کی حکومت پھیلا دی، کلمہ شہادت، اذان، اقامت اور خطبہ و تشہد وغیرہ میں اللہ کے نا م کے ساتھ آپ کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ اللہ کی اطاعت کے ساتھ آپ کی اطاعت فرض ہے، کوئی وقت ایسا نہیں جس میں کہیں نہ کہیں آپ کا ذکر خیر نہ ہو رہا ہے۔ قیامت کو اولاد آدم کی سیادت ، کوثر، لواء الحمد، مقام محمود اور شفاعت کبریٰ کے ساتھ آپ کا ذکر بلند ہوگا۔ (2) یہاں تین نعمتوں کا ذکر ہے، شرح صدر، وضع وزر اور رفع ذکر، تینوں کو بیان کرتے ہوئے ”لک“ یا ”عنک“ فرمایا، اس میں آپ ﷺ کی عزت افزائی کا اظہار ہو رہا ہے کہ یہ سب کچھ آپ کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ورفعنالک ذکرک۔ مجاہد نے کہا، یعنی آذان میں آپ کا نام بلند کیا، اس بارے میں حضرت حسان بن ثابت کے اشعار ہیں۔ وضم الالہ اسم النبی الی اسمہ اذاقال فی الخمس الموذن اشھد۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کا نام اپنے نام سے ملادیا جب پانچ آذانوں میں موذن اشھد کہتا ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ارشاد فرماتے ہیں میرا ذکر نہیں کیا گیا مگر تیرا میرے ساتھ ذکر کیا گیا آذان میں، اقامت میں، تشہد میں، جمعہ کے روز منبر پر، عیدالفطر کے دن، عیدالاضحی کے دن، ایام تشریق میں، عرفہ کے دن، جمروں کے قریب، صفا ومروہ پر، نکاح کے خطبہ میں اور مشرق ومغرب میں۔ اگر ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے جنت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

9۔ الشافی فی الرسالۃ وعبد الرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں مجاہد رحمہا للہ آیت ورفعنا لک زکرک کے بارے میں روایت کیا کہ میرا ذکر نہیں کیا جائے گا مگر میرے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا۔ یعنی آشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ۔ 10۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں قتادہ (رح) سے آیت ورفعنا لک ذکرک کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دنیا اور آخر میں بلند کردیا۔ کوئی خطیب کوئی تشہد پڑھنے وال اور کوئی نماز والا ایسا نہیں مگر وہ یہ اعلان کرتا ہے اشہد ان لا الہ الا اللہ۔ 11۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ : اور ہم نے بلند کیا آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے ذکر کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ004﴾ (اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا) اس کی تفصیل بہت بڑی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر کو اپنے ذکر کے ساتھ ملا دیا اذان میں، اقامت میں، تشہد میں، خطبوں میں، کتابوں میں، وعظوں میں، تقریروں میں، تحریروں میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عالم بالا میں بلایا آسمانوں کی سیر کرائی، سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا جب کسی آسمان تک پہنچتے تھے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دروازہ کھلواتے تھے، وہاں سے پوچھا جاتا تھا کہ آپ کون ہیں ؟ وہ جواب دیتے تھے کہ میں جبرائیل ہوں پھر سوال ہوتا تھا کہ آپ کے ساتھ کون ہے، وہ جواب دیتے تھے کہ محمد ﷺ ، اس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

بشارت بانشراح صدر ورفع گرانی قلب وازالہ شدائد ہمت شکن : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم نشرح لک صدرک ....... الی ......... والی ربک فارغب “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر رب العالمین کی طرف سے فائز کردہ انعامات خاصہ کا ذکر تھا اور اسی کے ضمن میں آپ کے معالی اخلاق اور محاسن اوصاف بھی بیان کردیئے گئے تھے، اب اس سورت میں مزید ایک انعام شرح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر کمال یقین استقامت اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” ورفعنا ‘ یہ دوسرا انعام ہے۔ ہم نے آپ کا بول بالا کردیا۔ آپ پر قرآن نازل فرمایا۔ قیامت تک مسلمان اسے پڑھتے پڑھاتے رہیں گے اور آپ کو ثواب ملتا رہے گا یا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے نام کے ساتھ تیرے نام کو بھی اونچا کردیا ہے مثلاً اذان و اقامت میں تشہد میں، خطبات میں عن ابن عباس قال : یقول لہ لا ذکرت الا ذکرت معی فی الاذان والاقامۃ والتشہد ویوم الجمعۃ علی المنابر ویوم الفطر ویوم الاضحی وایام التشریق و یوم عرفۃ عند الجمار وعلی الصفا والمروۃ وفی خطبۃ النکاح وفی مشارق الارض و مغاربہا (قرطبی ج 20 ص 107) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

پہلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة دراصل پہلی سورة والضحی کا تتمہ ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر کئے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں بعض احکام صادر فرمائے تھے۔ اس سورة میں بھی بعض اضافی انعامات کا ذکر ہے جو رب کریم نے نبی علیہ اسللام پر کئے یہاں بھی سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے بعض احکام ہیں۔ شرح صدر سورة کی ابتداء احسانات کے تذکرہ سے ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان احسان شرح صدر ہے ، جو حضور ﷺ پر کیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ یہاں پر استفہامیہ طریقے سے بات کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یقینا آپ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۝ 4 ۭ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( رع ) الرفع کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب ¦ الم نشرح الخ الاستفہام تقریری والمعنی قد شرحنا لک صدرک ووضعنا عنک معطوف علی معنی ماتقدم وعنک متعلق بوضعنا و تقدیمہ علی المفعول الصریح مع ان حقہ التاخر لتعجیل المسرۃ والتشویق المؤخر الذی الخ وصف الوزر ورفعنا الخ معطوف علی السابق یسرا اسم ان مع العسر خبرھا والعسرفی الموضعین واحد لان المعرفۃ اذا اعیدت یرادبھا الاول والیسر غیر الاول ولذا قال النبی ﷺ لن یغلب عسریسرین ان اللہ یقول ان مع العسریسرا الخ۔ اخرجہ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان وغیرھم تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ و ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں آٹھ آیات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَرَفَعْنَا لَـکَ ذِکْرَکَ ۔ (النشرح : 4) (اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کردیا۔ ) آپ کے نام اور آپ کے لائے ہوئے دین کا چار دانگ عالم میں چرچاکردیا جس زمانہ میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کوئی شخص سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کبھی ایسا ممکن بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت نبی کریم ﷺ چند ساتھیوں کے ہمراہ چھپ کر نمازیں ادا کررہے تھے۔ آپ کا چرچا اور آپ کا آوازہ وہ بھی مخالفانہ انداز میں مکہ کی حدود تک محدود تھا۔ اہل مکہ کی پوری کوشش تھی کہ باہر سے آنے والا کوئی شخص آپ سے ملنے نہ پائے تاکہ آپ کی دعوت باہر نہ پہنچے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں دشمنوں کو اس کا ذریعہ بنادیا۔ حج کے موقع پر تمام عرب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–6

فہم القرآن ربط کلام : نبوت کا بوجھ ہلکا کرنے کے ساتھ رب کریم نے آپ ﷺ کے نام اور کام کو بھی بلند وبالا فرمادیا۔ نبوت کی ذمہ داریوں میں سب سے مشکل کام لوگوں تک توحید کی دعوت پہنچانا ہے۔ جو لوگ نبوت سے پہلے آپ ﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے، دعوت توحید کی وجہ سے وہ اس قدر مخالف ہوگئے کہ انہوں نے اس بات پر تن من دھن کی بازی لگادی کہ نبی ﷺ کی دعوت کو کسی صورت آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے ہر حربہ استعمال کیا، یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ پر مختلف قسم کے الزامات لگائے اور آپ کو محمد کہنے کی بجائے مذمّم کہنے لگے۔ خاکم بدھن جس کا معنٰی ہے ملامت کیا ہوا۔ اس صورت حال میں نبی ﷺ کا پریشان ہونا ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا) آپ کے ذکر کو اس قدر بلند کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے ساتھ شہادت میں آپ کے ذکرکو ملا دیا۔ اسی طرح اذان، اقامت، خطبات اور تشہد اور قرآن کے بہت سے مقامات میں جیسے : اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ] المائدہ : 92[ ومن یطع اللہ ورسولہ ] النساء : 13 [ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہٗ ] التوبہ : 62[ اور اسی طرح نام کی نسبت اپنی طرف فرمائی رسول اللہ، نبی اللہ، اور آپ کا تذکرہ پچھلی کتابوں میں کردیا۔ وغیرہ ذلک۔ لکؔ کا فائدہ : وہ ہے جو طریقہ ابہام اور ایضاح میں جانا گیا ہے۔ کیونکہ الم نشرح لک سے یہ واضح سمجھا جاتا ہے۔ پھر صدرک کہہ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

ورفعنا لک ذکرک کی تفسیر 4 ۔” ورفعنا لک ذکرک “ ابوسعید خدری ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے جبرئیل (علیہ السلام) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا ” ورفعنا لک ذکرک “ تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے جب میرا تذکر کیا جائے گا آپ (علیہ السلام) کا میرے ساتھ تذکرہ کیا جائے گا اور حسن (رح) سے روایت ہے فرمایا ” ورفعنا لک ذکرک “ جب میرا تذکرہ ہوگا آپ (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوگا۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اذان، اقامت، تشہد اور منبروں پر خطبہ دینا مراد ہے اور اگر کوئی بندہ اللہ کی عبادت کرے اور اسکی ہر چیز میں تصدیق کرے اور یہ گواہی نہ دے کہ محمد ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ سینے کے کھول دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے سینہ پر جو دل کا قلعہ کہلاتا ہے شیطان کا کسی طرح کا کچھ تسلط باقی نہیں رہا۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اور شیطان کے شیاطینوں میں سے ایک شیطان ہر شخص کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اللہ کے فرشتہ نیک کام کی رغبت دلانے کے لئے ہے اور شیطان برے کام کی رغبت کے لئے مگر میرے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے میرا ایسا فرمانبردار کردیا ہے کہ وہ بجائے برے کام کی رغبت کے نیک کام کی رغبت مجھ کو دلاتا رہتا ہے اسی مطلب کی صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس ؓ کی وہ روایت ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

( وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ) یعنی ہم نے آپ کی قدرومنزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے مثلا اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد کا ذکر بلند کیا امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس امت کی طرف سے عطا کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–6

(3) رفع ذکر کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا ہم نے آپ کی خاطر بلند نہیں کردیا، آپ کے ذکر و آواز کو ؟ " سو کلمہ طیبہ میں اذان و اقامت میں، نماز ودرود میں، حج وعمرہ میں، خطبوں اور تقریروں میں، کتابوں اور رسالوں میں، جلسوں اور جلوسوں میں، ہر جگہ آپ کا نام نامی کمال ادب و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، اور اتنا اور اس قدر کہ چوبیس گھنٹوں کے پورے دور ایسے میں نہ کوئی وقت اس سے خالی ہے نہ کوئی جگہ، کیونکہ پورے کرہ ارضی پر ہر جگہ اپنے اپنے وقت پر اذان ہورہی ہوتی ہے، اور اسی طرح ہر جگہ اور ہر وقت اقامت ہورہی ہے، اور اسی طرح ہر جگہ اور ہر وقت اللہ پاک کی وحدانیت اور آنجناب کی رسالت کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

نبی ﷺ کے لیے دنیا میں انعامات کی خوشخبری تشریح : بڑی ہی خوبصورت اور جامع سورت ہے اس میں بہت سے حقائق زندگی انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اللہ کی نعمتوں ' برکتوں ' فضل وکرم اور مہربانیوں کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ اور ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ سب کو برابر عطا کرتا ہے مگر یہاں خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے خاص طور سے ان پر مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پچھلی سورت میں بھی کیا گیا تھا۔ یہ احسان جتانے کے طور پر نہیں بلکہ تسلی دینے کے لیے ہمت بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ انسان ہونے کے ناطے گبھراہٹ ' پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الانشراح۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ آپ کا سینہ مبارکہ علم وحلم کے لیے اس قدر وسیع کردیا کہ دنیا کے تمام حکماء مل کر بھی اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں کرسکے ، قیامت تک کی ساری انسانیت کو دنیا وآخرت کے ہرمسئلے کا حل اور ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس قدر مشکلات برداشت کیں اور صدمات جھیلے کہ آپ ہی کی شان ہے اور آپ کے لیے وہ عظیم ذمہ داری کی ساری انسانیت کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور ظلم کو روک کر حق کا نفاظ کفر کو پھاڑ کر توحید کی روشنی مہیا کرنا اتنا بڑا بوجھ تھا کہ اس نے کمردوہری کردی مگر ہم نے ـآساں کردیا اور آپ کے نام نامی کو بلند کردیا کہ اپنے نام کے ساتھ کلمے کا جز بنادیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی انبیاء اور فرشتوں میں آپ کا نام بلند کیا اور دنیا و آخرت میں آپ کے نام کا چرچا کیا۔ چناچہ کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا مگر اس کے ساتھ آپ کا نام ضرور لیتا ہے۔ کلمہ شہادت، اذان اقامت، خطبہ اور تشہد وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے نام کے بعد آپ کا نام لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں آپ کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(94:4) ورفعنا لک ذکر ک : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور کیا ہم نے آپ کے ذکر کا آوازہ بلند نہیں کیا۔ یعنی ہم نے آپ کے لئے آپ کا ذکر بلند کردیا۔ کیسے بلند کیا ؟ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ اتانی جبریل (علیہ السلام) وقال ان ربک یقول قتدری کیف رفعت ذکر ک قلت اللہ تعالیٰ اعلم بہ ۔ قال اذا ذکرت ذکرت معی۔ میرے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے اور کہا کہ آپ کا رب پوچھتا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے ذکر کو کیسے بلند کیا میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جبریل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ الم نشرح۔ کیا ہم نے نہیں کھول دیا۔ صدر۔ سینہ۔ وضعنا۔ ہم نے اتارا۔ ورز۔ بوجھ۔ انقض۔ توڑ دیا تھا۔ ظھر۔ پیٹھ۔ رفعنا۔ ہم نے بلند کردیا۔ فرغت۔ تو نے فراغت حاصل کرلی۔ انصب۔ (عبادت کی) تکلیف اٹھا۔ ارغب۔ رغبت کر۔ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1۔ شرح صدر 2۔ وضع و زر 3۔ اور رفع ذکر 1۔ سوالیہ اندازپر ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ہم نے آپ کو شرح صدر عطا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے آپ کے ہر اس بوجھ کو جو آپ کی کمر کو جھکائے دے رہا تھا آپ کے اوپر سے نہیں اتارا ؟ کیا ہم نے آپ کے ذکر کو بلند نہیں کیا ؟ نشرح کے معنی کھول دینا،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ذکر مصطفیٰ کی بلندی۔ (ف 3) حدیث شریف میں سید عالم نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے آیت کو دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کے ذکر کی بلندی ہی میں ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے ، میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اذان تکبیر میں تشہد میں منبروں پر خطبوں میں تو اگر کوئی اللہ کی عبادت کرے ہر بات میں اس کی تصدیق کرے اور سید عالم کی رسالت کی گواہی نہ دے تو یہ سب بیکار وہ کافر ہی رہے گا، قتادہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دنیا وآخرت میں بلند کیا، ہر خطیب ہر تشہد پڑھنے والا اشھد ان لا الہ الا الہ کے ساتھ اشھد ان محمدرسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–5

[2] سوال یہ ہے کہ وہ کون سا عظیم الشان بوجھ تھا جس سے آپ اس قدر گرانبار ہو رہے تھے کہ وہ آپ سے دور کردیا گیا ؟ وہ بوجھ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے یعنی قبل نبوت اپنی قوم کی حالت پر تاسف اور اس کی اصلاح کی فکر۔ اس کا توڑ یوں ہوا کہ آپ کو راہ ہدایت پوری تفصیلات کے ساتھ واضح کردی گئی اور آپ کے سپرد خلق کی رہنمائی کی گئی۔ بعد نبوت سب سے بڑی فکر آپ کو تبلیغ احکام اور اس کے نتائج کی رہی۔ قرآن نے اس غم سے بھی آپ کو یہ کہہ کر سبکدوش کردیا کہ آپ پر کسی کے ایمان لانے نہ لانے کی ذمہ داری نہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو بلند کیا - یعنی بہت سی جگہ اللہ کے نام کے ساتھ آپ کا نام بھی لیا جاتا ہے ایک دفعہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ میرے نام کا آواز بلند ہونے کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اذا ذکرت ذکرت معی کہ جب مجھے یاد کیا جائے گا تو آپ کو بھی یاد کیا جائے گا جیسے اذان و اقامت ، تشہد، خطبہ، کلمہ طیبہ ، کلمہ شہادت اطاعت کے کاموں میں جیسے اطیعواللہ واطیعوالرسول نافرمانی کی سزا میں ومن یعص اللہ ورسولہ نان لہ نار جھنم خالدین فیھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبروں میں اور فرشتوں میں آپ کا نام بلند ہے۔ آگے وعدہ ہے کہ ہم ہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

ف 7۔ یعنی اکثر جگہ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کا نام مبارک مقرون کیا گیا جیسے تشہد میں نماز میں اذان میں اقامت میں اور اللہ کے نام کی رفعت اور شہرت ظاہر ہے، پس جو اس کے قرین ہوگا رفعت و شہرت میں وہ بھی تابع رہے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور آپ ﷺ کے ذکر کو بھی ہم نے بلند کر دیا 4 ؎ جس طرح پہلی آیت میں ( لک) کا اختصاص ہے اور اسی طرح اس آیت میں بھی ہے وہاں بھی اس کو تائید و نصرت کے اظہار کے لیے بیان کیا ہے اور یہاں بھی مراد اس کی تائید و نصرت کا اظہار ہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کی تقویت اور حوصلہ افزائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا ذکر دور دور تک پھیلادیا ہے یا پھیلا دینے کا وعدہ کیا ہے گویا آپ ﷺ کو باور کرایا جا رہا ہے کہ مکہ والوں کی مخالفت آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کیونکہ مکہ سے باہر دور دور تک آپ ﷺ کے نام کا چرچا ہو رہا ہے اور آپ ﷺ کے کام کی باتیں سنی اور سنائی جا رہی ہیں ۔ اگر مکہ کے لوگ آپ ﷺ کا مذاق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَرَ‌فَعْنَا لَكَ ذِكْرَ‌كَ (and We raised high for you your name....94:4). The meaning of raising the name of the Holy Prophet ﷺ is that his blessed name is remembered together with the name of Allah in all the symbols of Islam, like the kalimah, the adhan, the iqamah, and in sermons from the minarets and pulpits [ throughout the world ]: اَشھَدُ اَنَّ لا إله إلا اللہ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُولُ اَلله (I bear witness that there is no God worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah.' No sensible person utters the Holy Prophet's ﷺ name without…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

3 This was said at a time when o one could even conceive how the renown of the one unique individual who had only a few followers confined only to the city of Makkah, would be exalted throughout the world, and what high fame he would achieve. But Allah Almighty gave His Messenger (upon whom be peace) this good news under those very conditions and then fulfilled it in a strange way. In the first place, he took from his enemies themselves the task of exalting his renown. One of the methods that the disbelievers of Makkah adopted to defeat his mission was that in the Hajj season when the…

Read the full tafseer →