Ash-Sharh 94:5

Ash-Sharh · from ayah 5

94:5

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۟ۙفَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا

ہاں ہاں مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For indeed, with hardship [will be] ease.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Sharh

All translations of 94:5

پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں ہاں مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو بیشک ہر دشواری کے ساتھ آسانی (آتی) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس بیشک ہر مشکل کے ساتھ ایک آسانی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ہر مشکل کے ساتھ آسانی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس یقینا تنگی (اور مشکل) کے ساتھ آسانی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

سو مشکلات کے ساتھ آسانی ہونے والی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

البتہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed, there is ease with hardship.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, undoubtedly, along with the hardship there is ease.

— Muhammad Taqi Usmani

So, undoubtedly, along with the hardship there is ease.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, along with every hardship is relief,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For indeed, with hardship [will be] ease.

— Saheeh International

After every difficulty there is relief.

— Muhammad Sarwar

Surely with difficulty is ease.

— Muhammad Habib Shakir

Then verily along with every hardship is ease.

— Abdul Majid Daryabadi

So, verily, with every difficulty, there is relief:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 94:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

یعنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة الْاِنْشِرَاح 3 یہ بات اس زمانہ میں فرمائی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فرد فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکہ تک محدود ہیں اس کا آوازہ دنیا بھر میں کیسے بلند ہوگا اور کیسی ناموری اس کو حاصل ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اس کو پورا کیا۔ سب سے پہلے آپ کے رفع ذکر کا کام اس نے خود آپ کے دشمنوں سے لیا۔ کفار مکہ نے آپ کو زک دینے کے لیے جو طریقے اختیار کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ حج کے موقع پر جب تمام عرب سے لوگ کھچ کھچ کر ان کے شہر میں آتے تھے، اس زمانہ میں کفار کے وفود حاجیوں کے ایک ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

فان مع العسر یسرٰ ، ان مع العسر یسراً ، عربی زبان کا قاعدہ یہ ہے کہ جس کلمہ کے شروع میں الف لام ہوتا ہے جس کو اصطلاح میں لام تعریف کہتے ہیں۔ اگر اسی کلمہ کو الف لام ہی کیساتھ مکرر لایا جائے تو اس کا مصداق وہی ہی ہوتا ہے جو پہلے کلمہ کا تھا اور اگر بغیر الف لام تعریف کے مکرر لایا جائے تو دونوں کے مصداق الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس آیت میں العسر جب مکرر آیا تو معلوم ہوا کہ اس سے وہ پہلا ہی عسر مراد ہے کوئی نیا نہیں اور لفظ یسراً دونوں جگہ بغیر الف لام کے لایا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دوسرا یسر پہلے یسر کے علاوہ ہے تو اس آیت میں ان مع العسر یسراً کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک ہی عسر و مشکل کے لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

اصل سبق: یہ وہ اصل سبق ہے جو اوپر کے پیش کر دہ شواہد کی روشنی میں دینا مقصود ہے اور جس کو اس سورہ کے عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا کہ جب تم اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ دیکھ رہے ہو تو اس کی اس سنت پر اطمینان رکھو کہ اس نے ’یُسْر‘ کا دامن ’عُسْر‘ کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یعنی آسانی ظاہر تو ہو گی ضرور لیکن آزمائش کے دور سے گزرنے کے بعد۔ سابق سورہ میں یہی حقیقت آفاق اور نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات سے ثابت کی گئی ہے۔ اس سورہ میں خاص حضور کی زندگی کے تجربات ہی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ زیادہ موثر ہو سکیں۔ ایک خاص نکتہ: یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ ایک ہی بات دو مرتبہ فرمائی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–5

4۔ 1 یعنی جہاں اللہ کا نام آتا ہے وہیں آپ کا نام بھی آتا ہے، مثلا اذان، نماز، دیگر بہت سے مقامات پر، گزشتہ کتابوں میں آپ کا تذکرہ اور صفات کی تفصیل ہے۔ فرشتوں میں آپ کا ذکر خیر ہے آپ کی اطاعت کو اللہ نے اپنی اطاعت قرار دیا اور اپنی اطاعت کے ساتھ آپ کی اطاعت کا بھی حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

2: اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس ﷺ کے مبارک نام کو یہ بلند مقام عطا فرمایا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں پانچ وقت آپ کا مبارک نام اللہ تعالیٰ کے ساتھ مسجدوں سے بلند ہوتا ہے۔ نیز آپ کے مبارک تذکرے دنیا بھر میں انتہائی عقیدت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اور انہیں ایک عظیم عبادت قرار دیا جاتا ہے۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی الہ و اصحابہ وبارک وسلم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

” پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی لازمی ہے اور مشکل کے بعد آسانیاں ہوتی ہیں۔ اور اے نبی یہ آپ کے ساتھ بھی لازم رہی ہے۔ جب آپ پر دعوت کا بوجھ بھاری ہوگیا تو ہم نے آپ کا دل کھول دیا ، یوں آپ کا بوجھ ہلکا ہوگیا جس نے آپ کی کمر توڑ دی تھی لہٰذا مشکل کے ساتھ ہی آسانی جڑی رہی اور یہ بھاری بوجھ ہلکا ہوگیا۔ یہ اصول ایک اٹل اصول ہے ، اس لئے اسے انہی الفاظ میں مکرر لایا گیا ہے۔ فان مع ........................ یسرا (6:94) ” پس حقیت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔ یہ تکرار اس بات کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

7 یعنی اللہ کی رضا جوئی میں جو سختیاں آپ ﷺ نے برداشت کیں اور رنج و تعب کھینچے۔ ان میں سے ہر ایک سختی کے ساتھ کئی کئی آسانیاں ہیں۔ مثلاً حوصلہ فراخ کردینا جس سے ان مشکلات کا اٹھانا سہل ہوگیا، اور ذکر کا بلند کرنا، جس کا تصور بڑی بڑی مصیبتوں کے تحمل کو آسان کردیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب ہم نے آپ ﷺ کو روحانی راحت دی اور روحانی کلفت رفع کردی جیسا کہ " الم نشرح " الخ سے معلوم ہوا تو اس سے دنیاوی راحت و محنت میں بھی ہمارے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہیے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بیشک موجودہ مشکلات کے بعد آسانی ہونے والی ہے اور تاکید مزید کے لئے پھر کہتے ہیں کہ ضرور موجودہ سختی کے بعد آسانی ہو کر رہے گی۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–7

4 ان دو آیات میں بہ تکرار آپ ﷺ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر اس وقت آپ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو عنقریب مصائب کے یہ بادل چھٹ جائیں گے اور اتنی ہی آپ کو سہولتیں اور آسانیاں میسر آئیں گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ تنگی کے بعد آسانی ہے بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت جلد یہ صورت حال بدل جانے والی ہے۔ اس طرح آپ ﷺ کو اور مسلمانوں کو تسلی بھی دے دی گئی کہ وہ یہ مشکل وقت حوصلہ اور صبر کے ساتھ برداشت کریں بس تھوڑی ہی دیر بعد کایا پلٹ جانے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

4۔ (اور اس پر یقین واعتماد رکھیے کہ عناد ومخالفت کے یہ سارے بادل چھٹ کر رہیں گے اور مظفر ومنصور آپ ہی ہوں گے) آیت کی تکرار، وعدہ کی تاکید کے لیے ہے، تاکہ مسلمانوں کے دل بڑھے ہوئے رہیں۔ اور ان پرامید کا پہلو غالب رہے۔ کر رہ لتاکید الوعد وتعظیم الرجاء (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–8

فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً مشہور قاعدہ ہے کہ معرفہ کو اگر بعینہ مکرر لایا جائے تو اس کا مصداق وہی ہوتا ہے جو پہلے کلمہ کا تھا اور اگر بغیر الف لام تعریف کے مکرر لایا جائے تو دونوں کے مصداق اگ الگ ہوتے ہیں اس آیت میں العسر مکرر آیا ہے، تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلا ہی عسر مراد ہے اور لفظ یسر دونوں جگہ بغیر الف لام کے نکرہ لایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ دوسرا یسر پہلییسر کے علاوہ ہے تو اس آی میں ان مع العسر یسراً کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک ہی عسر کے لئے دو آسانیو کا وعدہ ہے اور دو سے بھی خاص دو کا عدد مراد نہیں بلکہ متعدد ہونا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ایک عسر کے ساتھ متعدد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان مع العسر یسرا . یعنی جس دشواری میں آپ ہیں ‘ اسکے ساتھ بڑی سہولت بھی ہے۔ یسرًا میں تنوین یسر کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے۔ یہ جملہ گویا کلام محذوف کی علت ہے۔ گویا اصل کلام یوں تھا کہ آپ ﷺ پر جو دشواری پڑی ہے اس سے آپ ﷺ رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ عسر کے ساتھ یسر بھی آئے گا۔ بعض لوگوں نے دوسری آیت میں یسرًا کی تنوین کو وعدہ کی تاکید اور امید کی تعظیم کے لیے قرار دیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ از سر نو وعدہ ہے (وعدۂ سابقہ کی تاکید نہیں ہے) مطلب یہ ہے کہ عسر کے ساتھ ایک دوسرا یسر بھی آئے گا۔ عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں اور حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں مرسل حدیث نقل کی ہے کہ جب یہ آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–5

(2۔ 5) نیز ہم نے آپ سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ کی کمر ٹیڑھی کر رکھی تھی، یا یہ کہ بار نبوت، حضور ﷺ نے فرمایا بےشک۔ اور نیز ہم نے اذان، دعا، تشہد میں آپ کا ذکر بلند کردیا کہ جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ کا بھی ذکر ہوتا ہے اب فقر وفاقہ پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی فرماتے ہیں بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہے اور بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہونے والی تو دو فراخیوں کے درمیان ایک تنگی کا ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–6

(1) فان مع العسر یسراً …: اس میں آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے بشارت ہے کہ مشکلات کے دن تھوڑے ہیں، ہر مشلک کے بعد بلکہ اس کے ساتھ ہی آسانی شروع ہوجاتی ہے۔”ان مع العسر یسراً“ کا یہی مطلب ہے۔ دوسری بشارت یہ ہے کہ ایک ایک مشکل کے ساتھ دو دو آسانیاں ہیں۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے ان کی سند کے ساتھ حسن بصری ؒ کا قول نقل کیا ہے، انہوں نے فرمایا :”کانوا یقولون لا یغلب عسر واحد یسرین اثنین“”وہ (صحابہ) کہا کرتے تھے کہ ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔“ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ ابن کثیر نے اس کی تفصیل یہ بیان فرمیئا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دہرا کر یہ بات…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–8

فان مع العسریسرا، ان مع العسر یسرا۔ بے شک تنگی اور سختی کے ساتھ آسانی یعنی وسعت اور غنا ہے پھر اسی ارشاد کو مکررذکر کیا ایک قوم نے یہ کہا یہ تکرار کلام کی تاکید ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ارم ارم، پھینکو پھینکو۔ اعجل اعجل جلدی کرو، جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلا سوف تعلمون ثم کلاسوف تعلمون۔ ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے پھر ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے اس کی مثال جواب کے تکرار میں ہے، بلی، بلی، لا، لا، یہ اطناب اور مبالغہ کے لیے ہے، یہ فراء کا قول ہے اس معنی میں شاعر کا قول ہے، ھمت بنفسی بعض الھموم، فاولی لنفسی اولی لھا۔ میں نے اپنے بارے میں ایسے امور کا ارادہ کیا جو میرے لیے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

19۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے یعنی پیچھے آتی ہے ہر تنگی کے بعد آسانی۔ 20۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا بیشک ہر مشکل کے ساتھ آصانی ہے بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ہر کو ذکر گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے ساتھ اپنے اصحاب کو خوشخبری دی۔ اور فرمایا ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آئے گی۔ 21۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن مردویہ نے حسن (رح) سے روایت کیا جب یہ آیت ان مع العسر یسرا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم خوش ہوجاؤ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَان مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا : پس یقینا سختی کے ساتھ ایک نرمی ہے ] نوٹ 4: آیات۔ 5 ۔ 6 ۔ سے پہلے جو باتیں کہی گئیں ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کا سینہ کھولا۔ آپ ﷺ سے آپ ﷺ کا بوجھ بٹایا۔ آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا۔ لیکن ان آیات میں یہ نہیں کہا کہ آپ ﷺ کی مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بلکہ بات کو عمومی انداز میں کہا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل آفاقی صداقت (Classical Truth) کا بیان ہے یہ ایک ایسا قاعدہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی رائج تھا۔ البتہ حیات طیبہ کے دوران وہ اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ لیکن اس کے بعد یہ قاعدہ ختم نہیں ہوگیا۔ بلکہ آج بھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–6

﴿فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاۙ005 اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاؕ006﴾ (بےشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ جو مشکلات درپیش ہیں یہ ہمیشہ نہیں رہیں گی اور اسے مستقل ایک قانون کے طریقہ پر بیان فرما دیا کہ بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے اس کلمہ کو دو مرتبہ فرمایا جو آپ کے لیے بہت زیادہ تسلی کا باعث ہے، آپ کے بعد آنے والے آپ کی امت کے افراد و اشخاص جب آپ کے بتائے ہوئے کاموں میں لگیں اور دینی دعوت میں مشغول ہوں تو مشکلات سے پریشان نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ سے ان کے دور ہونے کی امید رکھیں، ابتدا میں مشکلات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

بشارت بانشراح صدر ورفع گرانی قلب وازالہ شدائد ہمت شکن : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم نشرح لک صدرک ....... الی ......... والی ربک فارغب “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر رب العالمین کی طرف سے فائز کردہ انعامات خاصہ کا ذکر تھا اور اسی کے ضمن میں آپ کے معالی اخلاق اور محاسن اوصاف بھی بیان کردیئے گئے تھے، اب اس سورت میں مزید ایک انعام شرح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر کمال یقین استقامت اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5:۔ ” فان مع العسر “ کافر کہتے تھے تمام مسلمان محتاج ہیں اس لیے نبی علیہ الصلوہ والسلام کے دل میں خیال گذرا کہ شاید کافر اسی وجہ سے ایمان نہیں لاتے تو فرمایا دیکھو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کس قدر انعامات فرمائے ہیں۔ وہ فقر و فاقہ کو بھی دور فرما دے گا کیونکہ ہر سختی کے بعد آسانی اور تنگی کے بعد فراخی آتی ہے۔ تائید :” ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منہم الخ “ (طہ رکوع 7) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

پہلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة دراصل پہلی سورة والضحی کا تتمہ ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر کئے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں بعض احکام صادر فرمائے تھے۔ اس سورة میں بھی بعض اضافی انعامات کا ذکر ہے جو رب کریم نے نبی علیہ اسللام پر کئے یہاں بھی سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے بعض احکام ہیں۔ شرح صدر سورة کی ابتداء احسانات کے تذکرہ سے ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان احسان شرح صدر ہے ، جو حضور ﷺ پر کیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ یہاں پر استفہامیہ طریقے سے بات کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یقینا آپ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 5–6

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۝ 5 ۙ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۝ 6 ۭ عسر العُسْرُ : نقیض الیسر . قال تعالی: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً [ الشرح/ 5- 6] ، والعُسْرَةُ : تَعَسُّرُ وجودِ المالِ. قال : فِي ساعَةِ الْعُسْرَةِ [ التوبة/ 117] ، وقال : وَإِنْ كانَ ذُو عُسْرَةٍ [ البقرة/ 280] ، وأَعْسَرَ فلانٌ ، نحو : أضاق، وتَعَاسَرَ القومُ : طلبوا تَعْسِيرَ الأمرِ. وَإِنْ تَعاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرى[ الطلاق/ 6] ، ويَوْمٌ عَسِيرٌ: يتصعّب فيه الأمر، قال : وَكانَ يَوْماً عَلَى الْكافِرِينَ عَسِيراً [ الفرقان/ 26] ، يَوْمٌ عَسِيرٌ عَلَى الْكافِرِينَ غَيْرُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب ¦ الم نشرح الخ الاستفہام تقریری والمعنی قد شرحنا لک صدرک ووضعنا عنک معطوف علی معنی ماتقدم وعنک متعلق بوضعنا و تقدیمہ علی المفعول الصریح مع ان حقہ التاخر لتعجیل المسرۃ والتشویق المؤخر الذی الخ وصف الوزر ورفعنا الخ معطوف علی السابق یسرا اسم ان مع العسر خبرھا والعسرفی الموضعین واحد لان المعرفۃ اذا اعیدت یرادبھا الاول والیسر غیر الاول ولذا قال النبی ﷺ لن یغلب عسریسرین ان اللہ یقول ان مع العسریسرا الخ۔ اخرجہ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان وغیرھم تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ و ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں آٹھ آیات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ (النشرح : 5، 6) (پس یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کا مستقل قانون یہی وہ اصل حقیقت ہے جو اوپر کے بیان کردہ شواہد کی روشنی میں بیان کرنا مقصود ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک مستقل قانون ہے کہ ہر یعسر کا دامن عسر کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یعنی آسانی ظاہر ضرور ہوتی ہے لیکن آزمائش کے دور سے گزرنے کے بعد۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اسے دو مرتبہ دہرایا گیا ہے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں۔ ان کے جلدی بعد اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–6

فہم القرآن ربط کلام : نبوت کا بوجھ ہلکا کرنے کے ساتھ رب کریم نے آپ ﷺ کے نام اور کام کو بھی بلند وبالا فرمادیا۔ نبوت کی ذمہ داریوں میں سب سے مشکل کام لوگوں تک توحید کی دعوت پہنچانا ہے۔ جو لوگ نبوت سے پہلے آپ ﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے، دعوت توحید کی وجہ سے وہ اس قدر مخالف ہوگئے کہ انہوں نے اس بات پر تن من دھن کی بازی لگادی کہ نبی ﷺ کی دعوت کو کسی صورت آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے ہر حربہ استعمال کیا، یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ پر مختلف قسم کے الزامات لگائے اور آپ کو محمد کہنے کی بجائے مذمّم کہنے لگے۔ خاکم بدھن جس کا معنٰی ہے ملامت کیا ہوا۔ اس صورت حال میں نبی ﷺ کا پریشان ہونا ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ سینے کے کھول دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے سینہ پر جو دل کا قلعہ کہلاتا ہے شیطان کا کسی طرح کا کچھ تسلط باقی نہیں رہا۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اور شیطان کے شیاطینوں میں سے ایک شیطان ہر شخص کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اللہ کے فرشتہ نیک کام کی رغبت دلانے کے لئے ہے اور شیطان برے کام کی رغبت کے لئے مگر میرے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے میرا ایسا فرمانبردار کردیا ہے کہ وہ بجائے برے کام کی رغبت کے نیک کام کی رغبت مجھ کو دلاتا رہتا ہے اسی مطلب کی صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس ؓ کی وہ روایت ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–6

(فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا) بیشک تنگی کے ساتھ آسای ہے بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ایک عظیم الشان خوش خبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائے جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہوگی حتی کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہوجائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہوگی۔ اور اسے باہر نکال لائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سیجعل اللہ بعد عسرایسرا۔ الطلاق۔ 7) عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا اور جیسا کہ نبی اکرم نے فرمایا تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔ دونوں آیات کریمہ میں العسر کو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–6

زندگی میں تنگی اور فراخی قول باری ہے (فان مع العسریسر ان مع العسر یسرا۔ پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد المروزی نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے حسن سے قول باری (ان مع العسر یسرا) کی تفسیر میں بیان کیا کہ ایک دن حضور ﷺ مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے (لن یغلب عسر یسرین، لن یغلب عسر یسرین ان مع العسریسرا۔ ایک تنگی دو فراخی پر غالب نہیں آسکتی، ایک تنگی دو فراخی پر غالب نہیں آسکتی۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے جس تنگی کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–6

(3) رفع ذکر کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا ہم نے آپ کی خاطر بلند نہیں کردیا، آپ کے ذکر و آواز کو ؟ " سو کلمہ طیبہ میں اذان و اقامت میں، نماز ودرود میں، حج وعمرہ میں، خطبوں اور تقریروں میں، کتابوں اور رسالوں میں، جلسوں اور جلوسوں میں، ہر جگہ آپ کا نام نامی کمال ادب و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، اور اتنا اور اس قدر کہ چوبیس گھنٹوں کے پورے دور ایسے میں نہ کوئی وقت اس سے خالی ہے نہ کوئی جگہ، کیونکہ پورے کرہ ارضی پر ہر جگہ اپنے اپنے وقت پر اذان ہورہی ہوتی ہے، اور اسی طرح ہر جگہ اور ہر وقت اقامت ہورہی ہے، اور اسی طرح ہر جگہ اور ہر وقت اللہ پاک کی وحدانیت اور آنجناب کی رسالت کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

نبی ﷺ کے لیے دنیا میں انعامات کی خوشخبری تشریح : بڑی ہی خوبصورت اور جامع سورت ہے اس میں بہت سے حقائق زندگی انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اللہ کی نعمتوں ' برکتوں ' فضل وکرم اور مہربانیوں کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ اور ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ سب کو برابر عطا کرتا ہے مگر یہاں خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے خاص طور سے ان پر مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پچھلی سورت میں بھی کیا گیا تھا۔ یہ احسان جتانے کے طور پر نہیں بلکہ تسلی دینے کے لیے ہمت بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ انسان ہونے کے ناطے گبھراہٹ ' پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الانشراح۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ آپ کا سینہ مبارکہ علم وحلم کے لیے اس قدر وسیع کردیا کہ دنیا کے تمام حکماء مل کر بھی اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں کرسکے ، قیامت تک کی ساری انسانیت کو دنیا وآخرت کے ہرمسئلے کا حل اور ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس قدر مشکلات برداشت کیں اور صدمات جھیلے کہ آپ ہی کی شان ہے اور آپ کے لیے وہ عظیم ذمہ داری کی ساری انسانیت کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور ظلم کو روک کر حق کا نفاظ کفر کو پھاڑ کر توحید کی روشنی مہیا کرنا اتنا بڑا بوجھ تھا کہ اس نے کمردوہری کردی مگر ہم نے ـآساں کردیا اور آپ کے نام نامی کو بلند کردیا کہ اپنے نام کے ساتھ کلمے کا جز بنادیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 12 ایک سختی کے ساتھ دو آسانیاں لگی ہیں۔ اس میں آنحضرت کو بغایت کمال آئی ہے کہ دعوت و تبلیغ میں جس قدر مشقت برداشت کرو گے اس سے دوگنا راحت و اکرام نصیب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(94:5) فان مع العسر یسرا : ان حرف مشبہ بالفعل وحرف تحقیق۔ اسم ان مع العسر اس کی خبر۔ العسر دشواری، تنگی، سختی، مشکل، یہ یسر کی ضد ہے۔ عسر مصدر ہے اور اس کا فعل باب سمع اور کرم سے آتا ہے۔ چونکہ فقیری میں بھی تنگی اور سختی ہوتی ہے اس لئے تنگ دست ہونے میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ عسیر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بمعنی سخت، بھاری، مشکل (74:9) یسرا اسم نکرہ۔ آسانی۔ سہولت۔ عسر کی ضد ہے۔ ترجمہ :۔ پھر بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ الم نشرح۔ کیا ہم نے نہیں کھول دیا۔ صدر۔ سینہ۔ وضعنا۔ ہم نے اتارا۔ ورز۔ بوجھ۔ انقض۔ توڑ دیا تھا۔ ظھر۔ پیٹھ۔ رفعنا۔ ہم نے بلند کردیا۔ فرغت۔ تو نے فراغت حاصل کرلی۔ انصب۔ (عبادت کی) تکلیف اٹھا۔ ارغب۔ رغبت کر۔ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1۔ شرح صدر 2۔ وضع و زر 3۔ اور رفع ذکر 1۔ سوالیہ اندازپر ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ہم نے آپ کو شرح صدر عطا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے آپ کے ہر اس بوجھ کو جو آپ کی کمر کو جھکائے دے رہا تھا آپ کے اوپر سے نہیں اتارا ؟ کیا ہم نے آپ کے ذکر کو بلند نہیں کیا ؟ نشرح کے معنی کھول دینا،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

(ف 1) یعنی جو شدت و سختی کہ آپ کفار کے مقابلہ میں برداشت کررہے ہیں اس کے ساتھ ہی آسانی ہے کہ ہم آپ کو ان پر غلبہ عطافرمائیں گے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–5

[2] سوال یہ ہے کہ وہ کون سا عظیم الشان بوجھ تھا جس سے آپ اس قدر گرانبار ہو رہے تھے کہ وہ آپ سے دور کردیا گیا ؟ وہ بوجھ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے یعنی قبل نبوت اپنی قوم کی حالت پر تاسف اور اس کی اصلاح کی فکر۔ اس کا توڑ یوں ہوا کہ آپ کو راہ ہدایت پوری تفصیلات کے ساتھ واضح کردی گئی اور آپ کے سپرد خلق کی رہنمائی کی گئی۔ بعد نبوت سب سے بڑی فکر آپ کو تبلیغ احکام اور اس کے نتائج کی رہی۔ قرآن نے اس غم سے بھی آپ کو یہ کہہ کر سبکدوش کردیا کہ آپ پر کسی کے ایمان لانے نہ لانے کی ذمہ داری نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

ف 1: حضور ﷺ سے کفار مکہ جب یہ کہتے کہ اگر آپ اسلام کی منادی کو چھوڑ دیں تو ہم آپ کو افلاس وعسر سے نکال کر مال و دولت کی وادی میں لامتمکن کریں ۔ تو آپ ﷺ ایک قلبی کوفت محسوس کرتے ۔ آپ کو یوں معلوم ہوتا کہ میرا افلاس گویا حق وصداقت کی راہ میں زبردست رکاوٹ ہے ۔ اس پر بطور تسلی وتسکین دہی کے فرمایا کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں ۔ دنیا کی مشکلات کے ساتھ اللہ نے آپ ﷺ کے لئے دنیا وعقبیٰ کی سہولتیں مقدر کررکھی ہیں ۔ ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ مال وزر پر ناز کرنے والے آپ ﷺ کی اور مسلمانوں کی فارغ البالی کو دیکھ کر جلیں گے اور اس وقت یہ جانیں گے کہ اسلام فقروافلاس کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ فضل و دولت اور یسرو آسانی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

ف 7۔ یعنی اکثر جگہ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کا نام مبارک مقرون کیا گیا جیسے تشہد میں نماز میں اذان میں اقامت میں اور اللہ کے نام کی رفعت اور شہرت ظاہر ہے، پس جو اس کے قرین ہوگا رفعت و شہرت میں وہ بھی تابع رہے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس بلا شبہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے 5 ؎ کیا زریں اصول ہے جو صرف دو الفاظ میں بند کردیا گیا ہے اور کتنی وسعت ہے جو اس کے اندر سمودی گئی ہے اگر انسان اس کو سمجھ جائے اور اس پر یقین رکھتا ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی یہ تو ایک انسان کا حال ہے اور اگر کوئی جماعت ایسی ہو جس کا اس پر پختہ یقین ہو اور اس کا ہر فرد اس بات پر ایمان رکھتا ہو تو اس کی ہمت کو بلند اور حوصلہ کو وسیع کردیتا ہے اور صبر اور استقامت اور جدوجہد کی روح اس کے اندر پیدا کردیتا ہے ۔ غور کرو کہ یہ وعدہ الٰیک کوئی معمولی چیز نہیں ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کوئی مشکل دنیا میں ایسی نہیں ہے جو آسان نہ کردی گئی ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ‌ يُسْرً‌ا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ‌ يُسْرً‌ا (So undoubtedly, along with hardship there is ease. Undoubtedly, along with hardship there is ease....94:6). Grammatically, if the Arabic definite article al- is prefixed to an Arabic noun and is repeated with the same definite article al-, they refer to the same antecedent. However, if the same noun is repeated without the definite article, they refer to different antecedents. The word al-'usr '[ the ] hardship' in verse [ 6] is the repetition of al-'usr '[ the ] hardship' occurring in verse [ 5]. It does not refer to a new…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

3 This was said at a time when o one could even conceive how the renown of the one unique individual who had only a few followers confined only to the city of Makkah, would be exalted throughout the world, and what high fame he would achieve. But Allah Almighty gave His Messenger (upon whom be peace) this good news under those very conditions and then fulfilled it in a strange way. In the first place, he took from his enemies themselves the task of exalting his renown. One of the methods that the disbelievers of Makkah adopted to defeat his mission was that in the Hajj season when the…

Read the full tafseer →