اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۟ؕاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ؕ
(اور) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, with hardship [will be] ease.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz
اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۟ؕاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ؕ
(اور) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, with hardship [will be] ease.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Sharh
بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے
(اور) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
یقینا مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔
بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے
یقیناً (اس) دشواری کے ساتھ آسانی (بھی) ہے،
بیشک اسی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی ہے۔
بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے
بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے
یقینا تنگی (اور مشکل) کے ساتھ آسانی ہے
بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہونے والی ہے۔
یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔
اور بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
Most certainly, there is ease with hardship.
Undoubtedly, along with the hardship there is ease.
Undoubtedly, along with the hardship there is ease.
Verily, along with every hardship is relief.
Lo! with hardship goeth ease;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, with hardship [will be] ease.
Certainly, after every difficulty there comes relief.
With difficulty is surely ease.
Verily along with every hardship is ease.
Verily, with every difficulty there is relief.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
یعنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الْاِنْشِرَاح 4 اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا ہے تاکہ حضور کو پوری طرح تسلی دے دی جائے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد قریب ہی میں اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتا ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہو، کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فان مع العسر یسرٰ ، ان مع العسر یسراً ، عربی زبان کا قاعدہ یہ ہے کہ جس کلمہ کے شروع میں الف لام ہوتا ہے جس کو اصطلاح میں لام تعریف کہتے ہیں۔ اگر اسی کلمہ کو الف لام ہی کیساتھ مکرر لایا جائے تو اس کا مصداق وہی ہی ہوتا ہے جو پہلے کلمہ کا تھا اور اگر بغیر الف لام تعریف کے مکرر لایا جائے تو دونوں کے مصداق الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس آیت میں العسر جب مکرر آیا تو معلوم ہوا کہ اس سے وہ پہلا ہی عسر مراد ہے کوئی نیا نہیں اور لفظ یسراً دونوں جگہ بغیر الف لام کے لایا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دوسرا یسر پہلے یسر کے علاوہ ہے تو اس آیت میں ان مع العسر یسراً کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک ہی عسر و مشکل کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اصل سبق: یہ وہ اصل سبق ہے جو اوپر کے پیش کر دہ شواہد کی روشنی میں دینا مقصود ہے اور جس کو اس سورہ کے عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا کہ جب تم اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ دیکھ رہے ہو تو اس کی اس سنت پر اطمینان رکھو کہ اس نے ’یُسْر‘ کا دامن ’عُسْر‘ کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یعنی آسانی ظاہر تو ہو گی ضرور لیکن آزمائش کے دور سے گزرنے کے بعد۔ سابق سورہ میں یہی حقیقت آفاق اور نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات سے ثابت کی گئی ہے۔ اس سورہ میں خاص حضور کی زندگی کے تجربات ہی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ زیادہ موثر ہو سکیں۔ ایک خاص نکتہ: یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ ایک ہی بات دو مرتبہ فرمائی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →6۔ 1 یہ آپ ﷺ کے لیے اور صحابہ کرام کے لیے خوشخبری ہے کہ تم اسلام کی راہ میں جو تکلیفیں برداشت کر رہے ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں اس کے بعد ہی اللہ تمہیں فراغت و آسانی سے نوازے گا چناچہ ایسا ہی ہوا جیسے ساری دنیا جانتی ہے۔
Read the full tafseer →3: آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ شروع میں آپ کو فرائض رسالت کی ادائیگی میں جو مشکلات پیش آرہی ہیں، وہ عنقریب آسانی میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اس کے ساتھ ایک عام قاعدے کے طور پر یہ حقیقت بتلا کر عام انسانوں کو بھی یہ سبق دیا گیا ہے کہ دنیا میں مشکلات پیش آئیں تو یہ سمجھ لیں کہ ان کے بعد آسانی کا وقت بھی آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
” پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی لازمی ہے اور مشکل کے بعد آسانیاں ہوتی ہیں۔ اور اے نبی یہ آپ کے ساتھ بھی لازم رہی ہے۔ جب آپ پر دعوت کا بوجھ بھاری ہوگیا تو ہم نے آپ کا دل کھول دیا ، یوں آپ کا بوجھ ہلکا ہوگیا جس نے آپ کی کمر توڑ دی تھی لہٰذا مشکل کے ساتھ ہی آسانی جڑی رہی اور یہ بھاری بوجھ ہلکا ہوگیا۔ یہ اصول ایک اٹل اصول ہے ، اس لئے اسے انہی الفاظ میں مکرر لایا گیا ہے۔ فان مع ........................ یسرا (6:94) ” پس حقیت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔ یہ تکرار اس بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
7 یعنی اللہ کی رضا جوئی میں جو سختیاں آپ ﷺ نے برداشت کیں اور رنج و تعب کھینچے۔ ان میں سے ہر ایک سختی کے ساتھ کئی کئی آسانیاں ہیں۔ مثلاً حوصلہ فراخ کردینا جس سے ان مشکلات کا اٹھانا سہل ہوگیا، اور ذکر کا بلند کرنا، جس کا تصور بڑی بڑی مصیبتوں کے تحمل کو آسان کردیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب ہم نے آپ ﷺ کو روحانی راحت دی اور روحانی کلفت رفع کردی جیسا کہ " الم نشرح " الخ سے معلوم ہوا تو اس سے دنیاوی راحت و محنت میں بھی ہمارے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہیے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بیشک موجودہ مشکلات کے بعد آسانی ہونے والی ہے اور تاکید مزید کے لئے پھر کہتے ہیں کہ ضرور موجودہ سختی کے بعد آسانی ہو کر رہے گی۔…
Read the full tafseer →آیت 6{ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ } ”یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔“ یہ سورت دراصل مشکلات القرآن میں سے ہے۔ آیت 2 میں جس بوجھ کا ذکر ہوا ہے اس کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مشقتوں اور لوگوں کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں کی طرف اشارہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رائے صرف جزوی طور پر درست ہے اس لیے کہ یہ سورت بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ اس زمانے میں حضور ﷺ کی مشکلات کا ابھی آغاز ہو رہا تھا اور بعد کے زمانے میں آپ ﷺ کو نسبتاً بہت زیادہ مشکل مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ مثلاً شعب ابی طالب میں تین سال کی قید کا واقعہ اس سورت کے نزول کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4 ان دو آیات میں بہ تکرار آپ ﷺ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر اس وقت آپ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو عنقریب مصائب کے یہ بادل چھٹ جائیں گے اور اتنی ہی آپ کو سہولتیں اور آسانیاں میسر آئیں گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ تنگی کے بعد آسانی ہے بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت جلد یہ صورت حال بدل جانے والی ہے۔ اس طرح آپ ﷺ کو اور مسلمانوں کو تسلی بھی دے دی گئی کہ وہ یہ مشکل وقت حوصلہ اور صبر کے ساتھ برداشت کریں بس تھوڑی ہی دیر بعد کایا پلٹ جانے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4۔ (اور اس پر یقین واعتماد رکھیے کہ عناد ومخالفت کے یہ سارے بادل چھٹ کر رہیں گے اور مظفر ومنصور آپ ہی ہوں گے) آیت کی تکرار، وعدہ کی تاکید کے لیے ہے، تاکہ مسلمانوں کے دل بڑھے ہوئے رہیں۔ اور ان پرامید کا پہلو غالب رہے۔ کر رہ لتاکید الوعد وتعظیم الرجاء (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً مشہور قاعدہ ہے کہ معرفہ کو اگر بعینہ مکرر لایا جائے تو اس کا مصداق وہی ہوتا ہے جو پہلے کلمہ کا تھا اور اگر بغیر الف لام تعریف کے مکرر لایا جائے تو دونوں کے مصداق اگ الگ ہوتے ہیں اس آیت میں العسر مکرر آیا ہے، تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلا ہی عسر مراد ہے اور لفظ یسر دونوں جگہ بغیر الف لام کے نکرہ لایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ دوسرا یسر پہلییسر کے علاوہ ہے تو اس آی میں ان مع العسر یسراً کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک ہی عسر کے لئے دو آسانیو کا وعدہ ہے اور دو سے بھی خاص دو کا عدد مراد نہیں بلکہ متعدد ہونا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ایک عسر کے ساتھ متعدد…
Read the full tafseer →ان مع العسر یسرا . قرینہ دلالت کر رہا ہے کہ یہ استینافی کلام ہے (سابق کی تاکید محض نہیں) کیونکہ یہاں نہ فاء عاطفہ ہے نہ واؤ۔ اس میں تمام مؤمنوں سے وعدۂ جزا ہے اور رسول اللہ ﷺ سے بھی وعدہ ہے۔ مگر مؤمنوں سے وعدہ ہے کہ عسر دنیوی کے بعد یسر اخروی ملے گا اور رسول اللہ ﷺ سے وعدہ ہے کہ ایک عسر کا ایک یسر دنیا میں اور ایک یسر آخرت میں حاصل ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا تھا کہ ایک عسر دو یسر پر ہرگز غالب نہ ہوگا ‘ اسکا مطلب یہ ہے کہ دنیوی عسر اگر ایک یسر یعنی دنیوی یسر پر غالب آ بھی جائے (اور مؤمن دنیا کے اندر مدۃ العمر تنگی میں رہے) تو آجائے مگر آخرت کے یسر پر غالب نہیں آسکتا اور آخرت کا یسر ہی عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(6۔ 7۔ 8) تو جب جہاد سے فارغ ہوجایا کریں تو عبادت میں کوشش کیا کیجیے یا کہ جس وقت فرض نماز سے فارغ ہوں تو خوب کوشش سے دعا کیا کریں اور تمام حاجتوں میں اپنے رب ہی سے امید رکھیے۔ شان نزول : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ الخ جب مشرکین نے مسلمانوں کو فقر کے ساتھ عار دلائی تب یہ سورت نازل ہوئی اور ابن جریر نے حسن سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو تمہیں کشادگی دی گئی ہے اس سے خوش ہوجاؤ کیوں کہ ایک تنگی دو فراخیوں پر غالب نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(1) فان مع العسر یسراً …: اس میں آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے بشارت ہے کہ مشکلات کے دن تھوڑے ہیں، ہر مشلک کے بعد بلکہ اس کے ساتھ ہی آسانی شروع ہوجاتی ہے۔”ان مع العسر یسراً“ کا یہی مطلب ہے۔ دوسری بشارت یہ ہے کہ ایک ایک مشکل کے ساتھ دو دو آسانیاں ہیں۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے ان کی سند کے ساتھ حسن بصری ؒ کا قول نقل کیا ہے، انہوں نے فرمایا :”کانوا یقولون لا یغلب عسر واحد یسرین اثنین“”وہ (صحابہ) کہا کرتے تھے کہ ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔“ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ ابن کثیر نے اس کی تفصیل یہ بیان فرمیئا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دہرا کر یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فان مع العسریسرا، ان مع العسر یسرا۔ بے شک تنگی اور سختی کے ساتھ آسانی یعنی وسعت اور غنا ہے پھر اسی ارشاد کو مکررذکر کیا ایک قوم نے یہ کہا یہ تکرار کلام کی تاکید ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ارم ارم، پھینکو پھینکو۔ اعجل اعجل جلدی کرو، جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلا سوف تعلمون ثم کلاسوف تعلمون۔ ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے پھر ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے اس کی مثال جواب کے تکرار میں ہے، بلی، بلی، لا، لا، یہ اطناب اور مبالغہ کے لیے ہے، یہ فراء کا قول ہے اس معنی میں شاعر کا قول ہے، ھمت بنفسی بعض الھموم، فاولی لنفسی اولی لھا۔ میں نے اپنے بارے میں ایسے امور کا ارادہ کیا جو میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
19۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے یعنی پیچھے آتی ہے ہر تنگی کے بعد آسانی۔ 20۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا بیشک ہر مشکل کے ساتھ آصانی ہے بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ہر کو ذکر گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے ساتھ اپنے اصحاب کو خوشخبری دی۔ اور فرمایا ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آئے گی۔ 21۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن مردویہ نے حسن (رح) سے روایت کیا جب یہ آیت ان مع العسر یسرا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم خوش ہوجاؤ…
Read the full tafseer →[ان مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا : بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
﴿فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاۙ005 اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاؕ006﴾ (بےشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ جو مشکلات درپیش ہیں یہ ہمیشہ نہیں رہیں گی اور اسے مستقل ایک قانون کے طریقہ پر بیان فرما دیا کہ بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے اس کلمہ کو دو مرتبہ فرمایا جو آپ کے لیے بہت زیادہ تسلی کا باعث ہے، آپ کے بعد آنے والے آپ کی امت کے افراد و اشخاص جب آپ کے بتائے ہوئے کاموں میں لگیں اور دینی دعوت میں مشغول ہوں تو مشکلات سے پریشان نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ سے ان کے دور ہونے کی امید رکھیں، ابتدا میں مشکلات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
بشارت بانشراح صدر ورفع گرانی قلب وازالہ شدائد ہمت شکن : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم نشرح لک صدرک ....... الی ......... والی ربک فارغب “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر رب العالمین کی طرف سے فائز کردہ انعامات خاصہ کا ذکر تھا اور اسی کے ضمن میں آپ کے معالی اخلاق اور محاسن اوصاف بھی بیان کردیئے گئے تھے، اب اس سورت میں مزید ایک انعام شرح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر کمال یقین استقامت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5:۔ ” فان مع العسر “ کافر کہتے تھے تمام مسلمان محتاج ہیں اس لیے نبی علیہ الصلوہ والسلام کے دل میں خیال گذرا کہ شاید کافر اسی وجہ سے ایمان نہیں لاتے تو فرمایا دیکھو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کس قدر انعامات فرمائے ہیں۔ وہ فقر و فاقہ کو بھی دور فرما دے گا کیونکہ ہر سختی کے بعد آسانی اور تنگی کے بعد فراخی آتی ہے۔ تائید :” ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منہم الخ “ (طہ رکوع 7) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
پہلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة دراصل پہلی سورة والضحی کا تتمہ ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر کئے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں بعض احکام صادر فرمائے تھے۔ اس سورة میں بھی بعض اضافی انعامات کا ذکر ہے جو رب کریم نے نبی علیہ اسللام پر کئے یہاں بھی سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے بعض احکام ہیں۔ شرح صدر سورة کی ابتداء احسانات کے تذکرہ سے ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان احسان شرح صدر ہے ، جو حضور ﷺ پر کیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ یہاں پر استفہامیہ طریقے سے بات کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یقینا آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا 5 ۙ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا 6 ۭ عسر العُسْرُ : نقیض الیسر . قال تعالی: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً [ الشرح/ 5- 6] ، والعُسْرَةُ : تَعَسُّرُ وجودِ المالِ. قال : فِي ساعَةِ الْعُسْرَةِ [ التوبة/ 117] ، وقال : وَإِنْ كانَ ذُو عُسْرَةٍ [ البقرة/ 280] ، وأَعْسَرَ فلانٌ ، نحو : أضاق، وتَعَاسَرَ القومُ : طلبوا تَعْسِيرَ الأمرِ. وَإِنْ تَعاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرى[ الطلاق/ 6] ، ويَوْمٌ عَسِيرٌ: يتصعّب فيه الأمر، قال : وَكانَ يَوْماً عَلَى الْكافِرِينَ عَسِيراً [ الفرقان/ 26] ، يَوْمٌ عَسِيرٌ عَلَى الْكافِرِينَ غَيْرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ الم نشرح الخ الاستفہام تقریری والمعنی قد شرحنا لک صدرک ووضعنا عنک معطوف علی معنی ماتقدم وعنک متعلق بوضعنا و تقدیمہ علی المفعول الصریح مع ان حقہ التاخر لتعجیل المسرۃ والتشویق المؤخر الذی الخ وصف الوزر ورفعنا الخ معطوف علی السابق یسرا اسم ان مع العسر خبرھا والعسرفی الموضعین واحد لان المعرفۃ اذا اعیدت یرادبھا الاول والیسر غیر الاول ولذا قال النبی ﷺ لن یغلب عسریسرین ان اللہ یقول ان مع العسریسرا الخ۔ اخرجہ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان وغیرھم تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ و ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں آٹھ آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ (النشرح : 5، 6) (پس یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کا مستقل قانون یہی وہ اصل حقیقت ہے جو اوپر کے بیان کردہ شواہد کی روشنی میں بیان کرنا مقصود ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک مستقل قانون ہے کہ ہر یعسر کا دامن عسر کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یعنی آسانی ظاہر ضرور ہوتی ہے لیکن آزمائش کے دور سے گزرنے کے بعد۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اسے دو مرتبہ دہرایا گیا ہے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں۔ ان کے جلدی بعد اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن ربط کلام : نبوت کا بوجھ ہلکا کرنے کے ساتھ رب کریم نے آپ ﷺ کے نام اور کام کو بھی بلند وبالا فرمادیا۔ نبوت کی ذمہ داریوں میں سب سے مشکل کام لوگوں تک توحید کی دعوت پہنچانا ہے۔ جو لوگ نبوت سے پہلے آپ ﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے، دعوت توحید کی وجہ سے وہ اس قدر مخالف ہوگئے کہ انہوں نے اس بات پر تن من دھن کی بازی لگادی کہ نبی ﷺ کی دعوت کو کسی صورت آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے ہر حربہ استعمال کیا، یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ پر مختلف قسم کے الزامات لگائے اور آپ کو محمد کہنے کی بجائے مذمّم کہنے لگے۔ خاکم بدھن جس کا معنٰی ہے ملامت کیا ہوا۔ اس صورت حال میں نبی ﷺ کا پریشان ہونا ایک…
Read the full tafseer →6: اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (بیشک موجودہ مشکلات کے ساتھ آسانی ہے) یعنی اس سختی کے باوجود جو مشرکین کی طرف سے آپ برداشت کر رہے ہیں۔ یُسْرًا آسانی ہے میری اس پشت پناہی کی وجہ سے جو آپ ہی کو میسر ہے یہاں تک کہ آپ ان پر غالب آجائیں گے۔ ایک قول یہ ہے : مشرکین رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو فقر کا طعنہ دیتے یہاں تک کہ آپ کے وہم میں یہ بات سبقت کرگئی کہ ان کو اہل اسلام کے فقر کی وجہ سے اسلام سے نفرت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیے جانے والے عظیم انعامات کو یاد دلایا۔ پھر فرمایا : ان مع العسر یسرًا گویا فرمایا ہم نے آپ پر جو انعامات کیے سو کیے پس فضل الٰہی سے آپ ہرگز مایوس نہ ہوں۔ اس لئے کہ وہ تنگی…
Read the full tafseer →6 ۔ ان مع العسر یسرا “ یعنی اس سختی کے ساتھ جس میں آپ (علیہ السلام) ہیں، مشرکین کے جہاد سے نرمی اور آسانی ہے بایں طور کہ آپ (علیہ السلام) کو ان پر غلبہ دیں گے حتیٰ کہ وہ اس حق کے آگے سر جھکالیں گے جو آپ (علیہ السلام) ان کے پاس لائے ہیں۔ ” ان مع العسر یسرا “ اس کا تکرار کیا ہے وعدہ کی تاکید کے لئے اور امید کی تعظیم کے لئے اور حسن (رح) فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم خوش ہوجائو تمہارے پاس آسانی آگئی، ایک تنگی ہرگز دو آسانیوں پر غالب نہ آسکے گی۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اگر تنگی کسی سوراخ میں ہو تو اس کو آسانی تلاشی کرلے گی حتیٰ کہ اس میں داخل ہوجائے گی کیونکہ ایک تنگی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ سینے کے کھول دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے سینہ پر جو دل کا قلعہ کہلاتا ہے شیطان کا کسی طرح کا کچھ تسلط باقی نہیں رہا۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اور شیطان کے شیاطینوں میں سے ایک شیطان ہر شخص کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اللہ کے فرشتہ نیک کام کی رغبت دلانے کے لئے ہے اور شیطان برے کام کی رغبت کے لئے مگر میرے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے میرا ایسا فرمانبردار کردیا ہے کہ وہ بجائے برے کام کی رغبت کے نیک کام کی رغبت مجھ کو دلاتا رہتا ہے اسی مطلب کی صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس ؓ کی وہ روایت ہے۔ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا) بیشک تنگی کے ساتھ آسای ہے بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ایک عظیم الشان خوش خبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائے جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہوگی حتی کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہوجائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہوگی۔ اور اسے باہر نکال لائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سیجعل اللہ بعد عسرایسرا۔ الطلاق۔ 7) عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا اور جیسا کہ نبی اکرم نے فرمایا تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔ دونوں آیات کریمہ میں العسر کو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
زندگی میں تنگی اور فراخی قول باری ہے (فان مع العسریسر ان مع العسر یسرا۔ پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد المروزی نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے حسن سے قول باری (ان مع العسر یسرا) کی تفسیر میں بیان کیا کہ ایک دن حضور ﷺ مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے (لن یغلب عسر یسرین، لن یغلب عسر یسرین ان مع العسریسرا۔ ایک تنگی دو فراخی پر غالب نہیں آسکتی، ایک تنگی دو فراخی پر غالب نہیں آسکتی۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے جس تنگی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(3) رفع ذکر کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا ہم نے آپ کی خاطر بلند نہیں کردیا، آپ کے ذکر و آواز کو ؟ " سو کلمہ طیبہ میں اذان و اقامت میں، نماز ودرود میں، حج وعمرہ میں، خطبوں اور تقریروں میں، کتابوں اور رسالوں میں، جلسوں اور جلوسوں میں، ہر جگہ آپ کا نام نامی کمال ادب و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، اور اتنا اور اس قدر کہ چوبیس گھنٹوں کے پورے دور ایسے میں نہ کوئی وقت اس سے خالی ہے نہ کوئی جگہ، کیونکہ پورے کرہ ارضی پر ہر جگہ اپنے اپنے وقت پر اذان ہورہی ہوتی ہے، اور اسی طرح ہر جگہ اور ہر وقت اقامت ہورہی ہے، اور اسی طرح ہر جگہ اور ہر وقت اللہ پاک کی وحدانیت اور آنجناب کی رسالت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نبی ﷺ کے لیے دنیا میں انعامات کی خوشخبری تشریح : بڑی ہی خوبصورت اور جامع سورت ہے اس میں بہت سے حقائق زندگی انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اللہ کی نعمتوں ' برکتوں ' فضل وکرم اور مہربانیوں کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ اور ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ سب کو برابر عطا کرتا ہے مگر یہاں خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے خاص طور سے ان پر مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پچھلی سورت میں بھی کیا گیا تھا۔ یہ احسان جتانے کے طور پر نہیں بلکہ تسلی دینے کے لیے ہمت بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ انسان ہونے کے ناطے گبھراہٹ ' پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الانشراح۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ آپ کا سینہ مبارکہ علم وحلم کے لیے اس قدر وسیع کردیا کہ دنیا کے تمام حکماء مل کر بھی اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں کرسکے ، قیامت تک کی ساری انسانیت کو دنیا وآخرت کے ہرمسئلے کا حل اور ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس قدر مشکلات برداشت کیں اور صدمات جھیلے کہ آپ ہی کی شان ہے اور آپ کے لیے وہ عظیم ذمہ داری کی ساری انسانیت کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور ظلم کو روک کر حق کا نفاظ کفر کو پھاڑ کر توحید کی روشنی مہیا کرنا اتنا بڑا بوجھ تھا کہ اس نے کمردوہری کردی مگر ہم نے ـآساں کردیا اور آپ کے نام نامی کو بلند کردیا کہ اپنے نام کے ساتھ کلمے کا جز بنادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 12 ایک سختی کے ساتھ دو آسانیاں لگی ہیں۔ اس میں آنحضرت کو بغایت کمال آئی ہے کہ دعوت و تبلیغ میں جس قدر مشقت برداشت کرو گے اس سے دوگنا راحت و اکرام نصیب ہوگا۔
Read the full tafseer →(94:6) ان مع العسر یسرا۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ صاحب تفہیم القرآن حاشیہ پر لکھتے ہیں :۔ اس بات کو (یعنی بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہے) دو دفعہ دہرایا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ کو پوری طرح تسلی ہوجائے کہ جن سخت حالات سے آپ گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر تک رہنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے بعد قریب ہی اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتی ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہو کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی ہو کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کی بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کئے گئے ہیں کہ فراخی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔ الم نشرح۔ کیا ہم نے نہیں کھول دیا۔ صدر۔ سینہ۔ وضعنا۔ ہم نے اتارا۔ ورز۔ بوجھ۔ انقض۔ توڑ دیا تھا۔ ظھر۔ پیٹھ۔ رفعنا۔ ہم نے بلند کردیا۔ فرغت۔ تو نے فراغت حاصل کرلی۔ انصب۔ (عبادت کی) تکلیف اٹھا۔ ارغب۔ رغبت کر۔ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1۔ شرح صدر 2۔ وضع و زر 3۔ اور رفع ذکر 1۔ سوالیہ اندازپر ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ہم نے آپ کو شرح صدر عطا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے آپ کے ہر اس بوجھ کو جو آپ کی کمر کو جھکائے دے رہا تھا آپ کے اوپر سے نہیں اتارا ؟ کیا ہم نے آپ کے ذکر کو بلند نہیں کیا ؟ نشرح کے معنی کھول دینا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(ف 1) یعنی جو شدت و سختی کہ آپ کفار کے مقابلہ میں برداشت کررہے ہیں اس کے ساتھ ہی آسانی ہے کہ ہم آپ کو ان پر غلبہ عطافرمائیں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[3] یعنی جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں وہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں بلکہ جلد ہی اچھے حالات آنے والے ہیں۔ اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا تاکہ آپ کو پوری طرح تسلی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 1: حضور ﷺ سے کفار مکہ جب یہ کہتے کہ اگر آپ اسلام کی منادی کو چھوڑ دیں تو ہم آپ کو افلاس وعسر سے نکال کر مال و دولت کی وادی میں لامتمکن کریں ۔ تو آپ ﷺ ایک قلبی کوفت محسوس کرتے ۔ آپ کو یوں معلوم ہوتا کہ میرا افلاس گویا حق وصداقت کی راہ میں زبردست رکاوٹ ہے ۔ اس پر بطور تسلی وتسکین دہی کے فرمایا کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں ۔ دنیا کی مشکلات کے ساتھ اللہ نے آپ ﷺ کے لئے دنیا وعقبیٰ کی سہولتیں مقدر کررکھی ہیں ۔ ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ مال وزر پر ناز کرنے والے آپ ﷺ کی اور مسلمانوں کی فارغ البالی کو دیکھ کر جلیں گے اور اس وقت یہ جانیں گے کہ اسلام فقروافلاس کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ فضل و دولت اور یسرو آسانی…
Read the full tafseer →(6) یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے - یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو سختیاں برداشت کیں اور رنج وتعب کھینچے ان میں سے ہر سختی کے ساتھ کئی کئی آسانیاں ہیں یا یہ کہ جس طرح ہم نے آپ کی روحانی کلفت دور کردی جیسا کہ شرح صدر اور رضع وزر اور رفعت ذکر سے معلوم ہوتا ہے اسی طرح ہم دنیوی تمام مشکلات کو آسان کردیں گے اور ایک سختی کے بدلے میں کئی کئی آسانیاں عنایت فرمائیں گے۔ اسی لئے تاکید کے طور پر فرمایا فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً دو دفعہ فرمایا چناچہ کتب سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تمام دشواریاں اور مشکلات ایک ایک کرکے آسان کردی گئیں۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ایک دن رسول خدا ﷺ ایک جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 8۔ مکہ میں آپ اور اہل ایمان طرح طرح کی تکالیف اور شدائد میں گرفتار تھے، لیکن آخر کار وہ مشکلات ایک ایک کر کے سب رفع ہوگئیں۔
Read the full tafseer →بلا شبہ ہر تنگی کے بعد فراخی لازم ہے 6 ؎ گزشتہ بات کی تائید و تاکید کے لیے دوبارہ دہرایا گیا ہے اور اس دور میں اس کو دہرایا گیا ہے جن حالات میں ساری دنیا مخالف ہے ۔ مکہ کے نامور سادات و سردار اور چند نفوس کے علاوہ سارے کے سارے عوام اللہ تعالیٰ کی اس روشنی کو بجھانے کے درپے ہیں ۔ جس گلی سے گزرتے ہیں وہاں کوڑے اور غلاظت کے ڈھیر لگائے جاتے ہیں ۔ کوئی پوچھے کہ اس گلی سے صرف اور صرف آپ ﷺ ہی کا گزر ہوتا ہے ؟ بلا شبہ نہیں لیکن آپ ﷺ کو دکھ دینے کے لیے خود بھی دکھ برداشت کر رہے ہیں لیکن عادت سے باز نہیں آتے ۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں جب کہ آپ ﷺ بیت اللہ کے اندر ہیں اور لوگ مرے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (So undoubtedly, along with hardship there is ease. Undoubtedly, along with hardship there is ease....94:6). Grammatically, if the Arabic definite article al- is prefixed to an Arabic noun and is repeated with the same definite article al-, they refer to the same antecedent. However, if the same noun is repeated without the definite article, they refer to different antecedents. The word al-'usr '[ the ] hardship' in verse [ 6] is the repetition of al-'usr '[ the ] hardship' occurring in verse [ 5]. It does not refer to a new…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4 This has been repeated twice so as to reassure the Holy Prophet that the bad times hp was passing through at that time would not last for ever, but were going to be replaced by good times in the near future. On the surface this appears to be a contradiction that hardship should be accompanied by ease, for these two things do not co-exist. But the words "hardship with ease" instead of "ease after hardship" have been used in the sense that the period of ease is so close to it as if it were a concomitant of it.
Read the full tafseer →