Explained with ayahs 1–8
یعنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الْاِنْشِرَاح 4
اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا ہے تاکہ حضور کو پوری طرح تسلی دے دی جائے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد قریب ہی میں اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتا ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہو، کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
تعلیم و تبلیغ کرنے والوں کو خلوص میں ذکر اللہ اور توجہ الی اللہ بھی ضروری ہے
فاذا فرغت فانصب، والی ربک فارغب یعنی جب آپ ایک محنت یعنی دعوت حق اور تبلیغ احکام سے فارغ ہوں تو (دوسری) محنت کے لئے تیار ہو جایئے وہ یہ کہ نماز اور ذکر اللہ اور دعا و استغفار میں لگ جائیں۔ اکثر حضرات مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ بعض حضرات نے دوسری تفسیریں بھی لکھی ہیں مگر اقرب وہی ہے جو اوپر لکھی گئی۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور خلق خدا کو راستہ دکھانا ان کی اصلاح کی فکر یہ آپ کی سب سے بڑی عبادت تھی مگر یہ عبادت بواسطہ مخلوق ہے کہ ان کی اصلاح پر توجہ دیں اور اس کی تدبیر کریں، آیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آخری منزل کے لیے جدوجہد: یہ آخری منزل کے لیے جدوجہد کی ہدایت ہے۔ ’نصب ینصب‘ کے معنی جدوجہد اور محنت کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ دعوت کی راہ کے عقبات طے کرتے ہوئے جب وہ مرحلہ آ جائے کہ اللہ کی نصرت بے نقاب ہو جائے، مکہ فتح ہو جائے، دشمن گھٹنے ٹیک دیں اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگیں تو پھر تم کمر کس کے آخری منزل کی تیاری کے لیے جدوجہد کرو اور کلیۃً اپنے رب کی طرف جھک پڑو۔ گویا بیک وقت ان آیات میں دو باتیں جمع کر دی گئی ہیں۔
ایک تو یہ بشارت کہ آپ تمام مشکلات راہ کو عبور کرتے ہوئے دعوت کی آخری منزل پر کامیابی کے ساتھ پہنچنے اور اپنی عظیم ذمہ داری سے سرخ روئی کے ساتھ فارغ ہونے کا شرف حاصل…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی نماز سے، یا تبلیغ سے یا جہاد سے، تو دعا میں محنت کر، یا اتنی عبادت کر کہ تو تھک جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4: ظاہر ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی مصروفیات تمام تر دین کے لئے تھی، تبلیغ ہو یا تعلیم، جہاد ہو یا حکمرانی، سارے کام ہی دین کے لئے ہونے کی وجہ سے بذات خود عبادت کا درجہ رکھتے تھے، لیکن فرمایا جارہا ہے کہ جب ان کاموں سے فراغت ہو تو خالص عبادت مثلاً نفلی نمازوں اور زبانی ذکر وغیرہ میں اتنے لگئے کہ جسم تھکنے لگے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں ان کو بھی کچھ وقت خالص عبادتوں کے لئے مخصوص کرنا چاہیے، اسی سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے، اور اسی سے دوسرے کاموں میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
بیشک سختی کے بعد آسانی ہے ، تنگی کے بعد فراخی ہے ، اور اس کے اسباب یہ ہیں ، ان پر عمل کیجئے کہ جب آپ لوگوں کے ساتھ اپنی مشغولیات سے فارغ ہوجائیں اور دنیا کے امور سے فارغ ہوجائیں اور زندگی کی سرگرمیوں قدرے رک جائیں ، جب آپ ان امور سے فارغ ہوجائیں تو پھر اس میدان میں اتر جائیں جس میں آپ کو محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی اللہ کی عبادت ، اللہ کی طرف توجہ۔
والی ربک فارغب (8:94) ” اپنے رب کی طرف راغب ہوجاﺅ“۔ تو پھر آپ صرف رب کی طرف راغب ہوجائیں ، تمام دنیاوی امور چھوڑدیں ، یہاں تک کہ دعوت اسلامی کی سرگرمیاں بھی چھوڑدیں ، یہ ہے زادراہ۔ ہر سفر کے لئے کوئی نہ کوئی سازوسامان ہوتا ہے اور یہ ہے سازو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8 یعنی جب خلق کے سمجھانے سے فراغت پائے تو خلوت میں بیٹھ کر محنت کر، تاکہ مزید یسر کا سبب بنے۔ اور اپنے رب کی طرف (بلاواسطہ) متوجہ ہو (تنبیہ) خلق کو سمجھانا اور نصیحت کرنا آپ ﷺ کی اعلیٰ ترین عبادت تھی۔ لیکن اس میں فی الجملہ مخلوق کا توسط ہوتا تھا۔ مطلوب یہ ہے کہ ادھر سے ہٹ کر بلاواسطہ بھی متوجہ ہونا چاہئے۔ اس کی تفسیر اور کئی طرح کی گئی ہے۔ مگر اقرب یہی معلوم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت 7 ‘ 8{ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ - وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ۔ } ”پھر جب آپ ﷺ فرائض نبوت سے فارغ ہوجائیں تو اسی کام میں لگ جایئے۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔“
تو اے نبی ﷺ ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہوجائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ نوٹ کیجیے ! سورة النصر میں بھی حضور ﷺ کے لیے بالکل یہی پیغام ہے :
{ اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ - وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُطٓ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ }
یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپ ﷺ کا مشن مکمل ہوجائے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4 ان دو آیات میں بہ تکرار آپ ﷺ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر اس وقت آپ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو عنقریب مصائب کے یہ بادل چھٹ جائیں گے اور اتنی ہی آپ کو سہولتیں اور آسانیاں میسر آئیں گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ تنگی کے بعد آسانی ہے بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت جلد یہ صورت حال بدل جانے والی ہے۔ اس طرح آپ ﷺ کو اور مسلمانوں کو تسلی بھی دے دی گئی کہ وہ یہ مشکل وقت حوصلہ اور صبر کے ساتھ برداشت کریں بس تھوڑی ہی دیر بعد کایا پلٹ جانے والی ہے۔
Read the full tafseer →5۔ یعنی کثرت عبادات ومجاہدات میں مشغول رہا کیجئے کہ آپ کی شان کے یہی مناسب ہے۔ (آیت) ” فاذا فرغت “۔ یعنی جب آپ ﷺ اپنے منصب و مرتبہ کے فرائض یاتبلیغ احکام رسالت سے فرصت پائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً مشہور قاعدہ ہے کہ معرفہ کو اگر بعینہ مکرر لایا جائے تو اس کا مصداق وہی ہوتا ہے جو پہلے کلمہ کا تھا اور اگر بغیر الف لام تعریف کے مکرر لایا جائے تو دونوں کے مصداق اگ الگ ہوتے ہیں اس آیت میں العسر مکرر آیا ہے، تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلا ہی عسر مراد ہے اور لفظ یسر دونوں جگہ بغیر الف لام کے نکرہ لایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ دوسرا یسر پہلییسر کے علاوہ ہے تو اس آی میں ان مع العسر یسراً کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک ہی عسر کے لئے دو آسانیو کا وعدہ ہے اور دو سے بھی خاص دو کا عدد مراد نہیں بلکہ متعدد ہونا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ایک عسر کے ساتھ متعدد…
Read the full tafseer →فاذا فرغت فانصب . اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ نصب کا معنی ہے تھکان۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم دعوت خلق سے فارغ ہو تو عبادت کی محنت کرو تاکہ مذکورۂ سابق نعمتیں جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں اور آئندہ جن نعمتوں کا وعدہ کیا ہے ‘ ان سب کا شکر ادا ہو یا یہ مطلب ہے کہ جب ایک عبادت سے فارغ ہو تو دوسری عبادت کی محنت کرو ‘ کوئی وقت عبادت سے خالی نہ چھوڑو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت کو بس اس وقت کا افسوس ہوگا جو یاد خدا کے بغیر (دنیا میں) ان کا گزرا ہوگا۔
حضرت ابن عباس ‘ قتادہ ‘ ضحاک ‘ مقاتل اور کلبی نے یہ معنی بیان کیے کہ جب فرض نماز یا مطلق نماز سے فارغ ہو تو دعا کرنے کے لیے محنت کرو اور رب سے مانگنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(6۔ 7۔ 8) تو جب جہاد سے فارغ ہوجایا کریں تو عبادت میں کوشش کیا کیجیے یا کہ جس وقت فرض نماز سے فارغ ہوں تو خوب کوشش سے دعا کیا کریں اور تمام حاجتوں میں اپنے رب ہی سے امید رکھیے۔
شان نزول : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ الخ
جب مشرکین نے مسلمانوں کو فقر کے ساتھ عار دلائی تب یہ سورت نازل ہوئی اور ابن جریر نے حسن سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو تمہیں کشادگی دی گئی ہے اس سے خوش ہوجاؤ کیوں کہ ایک تنگی دو فراخیوں پر غالب نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(1) فاذا فرعت فانصب…: آپ کے دنیا کے کام ہوں یا تبلیغ دین یا جہاد فی سبیل اللہ، اگرچہ یہ سب عبادات اور نیکیاں ہیں مگر ان میں پھر بھی مخلوق سے کچھ نہ کچھ رابطہ رہتا ہے، جب بھی ان کاموں سے کچھ فراغت ملے، تو ہر چیز سے منقطع ہو کر اپنے رب سے تعلق جوڑ کر ذکر الٰہی، تلاوت قرآن، قیام اور رکوع و سجود کی محنت کریں اور اپنی متام رغبت اپنے رب ہی کی طرف رکھیں۔ یہ وہی بات ہے جو سورة مزمل کے شروع میں کہی گئی ہے، فرمایا :(ان لک فی النھار سبحاً طویلاً ، واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلاً (المزمل : 8: 8) ”یقیناً تجھے دن میں بہت لمبی مصروفیت ہے اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے کٹ کر اسی کی طرف متوجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فان مع العسریسرا، ان مع العسر یسرا۔
بے شک تنگی اور سختی کے ساتھ آسانی یعنی وسعت اور غنا ہے پھر اسی ارشاد کو مکررذکر کیا ایک قوم نے یہ کہا یہ تکرار کلام کی تاکید ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ارم ارم، پھینکو پھینکو۔ اعجل اعجل جلدی کرو، جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلا سوف تعلمون ثم کلاسوف تعلمون۔ ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے پھر ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے اس کی مثال جواب کے تکرار میں ہے، بلی، بلی، لا، لا، یہ اطناب اور مبالغہ کے لیے ہے، یہ فراء کا قول ہے اس معنی میں شاعر کا قول ہے، ھمت بنفسی بعض الھموم، فاولی لنفسی اولی لھا۔ میں نے اپنے بارے میں ایسے امور کا ارادہ کیا جو میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
29۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت آیت فاذا فرغت فانصب پس جب آپ فارغ ہوں تو ریاضت کیجیے یعنی جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں تو دعا میں مشغول ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور اس کی طرف رغبت کریں۔
30۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : جب تو اپنی نماز سے فارغ ہوجائے اور تشہد پڑھ لیں تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اور اس سے اپنی حاجت مانگیں۔
31۔ ابن ابی الدنیا نے الذکر میں ابن مسعود ؓ سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ جب آپ فارغ ہوجائیں تو…
Read the full tafseer →[فَاِذَا فَرَغْتَ : پھر جب آپ ﷺ فارغ ہوں ][ فَانصَبْ : تو آپ ﷺ کوشش کریں ]
نوٹ 5: آیات۔ 7 ۔ 8 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ دعوت حق اور تبلیغ احکام سے فارغ ہوں تو دوسری محنت کے لیے تیار ہوجائیے۔ وہ یہ کہ نماز، ذکر اللہ اور دعاواستغفار میں لگ جائیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت و تبلیغ، خلق خدا کو راستہ دکھانا اور ان کی اصلاح کی فکر، یہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی عبادت تھی۔ مگر یہ عبادت بواسطہ مخلوق تھی۔ آیت کا مقصود یہ ہے کہ اسی عبادت بالواسطہ پر آپ ﷺ قناعت نہ کریں، بلکہ جب اس سے فرصت ملے خلوت میں بلاواسطہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور اسی سے ہر کام میں کامیابی کی دعا کریں۔ اصل مقصود جس کے…
Read the full tafseer →اس کے بعد اللہ جل شانہٗ نے حکم فرمایا ﴿ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ007﴾ (جب آپ فارغ ہوجائیں تو محنت کے کام میں لگ جائیں) یعنی داعیانہ محنت میں آپ کا اشتغال خوب زیادہ ہے آپ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو دین حق کی دعوت دیتے ہیں اللہ کے احکام پہنچاتے ہیں اس میں بہت سا وقت خرچ ہوجاتا ہے یہ خیر ہے اللہ تعالیٰ شانہ کے حکم سے ہے اس میں مشغول ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور اس کا اجر بھی بہت زیادہ ہے لیکن ایسی عبادت جس میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع ہو بندوں کا توسط بالکل ہی نہ ہو ایسی عبادت کرنا ضروری ہے جب آپ کو دعوت اور تبلیغ کے کاموں میں فرصت مل جایا کرے تو آپ اپنی خلوتوں میں اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
بشارت بانشراح صدر ورفع گرانی قلب وازالہ شدائد ہمت شکن :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم نشرح لک صدرک ....... الی ......... والی ربک فارغب “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر رب العالمین کی طرف سے فائز کردہ انعامات خاصہ کا ذکر تھا اور اسی کے ضمن میں آپ کے معالی اخلاق اور محاسن اوصاف بھی بیان کردیئے گئے تھے، اب اس سورت میں مزید ایک انعام شرح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر کمال یقین استقامت اور…
Read the full tafseer →6:۔ ” فاذا فرغت “ خلق خدا کو توحید کی دعوت دو ۔ جب اس سے فراغت ملے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاؤ، ای اذا فرغت من دعوۃ الخلق فاجتہد فی عبادۃ الرب (مدارک) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اپنے ضروری کاموں سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں کوشش کرو۔ عن مجاد اذا فرغت من امر الدنیا فانصب فی عبادۃ ربک وصل (معالم) ۔ حاصل یہ ہے کہ اپنے تمام اوقات کو تبلیغ و دعوت، جہاد اور عبادت میں مصروف رکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
پہلی سورة کے ساتھ ربط
یہ سورة دراصل پہلی سورة والضحی کا تتمہ ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر کئے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں بعض احکام صادر فرمائے تھے۔ اس سورة میں بھی بعض اضافی انعامات کا ذکر ہے جو رب کریم نے نبی علیہ اسللام پر کئے یہاں بھی سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے بعض احکام ہیں۔
شرح صدر
سورة کی ابتداء احسانات کے تذکرہ سے ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان احسان شرح صدر ہے ، جو حضور ﷺ پر کیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ یہاں پر استفہامیہ طریقے سے بات کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یقینا آپ…
Read the full tafseer →فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ 7 ۙ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔
اذا کی مختلف صورتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ الم نشرح الخ الاستفہام تقریری والمعنی قد شرحنا لک صدرک ووضعنا عنک معطوف علی معنی ماتقدم وعنک متعلق بوضعنا و تقدیمہ علی المفعول الصریح مع ان حقہ التاخر لتعجیل المسرۃ والتشویق المؤخر الذی الخ وصف الوزر ورفعنا الخ معطوف علی السابق یسرا اسم ان مع العسر خبرھا والعسرفی الموضعین واحد لان المعرفۃ اذا اعیدت یرادبھا الاول والیسر غیر الاول ولذا قال النبی ﷺ لن یغلب عسریسرین ان اللہ یقول ان مع العسریسرا الخ۔ اخرجہ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان وغیرھم
تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ و ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں آٹھ آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۔ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ۔ (النشرح : 7، 8)
(اور جب آپ فارغ ہوں تو کمربستہ ہوجائیں۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجائیں۔ )
آخری منزل کے لیے جدوجہد
فَانْصَبْ ، نَصَبَ سے امر ہے۔ اس کا معنی ہے ایسا کام کرنا جس کے کرنے سے تھکاوٹ ہوجائے۔ اس لیے اس کا ترجمہ جدوجہد اور محنت کیا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب آپ اپنے مشاغل سے فارغ ہوجائیں وہ مشاغل دعوت و تبلیغ سے متعلق ہوں یا مسلمانوں کی تعلیم و تربیت سے، یا ان کا تعلق دنیوی کاموں سے ہو تو اس فراغت میں آپ کا کام سستانا اور آرام کرنا نہیں بلکہ ایک کام سے فارغ ہونے کے بعد اس کے شکر کے طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کا فرض بنتا ہے کہ اسے جب آسانی اور کامیابی حاصل ہو تو اپنے رب کو یاد رکھے اور اس کا شکریہ ادا کرے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ذات پر جو خصوصی انعامات فرمائے۔
اس لیے حکم ہوا کہ کامیابی، آسانی اور فراغت کے وقت اپنے رب کو رغبت یعنی پوری توجہ کے ساتھ یاد کیا کریں۔
فراغت کے وقت یاد کرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ فراغت میسر نہ ہو تو اپنے رب کو بھول جایا جائے۔ اس سورت میں نبوت کی ذمہ داریوں اور اس کی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ جب بھی دعوت کے کام سے فرصت میسر ہو تو نفلی نماز اور ذکر وفکر میں مصروف ہوجایا کریں۔ اس میں ایک مبلغ اور مدرس کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →7: فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (تو آپ جب فارغ ہوجایا کریں تو محنت کیا کیجئے) یعنی جب تم مخلوق کو دعوت الی اللہ دے کر فارغ ہوجائو۔ تو اپنے رب کی عبادت میں خوب کوشش کرو۔
قول ابن عباس ؓ :
جب تم اپنی نماز سے فارغ ہوجائو۔ تو دعا میں خوب کوشش کرو۔ اور اس میں اختلاف ہے کہ یہ سلام سے قبل یا سلام کے بعد دعا کا حکم ہے۔
ربط ماقبل :
ماقبل سے اس کا تعلق اس طرح ہے۔ جبکہ آپ پر گزشتہ انعامات کا شمار کیا۔ اور آئندہ کا وعدہ فرمایا تو شکر پر آمادہ کیا اور عبادت میں خوب محنت کی طرف متوجہ کیا۔ النصب محنت کرنا اس طرح ہے۔ کہ ایک دوسرے کے ساتھ ملاکر کی جائے۔ اور اپنے اوقات میں سے کوئی وقت بھی اس سے خالی نہ چھوڑا…
Read the full tafseer →7 ۔” فاذا فرغت فانصب “ یعنی پس آپ مشقت اٹھائیں اور نصب مشقت اٹھانا ہے۔ ابن عباس ؓ قتادہ ضحاک، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں پس جب آپ (علیہ السلام) فرض نماز سے فارغ ہوں تو اپنے رب کی طرف دعا میں مشقت اٹھائیں اور اس کی طرف سوال کرنے میں رغبت کریں وہ آپ (علیہ السلام) کو عطا کرے گا۔ عبدالوہاب بن مجاہد نے اپنے والد سے روایت کیا ہے جب آپ نماز پڑھ لیں تو دعا اور سوال کرنے میں خوب کوشش کریں اور بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جب آپ فرائض سے فارغ ہوں تو رات میں قیام میں مشقت اٹھائیں اور شعبی (رح) فرماتے ہیں جب آپ (علیہ السلام) تشہد سے فارغ ہوں تو اپنی دنیا وآخرت کے لئے دعا کریں اور حسن اور زید بن اسلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ سینے کے کھول دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے سینہ پر جو دل کا قلعہ کہلاتا ہے شیطان کا کسی طرح کا کچھ تسلط باقی نہیں رہا۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اور شیطان کے شیاطینوں میں سے ایک شیطان ہر شخص کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اللہ کے فرشتہ نیک کام کی رغبت دلانے کے لئے ہے اور شیطان برے کام کی رغبت کے لئے مگر میرے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے میرا ایسا فرمانبردار کردیا ہے کہ وہ بجائے برے کام کی رغبت کے نیک کام کی رغبت مجھ کو دلاتا رہتا ہے اسی مطلب کی صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس ؓ کی وہ روایت ہے۔ جس…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں چناچہ فرمایا (فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ) یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے ذکر الٰہی سے روکتی ہو تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فرصت کے بعد عبادت
قول باری ہے (فاذافرغت فانصب۔ لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جائو) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” جب تم فرائض سے فارغ ہوجائو تو ان اعمال میں لگ جائو جن کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں ترغیب دی ہے۔ “ حسن کا قول ہے ” جب تم اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب کی عبادت میں لگ جائو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” تم جب اپنی نماز سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب سے دعائیں مانگنے میں لگ جائو۔ مجاہد کا قول ہے ” جب تم اپنے دنیاوی کاموں سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب کی عبادت میں لگ جائو) آیت کے الفاظ میں ان تمام معافی کا احتمال ہے اور درست صورت یہ ہے کہ لفظ کو ان تمام معانی پر محمول کیا…
Read the full tafseer →(4) راہ حق میں جہد مسلسل کی ہدایت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا جونہی آپ فارغ ہوا کریں تو ریاضت و مشقت میں لگ جایا کریں، یعنی جب آپ تبلیغ و ارشاد کے اپنے فرض منصبی سے اور دوسرے ہر طرح کے شغل و عمل سے، پس جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ " عسر و یسر " آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور اس سلسلہ میں کہیں ٹھہراؤ نہیں، تو جہد مسلسل میں لگ جایا کریں، لہذا اگر کسی نے ایک گھاٹی پار کرلی تو وہ اس سے یہ نہ سمجھے کہ اب کسی اور گھاٹی سے سابقہ پیش آنے والا نہیں، کیونکہ زندی جہد مسلسل سے عبارت ہے، اس جہاں میں ہر مسافر کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آنا ہے، اور ان سے گزرنے کے بعد ہی کوئی مسافر اپنی منزل مقصود تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نبی ﷺ کے لیے دنیا میں انعامات کی خوشخبری
تشریح : بڑی ہی خوبصورت اور جامع سورت ہے اس میں بہت سے حقائق زندگی انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اللہ کی نعمتوں ' برکتوں ' فضل وکرم اور مہربانیوں کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ اور ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ سب کو برابر عطا کرتا ہے مگر یہاں خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے خاص طور سے ان پر مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پچھلی سورت میں بھی کیا گیا تھا۔ یہ احسان جتانے کے طور پر نہیں بلکہ تسلی دینے کے لیے ہمت بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ انسان ہونے کے ناطے گبھراہٹ ' پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الانشراح۔
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
آپ کا سینہ مبارکہ علم وحلم کے لیے اس قدر وسیع کردیا کہ دنیا کے تمام حکماء مل کر بھی اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں کرسکے ، قیامت تک کی ساری انسانیت کو دنیا وآخرت کے ہرمسئلے کا حل اور ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس قدر مشکلات برداشت کیں اور صدمات جھیلے کہ آپ ہی کی شان ہے اور آپ کے لیے وہ عظیم ذمہ داری کی ساری انسانیت کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور ظلم کو روک کر حق کا نفاظ کفر کو پھاڑ کر توحید کی روشنی مہیا کرنا اتنا بڑا بوجھ تھا کہ اس نے کمردوہری کردی مگر ہم نے ـآساں کردیا اور آپ کے نام نامی کو بلند کردیا کہ اپنے نام کے ساتھ کلمے کا جز بنادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 3 ۃ یعنی اسی سے اپنی حاجت مانگئے اور ہر معاملہ میں اسی پر بھروسا کیجیے۔
Read the full tafseer →(94:7) فاذا فرغت فانصب : اذا شرطیہ ہے۔ فاذا فرغت جملہ شرطیہ ہے۔جواب شرط کے لئے ہے انصب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، نصب (باب سمع) مصدر سے ۔ جس کے معنی جدوجہد کرنا ہے۔ اس جگہ عبادت میں جدوجہد کا حکم ہے۔ جب تو (تبلیغ احکام سے) فارغ ہوجائے تو عبادت میں محنت کیا کر۔
حضرت ابن عباس، قتادہ ، حضاک، مقاتل، اور کلبی نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جب فرض نماز یا مطلق نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دعا کرنے کے لئے محنت کرو۔ اور رب سے مانگنے کی طرف راغب ہو۔
حسن اور زید بن اسلم نے کہا کہ :۔ جب دشمن سے جہاد کرنے سے فارغ ہوجاؤ تو عبادت کے لئے محنت کرو۔ منصور کی روایت سے مجاہد کا قول منقول ہے کہ جب امور دنیا سے فارغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
الم نشرح۔ کیا ہم نے نہیں کھول دیا۔ صدر۔ سینہ۔ وضعنا۔ ہم نے اتارا۔ ورز۔ بوجھ۔ انقض۔ توڑ دیا تھا۔ ظھر۔ پیٹھ۔ رفعنا۔ ہم نے بلند کردیا۔ فرغت۔ تو نے فراغت حاصل کرلی۔ انصب۔ (عبادت کی) تکلیف اٹھا۔ ارغب۔ رغبت کر۔
تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
1۔ شرح صدر
2۔ وضع و زر
3۔ اور رفع ذکر
1۔ سوالیہ اندازپر ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ہم نے آپ کو شرح صدر عطا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے آپ کے ہر اس بوجھ کو جو آپ کی کمر کو جھکائے دے رہا تھا آپ کے اوپر سے نہیں اتارا ؟ کیا ہم نے آپ کے ذکر کو بلند نہیں کیا ؟
نشرح کے معنی کھول دینا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 2) پس جب آپ انتظام امت سے فارغ ہوں تو عبادت کیجئے اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[3] یعنی جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں وہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں بلکہ جلد ہی اچھے حالات آنے والے ہیں۔ اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا تاکہ آپ کو پوری طرح تسلی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 1: حضور ﷺ سے کفار مکہ جب یہ کہتے کہ اگر آپ اسلام کی منادی کو چھوڑ دیں تو ہم آپ کو افلاس وعسر سے نکال کر مال و دولت کی وادی میں لامتمکن کریں ۔ تو آپ ﷺ ایک قلبی کوفت محسوس کرتے ۔ آپ کو یوں معلوم ہوتا کہ میرا افلاس گویا حق وصداقت کی راہ میں زبردست رکاوٹ ہے ۔ اس پر بطور تسلی وتسکین دہی کے فرمایا کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں ۔ دنیا کی مشکلات کے ساتھ اللہ نے آپ ﷺ کے لئے دنیا وعقبیٰ کی سہولتیں مقدر کررکھی ہیں ۔ ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ مال وزر پر ناز کرنے والے آپ ﷺ کی اور مسلمانوں کی فارغ البالی کو دیکھ کر جلیں گے اور اس وقت یہ جانیں گے کہ اسلام فقروافلاس کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ فضل و دولت اور یسرو آسانی…
Read the full tafseer →(7) اور آپ جب خلق کی خدمت سے فرصت پائیں تو محنت کیا کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 8۔ مکہ میں آپ اور اہل ایمان طرح طرح کی تکالیف اور شدائد میں گرفتار تھے، لیکن آخر کار وہ مشکلات ایک ایک کر کے سب رفع ہوگئیں۔
Read the full tafseer →پس جب بھی آپ ﷺ کو فراغت ملے تو مزید کوشش میں لگا جائو
7 ؎ یہ دنیائے دوں ایک ایسی جگہ ہے کہ اس میں کسی شخص کے لیے ہمیشگی نہیں ہے خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ اس لیے جو کام ہم نے آپ ﷺ کے ذمہ لگایا ہے اس کو دلجمعی سے کرتے رہو اور مخالفین کے پروپیگنڈے کا خیال نہ کرو کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں کرتے اس سلسلہ میں ہماری ہدایت پر کان لگائو اور ہماری بات کو خوب اچھی طرح سن لو کہ جب نبوت و رسالت کی تبلیغ سے تھک جائو اور ہار جائو تو آخرت کی تیاری میں لگ جائو ۔ اس سے فطرت انسانی کے کتنے باب کھل جاتے ہیں غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا ہم صرف اشارہ کرسکتے ہیں اور وہ کرتے آ رہے ہیں۔ اس میں فطرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
The Command for Teachers and Preachers to Remember Allah During Spare Hours
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (So when you are free [ from collective services ], exert yourself [ in worship ], and towards your Lord turn with eagerness....94:8). The Holy Prophet ﷺ is commanded in these verses that when he has finished his day's work of teaching and training his followers and other temporal affairs, he should turn to Allah as ever with all his heart, that is, prayers, remembrance of Allah, supplication and seeking Allah's pardon. This is the interpretation assigned to this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4 This has been repeated twice so as to reassure the Holy Prophet that the bad times hp was passing through at that time would not last for ever, but were going to be replaced by good times in the near future. On the surface this appears to be a contradiction that hardship should be accompanied by ease, for these two things do not co-exist. But the words "hardship with ease" instead of "ease after hardship" have been used in the sense that the period of ease is so close to it as if it were a concomitant of it.
Read the full tafseer →