وَاِلٰی رَبِّكَ فَارْغَبْ ۟۠وَاِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ
اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جایا کرو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And to your Lord direct [your] longing.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juzع
وَاِلٰی رَبِّكَ فَارْغَبْ ۟۠وَاِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ
اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جایا کرو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And to your Lord direct [your] longing.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juzع
Read the whole surah · Surah Ash-Sharh
اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو
اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جایا کرو
اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا
اور اپنے پروردگار ہی سے دل لگاؤ۔
اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو
اور اپنے رب کی طرف راغب ہو جایا کریں،
اور اپنے رب ہی کی طرف پس رغبت کر۔
اور اپنے پروردگار کی طرف راغب ہوں
اور اپنے رب سے لو لگائو۔
اور اپنے رب ہی کی طرف راغب (و رجوع) رہا کریں
اور اپنے پروردگار ہی کی طرف توجہ رکھئے۔
اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔
اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجایا کرو
and turn to your Lord with longing.
and towards your Lord turn with eagerness.
and towards your Lord turn with eagerness.
And to your Lord turn intentions and hopes.
And strive to please thy Lord.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And to your Lord direct [your] longing.
and be devoted to your Lord's service.
And make your Lord your exclusive object.
And Unto thine Lord, attend.
And to thy Lord turn (all) thy attention.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
یعنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ…
Read the full tafseer →سورة الْاِنْشِرَاح 5 فارغ ہونے سے مراد اپنے مشاغل سے فارغ ہونا ہے، خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے مشاغل ہوں یا اسلام قبول کرنے والوں کی تعلیم و تربیت کے مشاغل، یا اپنے گھر بار اور دنیوی کاموں کے مشاغل۔ حکم کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی اور مشغولیت نہ رہے تو اپنا فارغ وقت عبادت کی ریاضت و مشقت میں صرف کرو اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
تعلیم و تبلیغ کرنے والوں کو خلوص میں ذکر اللہ اور توجہ الی اللہ بھی ضروری ہے فاذا فرغت فانصب، والی ربک فارغب یعنی جب آپ ایک محنت یعنی دعوت حق اور تبلیغ احکام سے فارغ ہوں تو (دوسری) محنت کے لئے تیار ہو جایئے وہ یہ کہ نماز اور ذکر اللہ اور دعا و استغفار میں لگ جائیں۔ اکثر حضرات مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ بعض حضرات نے دوسری تفسیریں بھی لکھی ہیں مگر اقرب وہی ہے جو اوپر لکھی گئی۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور خلق خدا کو راستہ دکھانا ان کی اصلاح کی فکر یہ آپ کی سب سے بڑی عبادت تھی مگر یہ عبادت بواسطہ مخلوق ہے کہ ان کی اصلاح پر توجہ دیں اور اس کی تدبیر کریں، آیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آخری منزل کے لیے جدوجہد: یہ آخری منزل کے لیے جدوجہد کی ہدایت ہے۔ ’نصب ینصب‘ کے معنی جدوجہد اور محنت کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ دعوت کی راہ کے عقبات طے کرتے ہوئے جب وہ مرحلہ آ جائے کہ اللہ کی نصرت بے نقاب ہو جائے، مکہ فتح ہو جائے، دشمن گھٹنے ٹیک دیں اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگیں تو پھر تم کمر کس کے آخری منزل کی تیاری کے لیے جدوجہد کرو اور کلیۃً اپنے رب کی طرف جھک پڑو۔ گویا بیک وقت ان آیات میں دو باتیں جمع کر دی گئی ہیں۔ ایک تو یہ بشارت کہ آپ تمام مشکلات راہ کو عبور کرتے ہوئے دعوت کی آخری منزل پر کامیابی کے ساتھ پہنچنے اور اپنی عظیم ذمہ داری سے سرخ روئی کے ساتھ فارغ ہونے کا شرف حاصل…
Read the full tafseer →8۔ 1 یعنی اسی سے جنت کی امید رکھ، اسی سے اپنی حاجتیں طلب کر اور تمام معاملات میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ رکھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4: ظاہر ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی مصروفیات تمام تر دین کے لئے تھی، تبلیغ ہو یا تعلیم، جہاد ہو یا حکمرانی، سارے کام ہی دین کے لئے ہونے کی وجہ سے بذات خود عبادت کا درجہ رکھتے تھے، لیکن فرمایا جارہا ہے کہ جب ان کاموں سے فراغت ہو تو خالص عبادت مثلاً نفلی نمازوں اور زبانی ذکر وغیرہ میں اتنے لگئے کہ جسم تھکنے لگے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں ان کو بھی کچھ وقت خالص عبادتوں کے لئے مخصوص کرنا چاہیے، اسی سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے، اور اسی سے دوسرے کاموں میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
بیشک سختی کے بعد آسانی ہے ، تنگی کے بعد فراخی ہے ، اور اس کے اسباب یہ ہیں ، ان پر عمل کیجئے کہ جب آپ لوگوں کے ساتھ اپنی مشغولیات سے فارغ ہوجائیں اور دنیا کے امور سے فارغ ہوجائیں اور زندگی کی سرگرمیوں قدرے رک جائیں ، جب آپ ان امور سے فارغ ہوجائیں تو پھر اس میدان میں اتر جائیں جس میں آپ کو محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی اللہ کی عبادت ، اللہ کی طرف توجہ۔ والی ربک فارغب (8:94) ” اپنے رب کی طرف راغب ہوجاﺅ“۔ تو پھر آپ صرف رب کی طرف راغب ہوجائیں ، تمام دنیاوی امور چھوڑدیں ، یہاں تک کہ دعوت اسلامی کی سرگرمیاں بھی چھوڑدیں ، یہ ہے زادراہ۔ ہر سفر کے لئے کوئی نہ کوئی سازوسامان ہوتا ہے اور یہ ہے سازو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8 یعنی جب خلق کے سمجھانے سے فراغت پائے تو خلوت میں بیٹھ کر محنت کر، تاکہ مزید یسر کا سبب بنے۔ اور اپنے رب کی طرف (بلاواسطہ) متوجہ ہو (تنبیہ) خلق کو سمجھانا اور نصیحت کرنا آپ ﷺ کی اعلیٰ ترین عبادت تھی۔ لیکن اس میں فی الجملہ مخلوق کا توسط ہوتا تھا۔ مطلوب یہ ہے کہ ادھر سے ہٹ کر بلاواسطہ بھی متوجہ ہونا چاہئے۔ اس کی تفسیر اور کئی طرح کی گئی ہے۔ مگر اقرب یہی معلوم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت 7 ‘ 8{ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ - وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ۔ } ”پھر جب آپ ﷺ فرائض نبوت سے فارغ ہوجائیں تو اسی کام میں لگ جایئے۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔“ تو اے نبی ﷺ ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہوجائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ نوٹ کیجیے ! سورة النصر میں بھی حضور ﷺ کے لیے بالکل یہی پیغام ہے : { اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ - وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُطٓ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپ ﷺ کا مشن مکمل ہوجائے تو…
Read the full tafseer →5 یعنی جب آپ کو تبلیغ کے کاموں سے گھریلو مشاغل سے اور اسلام لانے والوں کی تعلیم و تربیت سے فراغت حاصل ہو تو اپنے پروردگار سے لو لگایئے۔ اور یکسو ہو کر اس سلسلہ میں ریاضت کیجئے۔ کیونکہ مشکلات کے دوران اللہ کی عبادت اس کا ذکر اور اس پر توکل ہی انسان کو ایسا حوصلہ عطا کرتا ہے جس سے مصائب کو برداشت کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔
Read the full tafseer →6۔ (بلاواسطہ مخلوق، اور براہ راست) عبادت اور بہترین عبادت کے حکم میں تو آپ کی مشغولی تبلیغ واصلاح خلق بھی داخل تھی، لیکن بہرحال اس میں ایک واسطہ مخلوق کا رہتا تھا، آیت میں حکم یہ مل رہا ہے کہ اس نوعیت کی عبادت کے علاوہ براہ راست توجہ الی الحق بھی رکھیے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ جب ارشاد وافادہ سے فارغ ہوجائے تو چاہیے کہ خلوت میں فکر ومناجات میں لگ جائے، اور اپنے کو مجاہدہ سے مستغنی نہ سمجھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً مشہور قاعدہ ہے کہ معرفہ کو اگر بعینہ مکرر لایا جائے تو اس کا مصداق وہی ہوتا ہے جو پہلے کلمہ کا تھا اور اگر بغیر الف لام تعریف کے مکرر لایا جائے تو دونوں کے مصداق اگ الگ ہوتے ہیں اس آیت میں العسر مکرر آیا ہے، تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلا ہی عسر مراد ہے اور لفظ یسر دونوں جگہ بغیر الف لام کے نکرہ لایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ دوسرا یسر پہلییسر کے علاوہ ہے تو اس آی میں ان مع العسر یسراً کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک ہی عسر کے لئے دو آسانیو کا وعدہ ہے اور دو سے بھی خاص دو کا عدد مراد نہیں بلکہ متعدد ہونا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ایک عسر کے ساتھ متعدد…
Read the full tafseer →والی ربک فارغب . یہ فانصَب پر عطف تفسیری ہے۔ یعنی اللہ سے مانگنے کی رغبت کرو ‘ دوسرے سے مت مانگو عطاء نے (اس جملہ کی تفسیر میں) کہا : دوزخ کے خوف اور جنت کی رغبت رکھتے ہوئے اللہ کے سامنے زاری کرو۔ بعض نے اس طرح معنی کیا کہ اپنے تمام احوال میں اللہ ہی کی طرف راغب ہو۔ صاحب مواج نے کہا : اپنے میلان طبع کو خدائے واحد کی طرف کرلو۔ اِلٰی ربّک فعل محذوف سے متعلق ہے یعنی فارغب الی ربک فارغب۔ میں کہتا ہوں کہ دو مرتبہ راغب ہونے کا حکم اسلئے دیا کہ پہلی رغبت تو اللہ کے انعامات اور صفات کی جانب ہونی چاہیے اور دوسری رغبت اللہ کی ذات مجرد کی طرف جو تمام کیفیات اور اعتبارات سے منزّہ ہے۔ نوٹ مقام نزول میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(6۔ 7۔ 8) تو جب جہاد سے فارغ ہوجایا کریں تو عبادت میں کوشش کیا کیجیے یا کہ جس وقت فرض نماز سے فارغ ہوں تو خوب کوشش سے دعا کیا کریں اور تمام حاجتوں میں اپنے رب ہی سے امید رکھیے۔ شان نزول : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ الخ جب مشرکین نے مسلمانوں کو فقر کے ساتھ عار دلائی تب یہ سورت نازل ہوئی اور ابن جریر نے حسن سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو تمہیں کشادگی دی گئی ہے اس سے خوش ہوجاؤ کیوں کہ ایک تنگی دو فراخیوں پر غالب نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(1) فاذا فرعت فانصب…: آپ کے دنیا کے کام ہوں یا تبلیغ دین یا جہاد فی سبیل اللہ، اگرچہ یہ سب عبادات اور نیکیاں ہیں مگر ان میں پھر بھی مخلوق سے کچھ نہ کچھ رابطہ رہتا ہے، جب بھی ان کاموں سے کچھ فراغت ملے، تو ہر چیز سے منقطع ہو کر اپنے رب سے تعلق جوڑ کر ذکر الٰہی، تلاوت قرآن، قیام اور رکوع و سجود کی محنت کریں اور اپنی متام رغبت اپنے رب ہی کی طرف رکھیں۔ یہ وہی بات ہے جو سورة مزمل کے شروع میں کہی گئی ہے، فرمایا :(ان لک فی النھار سبحاً طویلاً ، واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلاً (المزمل : 8: 8) ”یقیناً تجھے دن میں بہت لمبی مصروفیت ہے اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے کٹ کر اسی کی طرف متوجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فان مع العسریسرا، ان مع العسر یسرا۔ بے شک تنگی اور سختی کے ساتھ آسانی یعنی وسعت اور غنا ہے پھر اسی ارشاد کو مکررذکر کیا ایک قوم نے یہ کہا یہ تکرار کلام کی تاکید ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ارم ارم، پھینکو پھینکو۔ اعجل اعجل جلدی کرو، جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلا سوف تعلمون ثم کلاسوف تعلمون۔ ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے پھر ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے اس کی مثال جواب کے تکرار میں ہے، بلی، بلی، لا، لا، یہ اطناب اور مبالغہ کے لیے ہے، یہ فراء کا قول ہے اس معنی میں شاعر کا قول ہے، ھمت بنفسی بعض الھموم، فاولی لنفسی اولی لھا۔ میں نے اپنے بارے میں ایسے امور کا ارادہ کیا جو میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
29۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت آیت فاذا فرغت فانصب پس جب آپ فارغ ہوں تو ریاضت کیجیے یعنی جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں تو دعا میں مشغول ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور اس کی طرف رغبت کریں۔ 30۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : جب تو اپنی نماز سے فارغ ہوجائے اور تشہد پڑھ لیں تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اور اس سے اپنی حاجت مانگیں۔ 31۔ ابن ابی الدنیا نے الذکر میں ابن مسعود ؓ سے آیت فاذا فرغت فانصب کے بارے میں روایت کیا کہ جب آپ فارغ ہوجائیں تو…
Read the full tafseer →[وَاِلٰى رَبِكَ : اور اپنے رب کی طرف ہی ] فَارْغَبْ : پھر آپ ﷺ التجا کریں ]
Read the full tafseer →﴿وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ (رح) 008﴾ (اور اپنے رب کی طرف رغبت کیجئے) ۔ یعنی نماز، دعا، مناجات، ذكر، تضرع، زاری میں مشغول ہوجائیں۔ فَانْصَبْ کا ترجمہ ” محنت کیا کیجئے “ کیا گیا ہے کیونکہ یہ نصب بمعنی مشقت سے مشتق ہے، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ عبادات میں اس قدر لگنا چاہیے کہ نفس تھکن محسوس کرنے لگے، نفس کو آسانی پر نہ چھوڑیئے اگر نفس کا آرام اور رضا مندی دیکھی جائے تو وہ فرض بھی ٹھیک طرح سے ادا نہ کرنے دے گا۔ وھذا آخر تفسیر سورة الانشراح والحمد للہ العلیم العلی الفتاح، والصلوٰة علی سید رسلہ صاحب الانشراح ومروح الارواح وعلی الٰہ وصحبہ اصحاب النجاح والفلاح وعلی من قام بعدھم بالصلاح والاصلاح
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
بشارت بانشراح صدر ورفع گرانی قلب وازالہ شدائد ہمت شکن : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم نشرح لک صدرک ....... الی ......... والی ربک فارغب “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر رب العالمین کی طرف سے فائز کردہ انعامات خاصہ کا ذکر تھا اور اسی کے ضمن میں آپ کے معالی اخلاق اور محاسن اوصاف بھی بیان کردیئے گئے تھے، اب اس سورت میں مزید ایک انعام شرح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح صدر کا بیان کیا جارہا ہے، امور نبوت اور اللہ رب العالمین کے تکوینی امور پر قلب کا اطمینان وانشراح بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر کمال یقین استقامت اور…
Read the full tafseer →7:۔ ” والی ربک “ اور اپنے تمام احوال میں صرف اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس کے سوا کسی کی طرف توجہ نہ کرو۔ اجعل رغبتک الی اللہ تعالیٰ فی جمیع احوالک لا الی احد سواہ “ (خازن) ۔ سورة الانشراح ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
پہلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة دراصل پہلی سورة والضحی کا تتمہ ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر کئے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں بعض احکام صادر فرمائے تھے۔ اس سورة میں بھی بعض اضافی انعامات کا ذکر ہے جو رب کریم نے نبی علیہ اسللام پر کئے یہاں بھی سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے بعض احکام ہیں۔ شرح صدر سورة کی ابتداء احسانات کے تذکرہ سے ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان احسان شرح صدر ہے ، جو حضور ﷺ پر کیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ یہاں پر استفہامیہ طریقے سے بات کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یقینا آپ…
Read the full tafseer →وَاِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ 8 ۧ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ الم نشرح الخ الاستفہام تقریری والمعنی قد شرحنا لک صدرک ووضعنا عنک معطوف علی معنی ماتقدم وعنک متعلق بوضعنا و تقدیمہ علی المفعول الصریح مع ان حقہ التاخر لتعجیل المسرۃ والتشویق المؤخر الذی الخ وصف الوزر ورفعنا الخ معطوف علی السابق یسرا اسم ان مع العسر خبرھا والعسرفی الموضعین واحد لان المعرفۃ اذا اعیدت یرادبھا الاول والیسر غیر الاول ولذا قال النبی ﷺ لن یغلب عسریسرین ان اللہ یقول ان مع العسریسرا الخ۔ اخرجہ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان وغیرھم تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ و ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اس میں آٹھ آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۔ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ۔ (النشرح : 7، 8) (اور جب آپ فارغ ہوں تو کمربستہ ہوجائیں۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجائیں۔ ) آخری منزل کے لیے جدوجہد فَانْصَبْ ، نَصَبَ سے امر ہے۔ اس کا معنی ہے ایسا کام کرنا جس کے کرنے سے تھکاوٹ ہوجائے۔ اس لیے اس کا ترجمہ جدوجہد اور محنت کیا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب آپ اپنے مشاغل سے فارغ ہوجائیں وہ مشاغل دعوت و تبلیغ سے متعلق ہوں یا مسلمانوں کی تعلیم و تربیت سے، یا ان کا تعلق دنیوی کاموں سے ہو تو اس فراغت میں آپ کا کام سستانا اور آرام کرنا نہیں بلکہ ایک کام سے فارغ ہونے کے بعد اس کے شکر کے طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن ربط کلام : انسان کا فرض بنتا ہے کہ اسے جب آسانی اور کامیابی حاصل ہو تو اپنے رب کو یاد رکھے اور اس کا شکریہ ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ذات پر جو خصوصی انعامات فرمائے۔ اس لیے حکم ہوا کہ کامیابی، آسانی اور فراغت کے وقت اپنے رب کو رغبت یعنی پوری توجہ کے ساتھ یاد کیا کریں۔ فراغت کے وقت یاد کرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ فراغت میسر نہ ہو تو اپنے رب کو بھول جایا جائے۔ اس سورت میں نبوت کی ذمہ داریوں اور اس کی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ جب بھی دعوت کے کام سے فرصت میسر ہو تو نفلی نماز اور ذکر وفکر میں مصروف ہوجایا کریں۔ اس میں ایک مبلغ اور مدرس کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →8 : وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ (اور اپنے رب ہی کی طرف تو جہ رکھیے) خصوصاً اپنی رغبت و میلان کو اسی ہی کی طرف لگا لو۔ اور اسی ہی کا فضل مانگو اور اسی ہی پر توکل کرو۔
Read the full tafseer →8 ۔” والی ربک فارغب “ عطائؒ فرماتے ہیں اس کی عرف آہ وزاری کریں آگ سے ڈرتے ہوئے اور جنت میں رغبت کرتے ہوئے اور کہا گیا ہے اس کی طرف اپنے احوال میں رغبت کریں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی آپ اپنی رغبت صرف ایک اللہ کی طرف کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ سینے کے کھول دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے سینہ پر جو دل کا قلعہ کہلاتا ہے شیطان کا کسی طرح کا کچھ تسلط باقی نہیں رہا۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اور شیطان کے شیاطینوں میں سے ایک شیطان ہر شخص کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اللہ کے فرشتہ نیک کام کی رغبت دلانے کے لئے ہے اور شیطان برے کام کی رغبت کے لئے مگر میرے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے میرا ایسا فرمانبردار کردیا ہے کہ وہ بجائے برے کام کی رغبت کے نیک کام کی رغبت مجھ کو دلاتا رہتا ہے اسی مطلب کی صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس ؓ کی وہ روایت ہے۔ جس…
Read the full tafseer →(وَاِلٰى رَبِّكَ ) اور اپنے اکیلے رب کی طرف ( فَارْغَبْ ) پس متوجہ ہوجائیں یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھایے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہوجاتے ہیں اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہوجائیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کے معنی ہیں کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجئے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجئے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے، فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فرصت کے بعد عبادت قول باری ہے (فاذافرغت فانصب۔ لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جائو) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” جب تم فرائض سے فارغ ہوجائو تو ان اعمال میں لگ جائو جن کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں ترغیب دی ہے۔ “ حسن کا قول ہے ” جب تم اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب کی عبادت میں لگ جائو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” تم جب اپنی نماز سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب سے دعائیں مانگنے میں لگ جائو۔ مجاہد کا قول ہے ” جب تم اپنے دنیاوی کاموں سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب کی عبادت میں لگ جائو) آیت کے الفاظ میں ان تمام معافی کا احتمال ہے اور درست صورت یہ ہے کہ لفظ کو ان تمام معانی پر محمول کیا…
Read the full tafseer →( 5) اپنے رب ہی کی طرف رغبت و رجوع کا حکم و ارشاد : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اپنے رب ہی کی طرف راغب و رجوع رہا کرو، کہ اصل اور حقیقی مقصود وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے، اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت اختیار میں ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس دل کی توجہ اور رجوع ہمیشہ اسی کی طرف ہے۔ فکن اللھم لنا واجعلنا لک فی کل موطن من المواطن و بکل حال من الاحوال۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔ سو ان آیات کریمات میں بیک وقت دو باتوں کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ایک یہ کہ مہمات دعوت سے فراغت پاتے ہی آپ ﷺ اپنی آخری منزل کی تیاری کے لیے جدوجہد میں لگ جائیں، اور دوسری یہ کہ ایسے موقع پر آپ ﷺ کامل اور مکمل طور پر اپنے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نبی ﷺ کے لیے دنیا میں انعامات کی خوشخبری تشریح : بڑی ہی خوبصورت اور جامع سورت ہے اس میں بہت سے حقائق زندگی انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اللہ کی نعمتوں ' برکتوں ' فضل وکرم اور مہربانیوں کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ اور ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ سب کو برابر عطا کرتا ہے مگر یہاں خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے خاص طور سے ان پر مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پچھلی سورت میں بھی کیا گیا تھا۔ یہ احسان جتانے کے طور پر نہیں بلکہ تسلی دینے کے لیے ہمت بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ انسان ہونے کے ناطے گبھراہٹ ' پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الانشراح۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ آپ کا سینہ مبارکہ علم وحلم کے لیے اس قدر وسیع کردیا کہ دنیا کے تمام حکماء مل کر بھی اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں کرسکے ، قیامت تک کی ساری انسانیت کو دنیا وآخرت کے ہرمسئلے کا حل اور ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس قدر مشکلات برداشت کیں اور صدمات جھیلے کہ آپ ہی کی شان ہے اور آپ کے لیے وہ عظیم ذمہ داری کی ساری انسانیت کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور ظلم کو روک کر حق کا نفاظ کفر کو پھاڑ کر توحید کی روشنی مہیا کرنا اتنا بڑا بوجھ تھا کہ اس نے کمردوہری کردی مگر ہم نے ـآساں کردیا اور آپ کے نام نامی کو بلند کردیا کہ اپنے نام کے ساتھ کلمے کا جز بنادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 3 ۃ یعنی اسی سے اپنی حاجت مانگئے اور ہر معاملہ میں اسی پر بھروسا کیجیے۔
Read the full tafseer →(94:8) والی ربک فارغب : یہ فانصب پر عطف تفسیری ہے۔ یعنی اللہ سے مانگنے کی رغبت کرو دوسرے سے مت مانگو۔ الی ربک فعل محذوف سے متعلق ہے ای فارغب الی ربک فارغب پس اپنے رب کی عبادت کی طرف اچھی طرح لگ جا۔ ارغب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ رغبۃ (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی دل لگانے اور متوجہ ہونے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔ الم نشرح۔ کیا ہم نے نہیں کھول دیا۔ صدر۔ سینہ۔ وضعنا۔ ہم نے اتارا۔ ورز۔ بوجھ۔ انقض۔ توڑ دیا تھا۔ ظھر۔ پیٹھ۔ رفعنا۔ ہم نے بلند کردیا۔ فرغت۔ تو نے فراغت حاصل کرلی۔ انصب۔ (عبادت کی) تکلیف اٹھا۔ ارغب۔ رغبت کر۔ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1۔ شرح صدر 2۔ وضع و زر 3۔ اور رفع ذکر 1۔ سوالیہ اندازپر ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ہم نے آپ کو شرح صدر عطا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے آپ کے ہر اس بوجھ کو جو آپ کی کمر کو جھکائے دے رہا تھا آپ کے اوپر سے نہیں اتارا ؟ کیا ہم نے آپ کے ذکر کو بلند نہیں کیا ؟ نشرح کے معنی کھول دینا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 2) پس جب آپ انتظام امت سے فارغ ہوں تو عبادت کیجئے اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[3] یعنی جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں وہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں بلکہ جلد ہی اچھے حالات آنے والے ہیں۔ اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا تاکہ آپ کو پوری طرح تسلی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 1: حضور ﷺ سے کفار مکہ جب یہ کہتے کہ اگر آپ اسلام کی منادی کو چھوڑ دیں تو ہم آپ کو افلاس وعسر سے نکال کر مال و دولت کی وادی میں لامتمکن کریں ۔ تو آپ ﷺ ایک قلبی کوفت محسوس کرتے ۔ آپ کو یوں معلوم ہوتا کہ میرا افلاس گویا حق وصداقت کی راہ میں زبردست رکاوٹ ہے ۔ اس پر بطور تسلی وتسکین دہی کے فرمایا کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں ۔ دنیا کی مشکلات کے ساتھ اللہ نے آپ ﷺ کے لئے دنیا وعقبیٰ کی سہولتیں مقدر کررکھی ہیں ۔ ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ مال وزر پر ناز کرنے والے آپ ﷺ کی اور مسلمانوں کی فارغ البالی کو دیکھ کر جلیں گے اور اس وقت یہ جانیں گے کہ اسلام فقروافلاس کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ فضل و دولت اور یسرو آسانی…
Read the full tafseer →(8) اور اپنے پروردگار کی ہی جانب توجہ رکھیئے - مطلب یہ ہے کہ جب تبلیغ سے فارغ ہوجائیں اور دوسری خدمات سے فرصت پائیں تو بلاواسطہ خلق عبادت کیجئے اور خلوت میں بیٹھ ریاضت کیجئے اگرچہ مخلوق کی خدمت کرنا بھی عبادت ہے لیکن اس سے فارغ ہوکر بلاواسطہ بھی ریاضت کیا کیجئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا فرض نماز سے فارغ ہوکر دعا کیا کیجئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا نماز مکتوبہ سے فارغ ہوکر تہجد پڑھا کیجئے اور اپنے پروردگار کی جانب توجہ رکھیئے یعنی اسی کی جانت عاجزی اور گریہ وزاری کیا کیجئے یا یہ مطلب ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہر حال میں رغبت رکھیئے اس کے سوا کسی دوسری کی جانب نہیں۔ بہرحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 8۔ مکہ میں آپ اور اہل ایمان طرح طرح کی تکالیف اور شدائد میں گرفتار تھے، لیکن آخر کار وہ مشکلات ایک ایک کر کے سب رفع ہوگئیں۔
Read the full tafseer →اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جا 8 ؎ یہ ہے وہ ساری پریشانیوں ، ساری تھکاوٹوں اور ساری محنتوں اور مشقتوں کا الٰہی حل جس سے یہ سب کچھ بھسم ہو کر رہ جاتا ہے کہ آدمی جب تھک ہارے جائے اور نہایت بور (Bore) ہوجائے تو وہ بغیر کسی حیل و حجت کے اللہ تعالیٰ کی طرف راغب ہو یہی حل اس کا اس وقت تھا جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں موجود تھے اور یہی حال اس کا آج ہے اگر کوئی اس حل کو حل سمجھے لیکن اگر کوئی شخص بھی اس حل کو حل نہ سمجھے تو کیا اس کے نہ سمجھنے سے حقیقت بھی اپنا آپ بدل دے گی ؟ ہرگز نہیں حقیقت تو کہتے ہی اس کو ہیں جو موم کی ناک کی طرح بدلتی نہ رہ بلکہ اپنی جگہ قائم و دائم رہے ۔ جو کام دنای میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
The Command for Teachers and Preachers to Remember Allah During Spare Hours فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (So when you are free [ from collective services ], exert yourself [ in worship ], and towards your Lord turn with eagerness....94:8). The Holy Prophet ﷺ is commanded in these verses that when he has finished his day's work of teaching and training his followers and other temporal affairs, he should turn to Allah as ever with all his heart, that is, prayers, remembrance of Allah, supplication and seeking Allah's pardon. This is the interpretation assigned to this…
Read the full tafseer →5 When you are free,": When you are free from other occupations, whether occupations in connection with the preaching of Divine message, or teaching and training of the new converts, or domestic occupations of mundane nature." The commandment means: "When you are no more occupied, you should spend your time in the labour and toil of Allah's worship and turn all your attention exclusively to your Lord."
Read the full tafseer →