وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ ۟ۙوَالتِّيۡنِ وَالزَّيۡتُوۡنِۙ
انجیر کی قسم اور زیتون کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the fig and the olive
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz
The Fig · Meccan · 8 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ ۟ۙوَالتِّيۡنِ وَالزَّيۡتُوۡنِۙ
انجیر کی قسم اور زیتون کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the fig and the olive
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz
Read the whole surah · Surah At-Tin
قسم ہے انجیر اور زیتون کی
انجیر کی قسم اور زیتون کی
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی
قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔
انجیر کی قسم اور زیتون
انجیر کی قَسم اور زیتون کی قَسم،
قسم ہے انجیر کی ! اور زیتون کی !
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی
شاہد ہیں جبل تین اور کوہ زیتون
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی
قسم ہے انجیر اور زیتون کی
گواہ ہے انجیر اور گواہ ہے زیتون۔
انجیر کی قسم اور زیتون کی
By the fig and the olive;
I swear by the Fig and the Olive,
I swear by the Fig and the Olive,
By At-Tin and Az-Zaytun.
By the fig and the olive,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
By the fig and the olive
By the fig, by the olive,
I swear by the fig and the olive,
By the fig, by the olive,
By the Fig and the Olive,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
تین سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے زیتون سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، طور سینین وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا بلد الامین سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر بھیجے گئے تھے، تین سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی…
Read the full tafseer →سورة التِّیْن 1 اس کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہوا ہے۔ حسن بصری، عکرمہ، عطاء بن ابی رباح، جابر بن زید، مجاہد اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ انجیر سے مراد یہی انجیر ہے جسے لوگ کھاتے ہیں اور زیتون بھی یہی زیتون ہے جس سے تیل نکالا جاتا ہے۔ ابن ابی حاتم اور حاکم نے ایک قول حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اس کی تائید میں نقل کیا ہے۔ اور جن مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے انہوں نے انجیر اور زیتون کے خواص اور فوائد بیان کر کے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی خوبیوں کی وجہ سے ان دونوں پھلوں کی قسم کھائی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایک عام عربی داں تین اور زیتون کے الفاظ سن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر قسم ہے انجیر (کے درخت) کی اور زیتون (کے درخت) کی اور طور سینین کی اور اس امن والے شہر (یعنی مکہ معظمہ) کی کہ ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے پھر (ان میں جو بوڑھا ہوجاتا ہے) ہم اس کو پستی کی حالت والوں سے بھی پست تر کردیتے ہیں (یعنی وہ خوبصورتی بدصورتی سے اور قوت صنعف سے بدل جاتی ہے اور برے سے برا ہوجاتا ہے مقصود اس سے بیان کرنا کمال قبح کا ہے جس سے ان کے دوبارہ پیدا کرنے پر حق تعالیٰ کی قدرت ہونا واضح ہوتا ہے کقولہ تعالیٰ اللہ الذی خلقنکم من ضعف الخ اور مقصود اس سورت کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت دوبارہ پیدا کرنے اور زندہ کرنے پر ثابت کرنا ہے جیسا کہ فما…
Read the full tafseer →’تین‘ سے مراد جبل تین ہے: ’و‘ یہاں قسم کے لیے ہے اور قسم سے متعلق ہم برابر وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اشیاء اور مقامات کی جو قسمیں آئی ہیں وہ تمام تر اس دعوے پر دلیل کی حیثیت سے آئی ہیں جو قسم کے بعد مذکور ہوا ہے۔ یہاں ’تین‘ سے مشہور پھل انجیر مراد نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے مفسرین نے سمجھا ہے، بلکہ جبل تین ہے جو انجیر کی پیداوار کے لیے مشہور رہا ہے۔ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ تین میں اس کی جو تحقیق بیان فرمائی ہے اس کا کچھ ضروری حصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں: ’’’تین‘ ایک خاص پہاڑ کا نام ہے۔ عربی میں انجیر کو تین کہتے ہیں۔ چونکہ یہاں انجیر کی پیداوار بکثرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 یہ وہی کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ سے ہم کلام ہوا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: انجیر اور زیتون فلسطین اور شام میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ان سے فلسطین کے علاقے کی طرف اشارہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا، اور انہیں انجیل عطا فرمائی گئی تھی۔ اور صحرائے سینا کا پہاڑ طور وہ ہے جس پر حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا، اور آپ پر قرآن کریم نازل ہوا۔ ان تینوں کی قسم کھانے سے مقصود یہ ہے کہ جو بات آگے کہی جا رہی ہے، وہ ان تینوں کتابوں میں درج ہے، اور تینوں پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو بتائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ انسانی فطرت مستقیمہ پر انجیر ، زیتون ، طور سینا اور پرامن شہر مکہ کی قسم اٹھائی ہے۔ اور یہ قسم دراصل اس حقیقت یعنی فطرت انسان کے لئے ایک موزوں اور مناسبت فریم کا کام دیتی ہے۔ ہم اس سے قبل ثابت کرچکے ہیں کہ جس حقیقت کی تصویر کو فریم کرنے کے لئے جن مناظر قدرت کی قسم اٹھائی جاتی ہے اس حقیقت اور مناظر قدرت کے درمیان ایک خاص مناسبت ہوتی ہے اور یہ کسی جگہ واضح اور کسی جگہ بہت دقیق ولفیف ہوتی ہے۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس کے دامن میں اللہ اور موسیٰ علیہ اسلام کے درمیان مکالمہ ہوا تھا اور بلد امین سے مراد شہر مکہ ہے۔ ان دونوں مقامات کا دینی حقائق کے ساتھ تعلق بالکل واضح ہے۔ انجیر اور زیتون…
Read the full tafseer →9 انجیر اور زیتون دونوں چیزیں نہایت کثیر المنافع اور جامع الفوائد ہونے کی وجہ سے انسان کی حقیقت جامعہ کے ساتھ خصوصی مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی لئے " لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم " کے مضمون کو ان دونوں کی قسم سے شروع کیا۔ اور بعض محققین کہتے ہیں کہ یہاں " التین " اور " الزیتون " سے دو پہاڑوں کی طرف اشارہ ہے جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے۔ گویا ان درختوں کی قسم مقصود نہیں بلکہ اس مقام مقدس کی قسم کھائی ہے جہاں یہ درخت بکثرت پائے جاتے ہیں اور وہی مولد و مبعث حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3{ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ۔ } ”اور گواہ ہے یہ امن والا شہر۔“ التِّین کے معنی انجیر کے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قوم نوح علیہ السلام کے علاقے میں ایک بڑے پہاڑ کا نام بھی جبل التِّین تھا اور یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اسی پہاڑ کے دامن میں ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ کے فرائض سرانجام دیے۔ اسی طرح الزَّیْتُون سے مراد زیتون کا پھل اور درخت بھی ہے اور وہ پہاڑی بھی جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکثر تبلیغی خطبات دیا کرتے تھے۔ ان خطبات میں سے آپ علیہ السلام کا ایک خطبہ ”پہاڑی کے وعظ“ Sermon of the Mount کے نام سے خاص طور پر مشہور ہے۔ تیسری قسم وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ کا تعلق حضرت…
Read the full tafseer →1 تین بمعنی انجیر کا درخت بھی اور اس کا پھل بھی اور اس کا واحد تینۃ ہے۔ بمعنی انجیر کا ایک دانہ۔ یہ ایک خوش ذائقہ معروف پھل ہے جس میں غذائیت بہت ہوتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا علاج بھی ہے۔ اور تیانۃ بمعنی انجیر فروش اور متانۃ انجیر کے باغ کو کہتے ہیں یا ایسی جگہ کو جہاں انجیر کے درخت بکثرت پائے جائیں۔ 2 زیتون ایک درخت ہے جس سے زیتون کا تیل نکالا جاتا ہے اور اس کے پھل کو زیتونۃ کہتے ہیں اور تیل کو زیت پھر زیت کا اطلاق ہر قسم کے تیل پر ہونے لگا، خواہ وہ کسی چیز سے نکالا جائے اور زیات بمعنی تیلی، تیل نکالنے والا یا بیچنے والا۔ لیکن اس آیت میں انجیر یا اس کے درخت اور زیتون کے درخت کی قسم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی مکہ معظمہ کی (آیت) ” طور سینین “۔ جزیرہ نمائے سینا کا وہ پہاڑ ہے، جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قانون شریعت ملا تھا۔ (آیت) ” واتین والزیتون “۔ انجیر وزیتون دونوں کے درخت شام اور اس کے اطراف میں کثرت سے پائے جاتے تھے، اور ان کے پھل منافع سے لبریز ہوتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ (آیت) ” البلدالامین “۔ سے اشارہ شریعت محمدی ﷺ کی طرف ہو۔ اور (آیت) ” طور سینین “۔ سے شریعت موسوی کی طرف اور زیتون سے مواعظ مسیحی کی جانب (حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنا مشہور وعظ کوہ زیتون ہی پر ارشاد فرمایا تھا) اور انجیر سے بعض علماء عصر کا خیال ہے کہ ہندوستان کے گوتم بدھ کی طرف اشارہ (بشرط اثبات نبوت) نکل سکتا ہے۔
Read the full tafseer →ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی یعنی کھائے جانے والے دونوں پھلوں کی، یا قسم ہے دو پہاڑوں کی جن پر (مذکورہ) دونوں پھل پیدا ہوتے ہیں ملک شام میں اور قسم ہے طور سینین کی یعنی اس پہاڑ کی کہ جس پر موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) سے اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوئے تھے اور سینین کے معنی مبارک (یا وہ مقام ہے) جو پھل دار درختوں کی وجہ سے حسین ہو اور قسم ہے اس پر امن شہر مکہ کی اس میں لوگوں کے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں مامون ہونے کی وجہ سے اور ہم نے جنس انسان کو بہترین معتدل صورت پر پیدا کیا پھر ہم نے اس کے بعض افراد کو نیچوں سے نیچ کردیا یہ…
Read the full tafseer →والتین والزیتون . حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ حسن بصری ‘ ابراہیم ‘ عطاء ‘ مقاتل اور کلبی نے کہا : (التین اور الزیتون سے مراد) یہی انجیر ہیں جن کو تم کھاتے ہو اور یہی زیتون کے پھل ہیں جن کا روغن نکالتے ہو۔ انجیر کی قسم کھانے کی خصوصی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ ایسا میوہ ہے کہ اس کے اندر گٹھلی نہیں ہوتی (گویا) جنت کے پھلوں کے مشابہ ہے۔ ثعلبی نے اور ابو نعیم نے طب میں ایک مجہول اسناد کے ساتھ حضرت ابوذر ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ انجیر بواسیر کو کھو دیتا ہے اور نقرس کو فائدہ دیتا ہے۔ زیتون ایک بابرکت درخت ہے جس کا پھل روغنی ہوتا ہے اور روغن سالن کی جگہ بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا : تینؔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور کہا گیا ہے کہ یہ شام میں دو مسجدیں ہیں یا یہ کہ دو پہاڑ ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ ”تین“ اس پہاڑ کا نام ہے جس پر ”بیت المقدس“ ہے اور ”زیتون ‘ اس پہاڑ کا نام ہے ج سپر دمشق ہے۔ اور قسم ہے جبل کی یہ مدین میں ایک پہاڑ ہے جس پر موسیٰ ؑ کو شرف کلامی نصیبت ہوئی۔ قبطی زبان میں ہر ایک پہاڑ کو طور کہتے ہیں اور سینین اس پہاڑ کو جس پر عمدہ درخت ہوں اور اس امن والے شہر یعنی مکہ مکرمہ کی۔
Read the full tafseer →(1) والتین والزیتون : انجیر اور زیتون دو ایسے پھل ہیں جو اپنی جامعیت اور فوائد کی کثرت میں انسان کے جامع الفضائل ہونے کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں، اس لئے انہیں انسان کے احسن تقویم میں پیدا کئے جانے کے شاہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے انجیر اور زیتون سے مراد سر زمین شام لی ہے جہاں یہ کثرت سے ہوتے ہیں اور جہاں عیسیٰ ؑ اور اللہ کے بہت سے پیغمبر پیدا ہوئے ہیں اور یہی بات راجح ہے، کیونکہ اس کے بعد طور سینا اور بلد امین کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →والتین والزیتون۔ اس میں تین مسائل ہیں : تین اور زیتون سے کیا مرا ہے ؟ مسئلہ نمبر 1۔ والتین والزیتون۔ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، مجاہد، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح، جابر بن زید، مقاتل اور کلب ینے کہا، اس سے مراد انجیر ہے جسے تم کھاتے ہو اور تمہارا وہ زیتون ہے جس سے تم تیل نچوڑتے ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وشجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن وصبغ للاکلین۔ (المومن) نیزپیدا کیا ایک درخت طور سینا میں وہ اگتا ہے تیل لیے ہوئے اور سالن لیے ہوئے کھانے والوں کے لیے، حضرت ابوذر غفاری نے کہا، نبی کریم کا بارگاہ میں انجیر کی ٹوکری پیش کی گئی فرمایا، کھاؤ، اور خود بھی اس سے کھایا پھر فرمایا، اگر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة التین مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ مالک وابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں تھے آپ نے عشاء پڑھائی اور اس کی دور رکعتوں میں سے ایک میں آیت والتین والزیتون پڑھی میں نے کسی سے ایسی آچھی آواز اور ایسی اچھی قراءت نہیں سنی۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبد بن حمید نے اپنی مسند میں والطبرانی نے عبداللہ بن یزید ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورة والتین والزیتون پڑھی۔ 4۔ الخیب نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز…
Read the full tafseer →[وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ : قسم ہے انجیر کی اور قسم ہے زیتون کی ] نوٹ 1: پہلی آیت کی تفسیر میں ایک رائے یہ ہے کہ انجیر سے مراد یہی انجیر ہے جسے لوگ کھاتے ہیں اور زیتون سے مراد یہی زیتون ہے جس سے تیل نکالا جاتا ہے اس میں شک نہیں کہ ایک عام عربی دان ان الفاظ کو سُن کر یہی معنی لے گا۔ لیکن دو وجوہ ایسے ہیں جو یہ معنی لینے میں رکاوٹ ہیں۔ ایک یہ کہ آگے طور سینا اور شہر مکہ کی قسم کھائی گئی ہے اور دو پھلوں کے ساتھ دو مقامات کی قسم کھانے میں کوئی مناسبت نظر نہیں آتی۔ دوسرے ان چار چیزوں کی قسم کھا کر آگے جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس پر طور سینا اور شہر مکہ تو دلالت کرتے ہیں لیکن یہ دو پھل اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اوپر سورة ٴ والتین کا ترجمہ لکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے تین اور زیتون اور البلد الامین (شہر مکہ مکرمہ) اور طور سینین کی قسم کھا کر انسان کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے احسن تقویم میں پیدا کیا پھر اسے پست ترین حالت میں لوٹا دیا۔ تین انجیر کو کہتے ہیں اور زیتون ایک مشہور درخت ہے جس کے پھلوں سے تیل نکالتے ہیں جسے سورة النور میں شجرۃ مبارکۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ تیسرا مقسم بہ (جس کی قسم کھائی گئی) ﴿ طُوْرِ سِيْنِيْنَۙ002﴾ ہے۔ اسی کو سورة ٴ مومنون میں ﴿طُوْرِ سَيْنَآءَ ﴾ فرمایا ہے یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ مفسرین کرام نے فرمایا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔ آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور…
Read the full tafseer →2:۔ ” والتین “ از قبیل ذکر مکان و ارادہ مکین۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے۔ اور تین (انجیر) سے منبت تین یعنی انجیر کے پیدا ہونے کی جگہ مراد ہے اور وہ ملک شام ہے جہاں انجیر بکثرت پیدا ہوتی ہے اور ملک شام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقام ہجرت ہے جہاں ان پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی تھی۔ ” والزیتون “ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے اور اس سے بھی منبت زیتون یعنی بیت المقدس مراد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مولد ہے۔ المراد من الکلام القسم بمنابت التین ومنابت الزیتون (ابن جریر۔ قرطبی ج 20 ص 111) ۔ حضرت عکرمہ، قتادہ، ابن زید اور کعب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
موضوع اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم اٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اس سے بہتر صورت اللہ نے کسی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتا ہے۔ تو واقعی وہ کائنات کی بہترین ہستی ہے اور اگر وہ ان فرائض کی بجا آوری نہیں کرتا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ذلیل چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان کائنات کی حقیر سے حقیر چیز سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ چار چیزوں کی قسم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا والتین والزیتون قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ، عربی زبان میں تین انجیر کو…
Read the full tafseer →وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ 1 ۙ تين قال تعالی: وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ [ التین/ 1] قيل : هما جبلان، وقیل : هما المأکولان . ( ت ی ن ) وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ [ التین/ 1] انجیر کی قسم اور زیتون ۔ بعض کے نزدیک تین او زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ یہ کھانے کی دو چیزیں ہیں زيت زَيْتُونٌ ، وزَيْتُونَةٌ ، نحو : شجر وشجرة، قال تعالی: زَيْتُونَةٍ لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] ، والزَّيْتُ : عصارة الزّيتون، قال : يَكادُ زَيْتُها يُضِيءُ [ النور/ 35] ، وقد زَاتَ طعامَهُ ، نحو سمنه، وزَاتَ رأسَهُ ، نحو دهنه به، وازْدَاتَ : ادّهن . ( ز ی ت ) زیت وزیتونہ مثل شجر وشجرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ والتین الوا وللقسم والزیتون وطور سینین وھذا لبلدالامین معطوف علیہ لقد خلقنا الانسان الجملۃ المصدرۃ بلام التاکید وقد الی آخرھا جواب القسم۔ والقسم مع جو ابہ جملۃ فعلیۃ۔ والمراد بالتین والزیتون عند المجھور الشجرتان المعروفتان وقیل الجبلان وقیلا البلدان و طور جھل کلم اللہ علیہ موسیٰ (علیہ السلام) فی ناحیۃ الشمال والغرب من العرب وھو مضاف الی سینین عند الخاۃ سینین و سیناء اسمان للمکان الذی حصل فیہ الجبل المذکور۔ وقال ابو علی الفارسی سینین فعلیل کر رت اللام التیھی نون فیہ ولم ینصرف سینسین کمالم ینصرف سیناء لا نہ علم للبقعۃ وعجمی ای سریانی ولذا اختلفت عادۃ العرب فی تعریبہ فقیل سینین وقیل سینا…
Read the full tafseer →وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ ۔ (التین : 1) (قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ ) چار قسموں کی وضاحت ہم متعدد مواقع پر یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم میں قسموں کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے۔ اور عام معنوں میں اسے دعویٰ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ اور قسم اور جوابِ قسم میں رشتہ دلیل اور دعویٰ کا ہوتا ہے۔ یعنی جن چیزوں کی قسم کھائی جاتی ہے وہ درحقیقت اپنے دعوے کے اثبات کی دلیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لحاظ سے قسم اور جوابِ قسم میں کسی ایسی مناسبت کا ہونا ضروری ہے جس سے معلوم ہوسکے کہ قسم کس حیثیت سے جوابِ قسم کو ثابت کررہی ہے۔ چناچہ یہی وہ مناسبت ہے جس سے قسموں کے مفہوم اور مدلول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : الم نشرح کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جونہی فراغت میسر ہو تو آپ اپنے رب کو یاد کیا کریں۔ التّین کی ابتداء میں چار قسمیں اٹھانے کے بعد ہر انسان کو یہ بات باور کروائی ہے کہ جس طرح اسے بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، اسی طرح انسان کو بہتر سے بہتر اعمال کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہترین اعمال کا خلاصیہ یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے حکم کو یاد رکھا جائے۔ رب کریم نے اس سورة مبارکہ میں انسان کو اس کے مقام اور مرتبے کا احساس دلانے کے لیے چار چیزوں کی قسمیں اٹھائی ہیں۔ انجیر اور زیتون کی قسمیں اٹھائیں جس میں انجیر اور زیتون کے فوائد کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ بیت…
Read the full tafseer →1 : وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ (اور قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی) ان کی قسم اس لئے اٹھائی کیونکہ پھل دار درختوں میں دونوں عجیب درخت ہیں۔ جنت کا پھل : روایت میں ہے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک تھال انجیرکا لایا گیا۔ آپ نے اس میں سے کچھ تناول فرمایا اور اپنے صحابہ سے فرمایا تم کھائو ! اگر میں کہوں ! کہ کوئی پھل جنت سے آیا ہے۔ تو میں کہونگا کہ یہ ہے کیونکہ جنت کے پھل بغیر گٹھلی ہیں۔ اس کو کھایا کرو۔ بلاشبہ یہ بواسیر کو ختم کرتا ہے اور نقرس کیلئے فائدہ مند ہے۔ (رواہ ابو نعیم بسند مجہول فی الطب ص : 82) اور دوسرے ارشاد میں فرمایا بہترین مسواک زیتون ہے۔ یہ مبارک درخت سے ہے۔ منہ کو صاف ستھرا کرتی ہے۔…
Read the full tafseer →والتین اور والزیتون کی تفسیر 1 ۔” والتین والزیتون “ ابن عباس ؓ ، حسن، مجاہد، ابراہیم، عطاء بن ابی رباح، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ تمہاری انجیر ہے جس کو تم کھاتے ہو اور تمہارے زیت جس سے تم تیل نکالتے ہو۔ کہا گیا ہے انجیر کو قسم کے ساتھ خاص کیا گیا ہے اس لئے کہ یہ خاص میوہ ہے جس میں گٹھلی نہیں ہوتی۔ جنت کے میوئوں کے مشابہ ہے اور زیتون مبارک درخت ہے اس کے بارے میں حدیث آئی ہے اور یہ پھل اور تیل ہے سالن پکانے اور روشنی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں یہ دو پہاڑ ہیں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” التین “ وہ پہاڑ جس پر دمشق ہے اور ” الزیتون “ وہ پہاڑ جس پر بیت المقدس ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ انجیر اور زیتون یہی مشہور دونوں پیڑ ہیں طور سینین اور طور سینا اس پہاڑ کا نام ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے باتیں کیں تھی۔ بلدامین سے مراد مکہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بلکہ جانروں تک کو ہر طرح کا امن ہے۔ اب اس قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے لیکن سفیان ثوری کا قول اوپر گزر چکا کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول مل جائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے کسی دوسرے کے قول کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر سیکھنے کی غرض سے مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تیس دفعہ قرآن شریف پڑھا ہے اور ہر…
Read the full tafseer →(وَالتِّيْنِ ) انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح (الزَّيْتُوْنِ ) زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نبوت کا محل ومقامل ہے کثرت ہے۔
Read the full tafseer →(1) انجیر اور زیتون کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا قسم ہے انجیر اور زیتون کی، بعض حضرات مفسرین کرام کے نزدیک تین و زیتون سے یہاں پر مراد ان کے وہی مشہور و معروف معنی ہیں، جن کے لیے یہ لفظ عرف عام میں بولے جاتے ہیں، اور ظاہر و متبادر بھی یہی ہے، اور یہی معنی و مفہوم ان دونوں لفظوں سے عموما مراد لیے جاتے ہیں، جب کہ کوئی قرینہ اس کے خلاف موجود نہ ہو، مگر یہاں پر دو قرینے ایسے پائے جاتے ہیں جو ان کے معروف معنی لینے کے خلاف ہیں، ایک یہ تو یہ کہ ان پر دوسرے جن دو امور کو معطوف کیا گیا ہے وہ دونوں پھل نہیں بلکہ دو جگہیں اور مقام ہیں، یعنی طور سینا اور بلد امین یعنی مکہ مکرمہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟ تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔ پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التین۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی کہ دونوں پھل ہیں جو انسانی بدن کو حسین بناتے ہیں خون صاف کرتے ہیں معدہ درست کرتے ہیں اعضاء رئیسہ کو طاقت بخشتے ہیں اور چہرے پر بشاشت لاتے ہیں اور قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس شہر امین کی کہ یہ دونوں تجلیات ذاتی کامرکز ہونے کے سبب باطنی اور قلبی خوبصورتی عطا کرتے ہیں یعنی یہ چاروں کہ دو حسن ظاہر کا سبب ہیں اور دو کمال باطن کا اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو سب سے خوبصورت پیدا فرمایا شکل و صورت ، اعضا وپیوند ، عقل وخرد ، فکر و شعور ، اور باطنی طور پر ان کمالات کا حامل کہ یہ مشت عبار عشق الٰہی کا دعوی کرے اس قدرحسین امتزاج کہ…
Read the full tafseer →ف 15 انجیر اور زیتون دو مشہور پھل ہیں جو متعدد پہلوئوں سے انسانی صحت کے لئے نہایت مفید ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی بعض مفسرین نے انجیر اور زیتون سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) مراد لی ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(95:1) والتین والزیتون۔ واؤ قسمیہ۔ قسم ہے تین کی اور قسم ہے زیتون کی۔ التین اور الزیتون سے کیا مراد ہے اس کے متعلق متعدد اقوال ہیں :۔ (1) تین سے مراد یہی انجیر ہے جسے تم کھاتے ہو اور زیتون سے مراد یہی زیتون ہے جس کے پھل سے روغن نکالتے ہو۔ اپنی اپنی افادیت اور خصوصیات کی وجہ سے ممیز ہیں اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی ہے (ابن عباس، مجاہد، حسن بصری، ابراہیم، عطائ، مقاتل، کلبی) (2) تین اور زیتون دو پہاڑ ہیں۔ (عکرمہ) (3) تین وہ پہاڑ ہے جس پر دمشق آباد ہے اور زیتون مسجد بیت المقدس ہے ۔ (قتادہ) (4) اصحاب کہف کی مسجد تین ہے اور ایلیا زیتون ہے۔ (ابو محمد بن کعب) جمہور کی رائے اس طرف ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔ التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔ تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے…
Read the full tafseer →(ف 1) انجیر نہایت عمدہ میوہ ہے جس میں فضلہ نہیں، سریع الہضم، کثیر النفع ملین محلل رافع ریگ ، مفتح سدہ جگر بدن کافر بہ کرنے والابلغم کو چھانٹنے والا اور زیتون ایک مبارک درخت ہے اس کا تیل روشنی کے کام میں بھی لایاجاتا ہے اور سالن میں بھی کھایاجاتا ہے یہ وصف دنی ا کے کسی تیل مین نہیں، اس کا درخت خشک پہاڑوں میں پیدا ہوتا ہے جن میں دھنیت کا نام ونشان نہیں بغیر خدمت کے پرورش پاتا ہے ہزاروں برس رہتا ہے ان چیزوں میں قدرت الٰہی کے آثار ظاہر ہیں۔
Read the full tafseer →[1] تین عربی میں انجیر کو کہتے ہیں۔ کیونکہ یہاں انجیر کی پیداوار کثرت سے تھی اس وجہ سے یہ تین کے نام سے مشہور ہوگیا۔ [2] یہاں کیونکہ زیتون کی پیداوار زیادہ تھی اس وجہ سے یہ زیتون کے نام سے مشہور ہوگیا۔ جبل تین اور کوہ زیتون بیت المقدس کے قریب واقع ہیں۔
Read the full tafseer →(1) قسم کھاتا ہوں انجیر کی اور زیتون کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 9۔ یعنی وہ خوبصورتی اور قوت مبدل بہ قبح و ضعف ہوجاتا ہے اور برے سے برا ہوجاتا ہے، اس سے مقصود کمال قبح کا بیان کرنا ہے جس سے قدرت علی الاعادہ پر کافی استدلال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →التین اور الزیتون کے رب کی قسم 1 ؎ (التین) کیا ہے ؟ انجیر کا نام ہے اور انجیر ایک عمدہ میوہ ہے جس میں فضلہ نہیں ہوتا یا بہت ہی کم ہوتا ہے اور غذائے لطیف ، سریع الہضم اور کثیر النفع ہے ۔ طبیعت کو نرم کرتا ہے اور بلغم کو تحلیل کرتا ہے ، گردوں کو صاف کرتا ہے ۔ ریگ مثانہ کو نکالتا ہے ۔ جگر اور تلی کے سدے کھولتا ہے اور بدن کو فربہ کرتا ہے ۔ یہ بواسیر کا قاطع اور نقریٰ کو نافع ہے۔ خیال رہے کہ نفریٰ ایک بیماری ہے جو پائوں میں ہوتا ہے اور اکثر پائوں کے کسی ایک انگوٹھے یا دونوں انگوٹھوں میں درد اور سو جن آجاتی ہے ۔ ( الزیتون) زیتون ایک درخت کا نام ہے جو بہت مشہور اور معروف ہے۔ زیتون پھل کا پھل ، سالن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ (I swear by the Fig and the Olive...95:1). This verse takes an oath by four objects. Two of them are trees, the fig tree and the olive tree. [ The third object ] is Tur, the mount of Sinai, and the fourth object is the City of Makkah. The two trees have been specified because they possess abundant blessings and advantages in the same way as Tur and the City of Makkah possess abundant blessings. Some authorities say that the 'fig' and the 'olive' symbolise, in this context, the lands in which these trees predominate: that is, the countries bordering on the…
Read the full tafseer →1 There has been much difference of opinion among the commentators about the explanation of this verse. Hasan Basri. `Ikrimah, `Ata' bin Abi Rabah, Jabir bin Zaid, Mujahid and Ibrahim Nakha'i (may AIlah bless them all) say that the fig implies the same fig which the people eat, and the olive the same which produces oil. Ibn Abi Hatim and Hakim have cited a statement from Ha 'Abdullah bin 'Abbas also in support of this. And the commentators who have accepted this explanation have, in view of the uses and virtues of the fig and the olive, expressed the opinion that Allah has sworn by these two…
Read the full tafseer →