95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 95:1

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

{ التین } اور { الزیتون } (کے رب ) کی قسم

التین اور الزیتون کے رب کی قسم 1 ؎ (التین) کیا ہے ؟ انجیر کا نام ہے اور انجیر ایک عمدہ میوہ ہے جس میں فضلہ نہیں ہوتا یا بہت ہی کم ہوتا ہے اور غذائے لطیف ، سریع الہضم اور کثیر النفع ہے ۔ طبیعت کو نرم کرتا ہے اور بلغم کو تحلیل کرتا ہے ، گردوں کو صاف کرتا ہے ۔ ریگ مثانہ کو نکالتا ہے ۔ جگر اور تلی کے سدے کھولتا ہے اور بدن کو فربہ کرتا ہے ۔ یہ بواسیر کا قاطع اور نقریٰ کو نافع ہے۔ خیال رہے کہ نفریٰ ایک بیماری ہے جو پائوں میں ہوتا ہے اور اکثر پائوں کے کسی ایک انگوٹھے یا دونوں انگوٹھوں میں درد اور سو جن آجاتی ہے ۔ ( الزیتون) زیتون ایک درخت کا نام ہے جو بہت مشہور اور معروف ہے۔ زیتون پھل کا پھل ، سالن کا سالن اور دوا کا دوا ہے ۔ اس کا تیل لطیف ہوتا ہے جس کے بہت فائدے بتائے گئے ہیں باوجود اس کے کہ یہ ایک پہاڑی پودہ ہے جہاں دہنیت نہیں ہوتی لیکن اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے وافر مقدار میں ذہنیت رکھی ہے اور شاید نباتات میں سے یہی ایک درخت ہے جس میں کافی مقدار میں تیل پایا جاتا ہے جو جلانے اور کھانے کے کام آتا ہے اور ادویات میں شامل ہے ۔ زیتون اور التین دو پہاڑوں کے نام بھی بتائے جاتے ہیں اور دو شہروں کا نام بھی لیا جاتا ہے اور بعض نے یہ دو نام دو علاقوں کے بھی بتائے ہیں بہر حال آپ کچھ بھی سمجھیں ان دونوں کو بطور شہادت جو پیش کیا گیا ہے تو اس شہادت کی بات محض ان کی بزرگی کے مطابق کی گئی ہے۔
Ayah 95:2

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور طور سینا (کے رب ) کی قسم

اور طور سینا کے رب کی قسم 2 ؎ (سینین ) وہی کوہ سینا ہے اور اس کو اس جگہ ( سینین) کہا گیا ہے ۔ یہ پہاڑ ہے جس پہاڑ پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی گئی تھی ۔ اس کو فقط طور پر کہا جاتا ہے اور ( طور سینین) بھی کہا گیا ہے اور سینا بھی ۔ ینا بکسر اولیٰ بھی پڑھا گیا ہے اور فتح اول میں آتا ہے ۔ شام میں ایک موضع کا نام بھی بتایا جاتا ہے جس کی طرف طور کی نسبت کی جاتی ہے اور طور سینا کہا جاتا ہے ۔ یہ وہی پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی سے نوازا تھا اور یہ وہ مقام ہے جہاں ایک درخت تھا جس سے موسیٰ (علیہ السلام) کو روشنی نظر آئی تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جگہ بہت گھنے درختوں کا ایک جھنڈ تھا اور حقیقت حال اللہ تعالیٰ ہی اچھی طرح جانتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ پہاڑ بھی ایک مبارک پہاڑ کہا جاسکتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو بطور شہادت پیش کیا گیا ہے اور اس طرح آنے والے مضمون کو مؤکد کیا گیا ہے ۔ یہ تیسری چیز ہے جس کو بطور نشان میں پیش کیا گیا ہے اور چوتھی چیز کا ذکر آنے والی آیت میں کیا جا رہا ہے جو بہت مناسب ہے اور ایک با برکت شہر ہے۔
Ayah 95:3

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس امن والے شہر (مکہ کے رب ) کی قسم

اور اس امن والے شہر یعنی مکہ کے رب کی قسم 3 ؎ اس امن والے شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے اور مکہ مکرمہ کا شرف محتاج بیان نہیں اگرچہ اس مکہ کو ظالموں کی بستی بھی قرار دیا گیا ہے اور وہاں اس کی وجہ بھی بتائی گئی ہے کہ اسکے رہنے والے جب شرک کے مرتکب تھے تو مکہ کو ظالموں یعنی مشرکوں کا شہر بھی کہا گیا ہے لیکن بیت اللہ بھی چونکہ مکہ ہی میں ہے اور بیت اللہ کا شرف بہت پرانا ہے اور اس میں حرم ہے اور یہ بھی کہ اسلام سے قبل اس کی حرمت قائم تھی اور اسلام نے بھی اس کو برقرار رکھا ہے ۔ اس شہر کی بنیاد ایک طرح سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہی نے رکھی اور دراصل یہ بنیاد تو بیت اللہ ہی کی تھی اور صحیح بات یہ ہے کہ بیت اللہ اس جگہ پہلے ہی موجود تھا جو گر کر بےنام و نشان ہوچکا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اسکے نشانات کو دریافت کیا اور اس کی بنیادوں پر ایک عمارت تعمیر کی جس تعمیر میں آپ کے صاحبزادے اسماعیل (علیہ السلام) بھی شامل تھے اور اس کا تفصیلی ذکر ہم عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول کی سورة البقرہ کی آیت 127 تا 129 کی تفسیر کرچکے ہیں ۔ بلا شبہ اس شہر کے پر امن ہونے کی دعائیں آپ نے کیں اور ان دعائوں کی قبولیت کا یہ عالم تھا کہ جس وقت سارا جزیرۃ عرب غارت گری ، خون ریزی اور لوٹ مار کا میدان بنا ہوا تھا اس وقت بھی مکہ مکرمہ فتنہ و فساد کی آگ سے محفوظ تھا۔ کسی کے باپ کا قاتل بھی اگر حرم میں پناہ لتا تو اس کا کچھ نہ کہا جاتا ۔ اگر جنگل میں کوئی چیتا ، ہرن کو شکار کرنے کے لیے اس کے تعاقب میں دوڑتا اور ہرن حدود حرم میں داخل ہوجاتا تو چیتے کو واپس بھگا دیا جاتا یہاں تک کہ درختوں اور گھاس وغیرہ کو بھی نہیں کاٹتا تھا۔ کعبہ مقدسہ کی تعمیر سے اس شہر کو مزید شرف نصیب ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس خطبہ پر مزید کرم یہ فرمایا کہ اسے اپنے پابرے رسول ﷺ کی جائے ولادت بنا دیا اور آپ ﷺ نے نبوت کا اعلان بھی یہیں سے کیا جس کے باعث مکہ کی عظمت کو چار چاند لگ گئے اس طرح آنے والے مضمون کو بیان کرنے کے لیے ان چار شہادتوں سے مقسم یا مؤکد کیا گیا اور اب آنے والے مضمون کو دیکھو کہ اس میں بیان کیا گیا ہے اور پھر جو تاکید کے لیے اشارات بیان کیے گئے ہیں ان پر بھی دوبارہ نظر ڈالو تو بات کی زیادہ وضاحت ہوجائے گی۔
Ayah 95:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے انسان کو موزوں سے موزوں تناسب پر بنایا

بیشک ہم نے انسانوں کو موزوں سے موزوں تناسب پر بنایا 4 ؎ یہ وہ مضمون ہے جس کو بیان کرنے کے لیے پیچھے چار چیزوں کو بطور شہادت پیش کیا گیا اس سے اس کی اہمیت تو واضح ہوجاتی ہے لیکن فی نفسہٖ اس مضمون پر غور کرنے سے مزید وضاحت ہوجائے گی ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے انسان کو شکل و صورت ، قد و قامت ، عقلی و فکری قوتوں ، قلبی و روحانی صلاحیتوں سے متصف کر کے پیدا فرمایا ہے اور اس سے بہتر اور کوئی مخلوق نہیں ہے۔ اگر انسان کو بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ صوری اور معنی حسن و کمال میں کوئی چیز بھی انسان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو خواہ وہ حیوانات ہوں یا زور آور جانور ، درندے پرندے ، ہوائی اور آبی مخلوق سب کی سب انسان کے سامنے سرانگندہ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کرسکتی ۔ ایک ہاتھی سے ایک ہاتھی چلانے والا جس طرح چاہتا ہے کام لیتا ہے۔ وہ انسان ہی ہے جس نے شیر اور بکری کو ایک جگہ اکٹھا کر کے دکھا دیا ۔ ایک بچے کے ہاتھ میں اگر سو اونٹوں کی نکیل دے دی جائے تو وہ جدھر چاہے ان کو ہنکا کرلے جاسکتا ہے۔ ایک برق رفتار گھوڑے کو جب انسان لگام اور زین سے لیس کرلیتا ہے تو جدھر چاہتا ہے کام لیتا ہے وہ انسان ہی ہے جس نے شیر اور بکری کو ایک جگہ اکٹھا کر کے دکھا دیا ۔ ایک بچے کو ہاتھ میں اگر سو اونٹوں کی نکیل دے دی جائے تو وہ جدھر چاہے ان کو ہنکا کرلے جاسکتا ہے۔ ایک برق رفتار گھوڑے کو جب انسان لگام اور زین سے لیس کرلیتا ہے تو جدھر چاہتا ہے اس کو دوڑا کرلے جاتا ہے۔ اسی طرح زمین کی چھوٹی اور بڑی مخلوق سے وہ جس طرح چاہتا ہے کام لے رہا ہے۔ وہ چیزیں جو انسان کی دسترس سے باہر ہیں وہ اس طرح مسخر کردی ہیں کہ وہ خود بخود انسان کے سارے کام سر انجام دے رہی ہیں ۔ سورج ، ستارے ، سیارے ، چاند اور فی نفسہٖ افلاک زمین کے بڑے بڑے پہاڑ ، دریا ، سمندر سب کے سب انسان کے خدمت گزار ہیں اور اس کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں ۔ بلا شبہ انسان کی ظاہری ساخت بھی اس بات پر دال ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کی باطنی صلاحیتیں بھی اتنی اعلیٰ وارفع ہیں کہ اس دھرتی کی تمام مخلوقات سے وہی ان کا اہل بن سکتا ہے کیونکہ انسان کے سوا کوئی مخلوق بھی ذی عقل و فکر اور ذی ارادہ نہیں ہے۔ صاحب ارادہ خواہ وہ جس حد تک بھی ہے صرف اور صرف انسان ہی ہے اور انسان کے سوا کوئی دوسری مخلوق نہیں ہے۔
Ayah 95:5

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے پست ترین حالت میں ڈال دیا

پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا 5 ؎ ( اسفل) سب سے نیچا اعلیٰ کی ضد سفول سے جس کے معنی نیچے ہونے کے ہیں ۔ افعل التفضیل کا صیغہ ( سافلین) نیچے ہونے والے سفول سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب و جر ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتا جو اپنی قدم النظیر صلاحیتوں کو غلط استعمال کرتا ہے اور عقل و بصیرت کے سارے چراغ گل کردیتا ہے اور ہوائے نفس کی پیروی میں لگ جاتا ہے یا اپنے خالق اور مالک کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیتا ہے اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو اسے اس جرم کی سزا بھی بڑی سخت دی جاتی ہے۔ وہ بےشعور اور بےسمجھ حیوانوں سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ اس سے ایسی ایسی رذیل حرکتیں سرزد ہوتی ہیں جن کا کسی بھلے آدمی سے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ غور کرو کہ یہ کام انسان ہی کا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے گڑھا کھو کر وہ اپنی بچی کو زندہ گڑھے میں دبا دے اور وہ اپنے باپ اور بھائی کا گلا بھی کاٹ دے۔ ملک کا ایک عہدہ دارہونے کے باوجود اپنی قوم اور وطن سے غداری کرنے پر آمادہ ہوجائے اور ہر معاملہ میں اپنی کمیشن کو محفوظ رکھے ۔ ملک و ملت کا جو کام کرے اس میں اپنا حصہ الگ کرلے۔ وہ سمگلر جو اپنے قومی غذائی ذخائر کو چند ٹکوں کے لالچ میں دشمن ممالک کو ناجائز ذرائع سے برآمد کرتا ہے ، جو انجینئر ملک کی شاہراہوں ، پلوں اور ڈیموں کی تعمیر میں بد دیانتی کرتا ہے۔ جو صنعتکار اجناس خوردنی اور ادویہ میں ملاوٹ کرنے کا کاروبار کرتا ہے ، جو تاجر اجناس خوردنی کا ذخیرہ روک لیتا ہے تاکہ مہنگے داموں ان کو فروخت کرے تو کیا اس کو انسان ہی سمجھا جائے ؟ ہاں ! بلا شبہ وہ شکل و صورت کا انسان ہی نظر آئے گا لیکن کردار و اخلاق کے لحاظ سے وہ کتے اور خنزیر سے بھی بد تر ہے خواہ وہ ملک کی کلیدی آسامیوں پر قابض ہے۔ جو شخص فسق و فجور کی غلاظتوں میں خوش رہتا ہے ، گندگی میں جنم لینے والے کیڑوں سے کیا وہ کسی حال میں بھی بہتر ہو سکتا ہے ایسے شخص سے انسانیت کی خلعت فاخرہ واپس لے لی جاتی ہے اور اس کے سر سے اشرف المخلوقات ہونے کا تاج اتار لیا جاتا ہے۔ معاشرہ کی نگاہوں میں و وہ حقیرو ذلیل ہوجاتا ہے۔ ایسے انسانوں کے لیے دوزخ درکات میں سے وہ طبقہ مخصوص کیا جائے گا جو پست سے پست تر ہوگا ۔ اس طرح گویا اس کو ذلت و خواری میں لوٹا دیا جاتا ہے۔ ہاں ! وہ لوگ ہی اس سے بچ سکتے ہیں جو اپنی اصلاح کر کے اپنے ایمان وعمل کی خود حفاظت کرتے ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 95:6

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

مگر ہاں ! جو لوگ ایمان لائے اور مناسب حال عمل کیے پس ان کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا نیک بدلہ ہو گا

مگر ہاں ! جو لوگ ایمان لائے اور مناسب حال اعمال کیے ان کے لیے نیک بدلہ ہے 6 ؎ وہ لوگ جو سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور اچھے اعمال کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اس ہلاکت سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور بلا شبہ وہی لوگ ہیں کہ وہ احسن تقویم پر پیدا ہونے کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرنے کی توفیق پاتے ہیں ۔ لاریب یہی وہ لوگ ہیں جو اہل انسانیت کی لاج رکھتے ہیں اس کے دامن شرف پر کوئی داغ نہیں لگنے دیتے اور اپنے خالق کے ذکر کی شمع روشن رکھتے ہیں ، اس کے احکام کی بجا آوری میں سر گرم عمل رہتے ہیں ، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کا شوق ان کو دن رات بےچین رکھتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں احسن تقویم کے کمالات سے متصف ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ایسا اجر دے گا جو کبھی بھی منقطع نہ ہوگا جب تک وہ اس دنیا میں زندہ رہیں گے ان پر ان کے رب کی رحمت نازل ہوتی رہے گی اور جب یہاں سے رخت سفر باندھیں گے تو انہیں ( ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ) کی نوید جانفزا سنائی جائے گی اور جب قیامت کے روز وہ قبروں سے اٹھیں گے تو ( لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون) کی شان ان کے چہروں سے نمایاں ہو رہی ہوگی اور جب فردوس بریں میں قدم رنجہ فرمائیں گے۔ ( سلام قولا من رب رحیم) سے ان کا استقبال کیا جائے گا ۔ انہوں نے دنیوی زندگی کی کچھ مدت اپنے رب کی بندگی میں گزاری لیکن ان کا رب جن نعمتوں سے انہیں نوازے گا وہ ابدالاباد نعمتیں ہوں گی جو کبھی بھی ختم نہیں ہوں گی۔ (ممنون) اسم مفعول واحد مذکر من مادہ باب نصر کم کیا ہوا ، قطع کیا ہوا یعنی ان کا اجر نہ کم کیا جائے گا ، نہ منقطع اور ختم ہوگا اور اس میں علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن ہمارے پیش نظر اختصار ہے اس لیے ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
Ayah 95:7

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

پس اس کے بعد کون سی چیز تجھ کو جزا و سزا کے معاملے میں جھٹلاتی ہے

اس کے بعد کونسی چیز تجھ کو اے مخاطب جزا اور سزا کے معاملہ میں جھٹلاتی ہے 7 ؎ زیر نظر آیت میں مخاطب عام انسان ہے اور اس طرح اس کو مخاطب کر کے گویا پوچھا جا رہا ہے کہ اے انسان ! کیا وجہ ہے اس کی کہ تو تکذیب جزا کررہا ہے ؟ ذرا بتا کہ کس چیز نے تجھ کو کاذب بنایا ہے کہ تو حق کے خلاف حشر و نشر اور جزا اور سزا منکر ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر کتنی ایسی کھلی دلیلیں موجود ہیں کہ جس نے تجھے پیدا کیا اور جو تیرا خالق ہے اس نے تجھے کمزور پیدا کیا پھر طاقتور بنایا اور پھر کمزور کیا اور مردہ کردیا اور تعجب ہے کہ اس مرنے کے بعد اگر وہ چاہے دوبارہ زندہ کرے تو اس بات ہی سے انکار کر دے آخر اس کی وجہ ؟ جس طرح اس نے تجھ کو پیدا کیا ، تیرے لیے ساری احتیاجوں اور ضرورتوں کا اس طرح بندوبست کیا کہ تجھے ہر ضرورت کی چیز مہیا کردی یہ ساری باتیں تو مانتا اور تسلیم کرتا ہے اس لیے کہ تو ان کو ماننے اور تسلیم کرنے پر مجبور ہے لیکن جونہی مرنے کے بعد تیری زندگی کا نام آیا تو تو نے اس کی تکذیب شروع کردی حالانکہ تجھ کو اس کی تکذیب کا کوئی حق نہیں تھا کہ تو جزا و سزا کے معاملہ میں جھٹلائے لیکن تو اتنا ڈھیٹ ہے کہ اس کی مسلسل تکذیب کیے جا رہا ہے۔ لیکن بعض نے اس کا مفہوم اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ ” قیامت کے برپا ہونے اور اس کے روز نیک و بد کو جزا اور سزا کا جو نظریہ آپ ﷺ نے پیش کیا ہے کون عقل مند اس کی تکذیب کرسکتا ہے ، یہ کہنے کی جرأت کس میں ہے کہ جس شخص نے ساری عمر احکام الٰہی کی بجا آوری میں گزاری ، جس نے اپنے آرام و آسائش کی بنی انسان کے آرام و آسائش کے لیے وقف کردیا ۔ جس نے نور حق کے پھیلانے میں اپنی ساری کوششیں صرف کردیں اس کو اس کی عمر بھر کی سعی پیہم کا کوئی اجر نہ ملے اور جو اپنے کرتوتوں کے باعث ( اسفل الساقلین) تک پہنچے ان کو کوئی سزا نہ ملے ؟ یہ بات کیسے مان لی جائے ؟ اس پر سوائے اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ ( قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین) زیر نظر آیت کے مفہوم اور بھی بیان کیے گئے ہیں لیکن ہم فضول بحثوں میں اس وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہتے جب بات صاف صاف نظر آرہی ہے تو اس کو پیچیدہ در پیچیدہ کرنا ، اس کی آخرت ضرورت کیا ؟
Ayah 95:8

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

(تو ہی بتا کہ) کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ؟

تو ہی بتا کہ کیا اللہ سب حاکموں کا بڑا حاکم نہیں ہے 8 ؎ انسان خواہ کتنا ہی ظالم اور غیر عادل ہوجائے لیکن اس کی خواہش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ عدل و انصاف ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ طبعاً اس بات کو کبھی پسند نہیں کرتا کہ عدل و انصاف نہ ہو وہ ظالم ہو کر مظلوم بننے کی سعی و کوشش کرے گا لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتا اور اسی طرح دنیا کے کسی حاکم سے اس کو عدل و انصاف کی توقع ہوتی ہے اور اس کے خلاف کو وہ کبھی پسند نہیں کرتا اگر وہ ظلم و ستم پر اتر آئے تو انسان اس سے نفرت کرنے لگتا ہے اور اگر وہ کرسکے اور حالات اس کو اجازت دیں تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا تاج و تخت بھی چھین لے اگر یہ صحیح ہے تو تم خود بتائو کہ اللہ تعالیٰ سے بڑا حاکم آخر کون ہے ؟ اس کی حکومت سے بڑی حکومت آخر کسی کی ہے ؟ اس کی مملکت سے وسیع مملکت کہاں ہے ؟ اور تم یہ بھی دیکھتے ہو کہ کتنے ظالم ہیں جو ساری زندگی ظلم کرتے رہے لیکن ان کو ان کے کیے کی سزا نہیں ملی اور کتنے مظلوم ایسے ہیں کہ ساری زندگی وہ ظلم سہتے رہے لیکن ان کو اس کا کوئی اجر وصول نہیں ہوا ؟ اس لیے کہ یہ دارالعمل ہے اور دارالعمل میں ممکن نہیں کہ کسی ظالم کو اس کے ظلم کی پوری سزا مل جائے یا کسی مظلوم کو اس کے مظلوم ہونے کا پورا پورا اجر مل جائے لیکن جونہی یہ درالعمل کی زندگی ختم ہو کر دارالفنا میں آدمی گیا اور اب اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو یہی وہ وقت ہے کہ اس کو اس کے ظلم کا پورا پورا بدلہ دیا جائے اور اسی طرح اس مظلوم کی صحیح معنوں میں داد رسی ہو سکے اس لیے ضروری ہے کہ ہر نفس کو جو اس نے کیا اس کام کا بدلہ دیا جائے اور یہی بات اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ جب یہ بات تم سب کو بھی تسلیم ہے کہ وہ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے اور اس کی حکومت سب حکومتوں سے بڑی حکومت ہے اور قیامت کے روز اس کے سوا کسی دوسرے کا حکم بھی نہیں چلے گا تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ ہر ایک کو اس کے لے کی سزا و جزا دے گا ۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس سورت کی تلاوت کو ختم کرے تو اس کے بعد یہ الفاظ ادا کرے : (بلی وانا علیٰ ذالک من الشھادین) (رواہ ابو دائود) اور روایات میں رسول اللہ ﷺ کا نماز عشاء میں اس سورت کا پڑھنا بھی بتایا گیا ہے اور اسی پر ہم اس سورت کے مضمون کو ختم کر رہے ہیں