Ayah 96:1اے پیغمبر ! اپنے رب کا نام لے کر پڑھو جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا
1 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کی عمر مبارک چالیس برس کے قریب قریب ہوچکی تھی اور اسی دوران آپ ﷺ کے اب تک کے تاملات نے قوم نے آپ ﷺ کا ذہنی اور فکری فاصلہ بہت وسیع کردیا تھا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کو تنہائی محبوب ہوگئی ، چناچہ آپ ﷺ ستو اور پانی لے کر مکہ سے کوئی دو میل دور کوہ حرا کے ایک غار میں جا رہتے۔ یہ ایک مختصر سا غار ہے جس کا طول چار گز اور عرض پونے دو گز ہے۔ یہ نیچے کی جانب زیادہ گہرا نہیں ہے بلکہ ایک مختصر راستے کے بازو میں اوپر کی چٹانوں کے باہم ملنے سے ایک تو تل کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ آپ ﷺ جب وہاں تشریف لے جاتے تو کئی کئی روز واپس گھر نہ آتے تا ہم آپ ﷺ نے سیدہ خدیجہ (علیہ السلام) کو یہ جگہ دکھا دی تھی تاکہ کوئی بات ہو تو وہ آپ ﷺ کو اطلاع کرسکیں ۔ آپ ﷺ اکثر وہاں تشریف لے جاتے لیکن رمضان بھر اس غار میں قیام فرماتے۔ کائنات کے مشاہد اور اس کے پیچھے کار فرما قدرت نادرہ پر غور فرماتے۔ آپ ﷺ کو اپنی قوم کے شرکیہ عقائد اور واہیات تصورات پر بالکل اطمینان نہ تھا لیکن آپ ﷺ کے سامنے کوئی واضح راستہ ، معین طریقہ اور افراط تریط سے بٹی ہوئی کوئی ایسی راہ نہ تھی جس پر آپ ﷺ اطمینان اور انشراح قلب کے ساتھ رواں دواں ہو سکتے ۔ آپ ﷺ کی یہ تنہا پسندی بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ایک حصہ تھی ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو آنے والے کار عظیم کے لیے تیار کررہا تھا۔ در حقیقت جس روح کے لیے بھی یہ مقدر ہو کہ وہ انسانی زندگی کے حقائق پر اثر انداز ہو کر ان کا رخ بدل ڈالے اس کے لیے ضروری ہے کہ زمین کے مشاغل ، زندگی کے شور اور لوگوں کے چھوٹے چھوٹے ہموم و غموم کی دنیا سے کٹ کر کچھ عرصہ کے لیے الگ تھلگ اور خلوت نشین رہے ٹھیک اسی سنت کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو امانت کبریٰ کا بوجھ اٹھانے اور روئے زمین کو بدلنے اور خط تاریخ کو موڑنے کے لیے تیار کرنا چاہا تو رسالت کی ذمہ داری عائد کرنے سے کچھ مدت پہلے آپ ﷺ کے لیے خلوت نشینی مقرر کردی ۔ آپ ﷺ اس خلوت میں ایک ماہ تک کائنات کی آزاد روح کے ساتھ ہم سفر رہتے اور اس وجود کے پیچھے چھپے ہوئے غیب کے اندر تدبر فرماتے تاکہ جب اللہ تعالیٰ کا اذن ہوجائے تو اس غیب کے ساتھ تامل کے لے مستعد رہیں۔
جب آپ ﷺ کی عمر مبارک تقریباً چالیس برس کے قریب ہوگئی تو زندگی کے افق کے پارے آثار نبوت سے چمکنا اور جگمگانا شروع ہوئے۔ یہ آثار خوب تھے ۔ آپ ﷺ جو بھی خواب دیکھتے وہ سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہوتا ۔ اسی حالت پر عرصہ چھ ماہ کے قریب گزر گیا جو مدت نبوت کا چالسوخاں حصہ ہے اور کل مدت نبوت تئیس برس ہے۔ اس کے بعد جب حراء میں خلوت نشینی کا آخری سال آیا تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ روئے زمین کے باشندوں پر اس کی رحمت کا فیضان ہو چناچہ اس نے آپ ﷺ کو نبوت سے مشرف کیا اور جبریل قرآن کریم یہ آیات لے کر آئے جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں ۔ دلائل و قرائن پر ایک جامع نگاہ ڈال کر حضرت جبریل (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے اس واقعے کی تاریخ معین کی جاسکتی ہے ۔ ہماری تحقیق کے مطابق یہ واقعہ رمضان المبارک کی 21 تاریخ کو دو شنبہ کی رات پیش آیا ۔ اس روز اگست کی 10 تاریخ تھی اور 610ء تھا۔ قمری حساب سے نبی کریم ﷺ کی عمر چالیس سال چھ مہینے بارہ دن اور شمسی حساب سے 39 سال تین مہینے اور 22 دن تھی ۔ زیادہ تفصیلات کا یہ موقع نہیں اس لیے ہم نے حقائق کی طرف اشارہ کردیا ہے۔
آیئے اب ذرا ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ کی زبانی اس واقعے کی تفصیلات سنیں۔ یہ انوار لاہوت کا ایک شعلہ تھا جس سے کفر وضلالت کی تاریکیاں چھٹی چلی گئیں یہاں تک کہ زندگی کی رفتار بدل گئی اور تاریخ کا رخ پلٹ گیا ۔ آپ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتداء نیند میں ایسے خواب سے ہوئی کہ آپ ﷺ جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ سپیدہ صبح کی طرح نمودارہوتا تھا۔ پھر آپ ﷺ کو تنہائی محبوب ہوگئی چناچہ آپ ﷺ غار حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر میں تشریف لائے بغیر مصروف عبادت رہتے۔ اس وقت آپ ﷺ کی عبادت کیا تھی ؟ بتایا گیا ہے کہ اس کائنات کے اندر تدبیر اور تفکر اور سوچ و بچار اس کے لیے آپ ﷺ کچھ توشہ لے کر جاتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس حق آیا جب کہ آپ ﷺ اس غار کے اندر تھے یعنی آپ ﷺ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا پڑھو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس پر اس فرشتہ نے مجھے پکڑ کر اس زور سے دبایا کہ میری قوت نچوڑ دی پھر چھوڑ کر کہا کہ پڑھو میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ اس نے دوبارہ پکڑ کر اس زور سے دبایا کہ میری قوت نچوڑ دی پھر چھوڑ کر کہا کہ پڑھو میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ اس نے دوبارہ پکڑ کر دبوچا پھر چھوڑ کر کہا کہ پڑھو میں نے پھر کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ اس نے مجھے تیسری بار پھڑ پکڑ کر بھینچا پھر چھوڑ کر کہا (اقرا باسم ربک ۔۔۔۔ مالم یعلم ) ان آیات کے ساتھ رسول اللہ ﷺ واپس پلٹے۔ آپ ﷺ کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ آپ ﷺ سدیہ خدیجہ الکبری ؓ کے پاس تشریف لائے جو آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں اور فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو انہوں نے آپ ﷺ کو چادر اڑھا دی یہاں تک کہ وہ کپکپی جاتی رہی۔
حافظ ابن حجر (رح) کہتے ہیں کہ بیہقی نے یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ کے خوابات کی عمر چھ ماہ تھی لہٰذا خواب کے ذریعہ نبوت کا آغاز چالیس سال کی عمر مکمل ہونے پر ماہ ربیع الاول میں ہوا جو آپ ﷺ کی ولادت کا مہینہ ہے لیکن حالت ِ بیداری میں آپ ﷺ کے پاس وحی رمضان المبارک میں آئی۔ ( فتح الباری 1/27) قرآن کریم بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے اور قرآن کریم سے زیادہ بڑی تصدیق اور کیا ہوسکتی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : (شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) (2 : 185) ” رمضان المبارک کا مہینہ ہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول شروع ہوا ۔ “ رمضان المبارک کی کیا تاریخ تھی ؟ تحقیق کے بعد کہا جاسکتا ہے وہ 21/رمضان المبارک تھی اور اس تحقیق کا اختصاریہ ہے کہ ارشاد الٰہی ہے : (انا انزلنہ فی لیلۃ القدر) (97 : 1) ” ہم نے قرآن کریم لیلۃ القدر میں نازل کرنا شروع کیا “ اور یہ بات معلوم ہے کہ لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہے اور اس بات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ آپ ﷺ کا قیام غار حرا میں زیادہ تر رمضان المبارک کی 21 تاریخ عرض کی ہے ؟ اس لیے کہ دو شنبہ پر پورے عالم اسلام کا اتفاق ہے اور دو شبہ کا دن اس رمضان المبارک میں جس میں وحی کا سلسلہ شروع ہوا ، 7 ، 14 اور 28 تاریخوں میں پڑتا ہے پھر جب صحیح احادیث سے یہ بات بھی واضح ہے کہ لیلۃ القدر رمضان المبارک کی آخری طاق راتوں میں سے کسی رات میں ہوتی ہے تو دو شنبہ کا دن جو 21/رمضان المبارک پڑتا ہے یہی وہ دن ہو سکتا ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ بھی ہے ، دو شنبہ کا دن بھی ہے اور رمضان المبارک کا مہینہ بھی ہے۔ اس لیے ہمارا انشراح اسی میں ہے کہ رمضان المبارک کی 21/تاریخ کو قرآن کریم کی یہ آیات کریمات جو آپ ﷺ پر نازل ہوئیں ۔ قارئین اپنا اپنا اطمینان خود کرلیں ۔
زیر نظر آیت میں جو حکم ہوا ہے اس پر غور کرو کہ فرمایا جارہا ہے اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھنا شروع کرو اور یہ وحی الٰہی کی پہلی آیت ہے جس میں ربوبیت کی اضافت اس ضمیر کی طرف کی جس کا مرجمع آپ ﷺ ہیں ۔ اس میں جو لطف ہے وہ صاحب علم و عقل سے پوشیدہ نہیں ہے پھر اس سے یہ حقیقت بھی از خود واضح ہوجاتی ہے کہ بعثت سے قبل ہی نبی کریم ﷺ کو اپنے رب کا عرفان حاصل تھا اسی لیے تو یہ کلمہ استعمال ہوا اگر آپ ﷺ کو عرفان نصیب نہ ہوتا تو پہلے رب کی پہچان کرائی جاتی ، اس کے بعد اس کا نام لے کر پڑھنے کا حکم دیا جاتا جو کائنات کی ہر چھوٹی اور بڑی چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر آپ اس بات پر اس طرح غور کریں گے جس طرح ہم نے اشارہ کیا ہے تو ان شاء اللہ العزیز اس سے بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملے گا اور کتنی گتھیاں ہیں جو خود بخود سلجھ جائیں گی۔ کیونکہ جتنی چیزوں کی اس جگہ ذکر کیا گیا ہے سب کی سب مخلوق ہیں اور سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وحی لانے والا مخلوق ہے جس کی طرف وحی لائی گئی ہے وہ مخلوق ہے اور انسان کے اندر جتنے قویٰ ہیں سب مخلوق ہیں اور ہر ایک قوت کو مخاطب کر کے اس سے بات کی جاسکتی ہے اور قویٰ کو مخاطب کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح قوت کو خیالی جسم بھی دیا جاسکتا ہے تاکہ وہ حاسہ میں آسکے اور مئی صورت میں آنے کے بعد اس کی تفہیم میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور ہر ایک انسان اس کو سمجھ سکتا ہے۔
Ayah 96:2جس نے انسان کو خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا
2 ؎ غور کرو کہ کتاب ہدیٰ کا یہ پہلا سبق ہے اور جس کو یہ سبق یاد کرایا جا رہا ہے اگر وہ اتنا اناڑی ہوتا تو اس سے کیا وہ خاک سمجھتا ہے کہ بڑے بڑے فلاسفر اور علم الابدان کے ماہر آج تک اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ان پہلی آیات کریمات نے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کی وضاحت کردی ہے اور صرف خاموشی کے ساتھ کردی ہے اور سمجھنے والے سمجھ رہے ہیں کہ انسانیت جتنے علوم کو سیکھ سکتی ہے وہ سارے کے سارے علوم اللہ نے اس شخصیت کے ضمیر میں رکھ دیئے ہیں اور ضمیروحی الٰہی کے صرف پہلے ہی نظارے سے اس طرح ابھر آیا ہے کہ اس نے سارے علوم کی بات سمجھنے اور بات کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے اور ایک بار بھیجنے سے کیا کچھ ابھر کر سامنے آگیا ہے اس کی وضاحت بہت لمبی ہے اور جوں ہی ان کو الفاظ کی شکل میں بیان کیا ہے تو آپ ﷺ کے لوح قلب پر وہ منقش ہوگیا ہے جس کے متعلق ابھی کسی ذمہ داری کا اعلان بھی نہیں کیا گیا لیکن اس کی صلاحیت نے خود اس کا اعلان کردیا ہے۔ ( علق) لہو کی پھٹکیاں ، جما ہوا جو خشک نہ ہوا ہو ۔ امام راغب نے تو اس کے معنی صرف جمے ہوئے خون کے کیے ہیں لیکن قاموس میں ہے کہ ’ ’ (علق) کے معنی ہیں عام خون یا وہ خون جو بہت زیادہ سرخ ہو یا جما ہوا خون “ یہ انسانی تخلیق کا بیان ہے اور اس کو بیان کرنے کے لیے کسی بھی درمیانی پیدائش سے شروع کیا جاسکتا ہے کیونکہ پہلی منزل سے لے کر آخری منزل تک سب کی سب منازل کا پیدا کرنے والا اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی ہے۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کے شاہکار کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کا بیان اس جگہ سے شروع کیا ہے جہاں سامعین میں سننے اور سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے اور سامعین جس صلاحیت کے مالک نہیں ہیں اس کا ذکر ہی نہیں کیا اور یہ بات ہمارے لیے اپنے اندر بہت سے اسباق رکھتی ہے بشرطیکہ ہم کوئی سبق حاصل کرنا چاہیں ۔ اس میں انسانوں کو صرف یہ تفہیم کرانا مقصود ہے کہ تیرے اکڑنے اور اترانے اور ہم چوما دیگر نیست کی ڈینگیں مارنے کا کوئی جواز بھی ہے ؟ اگر یہ انسان صرف اپنی پیدائش اور طریقہ پیدائش پر نظر دوڑا لے تو سمجھ لے کہ میری حقیقت اور اصلیت کیا ہے اور میں کیا کہہ رہا ہوں اور وہ کونسی فضلیت ہے جس فضلیت کے باعث میں اپنے خالق کا انکار کر رہا ہوں اور اس کے احکام کو تنقید کو نشانہ بنا رہا ہوں۔
Ayah 96:3اے پیغمبر اسلام ! پڑھیے آپ ﷺ کا رب بڑی ہی بزرگی والا ہے
3 ؎ ( اقرا) تو پڑھ قراءۃ سے جس کے معنی پڑھنے کے ہیں ۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ اس لفظ نے یہ بات خود بخود واضح کردی کہ کوئی چیز آپ کے سامنے کسی چیز پر لکھی ہوئی پیش کی گئی تھی خواہ وہ کچھ تھی آپ کے سامنے پیش کی گئی تب ہی تو یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ (اقرا) پڑھ اور تب ہی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اور اس کے بعد جب ( اقرا باسم ربک الذی خلق) پڑھا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو پڑھنا شروع کردیا لیکن یہ پہلا تجربہ ہے جس سے ابھی مکمل طور پر طبیعت نہیں کھلی اور توجہ اس طرح مبذول ہی نہیں ہوئی اور انجام کار جب جبریل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ آپ ﷺ پڑھیں اور اس بات کی فکر نہ کریں کہ میں پڑھتا نہیں جانتا پھر کیونکر پڑھوں۔ یہ عذر آپ ﷺ کا اب دور کردیا گیا ہے کیونکہ آپ ﷺ خود نہیں پڑھ رہے بلکہ اپنے رب کا نام لے کر پڑھ رہے ہیں اور اس کی ایک قوت و طاقت کے دبانے اور بھینچنے کے بعد پڑھ رہے ہیں پھر اس کی شان کریمی کا کون اندازہ لگا سکتا ہے کہ جب وہ پڑھنے کا حکم دے اور آپ اس کا نام لے کر پڑھناشروع کریں تو پھر آپ کے اندر کی ان صلاحیتوں کو جو اس وقت تک سوئی پڑی ہیں جگا دینا اس کا کام ہے اور زیر نظر آیت میں اس کو کریم کی بجائے اکرم فرمانا جو مبالغہ اپنے اندررکھتی ہے۔ اکرم میں کریم سے زیادہ مبالغہ ہے اور اکرم اس کو کہتے ہیں جو بلا عرض انعام و اکرام کر دے اور یہ بھی کہ اتنا دے جس کے کم و کیف کا شمار نہ ہوسکے۔
Ayah 96:4جس نے قلم سے علم سکھایا ہے
4 ؎ فرمایا اس نے جب بلا عرض انعام و اکرام کیے ہیں تو آپ ﷺ پر وہ علوم کھول دیئے ہیں جو عام انسانوں کے لیے قلم کے واسطہ سے کھولے جاتے ہیں ۔ اس کی شان کریمی کا جلوہ یہ ہے کہ اس نے دوسرے سارے انسانوں کے لیے قلم کو تعلیم کا واسطہ بنا دیا کہ علم کی نشرو اشاعت میں قلم کا جو حصہ ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے لیکن آپ ﷺ کے لیے قلم کی بجائے محض ایک قوت کے دیا نے سے وہ چیز اجاگر کردی ہے جو دوسرے انسانوں کے لیے قلم کے واسطہ سے اجاگر کی جاتی ہے ۔ اب غور کرو کہ قدیم زمانہ میں اگر علماء و فضلاء کے علوم کو قلم کے ذریعہ سے اگر صفحہ قرطاس پر تحریر نہ کردیا جاتا تو صد ہا سال بعد آج ہم ان سے کیونکر استفادہ کرسکتے۔ اگر قلم کی نوک کام نہ کرتی تو آج زمین کے دور دراز گوشوں میں بسنے والے فضلاء کی تحقیقات اور نگارشات سے ہم کیونکر مستفید ہو سکتے ۔ یہ قلم ہی کی برکت ہے کہ علم کا کارواں آج ان رفتوں پر خیمہ زن ہے اور مزید بلندیوں کو مسخر کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں ۔ بلا شبہ جب تک قلم کی جنبش جاری رہے گی علوم و فنون میں ترقی اور اضافہ ہوتا رہے گا ۔ لیکن قرآن کریم کا یہ معجزہ آج بھی زندہ وجاوید ہے کہ وہ صرف اور صرف قلم ہی سے زندہ نہیں رہا بلکہ قلم سے زیادہ وہ دلوں کی لوح پر ثبت ہوتا چلا آ رہا ہے اس جگہ پہنچ کر قلم کا کردار آج بھی ثانوی ہے اور قرآن کریم کا یہ معجزہ آج بھی زندہ وجاوید ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے اور حضرت العلام حضرات اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے جو حقیقت بعض اوقات ایک نا خواندہ آدمی سمجھ جاتا ہے اور یہ بات صرف اور صرف قرآن کریم کے ساتھ خاص ہے کسی دوسرے علم میں یہ چیز نہیں پائی جاتی اور علوم قرآنی کی یہ وہ صفت ہے جو اس کی صفت نزول سے تعلق رکھتی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح قلم کے ذریعہ سے علوم و معارف کی دولت سے اپنے بندوں کو مالا مال کرتا ہے اور کر رہا ہے وہ جب چاہتا ہے تو قلم کے بغیر بھی کسی کے سینہ کی لوح کی روشن کر دے اور اتنی باتیں قلم کے ذریعہ وہ نہ سیکھ سکا ہو جتنی باتیں اس لوح قلب کے باعث سیکھ لی ہوں اور اس طرح بغیر کسی ظاہر واسطہ کے اس کا دل علم کی روشنی سے بقعہ ٔ نور بن جاتا ہے۔ تا ہم یہ بات محض علوم قرآنی کے ساتھ خاص ہے لیکن زیر نظر آیت میں قلم کے ذریعہ علم کے سکھانے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس جگہ اس کے ذکر سے مراد یہی ہے کہ جو چیز دوسروں کے حق میں قلم کرتی ہے وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے لیے جبریل کے دبانے نے کردیا ۔ جس کی وضاحت آنے والی آیت مزید پیش کر رہی ہے۔
Ayah 96:5اس نے انسان کہ وہ کچھ سکھایا جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا
5 ؎ ” انسان “ کے معنی آدمی کے ہیں اور مذکر و مؤنث دونوں ہی پر بولا جاتا ہے اور دونوں اس کے اندر ایک ہی طرح سے داخل ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو جو سکھایا ہے اللہ تعالیٰ ہی نے سکھایا ہے کیونکہ سارے علوم و فنون ، اسرار و معارف ، انکشافات و ایجادات اسی کے بےپایاں علم کی شاخیں ہیں وہ جتنا چاہتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق سکھا دیتا ہے اور اس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 31 کے تحت بیان کردی ہے وضاحت دیکھناہو تو اس مقام کی طرف مراجعت کریں ۔ سارے انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور انسان کا اصل آلہ جس کو ذہن و دماغ اور قلب و فواد سے موسوم کیا جاتا ہے جس کی بنا پر انسان دوسرے حیوانوں سے تمیز پاتا ہے اس کی صلاحیتوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اس وقت جتنی ترقیاں اس صفحہ ہستی میں ہوئی ہیں سب انسانی دماغ کی کارستانیاں ہیں اور انسان نے اس وقت تک جو کچھ اس میں سیکھا ہے وہ 0000۔ 50 تک بھی شاید نہ ہو بلا شبہ ہمارا یہ بیان فرضی ہے لیکن انسانی دماغ کے ان حصوں ، خانوں ، شریانوں کا اگر اندازہ لگایا جائے اور اس جال پر اگر غور کیا جائے جس کے اندر وہ محفوظ کیا گیا ہے اور ان پر دوں اور جھیلوں پر غور کر کے دیکھا جائے جو اس کے اندرتخلیق کی گئی ہیں تو ایسا کہہ دینا یقینا بڑ نہیں ہوگا ۔ بہر حال انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جو سکھایا گیا وہ آخرت میں کام آنے والا نور ہے جس کو رشد و ہدایت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ آیت میں (علم) فعل کا ذکر کیا ہے اور مفعول ذکر نہیں کیا ۔ زیر نظر آیت میں دونوں کا ذکر کردیا یعنی فعل کا بھی اور مفعول کا بھی تاکہ اللہ کی قدرت پر دلالت کریں ۔ ( الانسان) سے مراد اس جگہ جنس انسان ہے تا ہم بعض مفسرین نے اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ کی بھی لیا ہے۔ بلا شبہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے علوم آخرت کی فروانی عطا فرمائی اور دنیوی علوم سے بھی قدرتی طور پر بہرہ انداوز کیا اور جو کچھ آپ ﷺ کو عطا کیا گیا وہ وہبی طور پر عطا کیا گیا ۔ گویا فطرت اور ہبہ دونوں سے کام لیا گیا اور فطرت بھی وہ فطرت تھی جو نبوت کے لیے خاص تھی اور یہ بات پہلے واضح کردی ہے کہ فطرت نبوی عام انسانی فطرت سے بہت اعلٰ ور وراء الوراء شے ہے۔ جس طرح حیوان اور انسان کے درمیان خط امتیاز موجود ہے اسی طرح انسان اور نبوت کے درمیان بھی خط امتایز موجود ہے اور پھر جو خط انسانیت کے درمیان اور نبوت کے درمیان حد فاصل ہے اس کے آخری سرے پر آپ ﷺ کا مقام ہے جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیا گیا ۔ یہ وہ آیات کریمات ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے کہ یہ سب سے پہلی وحی ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئیں اور جس وحی کی وحی متلو کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ رہی وحی غیر متلو تو وہ بلا شبہ پہلے بھی ہوا کرتی تھی جس کا ذکر خوابات کے ضمن میں پیچھے گزر چکا ہے۔ ہاں ! اس کے وحی الٰہی ہونے میں ذرا بھر بھی شک و شبہ نہیں ہے ۔ انسان بلا شبہ سیکھنے ہی سے انسان بنتا ہے اور یہ بھی انسان ساری زندگی سیکھتا رہتا ہے۔
Ayah 96:6ہرگز نہیں انسان بلا شبہ حد سے اکثر تجاوز کر جاتا ہے
6 ؎ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے جن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے ان انعامات میں سر فہرست علم سیکھنا ہے لیکن انسان کا رویہ بڑا عجیب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کا بہت ہی کم خیال کرتا ہے بلکہ وہ سب کچھ جھٹک کر رکھ دیتا ہے خصوصاً جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو علم و دولت کی فروانی حاصل ہوتی ہے تو وہ سر کشی پر اتر آتا ہے اور انسانوں میں بہت ہی کم ایسے انسان ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن جائیں ۔ یہ آیات پہلی پانچ آیتوں کے ایک عرصہ بعد نازل ہوئیں پہلے تو یہ بتایا کہ کم ظرف انسان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب اس کے پاس مال و دولت کی فروانی ہوجاتی ہے اور ایک طاقتور جماعت اس کو مل جاتی ہے اور وہ اس جتھے اور جماعت کا سر دار بن جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اپنے رب سے مستغنی سمجھنے لگتا ہے گویا اس کو اپنے خدا سے جو مطلب تھا وہ اس کا پورا ہوگیا اور اب اس کو اس کی کوئی ضرورت نہیں رہی حالانکہ یہ اس کی سراسر بھول ہے۔ فرمایا جب اس کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے تو وہ سرکشی اختیار کرنے لگتا ہے اس وقت اس کو کسی چیز کی پرواہ نہیں رہتی اور وہ اپنے آپ کو کسی ضابطے کا پابند نہیں سمجھتا یہاں تک کہ وہ ذات کبریا سے بھی بےنیاز ہوجاتا ہے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کی ذرابھر اس کے دل میں قدر و قیمت نہیں رہتی اور جو اس کے جی میں آتا ہے کر گزرتا ہے حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر وہ ساتوں زمینوں کا مالک بھی بنا دیا جائے اور ساری دنیا کی دولت بھی اس کے خزانے میں اکٹھی کردی جائے تو بھی وہ ایک بےبس انسان ہے کیونکہ جب اس کی موت کا وقت آئے گا تو اس کی موت سے نہ تو اس کو ساتوں زمینوں کی بادشاہی بچا لے گی اور نہ ہی یہ مال و دولت کے خزانے اس کو بچا سکیں گے اور جب اس کی ہوا نکل جائے گی تو ان خزانوں اور ان بادشاہوں کی اس کو کیا ضرورت باقی رہ گئی اور اس کی ساری سر کشیوں کے سر پانی پھر گیا ۔
Ayah 96:7اس طرح کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا ہے ہے
7 ؎ ( زاہ) اس نے اس کو دیکھا رای رویۃ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہ ٗ ضمیر واحد مذکر غائب اس جگہ مراد ہے اس انسان نے اپنے آپ کو دیکھا ( استغنیٰ ) اس نے بےپروائی کی استغناء سے جس کے معنی بےپرواہ ہونے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ سر کش انسان نے اپنے آپ کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے بھی بےنیاز کرلیا اور کچھ نہ ہونے کے باوجود اس نے اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھ لیا اور اس نے بندہ ہو کر بندہ نواز سے متکا لگا لیا حالانکہ اس کی ہستی ہی کیا تھا اس بات کو اس نے پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا اور حقتقا کو ایسا بھول کہ اس کو بھول کر بھی کبھی یاد نہ آیا کہ میری اصلیت کیا ہے اور یہ کہ میں مخلوق ہوں اور اللہ تعالیٰ میرا خالق ہے۔
Ayah 96:8بلا اے انسان تو نے لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہے
8 ؎ (رجعی) پھرجانا لوٹنا۔ رجع یرجع کا مصدر ہے لازم آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ہفت اقلیم کا مالک ہے اور دنیا کی دولت ان گنت اس کے پاس موجود ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ہم چوما دیگرے نیست اور نخوت وتکبر میں وہ ڈوبا ہوا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں بھی اور پھر کوئی اور بھی اس طرح وہ بھولتا بھالتا کہیں کا کہیں نکل گیا ہے اور اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ میرے مقابلہ میں نہ کوئی ہے اور نہ ہی کسی کے ہونے کا امکان ہے تو یہ اس کی نہایت سخت بھول ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ کچھ بھی ہے بہر حال اس کو لوٹ کر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا ہے اور ہر حال میں لوٹنا ہے۔ وہ تسلیم کرے یا نہ کرے بہر حال لوٹنا ہے کیونکہ اس نے بھلا دیا ہے حالانکہ وہ اس کی طرف سے آیا ہے اور جس طرح آنے میں اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے اسی طرح لوٹ کر اس کو اپنے مالک حقیقی کی طرف جانا ہے اور اس کے جانے پر بھی اس کا اپنا اختیار نہیں ہے گویا بےاختیارآیا ہے اور بےاختیار اس نے لوٹ کر جانا ہے ۔ جس کے متعلق ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ جس طرف وہ جانا نہ چاہے اسی طرف اس کو جانا ہے۔
Ayah 96:9کیا اس شخص کو تو نے دیکھا جو منع کرتا ہے
9 ؎ (رایت) تو نے دیکھا رویۃ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر (ارایت) کیا تو نے دیکھا ۔ بھلا تو دیکھا میں الف اولیٰ بلفظ استفہام تقریر و تنبیہ کے لیے ہے محض استفہام کے لیے نہیں ہے۔ ( اعراب ثلاثین من ال قرآن الکریم لابن خالویہ ص 201) یہ سرکشی انسانوں کی سرکشی کی مثال ہے کہ بھلا دیکھو تو اس شخص کو جس نے اتنی زیادتی کی کہ ایک بندے کو جو نماز پڑھتا ہے روکنا چاہا یہ ان بد بختوں کا بیان ہے جو نبی اعظم و آخر ﷺ جب بیت اللہ میں نماز ادا کرتے اگرچہ یہ نماز نماز موقت نہ تھی بلکہ نفل نماز تھی جس کی ہیئت کذائی ایسی ہی تھی جیسی کہ اس وقت نماز پڑھی جاتی ہے اور یہ طریقہ وحی متلو سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ وہ طریقہ ہے جو فطرۃً نبی اعظم و آخر ﷺ کو القاء ہوا اور اسی طریقہ پر بعد میں فرض نمازیں ادا کی جانے لگیں ۔ اس نماز کی حرکات جو کچھ بھی آپ کے سامنے ہیں ظاہر ہے کہ اس میں ایک والہانہ انداز اختیار کیا گیا ہے جس میں زبان سے ذکار پڑھے جاتے ہیں اور حرکات و سکنات ہیں جس میں قیام ، رکوع ، قومہ ، سجدہ اور تشہد جیسی حرکات ہیں ۔ ان حرکات کی تعیین وحی الٰہی سے ہوا ہے خواہ وہ خواب کے ذریعہ ہے یا رسم کے لیکن اس میں خوبی یہ ہے کہ یہ نماز تذلل سے براہ راست روکتی ہے۔ مکہ والوں نے جب آپ ﷺ کو ان حرکات و سکنات کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا تو یہ طریقہ ان کے طریقہ سے تو بہت مختلف تھا کیونکہ ان کے طریقہ میں نماز کی ادائیگی کے لیے ضروری تھا کہ وہ خوشی کے عالم میں گاتے ، ناچتے اور تالیاں بجاتے ہیں ان کی اس نماز کا ذکر ہم نے عروۃ الوثقیٰ ، جلد چہارم اور سورة الانفال کی آیت 35 میں تفصیل سے کردیا ہے۔ ان خاموش حرکات کی نماز سے جن میں قرآن کریم میں پڑھا جاتا تھا کفار مکہ کو نفرت تھی اور اب وہ مخالفت میں اس قدر چھوٹ ہوچکے تھے کہ آپ ﷺ کو اس طرح کی نماز پڑھتے دیکھتے تو ان کو تعجب ہوتا اور آپ ﷺ کو اس طرح نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔ اس کے شان نزول میں بعض خاص واقعات بھی درج کیے گئے ہیں کہ کن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو روکا اور اس طرح مسلمانوں کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ زیر نظر آیت میں ان کی اس کوشش ہی کا ذکر ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ نے دیکھا جس شخص نے آپ ﷺ کو روکا اور منع کیا ؟ کس چیز سے منع کیا اور روکا ؟ اس کا ذکر آنے والے آیت میں ہورہا ہے۔
Ayah 96:10روکا ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا تھا
10 ؎ ( عبد ًا) بندے کو اس لیے کہ اس وقت ابھی اجتماعی نماز فرض و لازم نہ تھی اور نہ ہی مکہ میں پڑھی جاتی تھی ۔ جو شخص بھی آپ ﷺ کو دیکھ کر نماز ادا کرتا تھا اسی طرح ادا کرتا تھا جس طرح آپ ﷺ پڑھتے تھے اور آپ ﷺ اسی طرح نماز ادا کرتے تھے جس طرح نماز فرض ہونے کے بعد ادا کرتے رہے کیونکہ مکہ میں جو نماز ادا کی جاتی تھی وہ بھی حرکات و سکنات کے لحاظ سے آپ ﷺ کے طریقہ کے مطابق تھی جو طریقہ آپ ﷺ نے وحی کے مطابق اختیار کیا تھا اگرچہ وہ بشارات اور خوابات نبوت کے مطابق تھا لیکن آج بھی خواہ کوئی کتنا غور کرے گا نماز کی حرکات کو عین عقل و فکر اور جذبہ سرشار محبت کے عین مطابق پائے گا جو وارفتگی اور عبدیت کی حالت اس نماز سے ظاہرہوتی ہے وہ کسی اور طریقہ سے ظاہر نہیں ہوتی ۔ نماز کی جتنی حرکات و سکنات مقرر کی گئی ہیں وہ نہایت ہی اہم ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے خاص تعلق کو ظاہر کرتی ہیں لیکن ایک ایک حرکت کی بحث کا یہ موقع نہیں اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ ، جلد ششم سورة المؤمنون کی آیت 9 کے تحت تفصیل سے ذکر کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ مکہ میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو نماز پڑھنے سے بہت سے لوگوں کے روکنے کا ذکر آیا ہے صرف ایک ابو جہل کی خباثتوں کا ذکر کیا اس کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں نے آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر طرح طرح کے بین (Bane) لگانے کی ناکام کوششیں کیں۔ وہ تو خیر مخالف تھے اور مخالفت میں مخالف جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن اس وقت مسلمانوں کی کیا حالت ہے ؟ سب کے سامنے ہے کہ نماز کے لیی کھڑے ہونے سے لے کر تشہد میں بیٹھنے تک تمام حرکات و سکنات اور اذکار کے پڑھنے تک میں اختلاف ہے اور صرف اختلاف ہی نہیں بلکہ جنگ وجدال ہے ، بحث و مناظرہ ہے ، تو تو میں میں ہے اور علاوہ ازیں اس قدر اختلاف ہے کہ ایک دوسرے کو نماز پڑھتے نہیں دیکھ سکتے اور چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے پر اس طرح پل پڑیں کہ قتل و غارت کا بازار گرم کردیں۔ ظاہری علامات سے لے کر باطنی فوائد تک ایک ایک پر بحث ہے اور ہر ایک گروہ دوسرے کی نماز کو قطعاً نماز تصور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے حالانکہ نماز کا تعلق تو بندے اور اس کے رب کا ہے ، بندے اور بندے کا اس میں کوئی تعلق ہے تو اتنا ہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ نماز کی ظاہری حرکات و سکنات ہوں یا باطنی و روحانی نتائج ان کے متعلق اپنی تفہیم بیان کرنے کا حق ہے اس سے زیادہ تو کسی کو حق ہی نہیں کہ کوئی کسی نماز پر فتویٰ لگائے کیونکہ اس کے متعلق اگر کوئی پرسش ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر ہے اور ہر بندہ جب اپنے مالک حقیقی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے جواب دہ ہے تو اس میں زیادہ بحث و تمحیث کی ضرورت کیا ہے ، ہاں ! زیادہ سے زیادہ اپنا تفہیم کردہ مطلب بیان کیا جاسکتا ہے اور ہر ایک کو حق ہے لیکن افسوس کہ سینے پر ہاتھ باندھنے والوں کو ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والے دیکھتے ہی آگ بگولا ہوجاتے ہیں اور اس طرح دیکھتے ہیں کہ اگر ان کے بس میں ہو تو اس بیچارے کو گولی کا نشانہ بنا دیں اور اگر اس نے رکوع کرتے وقت رفع الیدین بھی کردیا اور ناف پر ہاتھ باندھنے والوں نے دیکھ لیا تو پھر وہاں سے پٹائی کرائے بغیر وہ نکل نہیں سکتا ۔ تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین نئے ہوں یا پرانے ابو جہل کی زیادتی کا ذکر تو کریں گے لیکن خود اپنی کی گئی زیادتیوں کا ہرگز ہرگز ذکر تک بھی نہ کریں گے اور نہ ہی اس سے اپنے حواریوں کو روکیں گے اور نہ ہی اپنے سٹیج پر کبھی نماز کی اس وسعت کو برداشت کر کے اس کو حسن و خوبی کا رنگ دیں گے حالانکہ یہ اختلاف سراسر حسن و خوبی ہے کیونکہ اس کا تعلق فروعات سے ہے اس میں ایک چیز بھی بنیادی نہیں ہے اور فروعات کا اختلاف قطعا ً مہلک اختلاف نہیں ہے بلکہ سراسر حسن و خوبی ہے۔ بہر حال انہوں نے اگر کسی اللہ کے بندے کو نماز سے روکا تھا تو آج ہمارے ہاں مسلمان بھی ایک دوسرے کو نماز ادا کرنے سے سختی کے ساتھ روکتے نظر آ رہے ہیں ۔ چناچہ دیکھا گیا ہے کہ مساجد کے باہر دروازہ پر لکھا ہے کہ یہ احناف کی مسجد ہے اس میں کوئی دیو بندی ، وہابی اور اہل حدیث نماز نہیں ادا کرسکتا ، خلاف ورزی کرنے والا خود ذمہ دار ہوگا اور مساجد میں ایک دوسرے کو پیٹنے ، مارنے ، لڑنے اور جھگڑنے کے مناظر اکثر دیکھے گئے ہیں اور انجام کار معلوم ہوتا ہے کہ فلاں مسافر نے نماز ادا کرتے وقت رفع الیدین کرلیا تھا ، اس نے آمین کہہ دی تھی ، اس نے پائوں میں فاصلہ زیادہ کردیا تھا ، وہ پائوں سے پائوں ملانے کی کوشش کرتا تھا اور اس نے کندھے کے ساتھ کندھا جوڑا دیا اور ایسا فٹ ہوگیا کہ میرے لیے حرکت بھی مشکل ہوگئی اور اس طرح کی کئی باتیں کی جاتی ہیں اور ان پر خوب کھل کر لڑائیاں ہوتی ہیں ، ایک دوسرے کے خلاف تھانوں میں پرچے درج ہوتے ہیں ، عدالتوں سے مسجدیں بند کردینے کے احکام نافذ کیے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے والے کون ہیں ؟ سب کے سب ایک ہی کلمہ لا الہ الا محمد رسول اللہ پڑھنے والے ہیں ۔ اللہ کو مانتے ہیں اور رسول کو اللہ کا سول تسلیم کرتے ہیں ۔ پانچ نمازیں فرض سمجھتے ہیں ، قیامت کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں ، حج اور زکوٰۃ کو ارکان اسلام جانتے ہیں لیکن ان ساری باتوں کے باوجود لڑائیاں ہیں کہ وہ ختم ہونے میں نہیں آتیں ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ یہ کردارزیادہ برا ہے یا ابو جہل کا ؟ کیونکہ وہ تو مخالف تھا اور مخالف کا کام ہی مخالفت کرنا ہے۔ قارئین سے میری درخواست ہے کہ اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ ابو جہل تو اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے لیکن آپ کے پاس ابھی وقت ہے جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے اس لیے استفادہ کرنا ہی چاہیے تاکہ ہمارا بھلا ہوجائے اور ہمارے ساتھ کئی دوسروں کا بھی ساتھ ہی بھلا ہوجائے۔
Ayah 96:11کیا تو نے دیکھا ہے کہ اگر وہ بندہ راہ راست پر ہو
11 ؎ زیر نظر آیت میں اس شخص کو مخاطب کیا گیا ہے جو اللہ کے بندے کو نماز پڑھنے سے روکنے والا ہے اور روکنے والے کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جس کو تو نماز سے روکتا ہے اگر وہ ہدایت پر ہو تو تیرا کیا بنے گا ذرا انداز بیان پر غور کرو حالانکہ نماز پڑھنے والے کے ہدایت پر ہونے میں کیا شک ہے لیکن انداز بیان ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ روکنے والے کی گر تفہیم ہوجائے تو وہ زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اس کو جزبز کر کے متنفر کردیا جائے ۔ دوسرا مفہوم اس کا اس طرح ہے کہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر نماز سے روکنے والا ہدایت قبول کرلیتا اور لوگوں کو بھی نماز کی تلقین کرتا کہ وہ تقویٰ اختیار کریں تو اس کے لیے کتنا اچھا ہوتا لیکن اب جب اس نے ایسا نہیں کیا محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی اور آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری سے روگردانی کی تو کیا اب وہ عذاب الٰہی سے بچ سکتا ہے ؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ اس کے سارے کرتوتوں کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور اس کا یہطریقہ کہ اس قسم کے نا ہنجارمجرموں کو وہ بڑے شدید عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔ مذکورہ دونوں باتیں اپنے اپنے مقام پر صحیح اور درست ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک تیسرا مفہوم جو مسلمانوں کی آپس کی لڑائی کے متعلق ہے اس پر بھی غور کرو کہ کیا ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ آپس میں لڑائی چھوڑ کر نماز کی وسعت کے پیش نظر ایک دوسرے کو برداشت کریں اور اگر ایک فروعات میں اختلاف کر رہا ہے تو اس اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے رضائے الٰہی کی تلاش کریں اور ایک دوسرے پر لڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی مساجد میں مل جل کر نمازیں ادا کریں اور جہاں ان کے قدو قامت میں اختلاف ہے ، شکل و صورت میں اختلاف ہے ، گورے اور کالے کا اختلاف ہے ، زبان کا اختلاف ہے وہاں ان حرکات کے اختلاف کو بھی برداشت کریں اور نماز کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو کیا ہی اچھا ہو ۔ اللہ ہم مسلمانوں کو توفیق بخشے۔
Ayah 96:12یا پرہیز گاری کی تلقین کرتا ہو
12 ؎ یہ بات بھی اس کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے کہ جو اللہ کے بندے کو نماز پڑھتے دیکھ کر روکتا ہے کہ وہ اس طرح نماز کیوں پڑھتا ہے جب کہ ہمارے ہاں اس طرح نماز نہیں پڑھی جاتی ہمارے ہاں نماز کا تصور تو خوش ہو کر ناچنے گانے ، تالیاں اور سیٹیاں بجانے کا ہے اور یہ اوپر نیچے حرکات و سکنات کو نماز کہتا ہے جب کہ اس میں ذرا بھی خوشی کا اظہار نہیں ہے بلکہ خاموشی کے ساتھ والہانہ انداز میں چند حرکات ادا کرنے کا نام نماز ہے ، حالانکہ وہ تو وہ کام کر رہا ہے جو نماز کا غرق اور نچوڑ ہے کہ پرہیز گاری کا حکم دے رہا ہے پہلے ظاہری پرہیز گاری کو اختیار کیا اور اس کو اختیار کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ہی باطنی پرہیز گاری کی تلقین کی اور خود اپنے باطن کو اس طرح پرہیز گار بنا دیا کہ اعداء اور دشمن بھی اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکے ۔ پھر ایک بار غور کرلو کہ اس وقت جتنے اسلامی گروہ موجود ہیں ان میں سے کسی گروہ کی نماز اور نماز کے ادا کرنے والے اس طرح تقویٰ کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ان کی ان نمازوں کے ماحصل کو اس تقویٰ کی صورت میں دیکھا گیا ہو کیا ایک بھی گروہ ہے کہ وہ خاموشی سے اپنی صلوٰۃ ادا کرتا ہو لیکن دوسری کو تنقید کا نشانہ بنائے بغیر رہ جائے اور خاموش رہ کر ہی دکھا دے اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا پھر ہمارے ہاں نماز کا اصل مفہوم و مقصود پورا ہو رہا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو لڑائی کس چیز پر ہے ؟
Ayah 96:13کیا دیکھا تو نے اگر منع کرنے والا حق کو جھٹلاتا اور حق سے منہ موڑتا ہو ؟
13 ؎ جیسا کہ قبل ازیں ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اس آیت میں بھی ان لوگوں ہی کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے لیکن انداز ایسا اختیار کیا ہے جو مخالفین کو مزید مخالفت پر نہ ابھارے بلکہ غور و فکر کرنے پر مجبور کرے لیکن افسوس کہ آج ہم نے یہ انداز بیان بھی بھلا دیا کہ جو کسی کانے کو کانا کہے ، کسی گناہ گار کو سیدھا گناہ گار کہے ، کسی برے کو براہ راست برا کہنے سے منع کرتا ہے بلکہ وہ ایسا انداز اختیار کرتا ہے کہ کانا اپنے کانا ہونے کو خود بیان کر دے کہ مجھے کیا ہوا ، گناہ گار اپنے گناہ کو محسوس کرے اور اصلاح کی کوشش کرے ۔ فرمایا جا رہے کہ اگر یہی تکذیب کرنے والا اور حق سے منہ موڑنے والا ہوا تو پھر اس نے ایسا کر کے یعنی حق سے منہ موڑ کر کس کا نقصان کیا ؟ ظاہر ہے کہ اتنا ہی نقصان کیا اور اپنے پائوں پر خود کلہاڑی چلا کر اپنے آپ کو زخمی کرلیا اور اپنے لیے خود جہنم کا دروازہ کھول لیا اور بھاگ کر جہنم میں داخل ہوگیا اس طرح اس نے حق کو جھٹلا کر اور حق سے منہ موڑ کر خود ہی عذاب الٰہی کو دعوت دے دی پھر جو خود عذاب خداوندی سے بچنے کی کوشش نہ کرے بلکہ اس میں گرنے کی کوشش کرے اس کا بھی کوئی حل ہے ؟
Ayah 96:14کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے
14 ؎ یہ بات اس لیے ارشاد فرمائی کہ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو جانتے اور مانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا اور ان کا انتظام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے ۔ ان کے اس عقیدہ کو قرآن کریم نے بھی بار بار بیان کیا ہے وہ اللہ رب کریم کے منکر نہیں تھے اس لیے اس خسیس انسان کو مخاطب کر کے اس کا طرز اپنانے والوں کے متعلق سوال کیا جا رہا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ وہ اور اس کے دوسرے ساتھی جو حرکات کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ ان کی حالت کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ پھر غور کرنے کا مقام ہے کہ جو شخص نماز پڑھتا ہے خواہ وہ کسی بھی طریقہ پر پڑھتا ہے وہ آخر دوسروں کا کیا نقصان کرنا ہے ۔ فرض کرلیا کہ وہ ان کے خیال میں نماز درست نہیں پڑھ رہا تو اس کی نماز سے دوسروں کا کیا تعلق ہے ۔ پھر فقط اتنا کہہ دینے سے انسان اس سے سبکدوش ہو سکتا ہے کہ نماز کے ادا کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا اس طریقہ کو نہیں اپناتا تو اس کا کیا نقصان ہوا اگر اس نے صحیح طریقہ اختیار نہیں کیا تو اس نے غلط طریقہ اختیار کر کے اپنا نقصان کیا ہے اور اپنا نقصان کرنے والا اگر اپنا نقصان کرنے سے باز نہیں آتا تو اس کو باز کرنے کے فرض ادا کردیا اب مزید الجھنے کی آخر ضرورت کیا ؟ مقصود آیت جھگڑے سے بچنے کی تلقین ہے کیونکہ جھگڑا بذاتہٖ کوئی اچھی چیز نہیں ہے اور اس سے یہ بات خود بخود نکل آتی ہے کہ صلوٰۃ کے اختلافی ابواب میں الجھنے والے اپنی اصلاح کریں اور اصلاح کبھی بھی الجھنے سے نہیں ہوتی اور نہ ہی ہو سکتی ہے اس کے لیے افہام و تفہیم ہے اگر طبیعت برداشت کرے تو فقط بات کہہ دینے میں بھلائی ہے اس سے آگے جو کچھ ہے وہ فتنہ اور فساد ہے جو بذاتہٖ اچھا نہیں ہے۔
Ayah 96:15ہرگز نہیں ، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے
15 ؎ اس طرح کا بیان کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ سب کو معلوم ہے کہ سر کشوں کی سر کشی کو دیکھ دیکھ کر اور برداشت کر کر کے انسان جب تنگ آجاتا ہے تو اس کے لہجہ میں درشتی اور سختی آ ہی جاتی ہے ۔ یہی بات اس جگہ ہوئی ہے کہ ایسوں کو جنہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کی تکذیب کی ، آپ ﷺ کو صلوٰۃ جیسی عبادت سے منع کرنے میں سر توڑ کوشش کی بلکہ مزاحمت کردی پھر جب ان کو سمجھایا بجھایا گیا تو وہ اپنے اس رویہ سے باز نہ آئے بلکہ اس رویہ میں مزید سختی شروع کردی اس لیے ان کے جواب میں اب ذرا سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور وہ بھی ان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ہم ان کو جھوٹی پیشانی سے پکڑ کر گھسیٹیں گے تاکہ ان کے ہوش درست ہوں کہ اگر لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے تو ان سے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ( لنسفعاً ) کا اصل مادہ سع ہے اور سفع اصل میں سیاہی کو کہتے ہیں اور سفعتہ السموم کا مطلب لیا جاتا ہے کہ گرم ہوا نے اسے سیاہ کردیا ۔ ( ناصیۃ) کے ساتھ اس کے معنی جذب اور اخذ کے ہوتے ہیں اور پیشانی کے بالوں سے پکڑنے سے مراد اس کا ذلیل کرنا ہے اور بعض نے پیشانی کو منہ کی جگہ مراد لے کر سیاہ کرنے کے معنی بھی لیے ہیں اور بعض نے سفع کے معنی مٹھی میں بالوں کو لے کر گھسیٹنے اور کھینچنے کے معنی بھی مراد لیے ہیں کہ ایسے نا مرادوں کو انجام کار ہم ذلیل و خوار کریں گے اور ان کی پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ میں پھینک دیں گے اور یہ ان کی ان حرکات کا صحیح صحیح بدلہ ہوگا جو سلوک انہوں نے ہمارے رسول ﷺ اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔
Ayah 96:16اس پیشانی کو جو جھوٹی بھی ہے اور خطا کار بھی
16 ؎ ( ناصیۃ) اسم نکرہ مفرد پیشانی کو کہتے ہیں لیکن اس سے مراد پورا انسان ہی کیا جاتا ہے کسی ایک جزء کا نام لے کر پورا انسان یعنی کل مراد لیا جاتا ہے اور یہ ساری زبانوں میں مستعمل ہے ۔ انسان کی پیشانی ایک ہی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ انسان کے جتنے اعضاء کو عزت و احترام والے سمجھا جاتا ہے ان سب سے پیشانی کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ کسی شخص کو پیشانی سے پکڑنے سے مراد اس کو نہایت ذلیل کرنا مراد لیا جاتا ہے اور یہی مفہوم اس جگہ مراد ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ پیشانی ایسے شخص کی ہے جو جھوٹا بھی ہے اور غلط کار بھی ہے اور اس قابل ہے کہ اس کو مٹی میں رگڑا جائے اور اس کو خوب ذلیل و خوار کیا جائے کیونکہ اس نے ایسی ہی حرکت کی ہے کہ ایک اللہ کے بندے کو جب وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول تھا اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روکنے کی کوشش کی ہے اس لیے وہ اس کا مستحق یہ کہ اس کو اسی طرح ذلیل و خوار کیا جائے ۔ غور کرو کہ یہ سورت مکی سورت ہے اور اس طرح کا مضمون اس وقت بیان ہوا ہے جب نبی اعظم و آخر ﷺ ہر طرف سے کفار کے نرغے میں تھے اور قریش کے سردار آپ ﷺ کے ساتھ اس طرح کی حرکات کرتے تھے جس طرح کی حرکت کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے اور ان کو اس طرح جواب دیا گیا اور بےدھڑک رسول اللہ ﷺ نے ان کو سنایا ہے لیکن آج ہماری حالت کیا ہے کہ و ڈیرے جب اس طرح کی ذلیل حرکتیں کرتے ہیں تو ہم ان کا نام تک نہیں لے سکتے بلکہ ان کا نام تک لینے سے ہم پرہیز کرتے ہیں اور تعجب یہ ہے کہ اس کو ادب و احترام کے خلاف سمجھتے ہیں حالانکہ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے دین کے ساتھ مذاق کو ایسے ہی طریقہ سے یاد کرنا ضروری ہے جس طریقہ سے قرآن کریم نے ان کو مخاطب کیا ہے بالکل اسی طرح مخاطب کیا جائے اور اس طرح مخاطب کر کے جو وہ دکھ اور تکلیف پہنچائیں اس کو بخوشی برداشت کیا جائے اور ان کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا تاکہ وہ اسلام کو ایک کمزور تحریک نہ سمجھیں بلکہ جاندار قانون خیال کریں تاکہ قرآن کریم کی پیروی و فرمانبرداری اسی طرح کی جائے جس طرح کرنے کا حکم ہم کو دیا گیا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں کسی طرح کا لوچ موجود نہیں ہے۔
Ayah 96:17پس چاہیے کہ وہ اپنی مجلس کے لوگوں کو حق کے مقابلہ میں بلا لے
17 ؎ ( فلیدع) یدع واحد مذکر غائب امر دعاء مصدر اس کو دعا کرنی چاہیے ۔ امر غائب اس کو پکارنا چاہیے ۔ اس کو بلانا چاہیے۔ ( نادیہ) نادیٰ اسم مضاف منصوب ہٗ ضمیر مضاف الیہ اپنی مجلس اور اپنی مجلس کے ساتھیوں کو ۔ مطلب یہ یہ کہ ہمارے بندے کو نماز سے روکنے والا اگر اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ نہ تو اس نے رسول کا خیال کیا جو انسانوں سے ایک نہایت ہی بہترین انسان ہے اور نہ ہی اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا خیال کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہے پھر ان ساری باتوں کے باوجود اس نے ہمارے رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو نماز سے روکنے کی کوشش کی ہے وہ اس میں مزید جو کچھ کرنا چاہتا ہے کرے اور مزید اپنے ساتھیوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر کے ساتھ ملا لے اور پھر یہ سارا گروہ مل کر ہمارے رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو اس عبادت سے روکنے کی جو کوشش اس نے کی اس کو مزید تیز کرلے پھر دیکھے کہ وہ کہاں تک کامیاب ہوا ہے اور ہم اس کو مطلع کرتے ہیں کہ عنقریب ان شاء اللہ العزیز اس کا سارانشہ ہرن کردیں گے۔
Ayah 96:18عنقریب ہم ہی اپنے پیادوں کو بلاتے ہیں
18 ؎ (الزبانیۃ) سیاست کے پیادے ۔ دوزخ کے فرشتے ۔ زبانیہ عربی زبان میں پولیس کے سپاہیوں کو کہا جاتا ہے جو پاپیادہ ہوتے ہیں ۔ فریابی نے مجاہد سے اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے فرشگان دوزخ کے معنی نقل کیے ہیں۔ ( فتح الباری کتاب التفسیر سورة العلق) بغوی نے لکھا ہے کہ یہ ذبنتی کی جمع ہے جو زین سے مآخوذ ہے جس کے معنی دفع کرنے کے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان سے ” زبانیہ “ مراد ہیں یہ اس نام سے اس لیے موسوم ہوئے ہیں کہ دوزخیوں کو دوزخ کی طرف دھکیلیں گے ۔ ( معالم التنزیل) بعض کے نزدیک اس کا واحد ذبنیۃ ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اس میں اتنا ہی زور ہے کہ وہ ہم کو زور دکھانا چاہتا ہے تو ہم بھی اپنے قانون میں محافظ و نگہبانوں کو بلا کر ان لوگوں کا صفایا کرا دیں گے ۔ آپ ﷺ ہماری بات ان تک پہنچا دیں پھر دنیا نے دیکھا کہ ہجرت کے بعد پہلی بار ان کا صفایا بدر میں کرایا اور دوسری بار ان کی صحیح صفائی فتح مکہ کے وقت ہوئی اور آخرت میں جس طرح دوزخ کے دربان ان سے پیش آئیں گے اس کا نقشہ ان کو آج ہی دکھا دیا ہے تاکہ ان کو دیکھ کر ان کو یاد آجائے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
Ayah 96:19ہرگز نہیں آپ ﷺ ان کی ایک نہ سنیں آپ ﷺ سجدہ کریں اور اللہ کے قریب ہوجائیں
19 ؎ اب نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے خاص ہدایت دی جا رہی ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ﷺ ان ہیکڑوں کے کہنے پر اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے باز آجائیں ۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا آپ ﷺ ان بدکاروں میں سے کسی بھی بدکار کی بات مت مانیے ۔ یہ اگر نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کی ایک نہ سنیے بلکہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہمیشہ سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجدہ ہی سے اللہ کا قریب حاصل کرنے کی کوشش کیجیے کیونکہ جو بات کثرت ِ سجود سے کھلتے ہیں وہ اس کے علاوہ کھولے ہی نہیں جاسکتے ۔ کس کی مجال ہے کہ وہ آپ ﷺ سجدوں سے منع کرسکے اور اگر کوئی ایسی جسارت کرتا ہے تو ہم تو آخر دیکھ رہے ہیں ، ہمارا قانون خود ان کو روکنے کے لیے آگے بڑھے گا ۔ آپ ﷺ بےفکر ہو کر اپنا کام کرتے رہیں اور ان کی مخالفتوں سے بےنیاز ہوجائیں ۔ اللہ کے ہاں امتحان کے لیے توقف ودیر ضرور ہے لیکن اندھیر ہرگز نہیں ۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے بلکہ امت کے ہر فرد کے لیے یہ نصیحت فرمائی کہ سجدوں میں کثرت اختیار کرو ۔ آپ ﷺ نے جب یہ آیت تلاوت کی تو دوسری آیات سجدہ کی طرح اس پر بھی سجدہ کیا ۔ اس سجدہ کو سجدہ ٔ تلاوت کا نام دیا گیا ہے اور قرآن کریم کے سجدوں میں یہ آخری اور پندرہواں سجدہ ہے ، اس کے بعد کوئی اور سجدہ نہیں ہے جو سجدہ تلاوت کے نام سے معروف ہے ۔ ہم اس مضمون پر سورة العلق کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ۔ سجد و جھی للذی خلقہٗ وصورہٗ وسق سمعہٗ وبصرہٗ بحولہ و قوتہ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔