Ayah 97:1بلا شبہ ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں اتارنا شروع کردیا
1 ؎ گزشتہ سورت میں بھی اس کی وضاحت کی جا چکی ہے اور پیچھے بھی بہت سے مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ ایک جزء کو بول کر کل مراد لیا جاتا ہے جیسے سجدہ سے مراد پوری نماز لی گئی ہے اور رکوع سے مراد بھی پوری نماز لی گئی ہے ۔ صرف پیشان کا ذکر کر کے پورا انسان مراد لیا گیا ہے ۔ ایک انسان کا ذکر کر کے انسانوں کی پوری جماعت مراد لی گئی ہے اسی طرح اس جگہ کل کا ذکر کر کے جزء مراد لیا گیا ہے اور یہ بھی کہ قرآن کریم جس طرح پورے قرآن کریم پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اسی طرح اس کے کسی ایک جزء پر بھی ہوتا ہے یہاں تک کہ ایک آیت قرآن کریم کو بھی قرآن ہی کہا جائے گا اور ادب و احترام کے لحاظ سے بھی اسی طرح ادب و احترام کیا جائے گا جس طرح پورے قرآن کریم کا ادب و احترام کیا جاتا ہے۔ ( انزلناہ) میں اگرچہ صراحت سے قرآن کریم کا نام موجود نہیں ہے تا ہم اس سے مراد قرآن کریم ہی لیا گیا ہے ۔ ایک تو اس کا نزول ہوا ہے دوسرا گزشتہ سورت میں جس چیز کے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے وہ قرآن کریم ہے کیونکہ یہی وحی متلو ہے جس کی تلاوت ضروری قرار دی گئی ہے اس میں ہٗ کا مرجع وہی ہے اور اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ قرآن کریم کسی فرشتے یا انسان کا کلام نہیں ہے نہ ان میں سے کسی ایک جماعت یا فرد کا یہ علمی کاوش ہے اور نہ ہی نبی اعظم و آخر ﷺ کا یہ کلام ہے بلکہ اس کے اتارنے والے ہم ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ ہمارا کلام ہے کی ایرے غیرے نتھو خیرے کا کلام نہیں ہے اور ہم نے اس کو رات میں اتارنا شروع کیا ہے اس کا لا نے والا جبریل (علیہ السلام) ہے اور جس کے دل پر نازل ہوا ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات ہے۔ اس لحاظ سے جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ پر رسالت ختم کردی گئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کلام کو قرآن کریم پر ختم کردیا گیا یعنی آئندہ کوئی کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوگی جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح قرآن کریم خاتم الکتب ہے اور اسی طرح اس کو خاتم الھدیٰ بھی کہا جاسکتا ہے۔ (لیلۃ القدر) کو کیوں قدر کی رات کہا گیا ہے ؟ اس لیے کہ اس شب میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی قدر و منزلت والی کتاب یعنی قرآن کریم کے نزول کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ اسی طرح یہ رات قدر والی رات اور رسول محمد رسول اللہ ﷺ بڑی شان والے ، قدر و منزلت والے رسول ہیں ۔ زیر نظر آیت پر غور کرنے والے سمجھ جائیں گے کہ اس میں صرف جو (انا) کے لفظ پر زور ہے وہ زور بھی قرآن کریم کی ساری بزرگی کو واضح کر رہا ہے کہ جب یہ سمجھ لیا جائے کہ خالق جس مرتبہ کا ہے اس مرتبہ کا اس کا کلام بھی ہے جب خالق کا کوئی مثل نہیں ہے تو اس کے کلام کا بھی کوئی مثل نہیں ہوگا ۔ اس جگہ یاد رکھنا چاہیے کہ قدر کے جتنے معنی اوپر ذکر کیے گئے ہیں وہ سب کے سب اس جگہ مراد ہیں ۔ لیکن قدر کی رات یا شب قدر یا لۃ لق القدر کے متعلق جو مبالغہ آرائیاں کی گئی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اس کی وضاحت ہم قبل ازیں عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم میں سورة الدخان کی آیت 3 ، 4 کی تفسیر کے تحت کر آئے ہیں ، وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 97:2اور اے مخاطب ! تو کیا جانے کہ قدر کی رات کیا ہے ؟
2 ؎ اس میں مخاطب ان لوگوں کو کیا جا رہا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں ، قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور آخرت کو وہ تسلیم ہی نہیں کرتے اور ظاہر ہے کہ جب ایک آدمی یا گروہ ان باتوں ہی سے انکاری ہے تو اس کو اس رات کی فضلیت سے کیا تعلق ہے وہ اس رات کی فضلیت کو کیا مانگے گا جب کہ اس مقصد ہی کو وہ تسلیم نہیں کرتا جس مقصد کے لیے اس رات کی برکت والی رات اور بہتر رات کہا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زیر نظر آیت میں ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ لوگ اس تحفہ کی قدر کیا کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو مرحمت فرمایا ہے اور اس طرح ایک چیز کے متعلق خود ہی سوال اٹھا کر خود ہی جواب دینے کا جو طریقہ اس جگہ اپنایا گیا ہے اس کا ذکر پیچھے اسی جلد میں سورة الحاقہ کی آیت 3 ، سورة المدثر کی آیت 27 ، سورة المرسلات کی آیت 14 ، سورة الانفطار کی آیت 17 ، 18 ، سورة المطففین آیت 8 ، 19 سورة الطارق کی آیت 2 ، سورة البلد کی آیت 12 میں وضاحت سے کردیا گیا ہے ان مقامات کی تفسیر دیکھ لیں ۔ زیر نظر آیت میں گویا سوال اٹھایا گیا ہے جیسے کہ گزشتہ سورتوں کی محولہ آیتوں میں سوال اٹھایا گیا ہے اور آنے والی آیت میں خود ہی اس کا جواب بھی دے دیا ہے۔
Ayah 97:3قدر کی رات ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے
3 ؎ یہ گزشتہ سوال کا جواب ہے ۔ فرمایا قدر کی رات ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے گویا اس کی افضلیت اور بہتری اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ایک ہزار مہینوں کی راتوں سے بھی افضل کہا جاسکتا ہے ۔ ایک ہزار راتوں سے نہیں فرمایا بلکہ ایک ہزار مہینوں سے فرمایا ہے جب کہ سب کو معلوم ہے کہ ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں اور ایک ہزار مہینوں کے 33 83 سال ہوتے ہیں یعنی 83 سال 4 ماہ ہوتے ہیں لیکن تعجب ہے کہ اگر اس کی فضلیت ہی کو بیان کرنا تھا تو تین ہزار راتوں سے بہتر بھی کہا جاسکتا تھا کہ عدد مزید بڑھ جاتا لیکن اس کو ایک ہزار مہینوں سے افضل کیوں قرار دیا ؟ اس لیے کہ اگر راتوں یا سالوں کا نام لیا جاتا تو لیلۃ القدر کو نہ راتوں میں سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ ہی سالوں کی مدت سے وہ خارج ہو سکتی تھی کیونکہ رات تو وہ خود بھی ہے اور ہر سال میں ایک بار اس کا آنا بھی لازم تھا لہٰذا اس کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا اور اس طرح ان راتوں میں یا ان مہینوں کو اس میں سے خارج کردیا گیا جن میں وہ رات لیلۃ القدر آتی ہے گویا یہ ہزار مہینے وہ ہیں جن مہینوں میں لیلۃ القدر کا شمار نہ کیا جائے یا لیلۃ القدر والے مہینے کا شمار نہ کیا جائے ۔ گویا اس رات میں اتنی خیر تقسیم ہوتی ہے جتنی ہزار مہینوں میں بھی نہیں کی جاتی ۔ اس رات میں عبادت کا اتنا اجر وثواب ملتا ہے کہ اگر ہزار مہینوں کے اجر وثواب کو اکٹھا کیا جائے تو بھی اس رات کا اجر وثواب زیادہ ہوگا اور یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ انسانوں کی اصلاح و فلاح کے لیے جو کام نزول قرآن کی اس ایک رات میں ہوا یہ ہزار مہینوں کی کوششوں سے بھی بہتر ہے کیونکہ وہ ہزار مہینوں میں بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ رات کس مہینے کی کس تاریخ کو آتی ہے ؟ صرف ایک اشارہ کر کے ساری وضاحت فرما دی اور یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ وہ اپنے مجملات کو اس طرح کھولتا ہے کہ ایک اشارہ کردیتا ہے جس سے سب کچھ کھل کر خود بخود سامنے آجاتا ہے مگر اس شخص کے لیے جو اس اشارہ کو سمجھتا ہو کہ قرآن کریم کس طرح کے اشارات کرتا ہے ؟ زیر نظر آیت میں جو اشارہ ہے وہ صرف یہ ہے کہ یہ وہ رات ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہو اور ظاہر ہے کہ اس کی وضاحت ہوچکی ہے کہ قرآن کریم کا نزول رمضان مبارک میں شروع ہوا جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ یہ رات رمضان المبارک کی رات ہے اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ رمضان المبارک کی کونسی رات ہو سکتی ہے ؟ تو اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی اس طرح ہوتی ہے کہ جس رات قرآن کریم کا نزول ہوا وہ رات دو شنبہ کی رات تھی اور اس طرح آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ لیلۃ القدر جس کو کہا جاتا ہے وہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی کوئی طاق رات ہو سکتی ہے اس طرح اس رمضان المبارک کی وہ شنبہ کی راتیں اگر معلوم کرتے ہیں تو وہ 7 ، 14 ، 12 اور 28 تاریخوں میں پڑتا ہے لہٰذا نزول قرآن کریم کی رات تو 21/رمضان المبارک ہی ہو سکتی ہے پھر جب اس کا بدلنا طے شدہ امر ہے تو وہ رات رمضان کے آخری عشرہ کی کسی بھی طاق رات کو ہو سکتا ہے اور عشرہ آخر کی طاق راتیں 21 ، 23 ، 25 ، 27 ، 29 پانچ راتوں میں سے کوئی رات ہو سکتی ہے۔ منعم حقیقی نے اپنے بندوں پر انعام کی بارش کرنے کے لیے اس لیے کے استعارات اور اشارات دیئے ہیں لیکن ان سے مستفید وہی لوگ ہوتے ہیں جو دین کے کاموں کی پابندی کرتے ہیں ۔ فصلی بٹیروں کے لیے سوائے خوش فہمواں کے کچھ بھی نہیں ہے مثلاً ایک شخص فرض نماز کے قریب بھی نہیں جاتا اور اسی طرح دوسرے دین کے کاموں میں نہایت سست واقع ہوا ہے لیکن رمضان آیا تو اس نے ان راتوں میں خوب قیام کیا وہ بھی صرف ان راتوں ہی کو جاگتا ہے باقی فرائض کی پابندی اس نے رمضان المبارک میں بھی نہ کی لیکن ان طاق راتوں کو قیام کر کے اور نفلوں پر نفل پڑھ کر رات گزاری تو اس کو اس سے کیا حاصل ہوگا ؟ کیونکہ اس نے تو ایک لحاظ سے اللہ میاں کو دھوکا دینا چاہا ہے حالانکہ جو اللہ کو دھوکا دیتا ہے وہ خود دھوکے میں مبتلا ہوتا ہے لیکن حقیقت کو نہیں سمجھتا۔
Ayah 97:4فرشتے اور روح القدس اس رات کو اپنے رات کے حکم سے اترتے ہیں
4 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کا آخری عشرہ کے لیے خصوصی اہتمام ساری احادیث کی کتابوں میں موجود ہے اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں موجود ہے کہ : ( کان رسول اللہ ﷺ اذادخل العشر شد مئزرہ واحیال لیلۃ وایقظ اھلہ) ” آپ ﷺ کا معمول زندگی تھا کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو اپنا تہبند کس لیتے ، راتوں کو ذکر الٰہی سے زندہ کرتے اور اپنے اہل و عیال کو عبادت کے لیے جگاتے “۔ سید عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ ارشاد بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جتنا مجاہدہ اس آخری عشرہ میں فرماتے کسی دوسرے وقت میں ایسا مجاہدہ نہیں فرماتے تھے۔ اس آخری عشرہ میں آپ ﷺ اعتکاف میں بیٹھتے اور یہ معمول بھی آپ ﷺ کا آخر تک جاری رہا اور اپنے غلاموں ، خادموں اور گھر والوں کو بھی اعتکاف کا حکم دیتے اور اکثر اس معاملہ میں ترغیب دیتے۔ ( الروح) کا لفظ قرآن کریم میں 8 باراستعمال ہوا ہے ان میں سے دو بار (الروح) سے مراد الاجسام ہے جس کو ہم زندگی سے تعبیر کرتے ہیں اور 6 جگہوں پر اس سے مراد روح القدس جبریل (علیہ السلام) ہیں اور ان چھ جگہوں میں ایک جگہ سورة القدر کی یہ آیت بھی ہے جس میں ( الروح) کا لفظ آیا ہے باقی پانچ جگہ میں یہاں (الروح) سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں ۔ یہ ہیں (1) سورة النحل کی آیت 2 (2) سورة غافر کی ایک نظر دیکھ لیں وضاحت آپ کو مل جائے گی ۔ ان شاء اللہ ۔ علاوہ ازیں اس جگہ مفسرین نے بہت کچھ رطب و یابس بیان کیا ہے لیکن ہم اس کو حذف کر رہے ہیں کہ جن باتوں کی وضاحت کا انحصار صرف گزشتہ لوگوں پر ہے اس معاملہ میں صحیح احادیث نہیں بلکہ فضائل کی باتیں سمجھ کر سب کچھ ان میں جمع کردیا ہے ان کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ فرشتوں کا یہ نزول از خود نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دیتا ہے کہ زمین پر جائو اور اس کے مشارق و مغارب کا چکر لگائو ۔ جہاں کوئی شخص میرے ذکر میں پائو اس کے قریب جا کر اس کو دیکھو اور ان سب کے لیے سلامتی طلب کرو کیونکہ وہ بھی سلامتی کی طلب میں مصروف ہیں اور پھر فرمایا کہ جب تم اترو گے تو سلامتی کو ان کے لیے پھیلائو اور اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہفتم سورة الدخان کی آت 3 تا 5 میں بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 97:5سلامتی ہی سلامتی ہے اور یہ حال طلوع فجر تک رہتا ہے
5 ؎ اس میں واضح کردیا گیا کہ اس رات کی سلامتی اور عبات کا اجر وثواب جس کا ذکر پیچھے کیا گیا ہے وقتی نہیں ہے کہ آنکھ جھپکتے ہی وہ وقت نکل جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعام و اکرام بندوں کے حق میں طے ہے وہ سورج کے غروب ہونے یعنی رات کے آنے سے شروع ہو کر طلوع فجر تک باقی رہتا ہے گویا پوری رات ہی امن و سلامتی کی رات ہے کہ نفس و شیطان کی وسوسہ اندازیاں عابدوں کو پریشان نہ کریں کہ کسی کو نفس القاء کرے یا شیطان ٹھونکا لگا جائے کہ ادھر وہ سلامتی اور خیر کا وقت آیا اور ادھر نکل گیا بس آنکھ لگی تھی کہ سب کچھ چلا گیا یہ سب کہانیاں ہیں جن کا سر ہے نہ پیر ۔ پوری دلجمعی اور طبیعت کی حاضری کے ساتھ اپنے رب سے لو لگائے رکھو اور اس کے ذکر سے لطف اندوز ہوتے رہو یہ روح پرور اور ایمان افروز کیفیت رات بھر صبح کے طلوع ہونے تک جاری رہتی ہے اور ان فرشتوں کے زمین پر اترنے اور ایمان والوں کی محفلوں کے صفحات درکار ہیں ۔ فرشتے کیا ہیں ؟ یہ اللہ تعالیٰ کی غیر مرئی طاقتیں و قوتیں ہیں ۔ ان کے اس طرح اترنے اور چڑھنے میں انسانوں کے ذوق اور شوق کو ابھارا گیا ہے کیونکہ انسان مجموعہ خیر و شر ہے اور ظاہر ہے کہ خیر خیر کو چاہتا ہے اور شر شر کو پسند کرتا ہے جس طرح ڈھولک کی آواز پر سر چلنا اور پائوں اچھلنا شروع ہوجاتا ہے اور یہ جو کچھ ہوتا ہے غیر ارادی طور پر ہوجاتا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ اندر کا شر باہر کے شر کے ساتھ مل جاتا ہے اور غیر ارادی حرکات و سکنات شروع ہوجاتی ہیں ۔ ان فرشتوں کے اترنے سے خیر کی طاقتوں اور قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور جس کے اندر کے خیر اس باہر کی خیر کو چاہتی ہے اس کا کام بحمد اللہ بن جاتا ہے۔ نیکی کی طرف انسان کی رغبت کب ہوتی ہے ؟ اس وقت جب خبر کی قوت اجاگر ہوتی ہے اور انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ اپنے رب سے اپنے کیے ہوئے گناہوں کی معافی طلب کرے اور آئندہ اس بات کا عزم کرے کہ وہ برائی کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا ۔ اس کا جی چاہتا ہے کہ میں اللہ سے دعا کروں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اس رات کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ بڑی سرگرمی سے اس رات کی تلاش کرے اور اس کے لیے کتنی آسان بات بتا دی کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اس کو تلاش کرو جو کل لے دے کر پانچ راتیں ہوتی ہیں ۔ ان پانچ راتوں میں شغل کے طور پر نہیں بلکہ عبادت کے طور پر اگر اہتمام کیا جائے کہ ان راتوں کو قیام زیادہ کرلیا جائے وقفہ وقفہ کے بعد نوافل میں مصروف ہوتا رہے اور نفل پڑھ کر ادھر ادھر گھوم پھر کر ، کسل کو دور کر کے ، دل کی حاضری کے ساتھ ، لمبے قیام کے ساتھ دو نفل پھر ادا کرے اور اسی طرح وقفہ وقفہ کے بعد خوب لمباقیام اور خوب کسل کو دور کرنے کے بعد دوبارہ تازہ دم ہو کر قیام میں کھڑا ہوتا ہے تو رات کو اس خوش میں آرام سے بسر کیا جاسکتا ہے اور اگر یہ عبادت اجتماعی کا پروگرام بنایا جائے تو مزید اس میں اضافہ ہو سکتا ہے اور رات کو اسی طریقہ کے ساتھ قیام کر کے اس کو سحری تک لے جایا جاسکتا ہے اور صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد چار پانچ گھنٹے کا آرام اس کی رات کا سارا خلا بھی پورا کرسکتا ہے اس طرح اگر ان پانچ راتوں میں بیدار رہنے اور عبادت میں مصروف رہنے میں وقت صرف ہوگا تو اس کا فائدہ انسان سال بھر تک اٹھا سکتا ہے۔ ان پانچ راتوں میں اگر دوسری دعائوں کے ساتھ اس دعا کا اضافہ بھی کرلیا جائے تو اس کی خوبیاں جب ظاہر ہوں گی اس وقت ہی یہ راز کھلے گا اور یہ دعا صحیح احادیث میں آئی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو سکھائی اور سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ اس کی راویہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو : (اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی) ” اے اللہ ! تو بہت در گزر فرمانے والا ہے تو در گزر کو بہت پسند کرتا ہے پس میرے گناہوں سے بھی در گزر فرما ‘۔ جس طرح آپ ﷺ نے رمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا تھا کہ : ( من قام رمضان ایمانا واحسابا ً ومن صام رمضان ایماناً واحسابا ً غفرلہٗ ما تقدم من ذنبہ) ” کہ جو شخص رمضان المبارک کی راتوں کا قیام کرے اور دنوں میں روزے رکھے ، اس حالت میں اس کا ایمان بھی ہو اپنا محاسبہ بھی وہ کرتا ہو تو اس کے سارے پچھلے گناہ جو کبیرہ نہ ہوں معاف کر دئے جاتے ہیں ۔ اس طرح اس رات کے بارے میں بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ( من قام لیلۃ القدر ایماناً واحساباً غفرلہٗ ما تقدم من ذنبہ) ” جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اپنا محاسبہ کرتا ہوا قیام کرتا ہے تو اس کے پہلے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں “ اس سے شیطانی قوتیں دبتی ہیں اور روحانی اور ملکوتی قوتوں میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک ایک اور دو گیارہ ہوجاتے ہیں ۔ نیکی کی قوت طاقت پکڑتی ہے تو برائی کی قوتیں مرجھا جاتی ہیں ۔ انسان نئے سرے سے ایک بار صیقل ہوجاتا ہے اور انسان کا قلب جس قدر صاف ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اس روشنی کی زیادہ قبول کرتا ہے اور روح کی تازگی اس کی نیک قوتوں میں بےانتہا اضافہ کردیتی ہے اور اسی مضرون پر ہم سورة القدر کی تفسیر کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو نیکی کی قوتوں میں اضافہ کرنے کی توفیق بخشے اللھم انک عفو تحب الغفو فاعف عنی ۔ اللھم انک عفو تحب العفوفا عف عنی ۔ اللھم انک عفوتحب العفو ما عف عنی۔