95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : یہ سورت مکہ مکرمہ کے ابتدائی دو ر میں نازل ہوئی۔ اس میں جلیل القدر پیغمبروں کے ان مقامات کی جہاں وہ مبعوث ہوئے قسم کھا کر آخرت کی جزا اور سزا کو ثابت کیا گیا ہے۔ { التین } اس پہاڑی کا نام ہے جہاں حضرت نوح (علیہ السلام) نے مشرکین کو توحید کی دعوت دی تھی۔ { الزیتون }۔ فلسطین میں ایک پہاڑی کا نام ” زیتا “ ہے یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی گمراہیوں اور ناشکریوں سے انہیں آگاہ کیا اور برے انجام سے ڈرایا۔ طور سینین۔ صحرائے سینا میں وہ کوہ طور جس پر اللہ نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا اور ان کو توریت جیسی کتاب عطا فرمائی۔ البلد الامین۔ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جس کی بناید حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) نے رکھی۔ یوہ وہ مبار شہر ہے جہاں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے اس بلد الامین سے آپ نے ہجرت سے پہلے تیرہ سال تک شدید تکلیفوں کے باوجود ساری دنیا کو توحید و رسالت اور آخرت کی عظمت کی طرف دعوت دی۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ان مقدس مقامات کی جہاں اللہ کے جلیل القدر پیغمبروں نے اسلام اور توحید کی دعوت دی تھی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت اور عمدہ سانچوں میں ڈھال کر بنایا ہے۔ اس کو ظاہری اور باطنی خصوصیات، بہترین اخلاق اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ یہی انسان جب خود غرضی، لالچ، شہوت پرستی، نشہ بازی، کمینہ پنا اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی کرکے طرح طرح کے شرک کرتا ہے اور اپنی بد اخلاقیوں کا مظاہر کرتا ہے تو گرتے گرتے اس قد رنیچے گر جاتا ہے کہ جہاں انسانیت بھی شرما جاتی ہے اور وہ بدترین انجام سے دور چار ہوجاتا ہے۔ اس کے برخلاف جو آدمی ایمان کی دولت سے مالا مال ہو کر عمل صالح کا پیکر بن جاتا ہے، دن رات اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کرکے ” احسن تقویم “ ہونے کا ثبوت دیتا ہے کہ تو اس کو کبھی نہ ختم ہونے والا اجرو ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ جب انسانوں کے یہ دو الگ الگ گروہ بن گئے تو ان میں سے ایک کو شا اور دوسرے کو جزا ملنی چاہیے۔ دنیا کے کسی بھی حکمران سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ مجرم کو سزا دی جائے اور جو اچھا انسان ہے اس کو انعام و اکرام سے نوازا جائے۔ فرمایا کہ انسان تو ایک ایسے دن سے انکار کر ہی نہیں سکتا جس میں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق سزا یا جزا دیجائے گی۔ دوسرے یہ کہ اللہ تو دنیا کے تمام حکمرانوں سے بڑا حکمران ہے اس سے یہ کیسے توقعی کی جاست کی ہے کہ وہ ظالموں کو سزا اور اپنے فرماں برداروں کو بہترین نعمتوں سے نہیں نوازے گا۔

Ayahs 95:1–8

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

انجیر اور زیتون کی

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور طور سینا کی

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس امن والے شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

بیشک ہم نے انسان کو بہترینی صورت میں پیدا کیا

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر ہم اس کو پستی والوں کی حالت سے بھی پست کردیتے ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے ۔ تو ان کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا اجرو ثواب ہے

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

(اے انسان ان کھلی دلیلوں کے بعد) وہ کون سی چیز ہے جو تجھے قیامت کو جھٹلانے پر آمادہ کر رہی ہے۔

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے۔

لغات القرآن۔ التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔ تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے نوازا ہے۔ مسجود ملائکہ بنایا یعنی جس کے سامنے تمام فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ جب وہ انسان للہ اور اس کے رسلو کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپنا کر نیک راہوں کا انتخاب کرتا ہے اور ایمان، عمل صالح کا پیکر، اخلاق کو بلندیوں پر فائز اور شدید سے شدید تر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ وہ اخلاق کی بلند سطح سے نیچے نہیں اترتا اور اس بات کا یقین کا مل رکھتا ہے کہ یہ دنیا عارضی اور وقتی ہے۔ ایک دن اس پوری کائنات کے نظام کو درہم برہم کردیا جائے گا۔ میدان حشر میں اچھے یا برے تمام کاموں کا حساب دینا ہوگا۔ کسی کے ساتھ بےانصافی نہ ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے آدمی کو ایسا بدلہ اور جزا دی جائے گی اور ایسی راحتیں دی جائیں گی جس کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوگا۔ اس کے برخلاف وہ آدمی جو ایمان اور عمل صالح سے دور، خود غرضیوں اور دنیاوی لالچ کا پیکر، خوف آخرت اور قیامت کے دن سے بےنیاز اور لاپرواہ اور اخلاقی اعتبار سے اس قدر پستی کی انتہا تک پہنچا ہوا جہاں انسانیت بھی شرما جائے۔ ایسا آدمی آخرت کر ہر حمت اور کرم سے محروم رہے گا۔ یعنی اللہ نے تو اس کو بہترین ساخت پر پیدا کیا تھا لیکن اس نے خود اپنے آپ کو ذلتوں تک پہنچا دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے بعد کون جزا اور سزا کے معاملے میں آپ کو جھٹلا سکتا ہے۔ اللہ نے پوچھا کہ کیا اللہ ہی سب حاکموں اور حکمرانوں سے بڑھ کر حاکم اور حکمراں نہیں ہے۔ سورۃ التین کی آیات کی مزید وضاحت۔ والتین والزیتوں۔ انجیر اور زیتون کی قسم۔ انجیر اور زیتون شام و فلسطین کے علاقے میں پائے جانے والے وہ دو مشہور پھل ہیں جن کے فائدے سے سارا عرب واقف تھا۔ آج بھی انجیر اور زیتون عربوں کے کھانے کا ایک جزو ہے جسے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں یہ پھل پایا جاتا ہے کیونکہ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ جو پھل یا چیز کسی علاقے میں کثرت سے پائی جاتی تھی اس پر اس علقے کا نام رکھ دیا کرتے تھے۔ زیتون اور انجیر فلسطین اور شام کے اس زرخیر علاقے میں پایا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے لے کر حضرت عیسیٰ تک بنی اسرائیل کے سیکڑوں نبیوں اور رسولوں کا مرکز تبلیغ رہا ہے۔ اس نے اس مقام کی قسم کھائی ہے۔ بعض علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں۔ ایک پہاڑ پر دمشق (ملک شام) اور دوسرا زیتون پہاڑ ہے جس پر بیت المقدس واقع ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون یا ان علاقوں کی جہاں انبیاء کرام پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا فرمایا قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اللہ نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے۔ وطور سینین۔ او طور سینا کی قسم۔ طور سینا جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے اسی کو قرآن کریم میں سینا اور سنین فرمایا ہے۔ اللہ نے اس صحرائے سینا کی قسم کھائی ہے جہاں سے پوری قوم بنی اسرائیل فرعون کے ظلم سے نجات پا کر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ اس صحرا گے گزری تھی۔ اسی میں طور پہاڑ بھی واقع ہے جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اور توریت جیسی کتاب عطا فرمائی دوسری قسم اس طور سنین کی کھائی ہے۔ وھذا البلد الامین۔ اور امن وامان والے شہر ( مکہ مکرمہ) کی قسم۔ یعنی مکہ مکرمہ وہ مبارک سرزمین ہے جہاں سے دنیا کی ابتداہوئی۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلے فرشتوں کی مدد سے اس شہر میں بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔ پھر طوفان نوح میں جب خانہ کعبہ کی دیواریں منہدم ہوگئیں تو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) نے پھر سے بیت اللہ کی دیواریوں کو اٹھاتے ہوئے بہت سی دعائیں کیں ان ہی میں سے ایک دعا یہ تھی ” الٰہی اس شہر کو امن وامان والا شہر بنا دیجئے “ اللہ نے ان کی دعاؤں کو قبول و منظور کرتے ہوئے اس طرح امن وامان والا شہر بنادیا کہ جب عرب میں ہر طرف بدامنی اور قتل و غارت گری عام تھی اس وقت بھی یہ شہر امن وامان کا مرکز تھا۔ اس شہر کی بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شہر میں سردار انبیاء حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ کا بچپن، جوانی اور ادھیڑ عمری کی زندگی یہیں گزری۔ یہیں وہ پہاڑ جبل نور ہے جس کے غار حرا میں اللہ کا وہ کلام نازل ہونا شروع ہوا جو قیامت تک ساری انسانیت کے لئے مینارہ نور اور رہبر و رہنما ہے۔ آپ نے دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا آغاز اسی شہر سے کیا۔ یہی وہ شہر ہے جس میں آپ نے اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ نے کفار کی اذیتوں کے باوجود صبر و استقلال کا وہ عظیم مظاہرہ کیا جو اپنی جگہ ایک مثال ہے۔ نبی کریم ﷺ اور صحاہ کرام ؓ نے اللہ کے حکم سے اس شہر سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کو اپنے لئے پسند فرمایا۔ اللہ نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر اس شہر کی قسم کھائی ہے۔ یہیں فریضہ حج ادا کیا جاتا ہے۔ اللہ نے تیسری قسم اس ” بلد امین “ کی کھائی ہے اور فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت اور بہترین سانچے میں ڈھال کر بنایا ہے۔ یہ خود اپنی اس حیثیت کو بھلا کر اخلاقی پستیوں میں جا گرتا ہے ورنہ اللہ نے تو اس کو اعلیٰ ترین مقام عطا فرمایا تھا۔ فما یکذبک بعد بالدین۔ یعنی اے نبی ﷺ ! اس کے بعد انصاف کے دن کے معاملے میں کون آپ کو جھٹلا سکتا ہے۔ الیس اللہ باحکم الحکامین۔ کیا وہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے۔ کیا اس کی حکومت و سلطنت، بادشاہت و شہنشاہیت تمام حکمرانوں اور بادشاہوں سے بڑھ کر نہیں ہے۔ جب معمولی بادشاہ اور حکمران بھی اپنے ملک میں بسنے والے اچھے اور نیک لوگوں کو انعام او اکرام سے نوازتے ہیں اور مجرموں کو سخت سزائیں دیتے ہیں۔ کیا اللہ احکم الحاکمین نہیں ہے جو گناہ گاروں کو سزا اور نیکوکاروں کو ان کے بہترین اعمال پر جزا دے سکے اور ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کرسکے۔ یقینا اللہ ہی سب حاکموں کا حاکم ہے اور اسی کی سلطنت زمین اور آسمانوں پر چھائی ہوئی ہے۔ وہی سب کو انصاف عطا فرمائے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ ” سورة التین “ کی تلاوت فرماتے۔ چونکہ اسمیں اللہ نے بندوں سے پوچھا ہے کہ کیا میں تمام حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہوں ؟ تو آپ اس کا جواب دیتے……………(کہ میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں) ۔ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ہم سب کے لئے یہ مستحب اور باعث اجر ہے کہ ہم بھی اس کی تلاوت کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ان الفاظ کو دھرائیں۔ …………