95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 95:1–8

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

انجیر کی قسم اور زیتون کی

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور طور سینین کی

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس امن والے شہر کی

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کردیا

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے بےانتہا اجر ہے

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

تو (اے آدم زاد ! ) پھر تو جزا کی دن کو کیوں جھٹلاتا ہے ؟

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا خدا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔ آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور طور سینین اور بلدۃ الحرام جیسے متبرک اور مقدس مقامات کی قسم کھا کر انسان تخلیق کا ذکر فرمایا اور اس کی زندگی میں واقع ہونے والے تغیرات سے بعد الموت اور مسئلہ مجازات کو ثابت فرمایا گیا، ارشاد فرمایا۔ قسم ہے انجیر کی اور اس کے درخت کی اور زیتوں کی اور اس کے درخت کی اور قسم ہے طور سینین کی یعنی طور سیناء کی جہاں حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہمکلامی بخشا اور وہ تقرب عطا فرمایا جو (آیت) ” وقربناہ نجیا “۔ میں ذکر فرمایا گیا اور قسم ہے امن والے شہر مکہ کی جہاں سے سارے عالم کو علوم ہدایت سے سیراب کیا گیا اور خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت ونبوت کے آفتاب نے وہاں سے طلوع ہو کر پوری دنیا کو روشن کرڈالا جب کہ عالم پر جہالت اور کفر کی ظلمتیں محیط تھیں اسی شہر میں اللہ نے اپنی سب سے بڑی امانت (یعنی قرآن) نازل فرمائی، بیشک ہم نے انسان کو بنایا ہے ایک بہترین پیکر میں اور نہایت ہی حسین ساخت میں قد وقامت صورت وشکل اور تناسب اعضاء کے باعث بڑا ہی خوبصورت اور حسین و جمیل ہے، یعنی جس طرح اس کو معنوی خوبی عقلی اور فکری صلاحیتوں کی عظمت وبلندی عطا کی تھی، ظاہری پیکر کے لحاظ سے بھی اس کو احسن تقویم اور بہترین ساخت میں پیدا کیا تاکہ معنوی شرف و عظمت کے ساتھ پیکر انسانی کی مطابق ہوجائے، پھر ہم نے اس کو پھینک دیا نیچوں سے نیچے طبقہ میں اور پستی کی حالت میں، ایسے بڑھاپے میں پہنچا دیا کہ نہ قوی رہے، نہ صورت وشکل کا وہ حسن و جمال باقی رہا، پیدائش ضعف کی حالت میں ہوئی ہاتھ پاؤں کمزور تھے لیکن نشوونما پاکر جوان ہوا۔ بدن میں قوت ومضبوطی پیدا ہوگئی، پیکر جسمانی کا حسن و جمال بھرپور ہوگیا مگر یہ چند مدت تک کی بات تھی، پھر بڑھاپے نے انحطاط وضعف کی طرف لوٹانا شروع کردیا یہاں تک کہ ضعف و پستی کی آخری منزل تک پہنچ گیا۔ حاشیہ (بعض مسفرین نے اسفل السافلین کی تفسیر میں ارذل عمر تک انسان کا پہنچانا بیان کیا ہے کہ جس عمر میں پہنچ کر انسان کے ہوش و حواس بھی جاتے رہیں۔ آنکھوں اور کانوں سے بھی محتاج ہوجائے، ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا انہوں نے فرمایا قرآن کریم کا حافظ اور اس کی تلاوت کا شغف رکھنے والا، اس نوبت تک پہنچنے سے محفوظ رہے گا اور عمر اس کی خواہ کتنی ہی بڑی ہوجائے اس کے ہوش حواس بجا رہیں گے، مجاہد اور ابوالعالیہ (رح) اسفل السافلین سے جہنم کے طبقات میں سے نیچے سے نیچا طبقہ مراد لیتے تھے، تو مراد یہ ہوگی کہ انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا، اور اس کے بہترین قالب میں ہونے کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس حسین قالب میں سجانے والی چیزیں (اعمال واخلاق اور کردار) بھی بہترین ہی ہوں تاکہ قالب کی خوبی اور شرافت کے ساتھ اعمال وکردار کی خوبی اور عظمت بھی جمع ہوجائے لیکن یہ انسان کی بدنصیبی ہے کہ وہ اپنے نفس کی بہیمیت اور گندگی میں پڑ کر پستی کا مقام اختیار کرلیتا ہے اور اسفل السافلین کی طرف لوٹ جانا قضاوقدر کے فیصلہ یعنی تقدیر الہی سے ہے اس وجہ سے اس کی نسبت حق تعالیٰ نے اپنی جانب فرمائی اور انسان چونکہ اپنے اعمال وافعال کا خود اپنے ارادہ اور اختیار سے کا سب ہے اس وجہ سے ظاہر ہے کہ اس ارتکاب پر وہ سز اکا مستحق ہوگا۔ لیکن اس ذلت اور پستی کے مقام میں گرنے سے وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لائیں اور عمل صالح کریں، تو یقیناً قعر ذلت اور پستی میں گرنے سے مستثنی رہیں گے تو (آیت) ” الا الذین امنوا وعملوا الصحت “۔ کا استثناء بظاہر اسی مفہوم کی تائید کررہا ہے اور یہی مفہوم زیادہ احسن معلوم ہوتا ہے۔ 12۔ واللہ اعلم بالصواب) جسے کہ ارشاد مبارک ہے۔ (آیت) ” اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف الا یہ “۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیکی کے کام کئے تو ان کے واسطین یقیناً اس قدر اجر وثواب ہوگا کہ جو کبھی بھی منقطع نہ ہو تو یہ ایمان وعمل صالح والے اسفل السافلین کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے ان کو ذلت و پستی کے مقام میں گرنے سے مستثنی کرلیا جائے گا۔ الغرض جب خداوند عالم کی قدرت کے یہ مناظر نظروں کے سامنے ہیں کہ انسان کو بہترین پیکر میں پیدا کیا جارہا ہے، وہ کمزوری سے قوت وجوانی کی طرف اور پھر جوانی سے بڑھاپے اور کمزوری یا پستی کی طرف لوٹارہا ہے تو انسانی بدن میں یہ تغیرات قادر مطلق کی قدرت اور حکمت کا عظیم ثبوت ہیں ایک انسان کی ذات میں رونما ہونیوالے یہ تغیرات عالم پر واقع ہونے والے تغیرات اور عالم کے شباب کے بعد اسکے بعد بڑھاپے اور زوال پر زبان حال سے پوری پوری گواہی دے رہے ہیں، ان دلائل کا مشاہدہ کرنے والا یہ قدرت وجرأت نہیں رکھتا وہ قیامت اور بعث بعدالموت کا انکار کرسکے۔ تو پھر اے مخاطب بتا اس کے بعد کون سی وہ چیز ہے جو تجھ کو منکر بنارہی ہے، قیامت کے روز جزاء وسزا کے معاملہ میں اور کون سی وہ بات ہے جو اس امر پر انسان کو آمادہ کررہی ہے کہ وہ بعث بعد الموت اور اعمال کی جزاء وسزا کو نہ مانے، حالانکہ یہ تمام دلائل وشواہدمجبور کررہے ہیں کہ انسان قیامت پر ایمان لائے اور جزاء وسزا پر یقین کرے، ان تمام دلائل اور عالم کے جملہ احوال وتغیرات کو دیکھنے والے انسان بتا، کیا نہیں ہے اللہ سب سے بڑا حاکم حاکموں سے، ضرور بالضرور وہی سب سے بڑا حاکم ہے، سب مانتے ہیں اور ماننے پر مجبور ہیں، عقل کی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں اور اس کے احکام کا ئنات پر نافذ وجاری ہیں اور کائنات کی ہر چیز اس کے حکم کے سامنے سرنگوں ہے، دنیا جب سے قائم ہے اس کے حکم سے زمین اور آسمان میں کوئی بھی سرتابی نہیں کرسکتا، جانور، سورج ہوائیں، بارش اور بادل چرند اور پرند غرض ہر چیز اس کی مطیع وفرمانبردار ہے۔ ابروبادومہ وخورشید وفلک درکارند تاتونانے بکف آری وبغفلت نہ خوری۔ آب وبادوخاک آتش بندہ آند بامن وتو مردہ باحق زندہ اند : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص سورة والتین پڑھتے ہوئے اس آیت ” الیس اللہ باحکم الحکمین “۔ پر پہنچے تو اس کو کہنا چاہئے۔ بلی وانا علی ذلک من الشاھدین “۔ کہ بیشک اللہ ہی ضرور احکم الحاکمین ہے اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں فقہاء حفنیہ فرماتے ہیں نماز کے سواجب بھی یہ آیت تلاوت کی جائے تو ان کلمات کا کہنا مسنون ہے لیکن دیگر فقہاء اور ائمہ نماز میں مسنونیت کے قائل ہیں۔ تین اور زیتوں کی تفسیر : ائمہ مفسرین اور حضرات محدثین ومؤرخین سے تین وزیتوں کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کئے گئے ہیں۔ 1۔ اکثر علماء کا قول تو یہی ہے کہ تین سے انجیر کا درخت اور زیتون سے یہی زیتون کا معروف درخت اور ان کے پھل مراد ہیں انکے قسم کھانے کی غرض اور ان قسموں پر انسانی شرف کے مضمون کو مرتب کرنے کی حکمت یہی ہے کہ ان میں بڑے ہی فوائد ومنافع قدرت نے رکھتے ہیں چناچہ انجری عجیب پھل ہے جس میں نہ گٹھلی ہے نہ پوست، غذا بھی اور دواومنافع بھی جو متعدد وامراض کے لئے نہایت نافع ہے۔ اور سریع الہضم بھی ہے، اطباعء کے بقول گردوں کو صاف کرتا ہے بلغم اور اس کے اثرات کو دور کرتا ہے، جگر اور طحال کے لئے بھی مفید ہے اور مصلح ہے، پھر یہ کہ بلاتکلف کھایا جاسکتا ہے، اس کے درخت میں نہ کانٹا ہے اور نہ درخت اس قدر اونچا ہے کہ اس پھل کے حاصل کرنے میں کوئی دقت ومشقت ہو، اسی طرح زیتون بھی ہے کہ اپنے اندر بیشمار فوائد رکھتا ہے تو یہ دونوں پھل گویا اپنی خوبیوں کے باعث انسانی کمالات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ 2۔ دوسرا قول یہ ہے جیسا کہ کعب ؓ سے منقول ہے کہ تین وزیتون دوشہروں کے نام ہیں ” تین “ قدیم تاریخ میں دمشق کو کہا جاتا تھا، اور ” زیتون “ بیت المقدس کا نام ہے اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں شہر اس لحاظ سے کہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کا مولد ومسکن ہوئے ہیں متبرک ہیں بیت المقدس وہ اللہ کا گھر ہے جو اولاد اسحاق (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے انبیاء کا قبلہ اور اسلام میں بھی ہجرت کے بعد سوالہ یا سترہ ماہ کے لئے قبلہ رہا جس کو قرآن کریم نے (آیت) ” الذی بارکنا حوالہ “۔ فرمایا۔ اور ظاہر ہے کہ جو سرزمین انبیاء (علیہ السلام) کا مولد ومسکن ہو اور اللہ کے پیغمبر وہاں عبادت کرتے رہے ہوں بلاشبہ بڑی ہی بابرکت زمین ہے۔ 3۔ تیسرا قول یہ ہے کہ یہ دو پہاڑوں کے نام ہیں اور بعض ائمہ مفسرین محققین اسی قول کو زیادہ بہتر قرار دیتے ہیں۔ تورات سفر استثناء باب، 33 کی بشارت کے پیش نظر جس میں یہ فرمایا گیا ” خداوند سیناء سے آیا اور ثاعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہو ادس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی “۔ اس بات کو تو اہل کتاب بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سیناء سے کوہ سیناء مراد ہے اور وہاں سے خدا وند کا آنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تجلی کرنا اور شرف ہم کلامی عطا کرنا لیکن ثعیر اور فاران سے جلوہ گر ہونے کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر محمول کرنے کی بجائے فلسطین کے دو پہاڑوں کے نام بتاتے ہیں، بالفرض اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر دس ہزار قدسیوں کی کیا تاویل کریں گے، اس لئے حقیقت یہ ہے کہ ثعیر سے بیت المقدس کے پہاڑ مراد ہیں، مگر وہ پہاڑ جس پر شہر بیت المقدس واقع ہے اس کے دو ٹکڑے ہیں جن میں ایک کو اب تک جبل زیتون کے نام سے تعبیر کرتے ہیں اور دوسرے کو تین کہتے ہیں اور فاران ظاہر ہے مکہ مکرمہ کا پہاڑ ہے جہاں جناب رسول اللہ ﷺ جلوہ گر ہوئے اور فتح مکہ کے وقت آپ ﷺ نے دس ہزار قدسیوں کے ساتھ مکہ فتح کیا، اور آپ ﷺ کے ہاتھ کی آتشی شریعت نے مکہ کے بت خانوں کو جلا کر خاک کر ڈالا اور عالم سے کفر وشرک کو مٹا دیا تو اس بشارت سے بھی ان چار مقدس مقامات کا مفہوم واضح ہورہا ہے اور مناسب ہوا کہ ان کی قسم کھا کر جہان سے نبوت و رسالت کا آفتاب طلوع ہوا، اور اس کے نور نے دنیا کو منور کیا، انسان کی سعادت وشقاوت کا مضمون بطور جواب قسم مرتب کیا جائے ، تم بحمد اللہ تعالیٰ تفسیر سورة التین :