96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 96:1–19

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے (عالم کو پیدا کیا) جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

مگر انسان سرکش ہوجاتا ہے

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

جب کہ اپنے تئیں غنی دیکھتا ہے

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو منع کرتا ہے

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر یہ راہ راست پر ہو

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا پرہیزگاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

اور دیکھ تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے ؟

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

دیکھو تو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اسکی) پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

یعنی اس جھوٹے خطا کار کی پیشانی کے بال

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلا لے

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی اپنے مؤکلان دوزخ کو بلائیں گے

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور سجدے کر کے قرب (خدا) حاصل کرتے رہنا

آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس انقطاع یعنی فترت وحی کے بعد سب سے پہلے (آیت) ” یایھا المدثر “ نازل ہوئی، اور حضرت جابر ؓ سے جو سورة مدثر کی نزول میں روایت بیان کی گئی، اس کا یہی مفہوم ہے، چناچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہنے اس کی وضاحت وھو یحدث عن فترۃ الوحی کہہ کر فرمادی۔ اس سورت مبارکہ کی کیفیت نزول حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے اس طرح ثابت ہوئی جیسے کہ امام بخاری (رح) نے اس حدیث کو صحیح بخاری کے، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ “۔ میں بیان فرمایا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے لئے وحی کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ پہلے آپ کو مبارک اور سچے خواب نظر آنے لگے اور جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح صادق کی روشنی کی طرح ظاہر ونمودار ہوتا پھر آپ ﷺ کو خلوت نشینی کی رغبت ہوگئی، آپ غار حراء میں آپ پر حق ظاہر ونمودار ہوتا۔ پھر آپ ﷺ کو خلوت نشینی کی رغبت ہوگئی، آپ غار حراء میں جا کر عبادت کرنے لگے جہاں کچھ دن اور راتیں رہتے پھر گھر آتے اور کچھ توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ اسی غار حراء میں آپ پر حق ظاہر ہوا اور اللہ کا فرشتہ آپ کے سامنے آیا اور کہا (آیت) ” اقرا “ (پڑھو) جس کے جواب میں آپ نے فرمایا ما انا بقاری۔ (کہ میں تو ایسا نہیں کہ پڑھ سکوں) فرمایا فرشتہ نے مجھ کو پکڑ کر بھینچا اور خوب زور سے دبایا کہ مشقت اور تکلیف انتہاء کو پہنچ گئی اور پھر چھوڑ دیا اور کہا کہ اقرا میں نے پھر وہی جواب دیا۔ ما انا بقاری۔ فرشتہ نے اسی طرح پھر تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور چھوڑ کر کہا (آیت) ” اقرأ باسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقرا وربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم “۔ ان آیات کے، نزول کے بعد آنحضرت ﷺ گھر لوٹے اور آپ پر کپکی اور لرزہ طاری تھا آپ نے گھر جاکر فرمایا۔ زملونی زملونی “۔ تو گھر والوں نے کمبل یا چادر اڑھائی اور پھر آپ نے غار حراء کا قصہ بیان کرتے ہوئے حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا۔ انی خشیت علی نفسی “۔ کہ مجھے تو اپنی جان کا ڈر ہوا وحی کی ہیبت و عظمت اور فرشتہ کو ایسی حالت میں دیکھ کر اس کو سن کر حضرت خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ آپ میں یہ کمالات ہیں کہ آپ سچ بولتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں بےسہارا لوگوں کو کما کر کھلاتے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں اور پیش آنے والے حوادث وواقعات میں آپ لوگوں کی مدد کرتے ہیں تو جب آپ میں یہ کمالات اور اوصاف حسنہ ہیں تو خداوند عالم ہرگز آپ کو ناکام اور شرمندہ نہ کریں گے پھر آپ کو اپنے ابن عم ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو انجیل کا ترجمہ کررہے تھے اور شرک وبت پرستی سے نفرت کرتے ہوئے اس زمانہ کا دین سماوی یعنی نصرانیت اختیار کرلی تھی، ورقہ بن نوفل نے تمام واقعہ سن کر تصدیق کی اور کہا۔ ھذا الناموس الذی انزل اللہ علی موسیٰ “۔ یعنی یہ تو وہی اللہ کا قاصد ہے جو اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا، اور اس بات کی بھی تمنا کی کہ کاش اس زمانہ میں جب کہ آپ کی قوم آپ کو نکالے گی، اگر میں زندہ ہوں تو آپ کی بڑی ہی قوت وہمت کے ساتھ مدد کروں گا، تو اس طرح آپ کو حضرت خدیجہ ؓ نے استدلال عقلی کے رنگ میں تسلی دی، اور ورقہ بن نوفل نے استدلال شرعی کے انداز میں تسلی دی اور آپ کی نبوت و رسالت کی تصدیق کی اس کے بعد سلسلہ نزول وحی منقطع ہوگیا اور مشہور وراجح قول کی بناء پر تقریبا پونے تین سال وحی منقطع رہی تاآنکہ پھر وحی کا سلسلہ سورة مدثر کے نزول سے شروع ہوا، اور (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر “۔ کے نزول وحی سے آپ مامور بالرسالۃ فرما دیئے گئے، اور تبلیغ و دعوت کا حکم دے دیا گیا، اور پھر پے درپے سلسلہ نزول وحی کا شروع ہوگیا، تو یہ پانچ آیات سب سے پہلی آیات ہیں جن سے وحی الہی کا سلسلہ شروع ہوا اور آپ کو منصب نبوت سے سرفراز فرمایا گیا، اور اللہ کے فرشتہ کی طرف سے اقرا کے خطاب اور امر پر آپ نے جو ارشاد فرمایا تھا، ما انا بقاری۔ کہ میں تو ایسا نہیں ہوں کہ پڑھ سکوں۔ اس کے جواب کے طور پر وحی الہی کا آغاز ہی ان کلمات سے ہوا (آیت) ” اقر اباسم ربک الذی خلق “۔ یعنی آپ کو قرأت اور پڑھنے کا حکم بارگاہ رب العزت سے آپ کی صلاحیت اور قدرت کی بناء پر نہیں دیا جارہا ہے بلکہ پڑھئے اپنے رب کے نام سے اور اس کے نام کی مدد سے، جس نے پیدا کیا ہے ہر چیز کو اور کائنات کی ہر چیز کو عدم سے وجود عطا فرمایا، تو جو ذات عدم سے وجود عطا کرنے والی ہے وہ ایک جاندار اور حس وشعورکھنے والے انسان کو قرأت کا وصف کیسے نہیں عطا کرسکتی، اس کی شان خالقیت اور حکمت کے سوتے تو اظہر من الشمس ہیں چناچہ اس نے پیدا کیا انسان کو ایک جمے ہوئے خون سے، جو نطفہ کی شکل سے جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرتا ہے پھر وہی خدا اس میں نشوونما کی صلاحیت دیتا ہے اور اس میں ہاتھ پاؤں آنکھ ناک، کان بنانا یہ سب کچھ اسی کی صناعی ہے تو جس خلاق حکیم نے ایک قطرہ کو اس طرح تغیرات کے ساتھ یہ سب کچھ عطا کیا ہے وہ ایک زندہ بینا وبصیر انسان میں جو اگرچہ پڑھا ہوا نہیں قرأت کی صفت نہیں دے سکے گا، تو آپ کو اس رب خالق اور صناع حکیم کے نام سے کہا جارہا ہے کہ پڑھئے۔ حاشیہ (پہلی مرتبہ (آیت) ” اقرا “۔ نفس قرأت مطلوب ہونے کی حیثیت سے فرمایا گیا تو دوسری مرتبہ اس امر سابق کی تعمیل پر آمادہ ہونے اور اس کی عملی صورت میں پورا کرنے کے لئے کہا گیا کہ بس پڑھیئے، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اقراء اول سے علوم باطنیہ کا پڑھنا مراد ہے اوراقراء ثانی سے علوم ظاہر ہ۔ لیکن پہلی توجیہ عربیت کی رو سے زیادہ قوی ہے۔ 12) اور اگر یہ تصور و خیال ہو کہ ایسی عظیم صفت اور خوبی کس طرح دے دی جائے گی تو فرمایا گیا اور آپ کا رب تو بڑا ہی کرم والا ہے، اس لئے یہ گرانقدر فضل وانعام اس رب کریم کی طرف سے حاصل ہونے میں کوئی تعجب اور تامل نہ ہونا چاہئے اور نہ ہی یہ سوچنے کی گنجائش ہے کہ اتنا عظیم اور بھاری کام کس طرح انجام دیا جائے گا تو وہ رب کریم اپنی غیبی مدد سے اس کو آسان کردے گا۔ لیکن اس کے بعد اگر یہ خیال ہو اور تردد وتجسس، کہ آخر اس قدر بڑی نعمت کس طرح حاصل ہوگی، تو اس حیرت وتردد کو دور کرنے کے لئے فرمایا وہ رب جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعہ، اور یہی قلم دنیا میں ایک قرن سے دوسرے قرن تک اور ایک نسل سے دوسری نسل تک علوم منتقل کرنے والا ہے کیا وہ اپنے فرشتہ کے ذریعے لوح محفوظ اور ملاء اعلی کے علوم اپنے پیغمبر کی طرف نہیں منتقل کرسکے گا ؟ جس نے انسان کو وہ سکھایا جو نہیں جانتا تھا تو جب قلم کے ذریعے دنیا کے ایک گوشے سے دوسرے گوشہ تک اور ایک قوم سے دوسری قوم تک علوم پہنچتے ہیں اور انسان وہ علوم سیکھ جاتا ہے جو اس کو پہلے معلوم نہ تھے، تو اے ہمارے پیغمبر آپ ﷺ کو کیا تعجب ہے کہ اسی طرح خداوند عالم جبریل (علیہ السلام) اور ملائکہ مقربین کے ذریعے ملاء اعلیٰ کے وہ علوم آپ ﷺ کو سکھا دے جو اس سے پہلے آپ نے جانتے ہوں، اور وہ پروردگار یہ علوم خواہ کسی ذریعہ اور واسطہ سے پہنچائے یا براہ راست قلب پروارد کردے، وہ ہر صورت پر قادر ہے آخر انسان خواب میں غیب کی بہت سی باتیں دیکھتا ہے اور خود آپ کو بھی اس سے کچھ عرصہ قبل سچے اور مبارک خواب دکھائے گئے جو وحی الہی کا دیباچہ وتمہید تھے اور آفتاب رسالت کے طلوع سے قبل والی صبح صادق تھی، جن سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا کہ القاء غیبی کی بہت سی صورتیں ہیں اور ان پر اللہ کو قدرت کاملہ ہے اور ان میں اصل وحی کے نزول اور وحی الہی کی قرأت پر قدرت کا ثبوت مکمل طور پر موجود ہے تو ان امور کے باعث آپ کو یہ خطاب الہی ہے (آیت) ” اقراء “۔ اور ان دلائل کے پیش نظر اب اس جواب کی گنجائش نہیں، ماانا بقاری۔ 1 حاشیہ۔ 1 (یہ ہیں وہ پانچ آیات اقرا سے مالم یعلم “۔ تک جو سب سے پہلے غار حراء میں نازل ہوئیں اور ان پانچ آیات میں درحقیقت آغاز وحی پر اقراء کے خطاب پر آپ نے۔ ماانا بقاری کہا تھا اس کا جواب دیا گیا، یا اس پریشانی وحیرت کو دور کیا گیا جو آپ پر اس وقت طاری ہوئی تھی، جیسا کہ تفصیل سے ذکر کردیا گیا۔ 12) الغرض قدرت خداوندی کے یہ عظیم اور واضح دلائل اور نشانیاں ہوتے ہوئے اس امر کی گنجائش اور توقع نہ تھی کہ کوئی شخص اللہ کی خالقیت اور اس کی ربوبیت ووحدانیت سے انکار کرے مگر افسوس خبردار ! بیشک یہ سرکش انسان بہت ہی حد سے بڑھ جاتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو دیکھے کہ وہ بےنیاز ہوگیا ہے، مال و دولت نے اس کو غنی کردیا بلاشبہ یہ ایسے انسان کی غلطی اور بہت بڑا دھوکہ ہے اے مخاطب تجھ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یقیناً تیرے رب کی طرف واپس لوٹنا ہے، اور جس پروردگار نے اس کو پہلے پیدا کیا اسی کو طرف آخر لوٹنا ہے، اس وقت ایسے مغرور و سرکش انسان کی نخوت اور کا غرور وتکبر سب کچھ ختم ہوجائے گا اور اس سرکشی وخود فراموشی کی حقیقت کھل جائے گی نہایت ہی حیرت اور افسوس کا مقام ہے، انسان باوجود ان دلائل و شواہد کے اپنے خالق کو نہ مانے اس سے بڑھ کر تعجب کی بات ہے کہ دوسروں کو بھی رب حقیقی کی بندگی اور عبادت سے روکے تو اے مخاطب کیا دیکھا تو نے اس بدبخت انسان کو جو روکتا ہے اللہ کے ایک برگزیدہ بندہ کو اللہ کی بندگی سے جب وہ نماز پڑھے تو ظاہر ہے کہ اس تمرد اور سرکشی سے بڑھ کر کیا درجہ ہوسکتا ہے کہ خود تو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑ رہا ہے دوسرے کو بھی خدا کی عبادت نہیں کرنے دیتا۔ جیسا کہ ابوجہل لعین نے آنحضرت ﷺ کو حرم میں جب نماز پڑھتے دیکھا تو برافروختہ ہو کر کہنے لگا کہ اگر میں نے آئندہ محمد ﷺ کو دیکھا کہ کعبہ کے قریب نماز پڑھ رہے ہیں تو میں العیاذ باللہ انکی گردن روند ڈالوں گا آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر یہ بدبخت ایسا کرے گا تو خدا کے فرشتے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالیں گے، اس طرح کہ لوگ اس منظر کو عیانا دیکھتے ہوں گے۔ 1 حاشیہ (ایک روایت میں ہے کہ ابوجہل لعین نے اس موقعہ پر بیہودگی سے بات کی اور غصہ سے اونچی آواز سے تہدید تنبیہ کے انداز میں بولنے لگا، آپ نے فرمایا اے ابوجہل مجھے کیوں دھمکی دے رہا ہے کہنے لگا تمہیں خبر نہیں اس وادی میں میری جماعت سب سے بڑی ہے (یعنی میں چیئرمین پارٹی ہوں) تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (آیت) ” فلیدع نادیہ۔ الخ۔ 12) بھلا اے مخاطب تو نے دیکھا اللہ کا یہ بندہ اگر ہدایت پر ہے یا اس نے تقوی کا دوسروں کو حکم دیا، اور خدا کے عذاب سے ڈرنے کی تلقین کی تو اس میں کون سے بات اس قدر مخالفت اور دشمنی کی تھی بلکہ ان دو باتوں میں اگر صرف ایک ایک۔ 2 حاشیہ 2 (اس تعبیر میں لفظ او کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ ) ہی بات ہوتی تب بھی یہ صفت اس امر کی موجب تھی کہ ایسے بندہ کی موافقت کی جاتی چہ جائیکہ اس کا مقابلہ اور دشمنی تو اس میں غصہ اور اشتعال کی کیا بات تھی ؟ لیکن افسوس اس کے برعکس اے مخاطب کیا تو نے دیکھا کہ اگر اس نے اللہ کی بات کو جھٹلایا اور منہ موڑا اور سرکشی ونافرمانی پر ڈٹا رہا تو ہمارا اس نے کیا بگاڑا خود اپنا ہی نقصان کیا، اور ہلاکت میں اپنے کو ڈالا، اس قسم کی روش سے یہ اندازہ ہوتا ہے ہے کہ اس سرکش ونافرمان کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اللہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اس بات پر بیشمار دلائل موجود ہیں تو کیا اس کو اب تک علم نہیں ہوا کہ اللہ دیکھ رہا ہے، خیر جو کچھ بھی ہوا، اب اس سرکش انسان کو سن لینا چاہئے کہ وہ اپنی ان حرکتوں سے باز آجائے، خبردار اگر یہ باز نہ آیا تو ہم گھسیٹیں گے اس کو پیشانی سے پکڑ کر ایسی پیشانی جو جھوٹی نافرمان خطا کار ہے، جب کہ دوزخ کے فرشتے پیشانی کے بل گھسیٹ کر دوزخ کی طرف لے جاتے ہوں گے اور اگر اس کو اپنی جماعت پر ناز ہے جیسا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ مکہ میری پارٹی سب سے بڑی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی جماعت کو بلالے ہم بھی بلالیں گے اپنے پیادے اور جلاد۔ 3 حاشیہ۔ 3 (روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل آنحضرت ﷺ کی طرف چلا، جبکہ آپ نماز میں مشغول تھے بےادبی کرنے کے خیال سے ابھی وہاں پہنچا بھی نہ تھا کہ گھبرا کر پیچھے ہٹنے لگا، لوگوں نے سبب دریافت کیا تو کہا کہ مجھے اپنے اور محمد ﷺ کے درمیان آگ کی ایک دہکتی ہوئی خندق نظر آئی جس کے سامنے مجھے پر رکھنے والی مخلوق نظر آرہی تھی، زبانیہ کی تفسیر میں اکثر مفسرین نے دوزخ کے فرشتے بیان کیئے ہیں۔ ) جو اس کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈالیں گے، یہ ملائکہ عذاب ہوں گے ایسے مجرمین اور ان کے سرغنہ ابوجہل لعین اصل تو قیامت کے روز عذاب جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے، لیکن اللہ نے ان کے واسطے اس عذاب وذلت کو دنیا میں بھی مقدر فرمادیا، چناچہ غزوۂ بدر میں ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی لاشیں بدر کے ایک کنوئیں میں ڈال دیں گئیں۔ اور یہ مردار لاشیں جب اس گڑھے میں بھردیں گئیں تو آنحضرت ﷺ نے یہاں کھڑے ہو کر ان پر لعنت ملامت فرمائی۔ 1 حاشیہ۔ 1 (الغرض (آیت) ” لنسفعا بالناصیۃ ان مجرمین کے لئے دنیا میں بھی ہوا اور آخرت میں بھی اللہ کے فرشتے ان کی پیشانیوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ کافروں کو پیشانی سے پکڑ کر گھسیٹنا انکی ذلت و خواری کے لئے ہوگا، پیشانی انسان کے جسم میں سب سے زیادہ عزت اور کرامت کی چیز ہے تو اس کے ذریعہ کسی کو گھسیٹنا انتہائی تذلیل وتحقیر ہے تو کافر کے جس سرنے غرورونخوت کی وجہ سے خدا کے سامنے جھکنے سے اعراض کیا، وہ اسی لائق ہے کہ اس کے بل گھسیٹ کر اس کو ذلیل و خوار کیا جائے، چناچہ یہی وہ چیز ہے جو ارشاد فرمائی گئی ، (آیت) ” یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم ذوقوا مس سقر “۔ اعاذنا اللہ عنہ۔ آمین) اے مخاطب خبردار ! اس قسم کی باتوں سے کبھی مغالطہ اور دھوکہ میں نہ پڑنا، ہرگز اس کی بات نہ ماننا اور نہ اس کی دنیوی وجاہت اور مال و دولت سے متاثرہونا، بلکہ پورا پورا اجتناب و پرہیز کرنا اور ایسی باتوں سے متاثر ہونے کی بجائے اپنے ہی رب کو سجدہ کرتے رہنا۔ 2 حاشیہ۔ 2 (قرآن کریم میں آیات سجود میں یہ سب سے آخری آیت ہے، اور جمہور فقہاء اس پر وجوب سجدہ کے قائل ہیں۔ ) اور اس کا قرب حاصل کرنا، کیونکہ سجدہ بندہ کے واسطے اللہ رب العزت کے قرب کا ذریعہ ہوتا ہے جیسے کہ ارشاد رسول اللہ ﷺ ہے اقرب مایکون العبد من ربہ ھو ساجد فاکثروا فیہ الدعاء فقمن ان یستجاب “۔ یعنی بندہ کو اپنے پروردگار سے زیادہ قرب اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے رب کے سامنے سربسجود ہو، اس وجہ سے سجدہ میں کثرت سے دعا مانگو، قریب تر ہے کہ اس حالت میں تمہاری دعائیں قبول ہوجائیں۔ تم بحمد اللہ العزیز تفسیر سورة العلق :