Ayahs 95:1–4اوپر سورة ٴ والتین کا ترجمہ لکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے تین اور زیتون اور البلد الامین (شہر مکہ مکرمہ) اور طور سینین کی قسم کھا کر انسان کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے احسن تقویم میں پیدا کیا پھر اسے پست ترین حالت میں لوٹا دیا۔ تین انجیر کو کہتے ہیں اور زیتون ایک مشہور درخت ہے جس کے پھلوں سے تیل نکالتے ہیں جسے سورة النور میں شجرۃ مبارکۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ تیسرا مقسم بہ (جس کی قسم کھائی گئی) ﴿ طُوْرِ سِيْنِيْنَۙ002﴾ ہے۔ اسی کو سورة ٴ مومنون میں ﴿طُوْرِ سَيْنَآءَ ﴾ فرمایا ہے یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ تین اور زیتون کثیر البرکت اور کثیر المنافع درخت ہیں اور کوہ طور کا مشرف ہونا تو واضح ہی ہے۔ چوتھا مقسم بہ ﴿ الْبَلَدِ الْاَمِيْنِۙ003﴾ یعنی مکہ معظمہ ہے، اس کا کثیر البرکت ہونا بھی معلوم ہی ہے وہاں کعبہ مکرمہ ہے۔ جسے سورة آل عمران میں ﴿مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَۚ0096 ﴾ فرمایا ہے ان چاروں چیزوں کی قسم کھانے کے بعد فرمایا کہ ہم نے انسان کو ﴿اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ﴾ (سب سے اچھے سانچہ) میں پیدا فرمایا ہے، درحقیقت انسان اللہ تعالیٰ کی بہت ہی عجیب مخلوق ہے اس کی روح عقل، شعور، ادراک، فہم و فراست تو بےمثال ہیں ہی، جسمانی ساخت، حسن و جمال، اعضاء وجوارح، قدو قامت، شیریں گفتگو، سمع و بصر، دیکھنے کی ادائیں، رفتار و گفتار کے طریقے، قیام و سجود کے مظاہر، سب ہی عجیب و حسین ہیں جن میں مجموعی حیثیت سے کوئی بھی اس کا شریک اور سہیم نہیں ہے۔ انسان قد و قامت والا ہے اس کے دو پاؤں ہیں دو ہاتھ ہیں، پاؤں سے سر تک لمبا قد ہے پھر اس کے سر میں چہرہ ہے جس میں منہ اور آنکھیں اور ناک کان ہیں۔ آنکھوں کی پتلیوں کی چمك، کنکھیوں کے اشارے، ہونٹوں کی مسکراہٹ، دانتوں کی جگمگاہٹ کو بھی ذہن میں لاؤ، دماغ میں مغز ہے سینے میں قلب ہے، دونوں علوم و معارف کا مخزن و مظہر ہیں ہر چیز حسن و جمال کا پیکر ہے۔ سر پر جو بال ہیں سراپا زینت ہیں اور داڑھی کے جو بال ہیں وہ بھی زینت ہیں (داڑھی مونڈنے والوں کو برا تو لگے گا لیکن بحکم حدیث سبحان من زین الرجال باللحی والنساء بالذّوائب ہم نے لکھ ہی دیا، حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ پاک ہے جس نے مردوں کو داڑھیوں کے ذریعہ اور عورتوں کے سر کے بالوں کے ذریعہ زینت دی۔ (والحدیث ذکرہ المناوی فی کنوز الحقائق وعزاہ الی الحاکم)
سر کے نیچے سینہ ہے اس میں دل ہے جو تدبر کی جگہ ہے پھر اس کے نیچے پیٹ ہے جو خالی ہے اس کو بھرنا پڑتا ہے۔ انسان کے ہاتھوں کو دیکھو، دس انگلیاں ہیں ہر ایک میں تین تین پورے ہیں، پھر ہتھیلی ہے جس میں انگوٹھا بھی لگا ہوا ہے سب انگلیاں مڑتی ہیں، موڑنے سے ہتھیلی میں بھی گہراؤ پیدا ہوجاتا ہے پھر پہنچے پر موڑ ہے اوپر کو دیکھو تو کہنیاں بھی مڑتی ہیں اور اوپر نظر ڈالو تو مونڈھوں کے قریب بغلوں میں بھی موڑ ہے وہاں سے دونوں ہاتھ اوپر کو اٹھائے جاسکتے ہیں اور عام حالات میں نیچے لٹکے رہتے ہیں۔ دونوں انگوٹھے جو دونوں ہاتھوں میں ہیں بڑے کمال کی چیزیں ہیں۔ اگر انگوٹھا نہ ہوتا تو اشیاء کے پکڑنے سے عاجز ہوتے اس کے بغیر کسی چیز کو اٹھا نہیں سکتے، منہ میں دانت ہیں جو چبانے کا کام دیتے ہیں اور ان کی سفیدی میں سراپا حسن و جمال ہے، منہ میں زبان بھی ہے بات بھی کرتی اور چیزوں کا مزہ بھی چکھتی ہیں۔ سر میں کان جوڑے ہوئے ہیں، سننے کا کام تو سوراخوں ہی سے ہوجاتا ہے لیکن کانوں سے چہرہ اور سر میں ایک عجیب حسن آگیا ہے اور ایک بات اور مزیدار ہے وہ یہ کہ اگر کان ابھرے ہوئے نہ ہوتے تو چشمہ کہاں لگاتے، کانوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چشمہ ان پر ٹھہرا رہتا ہے۔ حروف کی ادائیگی پر بھی نظر ڈالیے، اقصائے حلق سے لے کر ہونٹوں کے باہری حصہ تک حروف کی ادائیگی ہوتی ہے۔ خالق کائنات جل مجدہ نے جس حرف کا جو مخرج مقرر فرما دیا ہے اس کے علاوہ اور کسی جگہ سے نہیں نکل سکتا۔
انسانی قدو قامت کا نیچے والا نصف حصہ کمر کے نیچے سے شروع ہوتا ہے اس میں ٹانگیں ہیں جو رانوں اور پنڈلیوں اور گھٹنوں پر مشتمل ہیں، ان کے درمیان شہوت کی چیز ہے اور ناپاکی کے نکلنے کا راستہ بھی ہے۔ كمر کا موڑ جھکنے کے لیے ہے جو رکوع کرنے میں اور نیچے کی چیزیں اٹھانے میں کام دیتا ہے، پھر گھٹنوں کا موڑ ہے اس کے ذریعے اکڑوں بیٹھتے ہیں، سجدہ کرتے ہیں اور کرسی پر بیٹھتے ہیں توپنڈلیاں لٹکا لیتے ہیں، اگر گھٹنوں کا موڑ نہ ہوتا تو کرسی پر بیٹھنا مشکل ہوجاتا، پھر ابھرے ہوئے ٹخنوں کا حسن دیکھو اور انگلیوں کا تناسب اور تناسق دیکھو ساتھ ہی ناخنوں کے حسن و جمال پر بھی نظر ڈالو، اور ہاں پاؤں کا پھیلاؤ بھی تو دیکھنا چاہیے اگر پاؤں پھیلے ہوئے نہ ہوتے صرف ایڑیوں پر ٹانگیں ختم ہوجاتیں تو میاں صاحب یہاں گرتے اور وہاں گرتے، نہ چلتے نہ پھرتے نہ دوڑتے نہ بھاگتے وغیرہ وغیرہ، یہ انسان کی جسمانی ساخت ہے جو کمال و جمال کا آئینہ ہے اور اعضائے انسانی کی حرکات میں جو ادائیں ہیں ان کے حسن کو بھی انسان ہی سمجھ پاتا ہے جسمانی کمال و جمال کے علاوہ اللہ جل شانہ نے انسان کو جو عقل و ادراک نصیب فرمایا ہے جس کے ذریعہ وہ دوسری مخلوقات پر حکمران ہے بحر و بر پر اس کی حکومت ہے اور جو کچھ اس نے اپنے آرام و راحت کی چیزیں ایجاد کی ہیں عمارتیں بنائی ہیں طیارے سیارے چلائے ہیں۔ ان سب میں اس کے ظاہری اعضاء اور فہم و ادراک دونوں چیزوں کا دخل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو فضیلت اور فوقیت دی ہے۔ سورة الاسراء میں اس کے بارے میں فرمایا : ﴿ وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا (رح) 0070﴾ (اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا اور نفیس نفیس چیزیں ان کو عطا فرمائیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سے مخلوقات پر فوقیت دی) کسی شاعر نے انسان کو خطاب کر کے کہا ہے۔
وتزعم انک جرم صغیر
وفیک انطوی العالم الاکبر
انسان کے احسن تقویم ہونے کا ایک بہت بڑا مظاہرہ اس میں بھی ہے کہ کسی بھی بدصورت سے بدصورت انسان سے سوال کیا جائے کہ تو فلاں خوبصورت حیوان کی صورت میں داخل ہونے کو تیار ہے تو وہ ہرگز قبول نہیں کرے گا، نہ کرسکتا ہے۔
Ayah 95:5﴿ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَۙ005﴾ (پھر ہم انسان کو نیچے درجہ والوں سے بھی نیچی حالت میں لوٹا دیتے ہیں) ۔ بعض مفسرین کرام نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ شانہ نے اچھی صورت میں پیدا فرمایا اچھے سے اچھے سانچے میں ڈھال دیا حسن و جمال کا پیکر بنا دیا، وہ قوت اور طاقت کے ساتھ جیتا رہا اور اپنے ناز و انداز دکھاتا رہا پھر جب اللہ تعالیٰ نے بڑھاپا دیا تو بہت گئی گزری حالت میں ہوگیا، نظر بھی کمزور، کان بھی بہرے، دل میں خفقان اور بھولو نسیان، دماغ بیکار، شعور اور ادراک ختم، قد جھک گیا، كمر کمان بن گئی، ٹانگیں لڑکھڑانے لگیں، دوسروں پر وبال، خدمت کا محتاج، یہ بدحالی بڑھاپے میں انسان کو لاحق ہوجاتی ہے۔
سورة یٰسین میں اسی کو فرمایا ہے : ﴿وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ 1ؕ اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ 0068﴾ (اور ہم جس کی عمر زیادہ کردیتے ہیں اس کو سابقہ طبعی حالت پر لوٹا دیتے ہیں) ۔
Ayah 95:6اس کے بعد فرمایا ﴿ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ﴾ (الآیۃ) (مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بڑا ثواب ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا) ۔
اوپر جو ﴿ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَۙ005﴾ کی تفسیر کی گئی اس کے مطابق مفسرین نے اس استنثاء کا یہ مطلب بتایا ہے کہ مومنین اور صالحین بندے بڑھاپے کی حالت کو پہنچ کر بھی ناکام نہیں رہتے وہ ایمان پر جمے رہتے ہیں ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے ان کا ثواب جاری رہتا ہے اور یہ اجر موت کے بعد انہیں مل جائے گا جو کبھی ختم نہ ہوگا (مطلب یہ ہوا کہ کافر اپنی قوت اور طاقت اور جوانی سے دھوکہ کھا کر ایمان اور اعمال صالحہ سے دور رہتا ہے پھر اسے دوہرا خسران اور نقصان لاحق ہوجاتا ہے اول تو دنیا میں بڑھاپے کی بدحالی دوم موت کے بعد دوزخ کا داخلہ اور وہاں کے عذاب کی فراوانی) اور اہل ایمان ہر حال میں ایمان اور اعمال صالحہ پر جمے رہتے ہیں آخرت میں ان کے لیے بےانتہا اجر ہے۔ تفسیر میں تکلف ہے استثناء کا جوڑ اطمینان بخش طریقے پر نہیں بیٹھتا۔ علمائے تفسیر میں سے جن حضرات نے ﴿اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ﴾ سے دوزخ مراد لی ہے ان کی بات دل کو زیادہ لگتی ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے : وقال الحسن وقتادة و مجاھد یعنی ثم رددناہ الی النار یعنی الی ﴿اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ﴾ لان جھنم بعضھا اسفل من بعض۔
یعنی حضرت حسن و قتادہ و مجاہد (رح) نے فرمایا ہے کہ ﴿اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ﴾سے دوزخ مراد ہے اس کے مختلف طبقات ہیں بعض بعض سے نیچے ہیں اس صورت میں دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے انسان کو سب سے اچھے سانچہ میں ڈھالا، حسن قامت اور اور حسن اعضاء کا جمال دے کر اس پر احسان فرمایا سارے انسانوں کو اس انعام کے شکریہ میں شکر گزار ایماندار اور اعمال صالحہ والا ہونا لازم تھا لیکن انسانوں کی دو قسمیں ہوگئیں بعض مومن ہوگئے بعض کافر اور کافروں میں بھی فرق مراتب ہے ان مراتب کے اعتبار سے جہنم کے طبقات میں داخلہ ہوگا ان میں بہت سے وہ بھی ہوں گے جو ﴿اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ﴾میں جائیں گے جیسا کہ سورة النساء میں ﴿اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ﴾ فرمایا ہے۔ انسانوں کی یہ جماعت یعنی کافر جو دنیا میں حسن و جمال اور اچھے قدو قامت والے تھے دوزخ میں جائیں گے یہ دنیا کی خوبصورتی اور چال ڈھال اور ناز و انداز کی رفتار قیامت کے دن کچھ کام نہ آئے گا۔ بنی آدم کا دوسرا گروہ یعنی مومنین صالحین دوزخ سے بچ جائیں گے انہیں جنت نصیب ہوگی اور اعمال صالحہ کا اجر وثواب ہمیشہ ملتا رہے گا۔
صاحب روح المعانی نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ حیث قال ثم المتبادر من السیاق الاشارة الی حال الکافر یوم القیامة وانہ یکون علی اقبح صورة وابشعھا بعد ان کان علی احسن صورة وابدعھا لعدم شکرہ تلک النعمة وعملہ بموجبھا۔
یاد رہے کہ لفظ الانسان سے جنس انسان مراد ہے لہٰذا انسان کا خوبصورتی میں ایک ہی طرح ہونا پھر ﴿اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ﴾ میں داخل ہونا لازم نہیں آتا۔
Ayah 95:7﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بالدِّيْنِؕ007﴾ (سو اے انسان اس کے بعد تجھے کیا چیز قیامت کا جھٹلانے والا بنا رہی ہے) ۔ مطلب یہ ہے کہ اے انسان تجھے اپنی تخلیقی حالت معلوم ہے کہ کس طرح پیدا کیا گیا اور تجھے کیسی حسین تقویم میں وجود بخشا گیا تو ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتا رہا۔ یہ سب دیکھتے ہوئے اور خالق کائنات جل مجدہ کی قدرت کو سمجھتے ہوئے اس بات کا کیسے منکر ہو رہا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھائے جائیں گے اور ایمان اور کفر اور اعمال کی جزا و سزا ملے گی۔ یہ سب تخلیقی احوال دیکھ کر تجھے اللہ کی قدرت کا یقین نہیں آتا جسے ان چیزوں پر قدرت ہے جو تیرے سامنے ہیں اسے دوبارہ زندہ کر کے محاسبہ اور مواخذہ پر بھی قدرت ہے۔
Ayah 95:8﴿اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ (رح) 008﴾ (کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ؟ ) یہ استفہام تقریری ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ کائنات میں دیکھنے سے یہ پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ سب حاکموں کا حاکم ہے سب پر اسی کی حکومت ہے تکوینی طور پر بھی سب اسی کے اختیارات ہیں اور تشریعی طور پر بھی سب اسی کے بھیجے ہوئے دین کے پابند ہیں جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے یہاں دنیا میں بھی اسی کا حکم نافذ ہے اور آخرت میں بھی اسی کے فیصلے نافذ ہوں گے۔ ﴿وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (رح) 0075﴾
فائدہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص سورة والتین والزیتون پڑھنا شروع کرے پھر ﴿اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ (رح) 008﴾ پر پہنچے تو یوں کہے : بَلٰی وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ (واقعی اللہ احکم الحاکمین ہے اور میں اس پر گواہ ہوں) اور جو شخص ﴿لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِۙ001﴾ پڑھنا شروع کرے پھر ﴿اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) 0040﴾ پر پہنچے تو یوں کہے بلی (واقعی یہی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے) اور جو شخص سورة المرسلات پڑھنا شروع کرے پھر ﴿فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ 00185﴾ پر پہنچے تو یوں کہے امنا باللہ یعنی ہم اللہ پر ایمان لائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 81)
وھذا آخر تفسیر سورة التین، والحمد للہ رب العلمین والصلٰوة والسلام علی من ارسل بالقرآن المبین و علی اصحابہ اصحاب الھدی والتقی والیقین وعلی من تبعھم باحسان الی یوم الدین۔