95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 95:1

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی

(1) انجیر اور زیتون کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا قسم ہے انجیر اور زیتون کی، بعض حضرات مفسرین کرام کے نزدیک تین و زیتون سے یہاں پر مراد ان کے وہی مشہور و معروف معنی ہیں، جن کے لیے یہ لفظ عرف عام میں بولے جاتے ہیں، اور ظاہر و متبادر بھی یہی ہے، اور یہی معنی و مفہوم ان دونوں لفظوں سے عموما مراد لیے جاتے ہیں، جب کہ کوئی قرینہ اس کے خلاف موجود نہ ہو، مگر یہاں پر دو قرینے ایسے پائے جاتے ہیں جو ان کے معروف معنی لینے کے خلاف ہیں، ایک یہ تو یہ کہ ان پر دوسرے جن دو امور کو معطوف کیا گیا ہے وہ دونوں پھل نہیں بلکہ دو جگہیں اور مقام ہیں، یعنی طور سینا اور بلد امین یعنی مکہ مکرمہ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان قسموں سے آگے جو مضمون بیان فرمایا گیا اس پر یہ دو پھل بذات خود دلالت نہیں کرتے، بلکہ ان پر اصل میں وہ اماکن و مقامات دلالت کرتے ہیں جن میں یہ دونوں پھل بکثرت پائے جاتے ہیں، یعنی شام و فلسطین اس لیے بعض مفسرین کرام اور حضرات اہل علم کے نزدیک یہاں پر تین و زیتون سے مراد ان کے منابت ہیں، یعنی وہ علاقے اور مقامات جن میں یہ دونوں پھل کثرت سے پیدا ہوتے اور پائے جاتے ہیں اور وہ شام و فلسطین کے علاقے ہیں، کیونکہ کوئی شجر یا ثمر بول کر اس سے اس کی جائے جائے پیداوار اور مراد لینا لغت اور محاورہ دونوں کے اعتبار سے صحیح بھی ہے، اور مستعمل و مروج بھی، اس لیے راجح اور صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ تین اور زیتون سے یہاں پر ان دونوں کے منابت مراد لے جائیں، یعنی وہ علاقے جہاں یہ دونوں پھل بکثرت پیدا ہوتے اور پائے جاتے ہیں، ان دو قرینوں کی بنا پر جن کا ذکرو بیان ابھی اوپر کیا گیا ہے کہ ان دونوں پر جن دو چیزوں کو معطوف کیا گیا ہے وہ کوئی پھل نہیں بلکہ دو مختلف مقامات ہیں، یعنی یہ بلد امین ( مکہ مکرمہ) اور طور سینا، اور دوسرے اس لیے کہ یہی مفہوم آگے کے مضمون سے بھی خاص مناسبت رکھتا ہے جو کہ اصل مقصود ہے، کیونکہ قرآن حکیم میں جو مخلوق میں سے مختلف اشیاء کی قسم کھائی جاتی ہے وہ مقسم بہ کی عظمت کی بنا پر نہیں بلکہ اس لیے کھائی جاتی ہے وہ اشیاء اصل میں جواب قسم پر دلیل اور شاہد کی حیثیت رکھتی ہوتی ہیں، پس اس طرح یہ چاروں قسمیں چار مقامات کی ہوگئیں، کیونکہ یہ چاروں مقامات وہ ہیں جن میں اللہ پاک نے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ان عظیم الشان اور قدسی صفت ہستیوں کو مبعوث فرمایا جن کے ذریعے مخلوق خداوندی کو نور حق و ہدایت کی اس عظیم الشان دولت اور بےمثل نعمت سے سرفرازی نصیب ہوئی ہے جو کہ اللہ پاک کی بڑی عنایت و نعمت ہے، چناچہ اردن، شام و فلسطین میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے لے کر حضرت عیسیٰ روح اللہ تک اکثر انبیاء کرام تشریف لائے، اور ان کی بعثت ہوئی۔ علی نبینا علیہم الصلوۃ والسلام۔ اور طور سینا پر حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو شرف وحی و رسالت سے نوازا گیا اور بلد امین یعنی مکہ مکرمہ میں امام الانبیاء والرسل حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی جس سے قصر نبوت کی آخری اینٹ کی بھی تکمیل ہوگئی، ( روح، قرطبی، صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر اور محاسن التاویل وغیرہ) بہرکیف یہاں پر تین اور زیتون سے مراد معروف پھل نہیں بلکہ ان پھلوں کے مقامات ہیں یعنی وہ مقامات جہاں یہ پھل پیدا ہوتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، المومنون 20 پ 18) والحمدللہ جل وعلا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 95:2–4

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور طور سینا کی

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس امن والے شہر (مکہ مکرمہ) کی

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے انسان کو بڑی ہی عمدہ ساخت پر بنایا

(2) طور سیناء کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے " طور سینائ " کی۔ یہاں ’ ’ طور سنین " فرمایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر اس کو " طور سینائ " فرمایا گیا ہے سو " سینین " دراصل جزیرہ نمائے سینا ہی کا دوسرا نام ہے، اب چونکہ یہ سارا ہی علاقہ جس میں کوہ طور واقع ہے اور جو اب مصر کے قبضہ میں ہے، صحرائے سینا کے نام سے مشہور و معروف ہے اس لیے ہم نے اپنے ترجمے میں اسی مشہور نام کو اختیار کا ہے ورنہ اصل میں اس کے یہ تینوں ہی نام صحیح ہیں ( روح، صفوۃ، خازن وغیرہ) سو جب ان دونوں آیات کریمہ میں مقامات یعنی " طور سینائ " اور " بلد امین " یعنی مکہ مکرمہ کا ذکر ہے تو اس میں اس امر کا قوی قرینہ موجود ہے کہ پہلی آیات کریمہ میں مذکورہ تین اور زیتون سے مراد و معروف پھل نہیں بلکہ وہ منابت اور مقامات ہیں جن میں ٰہ دونوں پھل بکثرت پیدا ہوتے ہیں اور پائے جاتے ہیں، یعنی شام و فلسطین اور ثمر وشجر بول کر ان کے منابت اور مقامات مراد لینا عربی محاورہ و لغت میں شائع ذرائع ہے جیسا کہ اوپر حاشیہ نمبر 1 میں بھی گزرا، اور عربوں کے یہاں نام رکھنے کا یہ طریقہ معروف رہا ہے کہ جس چیز کی پیداوار جہاں زیادہ ہوتی ہے اس کو اسی نام سے موسوم کردیا جاتا ہے، اسی بنا پر غضبی، شجرہ اور نخلہ وغیرہ جیسے مختلف مقامات کے نام بھی رکھے گئے، اور سلف میں سے بھی بہت سے حضرات سے یہی مروی و منقول ہے کہ ان پھلوں سے یہاں پر مراد ان کے منابت و مقامات ہیں، قالہ عکرمہ، قتادہ، کعب، ابن زید ؓ وغیرہ ( ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، محاسن التاویل، جامع البیان اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور طور سینا وہی مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف وحی و نبوت سے نوازا گیا تھا، اور جہاں ایک مظلوم و مقہور قوم پر اللہ پاک نے اپنی عنایت مبذول فرمائی اور اس کے صبر کے صلے میں اس کو دشمن کے پنجہ ظلم سے نجات عطا فرمائی، اور ان کو صدیوں کی غلامی سے رہا کر کے امامت و پیشوائی کے شرف سے مشرف فرمایا۔ سو مظلوموں پر لطف و عنایت اور ان کی نصرت و حمایت کی یہ ایک واضح مثال ہے، قرآن حکیم میں اس حقیقت کی طرف جا بجا اشارات موجود ہیں۔ مثلا سورة اعراف کی آیت نمبر 137 میں اور سورة قصص کی آیت نمبر 5 اور 6 میں وغیرہ وغیرہ۔ والحمدللہ رب العالمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن۔
Ayah 95:5

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو الٹا پھیر کر سب نیچوں سے نیچ کردیا (اس کی اپنی غلط روش اور سوء اختیار کی بناء پر)

(5) نور حق سے محرومی ہر خیر سے محرومی، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے انحراف و سرتابی کا نتیجہ و انجام ذلت و رسوائی اور ہلاکت و تباہی ہے، والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے اس کو الٹا کر کے سب نیچوں سے نیچا کردیا۔ اس کے اپنے سوء اختیار اور راہ حق و ہدایت سے اعراض و استکبار کی بنا پر، والعیاذ باللہ کہ اس نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو خود ہر خیر سے محروم اور سب سے زیادہ ذلیل و خوار کردیا، یہاں تک کہ یہ سب نیچوں سے نیچ ہو کر دوسرے انسان بلکہ اس سے بھی آگے اپنے سے کم تر درجہ کی مخلوق حیوانات، نباتا اور جمادات تک کی پوجا کرنے لگ جاتا ہے، اور ذلتوں پر ذلتیں اٹھاتا ہے اور اس طرح یہ " شر البریہ " ( سب سے بری مخلوق) بن جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں یہ دوزخ کی دائمی آگ کا ایندھن بن کر ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں مبتلا ہونے کی راہ پر چل پڑتا ہے، جو کہ سب سے بڑا خسارہ ہے، والعیاذ باللہ۔ سو عقل و خرد کے جوہر بےمثال سے سرفرازی کے بعد یہ انسان ایک بڑے ہی نازک اور فیصلہ کن امتحان میں پڑجاتا ہے اگر یہ اپنی صدق نیت اور حسن اختیار سے نور وحی و ہدایت کو اپنا لے تو یہ نور علی نور کا مصداق بن کر اتنا اونچا اور اس قدر پاکیزہ انسان بن جاتا ہے کہ یہ رشک ملائک ہوجاتا ہے، لیکن اگر اس کے برعکس اپنے سوء اختیار کی بنا پر نور حق و ہدایت سے منہ موڑ لے والعیاذ باللہ، تو یہ اسفل السافلین بن کر " ظلمات بعضھا فوق بعض " میں گھر کر رہ جاتا ہے اور انتہائی ہولناک اندھیروں میں ڈوب کر ہمیشہ کے خساروں میں مبتلا ہوجاتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس نور حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ و انجام ذلت و رسوائی اور دائمی ہلاکت و تباہی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 95:6

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

سوائے ان (خوش نصیبوں) کے جو (صدق دل سے) ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے کہ ان کے لئے ایک ایسا عظیم الشان اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا

(6) کامیاب وفائز المرام لوگوں کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کامیاب اور فائز المرام لوگوں کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے، کہ ان کے لیے ایک عظیم الشان اجر ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوگا، سو اس میں سچے ایمان والوں اور عمل کی پونجی رکھنے والوں کے دائمی اجر وثواب کا مژدہ جانفزا ہے کہ کلمہ طیبہ کی مثال اس شجرہ طیبہ کی سی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے، " توتی اکلھا کل حین باذن ربھا " پھر زندگی بھر کی اپنی ہے، تصدیق اور ان پر ایمان و یقین کی برکت سے ایسے لوگ ہمیشہ اور ہر لمحہ فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، اس کی کمائی اور سعادت کے نتیجے میں آخرت کے اس جہاں میں پہنچ کر ایسے خوش بخت لوگ جنت کی ان بےمثل اور سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے جو نہ کبھی ختم ہوں گی اور نہ کم اور تنگ ہوں گی کہ ان کی شان " لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ " کی شان ہوگی۔ نہ وہاں سے ان کو نکالا جائے گا نہ محروم کیا جائے گا " وماھم منھا بمخرجین " اور نہ کبھی خود ایسے لوگ ملول اور دل تنگ ہو کر وہاں سے نکلنا چاہیں گے " لا یبغون عنھا حولا " اور اس طرح ایسے لوگ اپنے ایمان و عقیدہ کی روشنی میں اپنی اس اخروی اور حقیقی زندگی میں کام آنے والی پونجی جمع کرتے چلے جائیں گے اور اگر کبھی بڑھاپے یا بیماری وغیرہ کسی عذر کی بنا پر یہ عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں گے تو بھی ان کے اعمال نامے میں پہلے کے حساب سے نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی، کیونکہ یہ عطا و بخشش اس واہب مطلق وحدہ لا شریک کی جانب سے ہے جو کہ اکرم الاکرمین ہے، جس کی رحمت بہا اور قیمت نہیں مانگتی کہ وہ بشر عاجز کے بس میں نہیں ہے، بلکہ وہ بہانہ ڈھونڈتی ہے کہ اس ارحم الراحمین کی رحمتوں کا کوئی کنارہ ٹھکانا نہیں، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور پھر یہ سب جزا وبدلہ اس کے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت کا صلہ وثمرہ ہے مگر وہ کبھی ان پر اپنا احسان جتلائے گا نہیں بلکہ " اجر غیر ممنون " ( بغیر احسان جتلائے) عطا فرمائے گا، سبحانہ وتعالی۔ سو غیر ممنون کے دو معنی ہیں " غیر مقطوع " اور " غیر ان یمن علیہ " ( صفوۃ البیان وغیرہ) اور یہ دونوں ہی معنی یہاں صحیح ہیں کہ جنت کی وہ سدا بہار نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی اور جنتی پر ان کا احسان بھی نہیں جتلایا جائے گا کہ یہ سب کچھ کرم و احسان اور رحمت و عنایت اس اکرم الاکرمین اور ارحم الراحمین کی طرف سے ہوگی، جس کے کرم و احسان کی کوئی حد و انتہا نہیں، اور احسان جتلانا اس کی شان و کرم و احسان کے شایاں نہیں، سبحانہ وتعالی، فشرقنا بھایا اکرم الاکرمین و یا ذالجلال والاکرام۔ سو یہ ہے اصل اور حقیقی کامیابی اور فائز المرامی جس کے لیے کوشش و محنت اور عمل کرنے کی ضرور ہے، نہ کہ متاع دنیا اور اس کے اس حطام فانی کے لیے جس کے لیے ابنائے دنیا مرتے اور جیتے ہیں " لمثل ھذا فلیعمل العالملون " یعنی ایسے ہی مقصد عظیم کے لیے عمل کرنا چاہیے عمل کرنے والوں کو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 95:7

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

سو کیا چیز ہے جو اس (قدر واضح بیان) کے بعد بھی تجھے (اے منکر انسان) جزا و سزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے

(7) انسان کے ضمیر پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کے ضمیر پر ایک دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس سب کے بعد کون سی چیز تجھے ( اے انسان) جزا و سزا کی تکذیب پر آمادہ کرتی ہے ؟ یکزبک میں موجود ضمیر خطاب کے مرجع میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد عام انسان اور ہر مخاطب ہو، جیسا کہ تر جمہ کے اندر اختیار کیا گیا ہے اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہو ( روح، ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) نتیجہ و مآل دونوں کا تقریبا ایک ہی بنتا ہے کہ جب تمہارے سامنے اے انسان یہ واضح شہادتیں پائی جاتی ہیں اور جب تمہارے سامنے انسانوں کے یہ دونوں نمونے موجود ہیں، ایک نمونہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو " اسفل السافلین " کے ہائے میں گرادیا، اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ایمان و یقین کی راہ کو اپنا کر ان تقاضوں کی تکمیل کا سامان کیا جو کہ احسن تقویم ( بہترین ساخت) پر پیدا ہونے کے اعتبار سے اس پر عائد ہوتے ہیں، تو پھر کیا ان دونوں قسموں کے لوگوں کا مآل و انجام ایک برابر ہوسکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر تم کو اے مخاطب جزا وسزا کے جھٹلانے پر اور ان حقائق و شواہد کی تکذیب پر کیا چیز آمادہ کرتی ہے ؟ یا آپ کو اپنے پیغمبر جزا و سزا کے معاملے میں کون جھٹلا سکتا ہے ؟ نیز تم کو اے منکر انسان جزا و سزا کے جھٹلانے پر اور ان حقائق و شواہد کی تکذیب پر کیا چیز آمادی کرتی ہی اور تم جزا وسزا کے اس یوم عظیم کو کس طرح جھٹلاتے ہو ؟ یا جھٹلا سکتے ہو ؟ جو اسی فرق وتمیز اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بپا ہوگا، اور ایسے میں روز جزا و سزا کے بارے میں آپ کو اے پیغمبر کوئی کس طرح جھٹلا سکتا ہے ؟ کہ اس کو جھٹلانا عقل و نقل دونوں کے تقاضوں کے یکسر خلاف ہے، اسی مضمون کو دوسرے کئی مقام پر بھی بیان فرمایا گیا ہے، جیسا کہ سورة القلم میں فرمایا گیا ( القلم 35, 36 پ 29) سو قانون مجازات کے ایسے دلائل و شواہد کی موجودگی کے بعد یوم جزا کے انکار کی کسی طرح کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، اس کے باوجود جو لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں وہ ہٹ دھرم ہیں جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی سے اپنے قوائے علم و ادراک کو ماؤف کردیا اور وہ " ان ھم الا کالانعام بل ھم اضل " کا مصداق بن گئے، اور انہوں نے " خسر الدنیا والاخرۃ " کی راہ کو اپنا لیا جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد جل وعلا۔
Ayah 95:8

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

(8) اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑا حاکم، سبحانہ وتعالی : سو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور غافلوں کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ان کے دلوں پر ایک اور دستک کے طور پر بطور سوال و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ؟ " اور استفہام ظاہر ہے کہ تقریری ہے۔ یعنی ہاں یقینا وہ اور صرف وہی ہے جو " احکم الحاکمین " یعنی سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو جب دنیا کے عام حاکموں سے بھی یہ توقع رکھی جاتی ہے اور ان کے منصب و مقام کا تقاضا بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لیں، اور نیک و بد کے درمیان فرق وتمیز کا انتظام کریں، اور ایسا نہ کرنا ظلم و بےانصافی سمجھا جاتا ہے، تو پھر یہ کیونکر ممکن اور متصور ہوسکتا ہے کہ وہ " احکم الحاکمین جل وعلا " جو کہ خالق ومالک حقیقی اور سب سے بڑا حاکم ہے، اس کا اہتمام و انتظام نہ فرمائے ؟ کہ نیک و بد اور مومن و کافر اور موحد و مشرک کے درمیان فصل وتمیز ہوسکے۔ پس یہ سب کچھ ہوگا اور ضرور ہوگا اور علی وجہ التمام والکمال ہوگا، تاکہ ہر کوئی زندگی بھر کے اپنے کیے کرائے کا پھل پاس کے اور بھر پور طریقے سے پاس کے اور فصل وتمیز کے اسی دن کو " یوم الدین " یعنی بدلے اور جزا و سزا کا دن کہا جاتا ہے، روایات میں ہے آنحضرت ﷺ جب اس آیت کریمہ کی تلاوت فرماتے تو اس کے جواب میں ارشاد فرماتے " بلی وانا علی ذلک من الشاہدین " ( ہاں، کیوں نہیں اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں) ارسلہ قتادہ ورفعہ ابوہریرہ الی النبی ﷺ ( ابن کثیر، محاسن، صفوۃ وغیرہ) سو اس وحدہ لاشریک کے " احکم الحاکمین " ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک دن ایسا لائے جس دن نیک و بد کے درمیان فصل وتمیز ہو اور ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ پائے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں، سو یہی ہے قیامت اور بدلے کا دن، پس اسی کے تقاجوں کو ہمیشہ اپنی پیش نظر رکھا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن۔