95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsمظہر القرآن

Ayah 95:1

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

قسم ہے انجیرف 1 اور زیتون کی

(ف 1) انجیر نہایت عمدہ میوہ ہے جس میں فضلہ نہیں، سریع الہضم، کثیر النفع ملین محلل رافع ریگ ، مفتح سدہ جگر بدن کافر بہ کرنے والابلغم کو چھانٹنے والا اور زیتون ایک مبارک درخت ہے اس کا تیل روشنی کے کام میں بھی لایاجاتا ہے اور سالن میں بھی کھایاجاتا ہے یہ وصف دنی ا کے کسی تیل مین نہیں، اس کا درخت خشک پہاڑوں میں پیدا ہوتا ہے جن میں دھنیت کا نام ونشان نہیں بغیر خدمت کے پرورش پاتا ہے ہزاروں برس رہتا ہے ان چیزوں میں قدرت الٰہی کے آثار ظاہر ہیں۔
Ayah 95:2

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اورف 2 قسم طور سینا (پہاڑ ) کی

(ف 2) یہ وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو کلام سے مشرف فرمایا اور سینا اس جگہ کا نام ہے جہاں یہ پہاڑ واقع ہے یا بمعنی خوش منظر کے ہے جہاں کثرت سے پھل دار درخت ہوں۔
Ayah 95:3

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

ف 3 اور قسم اس شہر امن والے (یعنی مکہ معظمہ)

(ف 3) امن والا شہر مکہ معظمہ ہے جہاں سارے عالم کے سردار حضرت محمدرسول اللہ مبعوث ہوئے اور اللہ کی سب سے بڑی اور آخری امانت قرآن کریم اسی شہر میں اتاری گئی۔
Ayahs 95:4–8

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

بیشک4 ہم نے آدمی کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو ہرنیچی سے نیچی حالت (یعنی بڑھاپے) کی طرف پھیردیا

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

مگر جولوگ کہ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے تو ان ک لیے بےحدثواب ہے

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

پس (اے کافر تمام نصیحتوں کے بعد تجھے جزائے اعمال کے معاملہ میں) ٌاب کیا چیز قیامت کے جھٹلانے کا باعث ہوتی ہے

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے (ہاں کیوں نہیں)

(ف 4) ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا، اور کیسی کی کچھ قوتیں اور ظاہری وباطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں دل ایک ایسی چیز عنایت ہوئی ہے کہ اگر اس کو صاف کرلیا جائے تو محبوب حقیقی کے جمال کا آئنہ بن جائے ، آگے فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہرنیچی سے نیچی حالت یعنی بڑھاپے کی طرف پھیردیا جس سے بدن ضعیف ، اعضا ناکارہ، عقل ناقص، پشت خم بال سفید ہوجاتے ہیں ، جلد میں جھریاں پڑجاتی ہیں اپنی ضروریات انجام دینے میں مجبور ہوتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ جب اس سے اچھی شکل و صورت کی شکرگزاری نہ کی اور نافرمانی پر جمارہا اور ایمان نہ لایا تو جہنم کے اسفل ترین درجات کو ہم نے اس کاٹھکانہ کردیا، آگے فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کرتے رہے ان کے واسطے بیحد ثواب ہے جو کبھی کم یا ختم نہ ہوگا، اور ان کو جنت ملے گی ، پھر فرمایا اے کافر ان قدرتوں کو دیکھنے کے بعد قیامت کے فیصلہ کا کیوں انکار کرتا ہے کیا تیرے نزدیک اللہ سب حاکموں کا حکم نہیں ہیے دنیا کے حاکم جب مقدمات فیصل کرتے ہیں وردربار جماتے ہیں تو پھر وہ ذات مقدس جس کے یہ حاکم بھی ادنی غلام ہیں کیا مظلوموں کا انصاف نہ کرے گا، انصاف ضروری شے ہے پس اس کی پیشی دن بھی ضرور مقرر ہونا چاہیے۔