96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsمظہر القرآن

Ayah 96:1

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

اے محبوب ﷺ1) تم اپنے رب کی برکت سے (قرآن ) پڑھو (یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر پڑھو)

(ف 1) اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سورت سب سے پہلے نازل ہوئی اور اس کی پانچ آیتیں اقرا سے مالم یعلم تک قرآن کی سب آیتوں اور سورتوں سے پہلے اتریں، حضور غار حرا میں خدائے واحد کی عبادت کررہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے اور حضور کو کہا، اقراء پڑھیے، آپ نے فرمایا ماانا بقاری جبرائیل (علیہ السلام) نے سینہ سے لگاکربہت زور سے دبایا، پھر چھوڑ کر اقراء کہا پھر آپ نے وہی جواب دیا ، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، پھر جبرائیل کے ساتھ ساتھ حضور نے اقراء سے مالم یعلم تک پڑھا۔ نزول وحی کا آغاز۔ قرات کی ابتداء دبااللہ کے نام سے ہو، اس تقدیر پر آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قرات کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ مستحب ہے اور مسلمانوں کو یہ ہدایت ہے کہ جو کام کروپہلے اللہ کا نام لے لیاکرو، یعنی بسم اللہ شریف کا ہر کام بات میں ورد رکھاکرو، بسم اللہ شریف کے بہت سے فضائل ہیں اگر کھانے کا ہرنوالہ بسم اللہ کہنے کے بعد کھایا جائے تو وہ کھانا پیٹ میں جاکر تمام بدن کو منور کردیتا ہے، بسم اللہ کا ختم اگر کسی مشکل کے واسطے پڑھاجائے تو وہ مشکل آسان ہوتی ہے اس کی ایک ترکیب یہ ہے کہ باوضو ہوکردورکعت نما زپڑھے اور بعد اس کے قرآن شریف کھول کر ہر سطر پر داہنے ہاتھ کی انگلی پھیرتا جائے اور بسم اللہ پوری پڑھتا جائے اسی طرح اول سے آخر تک سارا قرآن ختم کردے انشاء اللہ جس مراد کے واسطے کیا جائے گا وہ مراد حاصل ہوجائیگی مگر اعتقاد شرط ہے کیونکہ اعتقاد بغیر کچھ نہیں ہوتا۔
Ayah 96:2

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے (تمام خلق کو) پیدا کیا1

(ف 1) یعنی انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، خون شریعت میں بھی نجس ہے اور حکمت کی رو سے بھی ذلیل، ایسی ذلیل چیز سے اشرف المخلوقات کو بنادیا ہے اور شرافت کا جوہراس میں بھردیا پھر اللہ سے بڑھ کر قدرت والا کون ہوسکتا ہے ، اور کس کے نام میں اس سے زیادہ برکت ہوسکتی ہے یہاں اس بات کی انسان کو تعلیم ہے کہ اللہ کی قدرتوں پر نظر کیا کرو اور اس کے کمالات کا نقشہ دل میں جمایا کروتا کہ اس کی عبادت کی طرف دل متوجہ ہو اور شرک کفر سے ہمیشہ نفرت رہے۔
Ayah 96:3

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

آدمی کو خون کی پھٹک2 سے پیدا کیا

(ف 2) دوبارہ پڑھنے کا حکم تاکید کے لیے ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوبارہ قرات کے حکم سے مراد یہ ہے کہ تبلیغ اور امت کی تعلیم کے لیے پڑھئے۔
Ayah 96:4

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

پڑھو3 اور تمہارا پروردگار4 بڑا کریم ہے

(ف 3) اس سے کتابت کی فضیلت ثابت ہوئی اور درحقیقت کتابت میں بڑے منافع ہیں کتابت ہی سے علوم ضبط میں آتے ہیں گذرے ہوئے لوگوں کی خبریں اور ان کے احوال اور ان کے کلام محفوظ رہتے ہیں کتابت نہ ہوتی تو دین ودنیا کے کام قائم نہ رہ سکتے۔ (ف 4) آدمی سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور جو انہیں سکھایا اس سے مراد علم الاسمائ، ایک قول یہ بھی ہے کہ آدمی سے مراد یہاں سید عالم ہیں آپ کو اللہ تعالیٰ نے جمیع اشیاء کے علوم عطا فرمائے۔ (معالم و خازن) ۔
Ayah 96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

کہ جس نے5 قلم سے لکھنا سکھایا

(ف 5) یعنی انسان کی اصل تو اتنی ہے کہ جمے ہوئے خون سے بنا اور وہ اپنی اصل حقیقت کو ذرایاد نہیں رکھتا، دنیا کے مال و دولت پر مغرور ہوکرسرکشی اختیار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے کسی کی پرواہی نہیں یہ آیتیں ابوجہل کے حق میں نازل ہوئیں اس کو کچھ مال ہاتھ آگیا اس نے لباس اور سواری اور کھانے پینے میں تکلفات شروع کیے اور اس کا غرور وتکبر بہت بڑھ گیا فرمایا کہ انسان کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اول بھی اس نے پیدا کیا اور آخر بھی اسی کے پاس لوٹ کرجانا ہے اس وقت اس تکبر اور سرکشی کی حقیقت کھل جائے گی۔
Ayah 96:6

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

آدمی1 کو وہ سکھایا جو نہ جانتا تھا

حضور ﷺ کا دشمن ضرور ہلاک ہوتا ہے۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت بھی ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی اس نے نبی ﷺ کو نماز پڑھنے سے منع کیا تھا اور لوگوں سے کہا تھا کہ اگر میں انہیں ایسا کرتا دیکھوں گا تو (معاذ اللہ) گردن پاؤں سے کچل ڈالوں گا اور چہرہ خاک میں ملادوں گا پھر وہ اسی ارادہ فاسد سے حضور کے نماز پڑھتے میں آی اور حضور کے قریب پہنچ کر الٹے پاؤں پیچھے بھاگا، ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے چہرہ کا رنگ اڑگیا اعضاء کانپنے لگے لوگوں نے کہا، کیا حال ہے کہنے لگا، میرے اور محمد ﷺ کے درمیان ایک خندق ہے جس میں آگ بھری ہوئی ہے اور دہشت ناک پرند بازو پھیلائے ہوئے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا عضو عضو جدا کرڈالتے۔
Ayahs 96:7–9

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

ہاں ہاں2 بیشک آدمی حد سے گزرتا ہے

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

جبکہ اپنے آپ کو مالدار سمجھتا ہے

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

بیشک تمہارے پروردگار کی طرف (سب کو) لوٹنا ہے

(ف 2) شان نزول : جب ابوجہل نے نبی ﷺ کو نماز سے منع کیا توحضورنے اس کو سختی سے جھڑک دیا اس پر اس نے کہا کہ آپ مجھے جھرکتے ہو خدا کی قسم میں آپ کے مقابل نوجوان سواروں اور پیادوں سے اس جنگل کو بھردوں گا، آپ جانتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں مجھ سے زیادہ بڑے جتھے اور مجلس والا کوئی نہیں اس پری آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اب وہ اپنی مجلس والے ساتھیوں کو بلائے اور ہم بھی اس کی گوشمالی کے لیے اپنے سپاہی بلاتے ہیں دیکھیں کون غالب رہتا ہے چند روز بعد بدر کی لڑائی میں دیکھ لیا کہ اسلام کے سپاہیوں نے اسے کس طرح گھسیٹ کر قلیب بدر میں پھینک دیا باقی اصل وقت گھسیٹنے کا آخرت ہے جب دوزخ کے فرشتے اس کو نہایت ذلت کے ساتھ جہنم رسید کریں گے۔
Ayahs 96:10–19

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

بھلا3 دیکھو تو جو منع کرتا ہے

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بندہ کو جب وہ نماز پڑھے

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

بھلادیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

یا پرہیزگاری کا حکم کرتا تو کیا خوب تھا

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر اس نے (نبی کریم ) کو جھٹلایا اور ایمان لانے سے منہ موڑ لیا تو کیا حال ہوگا

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

کیا اس نے نہ جانا کہ اللہ (اس کے فعل کو) دیکھ رہا ہے

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

ہاں ہاں اگر وہ نبی ﷺ کی ایذا اور آپ کی تکذیب) سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے کیسی پیشانی جھوٹی خطا کار

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

پس چاہیے کہ اب اپنی مجلس کے لوگوں کو (اپنی مدد کے لیے ) پکارے

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی پیادوں کو بلاتے ہیں یعنی عذاب کرنے والے فرشتوں کو

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

نہیں نہیں تم اس کی نہ سنو اور نماز پڑھو اور ہم سے قریب ہوجاؤ

(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔