95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 95:1–3

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور صحرائے سینا کے پہاڑ طور کی۔

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس امن وامان والے شہر کی۔ (1)

1: انجیر اور زیتون فلسطین اور شام میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ان سے فلسطین کے علاقے کی طرف اشارہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا، اور انہیں انجیل عطا فرمائی گئی تھی۔ اور صحرائے سینا کا پہاڑ طور وہ ہے جس پر حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا، اور آپ پر قرآن کریم نازل ہوا۔ ان تینوں کی قسم کھانے سے مقصود یہ ہے کہ جو بات آگے کہی جا رہی ہے، وہ ان تینوں کتابوں میں درج ہے، اور تینوں پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو بتائی ہے۔
Ayahs 95:4–5

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے۔

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر ہم اسے پستی والوں میں سب سے زیادہ نچلی حالت میں کردیتے ہیں۔ (2)

2: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ جو لوگ مومن نہ ہوں، وہ دنیا میں چاہے کتنے خوبصورت رہے ہوں، آخرت میں وہ انتہائی نچلی حالت کو پہنچ جائیں گے، کیونکہ انہیں دوزخ میں ڈالا جائے گا، اسی لیے آگے ان انسانوں کا استثناء کیا گیا ہے جو ایمان لائیں، اور نیک عمل کریں۔ اور اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہر انسان بڑھاپے میں جا کر انتہائی خستہ حالت کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کی خوبصورتی بھی جاتی رہتی ہے، اور طاقت بھی جواب دے جاتی ہے، اور آئندہ کسی اچھی حالت کے واپس آنے کی انہیں کوئی امید نہیں ہوتی، کیونکہ وہ آخرت کے قائل ہی نہیں ہوتے۔ البتہ نیک مسلمان چاہے اس بڑھاپے کی بری حالت کو پہنچ جائیں، لیکن ان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ بری حالت عارضی ہے، اور آگے دوسری زندگی آنے والی ہے، جس میں انشاء اللہ انہیں بہترین نعمتیں میسر آئیں گی۔ اور یہ عارضی تکلیفیں ختم ہوجائیں گی۔ اس احساس کی وجہ سے ان کی بڑھاپے کی تکلیفیں بھی ہلکی ہوجاتی ہیں۔
Ayahs 95:6–8

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

سوائے ان کے جو ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، تو ان کو ایسا اجر ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

پھر (اے انسان) وہ کیا چیز ہے جو تجھے جزاء و سزا کو جھٹلانے پر آمادہ کر رہی ہے ؟

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا اللہ سارے حکمرانوں سے بڑھ کر حکمران نہیں ہے ؟ (3)

3: ابو داؤد اور ترمذی کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے پڑھنے کے وقت یہ کہنا مستحب ہے کہ“ بَلٰی وانَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ ا لشَّاہِدِیْنَ ”(کیوں نہیں ؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سارے حکمرانوں سے بڑھ کر حکمران ہے)