96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 96:1–4

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔ (1)

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کرم والا ہے۔

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم سے تعلیم دی۔

1: اس سورت کی پہلی پانچ آیتیں سب سے پہلی وحی ہے، جو آنحضرت ﷺ پر غار حرا میں نازل ہوئی، آپ نبوت سے پہلے کئی کئی دن اس غار میں عبادت کیا کرتے تھے، ایک روز اسی دوران حضرت جبرئیل ؑ آپ کے پاس آئے، اور آپ کو دبایا اور کہا کہ ”پڑھو“ آپ نے فرمایا کہ ”میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں“ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا، پھر حضرت جبرئیل نے یہ پانچ آیتیں پڑھیں۔
Ayah 96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

انسان کو اس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (2)

2: اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگرچہ تعلیم دینے کا عام طریقہ یہی ہے کہ قلم سے لکھی ہوئی کوئی تحریر پڑھوائی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے بغیر بھی کسی کو تعلیم دے سکتا ہے، چنانچہ حضور اقدس ﷺ کو امی ہونے کے باوجود وہ علوم عطا فرمائے گا جو کتاب سے پڑھنے والوں کے خیال میں بھی نہیں آئے۔
Ayah 96:6

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلی سرکشی کر رہا ہے۔ (3)

3: اس کے بعد سورت کے آخر تک جو آیتیں ہیں، وہ غار حراء کے مذکورہ بالا واقعے کے کافی بعد نازل ہوئی تھیں، اور ان کا واقعہ یہ ہے کہ ابوجہل آنحضرت ﷺ کا سخت دشمن تھا، ایک دن آنحضرت ﷺ حرم میں نماز پڑھ رہے تھے، اس نے آپ کو نماز پڑھنے سے منع کیا، اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے نماز پڑھی تو میں (معاذاللہ) آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دوں گا، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔
Ayahs 96:7–17

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

کیونکہ اس نے اپنے آپ کو بےنیاز سمجھ لیا ہے۔ (4)

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

سچ تو یہ ہے کہ تمہارے پروردگار ہی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ایک بندے کو منع کرتا ہے

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

جب وہ نماز پڑھتا ہے ؟

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا بتلاؤ کہ اگر وہ (نماز پڑھنے والا) ہدایت پر ہو۔

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا تقوی کا حکم دیتا ہو (تو کیا اسے روکنا گمراہی نہیں ؟)

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

بھلا بتلاؤ کہ اگر وہ (روکنے والا) حق کو جھٹلاتا ہو، اور منہ موڑتا ہو۔

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ؟

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

خبردار ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم (اسے) پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

اس پیشانی کے بال جو جھوٹی ہے، گنہگار ہے

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

اب وہ بلالے اپنی مجلس والوں کو۔

4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔
Ayah 96:18

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔ (5)

5: شروع میں ابوجہل نے آنحضرت ﷺ کو نماز سے روکا تھا تو آپ نے اسے جھڑک دیا تھا، اس پر ابوجہل نے کہا تھا کہ مکہ میں میری مجلس میں بڑا مجمع ہوتا ہے، وہ سب میرے ساتھ ہیں، اسکے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچانے کے لئے اپنی مجلس والوں کو بلائے گا تو ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلالیں گے، بعض روایتوں میں ہے کہ ابوجہل آپ کو تکلیف پہنچانے کے لئے بڑھا تو تھا لیکن پھر رک گیا ورنہ فرشتے اسکی بوٹیاں بوٹیاں نوچ ڈالتے (الدرلمنثور)
Ayah 96:19

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! اس کی بات نہ مانو، اور سجدہ کرو، اور قریب آجاؤ۔ (6)

6: یہ بڑا پیار بھرا فقرہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سجدے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا خاص قرب عطا ہوتا ہے، یہ آیت سجدے کی آیت ہے اور اس کی تلاوت کرنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔