97. Surah Al-Qadr

القدرThe Power, Fate · 5 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 97:1–2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ (1)

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader

اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے ؟

1: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پورا قرآن لوح محفوظ سے اس رات میں اتارا گیا، پھر حضرت جبرئیل ؑ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس سال تک آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے رہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم کا نزول سب سے پہلے شب قدر میں شروع ہوا، شب قدر رمضان کی آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں ہوتی ہے، یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، یا انتیسویں رات میں
Ayah 97:3

لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader

شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ (2)

2: یعنی اس ایک رات میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینوں میں عبادت کرنے سے بھی زیادہ ہے۔
Ayahs 97:4–5

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader

اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ (3)

سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader

وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔

3: اس رات میں فرشتوں کے اترنے کے دو مقصد ہوتے ہیں ایک یہ کہ اس رات جو لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں فرشتے ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں اور دوسرا مقصد آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرما دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تعمیل کرتے رہیں ”ہر کام کے لئے اترنے“ کا یہی مطلب مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔