Ayahs 95:1–5ترکیب ¦ والتین الوا وللقسم والزیتون وطور سینین وھذا لبلدالامین معطوف علیہ لقد خلقنا الانسان الجملۃ المصدرۃ بلام التاکید وقد الی آخرھا جواب القسم۔ والقسم مع جو ابہ جملۃ فعلیۃ۔ والمراد بالتین والزیتون عند المجھور الشجرتان المعروفتان وقیل الجبلان وقیلا البلدان و طور جھل کلم اللہ علیہ موسیٰ (علیہ السلام) فی ناحیۃ الشمال والغرب من العرب وھو مضاف الی سینین عند الخاۃ سینین و سیناء اسمان للمکان الذی حصل فیہ الجبل المذکور۔ وقال ابو علی الفارسی سینین فعلیل کر رت اللام التیھی نون فیہ ولم ینصرف سینسین کمالم ینصرف سیناء لا نہ علم للبقعۃ وعجمی ای سریانی ولذا اختلفت عادۃ العرب فی تعریبہ فقیل سینین وقیل سینا والامین بمعنی المامون و صف للبد۔ فی احسن الخ فی موضع الحال من الانسان والمراد بالتقویم القوام لان التقویم فی الحقیقۃ فعل اللہ تعالیٰ اسفل منصوب مضاف الی سافلین وھو حال من المفعول ویجوزان یکون نعتًا لمکان محذوف والتقدیر علی الاول ای رددناہ حال کونہ اسفل سافلین ای ارذل وعلی الثانی رددناہ مکانا اسفل سافلین ای الدرک الا الذین علی الاول استثناء متصل من ضمیر رددناہ فانہ فی معنی الجمیع وعلی الثانی منقطع ای لکن الذین کانوا صالحین من الھریٰ فلھم اجر غیر ممنون علی طاعتھم علی الضعف والشیخوخۃ علی مقاساۃ المشاق۔
تفسیر ¦ جمہور کا اتفاق ہے کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی جیسا کہ ابن الصرنیس و نحاس و ابن مردویہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے راویت کی ہے کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور ابن الزبیر سے بھی یہی منقول ہے اور اس میں آٹھ آیت ہیں۔ بخاری و مسلم و اہل سنن وغیر نے براء بن عازب ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک سفر میں تھے اور عشاء کی نماز پڑھائی تب ایک رکعت میں سورة والتین والزیتون پڑھی سو میں نے آپ سے بہتر خوش آواز اور عمدہ پڑھنے والا نہیں سنا اور انہیں سے خطیب نے روایت کی جو کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی تو آپ نے سورة والتین پڑھی اور بھی اس قسم کی روایات ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس سورء کے ابتداء میں چار چیزوں کی قسم کہا کر انسان کی آفرینش کا حال اور پھر سعادت وشقاوت حاصل کرنے سے مآل بیان فرماتا ہے اور چاروں چیز اس کی کمال قدرت کے دلائل ہونے کے سوا اس مطلب کے ساتھ کمال مناسبت بھی رکھتی ہیں فقال والتین والزیتون وطور سینین وھذا البلد الامین کہ قسم ہے انجیر اور زیتون اور طور سینا اور اس شہر امین کی۔ طور سینا اور بلدا میں تو بالاتفاق دو جگہ ہیں۔ طور سینا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف کلام باری حاصل ہوا اور بلدا میں یعنی محفوظ یا امانتدار شہر مکہ ہے۔ یہ امن کا شہر ہے۔ جاہلیت میں بھی یہ شہر دارالامن رہا۔ عرب میں باوجود یکہ اسلام سے پہلے باہمی وہ دھاڑ تھی کہ جس کی انتہا نہ تھی مگر مکہ میں کوئی اپنے دشمن سے دشمن کے ساتھ بھی تعرض نہ کرتا تھا اور اسلام میں بھی اس کی یہی حرمت تاقیامت باقی رہی۔ جو اس پر چڑھ کر آیا غارت ہوا۔ جس طرح اور شہروں پر آفات آئیں اس پر کبھی نہیں آئی۔ یہ اپنے رہنے والوں کا امانت دار ہے اس میں بڑی وجہ امین ہونے کی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو دنیا کے لیے بڑی نعمت اور اس کی امانت تھے اسی شہر کے تفویض ہوئے تھے ہرچند مشرکین آپ کی ذات بابرکات کے فنا کرنے میں ساعی تھے مگر کسی کی کچھ بھی نہ چلی اس شہر نے یہ امانت بسلامت مدینہ منورہ کے سپرد کردی۔
مگر تین اور زیتون میں متعدد اقوال ہیں : (1) اکثر علماء کا تو یہ قول ہے کہ تین سے انجیر کا درخت اور زیتون کا درخت مراد ہے پھر ان میں کیا شرف ہے جو ان کی حق سبحانہ نے قسم کھائی ؟ علمائے کرام نے اس کے چند اسباب لکھے میں اول یہ کہ یہ انجیر کا عجب میوہ ہے جس میں نہ گٹھلی نہ پوست پھر غذا بھی ہے اور چند امراض کے لیے دوا بھی۔ سریع الہضم جید الکیلوس والکیموس بلغم کو کم کرتا ہے ‘ بدن کو فربہ ‘ گردوں کو ریگ وغیرہ سے پاک و صاف کرتا ہے اور کبدو طعال کے مسامات کھولتا ہے اور ام کو تحلیل کرتا ہے اس کو انسان بےمشقت کھا سکتا ہے اس کے درخت میں نہ کانٹا ہے نہ بہت بلند ہے کہ یہ پھل لینا مشکل ہوجاوے اور اس میں معنی اہل کمال سے پوری مشابہت بھی ہے کہ جس طرح وہ ظاہر و باطن میں یکساں ہیں یہ بھی ظاہر و باطن میں یکساں ہے۔ نہ چھلکا پھینکنے کے قابل نہ گٹھلی ڈال دینے کے لایق۔ دوم یہ کہ اہل کمال کی طرح یہ بھی لاف و گزاف سے مبرا ہے۔ پھل اور پھولوں کی بہار کا دعویٰ کرنے سے پہلے کمال مناسبت ہے اور اس سورة میں اہل کمال کا حال ہے اور اسی طرح زیتون کو بھی اہل کمال سے ظاہر و باطن میں کمال مشابہت ہے۔ زیتون کے فوائد بھی انجیر کی طرح بہت ہیں اس کے سوائے زیتون میں ایک اور بات بھی ہے جو انجیر میں نہیں وہ یہ کہ اس کے پھلوں کا تیل علاوہ سیکڑوں فوائد کے جلانے میں وہ روشنی صاف دیتا ہے کہ ایسی اور تیلوں میں کم ہوتی ہے جس سے اہل کمال کی اس روشنی کی طرف اشارہ ہے کہ جو دنیا کے ہر امر میں ان کے ساتھ ہوتی ہے اور مرنے کے بعد قبر میں اور حشر میں اور پل صراط پر دائیں بائیں دوڑتی چلے گی الغرض ان دونوں میں ایک عمدہ خوبی ہے اور ان کے لگانے سے اور پرورش کرنے میں بڑی دقت نہیں ہوتی بلکہ پہاڑوں میں خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں یہی حال اہل کمال کا ہے کہ آفرینش سے ان کی ذات میں صلاحیت رکھی ہوئی ہے چنداں تربیت کی حاجت نہیں بر خلاف خاردار ‘ بےثمر درختوں کے کہ ان کی کوئی لاکھ تربیت کرے پھر وہی کے وہی رہتے ہیں۔ (2) قول یہ ہے کہ ان دونوں سے دو مبارک شہر مراد ہیں کعب ؓ کہتے ہیں تین دمشق کا نام ہے اور زیتون بیت المقدس کا اور برکات ان دونوں شہروں کے بسبب مولد و مسکن ہونے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے مشہور ہیں جس سے اہل کمال کے پیدا ہونے کے مقامات کا ذکر کر کے ان اہل کمال کا یاد دلانا مقصود ہے (3) قول یہ ہے کہ تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں اور یہی قول کاتب الحروف کے نزدیک قوی تر ہی کیونکہ توریت سفر استثنیٰ کی تئیسویں باب کے شروع میں ایک بشارت ہے اور وہ یہ ہے۔ ” خدا وند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لیے تھی۔
اس کو تو اہل کتاب کے علماء بھی مانتے ہیں کہ سینا سے کوہ سینا مراد ہے اور وہاں سے خداوند کا آنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تجلی کرنا ہے کہ کلام کا شرف دینا لیکن شعیر اور فاران سے جلوہ گر ہونے میں وہ اپنے خیال کے موافق توجیہ کرتے ہیں اور شعیر اور فاران بھی فلسطین کے پہاڑوں کا نام بتلاتے ہیں مگر کوئی تسلی بخش بات نہیں بتلا سکتے کہ فلسطین یا شام یا تیہ ہی کے پہاڑوں کا نام شعیر اور فاران ہے اور اگر تسلیم کرلیا جاوے تو پھر دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آن کے کچھ معنی نہیں بنا سکتے۔ اس لیے میں میں کہتا ہوں کہ شعیر سے مراد بیت المقدس کے پہاڑ ہیں۔ مگر اس پہاڑ کے کہ جس پر بیت المقدس شہر آباد ہے دو ٹکڑے ہیں ایک کو تو اب تک زیتون کی پہاڑی کہتے ہیں اور دوسرے کو تین کہتے ہیں اور فاران مکہ کے پہاڑ کا نام ہے جہاں جناب رسول اللہ ﷺ جلوہ گر ہوئے اور فتح مکہ کے روز دس ہزار قدوسی یعنی پاکباز صحابہ آپ کے ساتھ تھے اور آتشی شریعت بھی آپ کے ہاتھ میں تھی جس نے بت پرستوں ‘ منکروں ‘ زنا کاروں ‘ بدکاروں کو جلا دیا۔ پس اس بشارت کے بموجب اللہ پاک ان چاروں مقدس جگہوں کی قسم کھاتا ہے جہاں سے نبوت و رسالت کے آفتاب و ماہتاب دنیا کو منور کرنے کے لیے جلوہ گر ہوئے تاکہ معلوم ہو کہ آئندہ جو کچھ انسان کی سعادت و شقاوت کی بابت کہا جاتا ہے وہ لغو بات نہیں بلکہ ان چاروں جگہوں کے مقدس و ابرار حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا قول ہے کہ جن کو جہان مانتا ہے اور یہی تمام شرائع کا ماحصل اور خلاصہ مطلب ہے۔
پس تین و زیتون سے شام کے مقدس پہاڑ مراد ہیں جہاں سے حضرت عیسیٰ و دائود سلیمان و الیاس وغیرہ اولو العزم انبیاء برپا ہوئے اب خواہ تین سے دمشق کا پہاڑ مراد لو جیسا کہ کعب ؓ کا قول ہے اور ابن عباس ؓ سے بھی اسی کے قریب قریب منقول ہے اور اسی کے قریب ربیع اور ضحاک اور عکرمۃ کا قول ہے خواہ بیت المقدس کے سلسلہ کوہ کو جو زیتون کے سواء ہے اور زیتون تو بیت المقدس کا پہاڑ ہے جیسا کہ عکرمۃ و کعب و قتادہ کہتے ہیں اور طور سینا سے بالا تفاق وہ پہاڑ مراد ہے جہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر تجلی ہوئی اور فاران کی جگہ ھذا البلد الامین فرما دیا جس سے بالاتفاق مکہ معظمہ مراد ہے۔ جو کوہ فاران پر آباد ہے چونکہ حضرت موسیٰ اور آنحضرت (علیہ السلام) ممتاز نبی ہیں اس لیے ان کے مطلع الانوار مواضع کا جداگانہ نام لیا گیا اور یکے بعد دیگرے ترقی ہوتی گئی کیونکہ سب سے زیادہ مرتبہ مکہ معظمہ کا ہے وہیں کے آفتاب نے تمام دنیا کو منور کردیا۔ فائدہ : بعض عرفاء فرماتے ہیں تین سے شجرہ روح قدسیہ کی طرف اشارہ ہے اور زیتون سے شجرہ عقل قدسی کی طرف کہ اسی کی روشنی پھیلتی ہے اور طور سینین سے عارف کے قلب کی طرف اور بلد امین سے محب کے سینہ کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں بیشمار اسرار الٰہی امانت رکھے ہیں۔ بہرحال ان چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم کہ ہم نے انسان کو بڑے عمدہ انداز اور شان میں پیدا کیا ہے۔ ع حق نے کھینچی ہے تیری تصویر اپنے ہاتھ سے اس کے تناسب اجزاء کو دیکھا جائے تو عقل حیران رہ جائے ناک ہے تو کتنی اور کس موقع پر آنکھیں تو کیسی اور کس موقع پر بھوئوں اور پلکوں کی خوبصورتی اس نرگسی آنکھ کا (جس کی سفیدی اور سیاہی کبھی عاشق کو گمراہ کر رہی اور کبھی ہدایت پر لارہی ہے) اور بھی حسن بڑھا رہی ہے۔ پھر ہاتھ ‘ پائوں ہیں تو ایسے قد ہے کہ سرو کو شرما رہا ہے رخساروں کی خوبی آفتاب و ماہتاب کو ماند کر رہی ہے۔ لال لب یاقوت بدخشان کو اور در دنداں مروارید عدن کی لڑی کو شرما رہے ہیں اور حیوانات کو اور اس کو ملا کر دیکھا جائے تو قدرت حق کا تماشا نظر آئے پھر اس کے باطن میں کیا کیا قوتیں عطا کیں کہ اس کو قادر و مرید ‘ سمیع وبصیر مدبر و حکیم و گویا بنا دیا۔ گویا اپنے صفات عالیہ سے حصہ عطا کیا چناچہ اس حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے ان اللہ خلق آدم علی صورتہ کو اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا کیونکہ حق سبحانہ شکل و صورت سے تو پاک ہے لیس کمثلہ شیء ‘ افمن یخلق کمن لا یخلق کہ اس کی کوئی مثل نہیں اور خالق مخلوق جیسا نہیں پھر صفات ہی کی طرف اشارہ سمجھنا چاہیے۔ انسان باطنی لحاظ سے ایک عجیب مجموعہ ہے تمام عالم کا نمونہ ہے۔ سیکڑوں دریا جوش زن ہیں۔ سیکڑوں نہریں پڑی بہ رہی ہیں ‘ سیکڑوں بلند پہاڑ اس میں موجود ہیں۔ آتش فشاں مادے بھی ہیں۔ ہیبتناک پر از ظلمات جہنم کے مشابہ عمیق گڑھے بھی ہیں جن میں گر کر نکلنا مشکل ہے۔ بڑی بڑی کار وادیاں بھی ہیں جن کے بھولے کو خضر ہی رستہ بتا دیں تو بتا دیں اب ان چار نہروں کو ہی دیکھئے کہ رات دن کس زور و شور سے بہا کرتی ہیں۔ شہوت کی نہر ‘ غصہ کی نہر ‘ طمع کی نہر ‘ خیال کی نہر۔ اگر یہ ٹھیک ٹھیک ہیں تو خیر اور جو طغیانی پر آجائیں تو پھر ان کے ڈوبے کبھی نہ ابھریں اسی طرح محبت و عشق کی نہریں ‘ علم و ادراک لیات و جزئیات مادیہ و معانی مجردہ کے دریا رواں ہیں۔ قوائے ملکوتیہ کے بلند پہاڑ ہیں جن میں انجیر اور زیتون اور کیا کیا مفید اور پر ثمر چیزیں ہیں اور قوائے بہیمیہ کے پر خار وادی اور ہیبتناک گڑھے بھی ہیں جن میں سانپ بچھو اور زہریلے جانور رہا کرتے ہیں اور عالم کبیر پر ظلمات کی رات اور انوارِ حق کا دن بھی آتا ہے اور تجلی ذات کا آفتاب اور نور روح کا ماہتاب اور انوار لطائف کے ستارے بھی چمکا کرتے ہیں یہ تو اس کی فطری حالت ہے اب جس نے اس کی اصلاح کی اور ان وادیوں اور گندہ نہروں اور ظلمات سے بچنے میں کوشش کی وہ سعادت کے ملک کا بادشاہ بن گیا اور جس نے کوشش نہ کی بلکہ خود انہیں کی طرف ان کا سبز باغ دیکھ کر جھک پڑا تو شقاوت کے عمیق گڑھے ہیں گرا جو نہایت نیچے ہے۔ اب ان دونوں حالتوں کی طرف ان جملوں میں اشارہ ہوتا ہے ثم رددناہ اسفل سافلین کہ پھر ہم نے اس کو اس کے برے کرتوتوں کے سبب نیچے کے درجہ میں پھینک دیا یا کہو گرا دیا اور جس قدر سافلین ہیں یعنی فروتر اور پست درجہ کے یہ ان سے بھی فروتر ہوگیا اور حیوانات میں تحصیل کمالات کی استعداد نہ تھی اس لیے وہ فرو اور پست ہوئے مگر اس بدنصیب نے باوجود استعداد کے تحصیل کمالات میں کوشش نہ کی بلکہ نقص پیدا کرلیے۔ اس لیے اب ان سے بھی گیا گزرا ہوا۔ اسی بات کی طرف لحاظ کرکے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ یہ چار پایوں کے مانند بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گمراہ ہے۔ الغرض شیطان ہوگیا اور خبیثوں میں مل گیا۔ یہ ایک حالت ہے اور دوسری حالت کی طرف اس استثنیٰ میں اشارہ کرتا ہے الالذین آمنو وعملوا الصالحات فلہم اجر غیر ممنون مگر وہ اس پستی سے مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے یعنی قوت نظریہ و عملیہ کو درست کرلیا وہ ملک سعادت کے بادشاہ ہیں ان کے لیے بےانتہا اجر اور نیک بدلے ہیں جیسا کہ بادشاہوں کو ہر نعمت میسر ہے اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ انسان کو ہم نے نہایت خوشنما قالب میں ڈھالا عمدہ انداز پر بنایا۔ چڑھتی جوانی کی بہار قابل دید ہوتی ہے۔ اس کی ایک حالت ہوئی اب اس کی مرضی بغیر اپنے آسمانی حکم سے اس کی حالت علو کو پلٹا اور بڑھاپے کی پست تر حالت میں پہنچایا لیکن ایمانداروں نیکوں کو اس پر بھی دار آخرت میں ایک نئی زندگانی اور بلندی ہے جس اجر غیر ممنون سے تعبیر کیا۔
Ayahs 95:6–8ترکیب ¦ فما استفہامیۃ ای شی وقیل بمعنی من یکذبک الکاف مفعول یکذب و فاعلہ ضمیر یرجع الیٰ ماوالباء للسببیۃ فی بالدین وانطرف متعلق بالفعل۔ اللہ فاعل لیس ‘ باحکم الحاکمین خبرھا والا استفھام اذا دخل علی النفی صار الکلام ایجا با و تقریرا فما یکذبک الخ قال الفراء تقدیرہ فمن یکذبک یا محمد بعد ظھور ھذہ الدلائل بالدین وقیل الخطاب للانسان والمعنی فما الذی یلجئک بعد ظھور الامرایھا الانسان الی تکذیب الجزاء۔
تفسیر ¦ جب اے انسان ! تجھے یہ معلوم ہوگیا کہ حق نے تجھے عمدہ اور بہتر سے بہتر انداز اور شان میں پیدا کیا ہے اور پھر تیری حالت کو باعتبار ظاہر کے بھی ایسا پلٹا ہے کہ بوڑھا ہوجاتا ہے ‘ نہ آنکھوں میں نور رہتا ہے ‘ نہ چہرہ پر تازگی قدر عنا کمان کی طرح جھک جاتا ہے ‘ دانتوں کی لڑیاں ٹوٹ پڑتی ہیں ‘ بھاڑ سا پوپلا منہ کھلا برا معلوم ہوتا ہے اور صدہا نقصان پیدا ہوجاتے ہیں ع پیری و صد عیب چنیں گفتہ اند۔ اور باطن میں بھی تغیر ہوتا ہے کہ یا تو فطرت سادہ تھی پھر برے کاموں سے شیطان اور بھوت ہوجاتا ہے پھر اس صنعت وقدرت و کمال کے دیکھنے کے بعد فما یکذبک بعد بالدین وہ کونسی دلیل اور کونسی وجہ تیرے پاس ہے جو تجھے دار آخرت کے انکار پر مجبور کر رہی ہے یا کہو اے نبی علیک السلام ! اس بیان اور ان حالات کے سننے کے بعد وہ کونسا تیرہ باطن ہے جو تمہیں قیامت اور اعمال کی جزاء و سزا کے معاملہ میں جھٹلا دے گا۔
اور اگر اس پر بھی باور نہیں الیس اللہ باحکم الحاکمین تو پھر کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے زیادہ حاکم نہیں ؟ ضرور ہے۔ اس کو تو سب مانتے ہیں اور عقل کی آنکھوں سے روز دیکھتے ہیں اس کے حکم سب پر نافذ ہوتے ہیں۔ بڑے بادشاہ کو دیکھو جس کے پاس لشکر اور خزانہ اور ملک اور حکماء و عقلاء کی آنکھوں سے روز دیکھتے ہیں اس کے حکم سب پر نافذ ہوتے ہیں۔ بڑے بادشاہ کو دیکھو جس کے پاس لشکر اور خزانہ اور ملک اور حکماء و عقلاء سحر کار سب حاضر ہیں مگر وہ بھی جلیل و جبار کا زیر فرمان اسی طرح سے ہے کہ جس طرح ایک ادنیٰ فقیر و مفلس و بیکس اس بادشاہ کے ذاتی تغیرات لڑکپن اور جوانی اور بےاختیار بڑھاپا اور پھر بیماری و تندرستی پھر موت اور اس کے اعزہ کی بیماری اور موت اسی طرح سے ہے کہ جس طرح غریبوں کی۔ وہ بادشاہ ان میں سے ایک کو بھی ٹال نہیں سکتا۔ پھر جب دنیاوی بادشاہ اپنی عدالت کا قایم کرنا لوازمہ سطنت جانتے ہیں بدوں کو سزائیں دیتے ہیں ‘ خیر خواہان سلطنت اور فرمانبرداروں کو انعام عطا کرتے ہیں پھر کیا وہ سب سے بڑا حاکم اپنے نافرمانوں سرکشوں ‘ بندگان خدا پر ظلم و ستم کرنے والوں ‘ بدکاروں منکروں کو یوں ہی چھوڑ دے گا اور مطیع و فرمانبرداروں کی طاعت ضائع کردے گا۔ ہرگز نہیں اور دنیا تو اس جزاء و سزا کا مقام نہیں کس لیے کہ یہ تو اخیر عمر تک دارالعمل ہے پھر ضرور ہے کہ اور دوسرا جہان دارالجزاء ہو اور یہی مدعٰی ہے یہ دوسری دلیل اثبات جزاء و سزا پر تھی۔
ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً منقول ہے کہ جب کوئی اس جملہ الیس اللہ الخ کو پڑھے تو کہے بلیٰ وانا علی ذالک من الشاھدین کہ ضرور ہے اور میں بھی گواہ ہوں۔ روایت کیا اس کو ترمذی و ابن مردویہ وغیرہ نے۔ احناف کے نزدیک یہ جملہ نماز میں زبان سے نہ کہے صرف دل سے اور بیروں نماز کہے اور ائمہ ہر جگہ کہنے کا حکم دیتے ہیں۔ اللہ اکبر