Ayah 95:1(وَالتِّيْنِ ) انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح (الزَّيْتُوْنِ ) زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نبوت کا محل ومقامل ہے کثرت ہے۔
Ayah 95:2(وَطُوْرِ سِيْنِيْنَ ) طور سینا کی قسم۔ جو حضرت موسیٰ کی نبوت کا مقام ہے۔
Ayah 95:3( وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ ) اور اس امن والے شہر کی۔ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول اللہ کی نبوت کا محل ومقام ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیا میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔
Ayahs 95:4–5اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ) ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضا اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے اس سے محروم نہیں۔ ان عظیم نعمتوں کے باوجود جن کا شکر کیا جانا چاہیے اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف ور لہو لعب میں مشغول ہے لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹادیا یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔
Ayah 95:6( فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ ) پس ان کے لیے ان اعمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور منقطع نہ ہونے والا اجر ہے بلکہ ان کے لی وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہوگا وہ ایسی نعمتوں بھری جنت میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔
Ayah 95:7(فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ ) پس اے انسان کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا اور سزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہوسکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہے کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جس کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔
Ayah 95:8(اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ ) کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بےکار اور مہمل چھوڑ دیا جائے ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکاجائے ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیاجائے ؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کوئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کرسکتے بہترین طیرقے سے ان کی پرورش کی، ضرور ان کو گھر کیط رف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت وانتہا جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔