At-Tin 95:2

At-Tin · from ayah 2

95:2

وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ ۟ۙوَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَۙ

اور طور سینین کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [by] Mount Sinai

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tin

All translations of 95:2

اور طور سینین کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور طور سِینِین کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور صحرائے سینا کے پہاڑ طور کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور سینا کے (پہاڑ) طور کی قَسم،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور طور سینین کی !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور طور سینا کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور گواہ ہے طور سینا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور طور سینین کی

— محترمہ رفعت اعجاز

and by Tur, the mount of Sinai,

— Muhammad Taqi Usmani

and by Tur, the mount of Sinai,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And [by] Mount Sinai

— Saheeh International

by Mount Sinai

— Muhammad Sarwar

And mount Sinai,

— Muhammad Habib Shakir

By Mount Sinai,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 95:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

تین سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے زیتون سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، طور سینین وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا بلد الامین سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر بھیجے گئے تھے، تین سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–3

سورة التِّیْن 2 اصل میں " طُورِ سِينِينَ " فرمایا گیا ہے۔ سینین جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے۔ اس کو سینا یا سینا بھی کہتے ہیں اور سینین بھی خود قرآن میں ایک جگہ طور سینا کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اب چونکہ وہ علاقہ جس میں کوہ طور واقع ہے سینا ہی کے نام سے مشہور ہے اس لیے ہم نے ترجمہ میں اس کا یہی مشہور نام درج کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر قسم ہے انجیر (کے درخت) کی اور زیتون (کے درخت) کی اور طور سینین کی اور اس امن والے شہر (یعنی مکہ معظمہ) کی کہ ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے پھر (ان میں جو بوڑھا ہوجاتا ہے) ہم اس کو پستی کی حالت والوں سے بھی پست تر کردیتے ہیں (یعنی وہ خوبصورتی بدصورتی سے اور قوت صنعف سے بدل جاتی ہے اور برے سے برا ہوجاتا ہے مقصود اس سے بیان کرنا کمال قبح کا ہے جس سے ان کے دوبارہ پیدا کرنے پر حق تعالیٰ کی قدرت ہونا واضح ہوتا ہے کقولہ تعالیٰ اللہ الذی خلقنکم من ضعف الخ اور مقصود اس سورت کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت دوبارہ پیدا کرنے اور زندہ کرنے پر ثابت کرنا ہے جیسا کہ فما…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

طور سینا: ان دونوں کا مقام ہونا تو بالکل واضح ہے لیکن طور سینین میں لفظ سینا، جو سینین ہو گیا ہے، اس کی تحقیق مولانا کے نزدیک یہ ہے: ’’قرآن میں ایک جگہ ’طُوْرِ سَیْنَآءَ‘ (المومنون ۲۳: ۲۰) بھی آیا ہے یعنی ایک جگہ یہ مؤنث کی صورت میں ہے اور دوسری جگہ جع سالم کی شکل میں۔ جیسے عربی میں ’جمعًا‘ اور ’اَجْمَعُوْنَ‘ مستعمل ہیں۔ تورات میں کہیں ’سینا‘ آیا ہے اور کہیں ’سینیم‘ اور معلوم ہے کہ عبرانی میں ’یم‘ جمع کی علامت ہے۔‘‘؂۱ طور سینین کی شہادت جزا پر طور سینین کی شہادت کی تفصیل کرتے ہوئے مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’طور سینین کی شہادت جزا پر بالکل واضح ہے۔ یہی مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 یہ وہی کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ سے ہم کلام ہوا تھا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: انجیر اور زیتون فلسطین اور شام میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ان سے فلسطین کے علاقے کی طرف اشارہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا، اور انہیں انجیل عطا فرمائی گئی تھی۔ اور صحرائے سینا کا پہاڑ طور وہ ہے جس پر حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا، اور آپ پر قرآن کریم نازل ہوا۔ ان تینوں کی قسم کھانے سے مقصود یہ ہے کہ جو بات آگے کہی جا رہی ہے، وہ ان تینوں کتابوں میں درج ہے، اور تینوں پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو بتائی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

اللہ انسانی فطرت مستقیمہ پر انجیر ، زیتون ، طور سینا اور پرامن شہر مکہ کی قسم اٹھائی ہے۔ اور یہ قسم دراصل اس حقیقت یعنی فطرت انسان کے لئے ایک موزوں اور مناسبت فریم کا کام دیتی ہے۔ ہم اس سے قبل ثابت کرچکے ہیں کہ جس حقیقت کی تصویر کو فریم کرنے کے لئے جن مناظر قدرت کی قسم اٹھائی جاتی ہے اس حقیقت اور مناظر قدرت کے درمیان ایک خاص مناسبت ہوتی ہے اور یہ کسی جگہ واضح اور کسی جگہ بہت دقیق ولفیف ہوتی ہے۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس کے دامن میں اللہ اور موسیٰ علیہ اسلام کے درمیان مکالمہ ہوا تھا اور بلد امین سے مراد شہر مکہ ہے۔ ان دونوں مقامات کا دینی حقائق کے ساتھ تعلق بالکل واضح ہے۔ انجیر اور زیتون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–3

1 " طور سینین " یا " طور سینا " وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی بخشا۔ اور " امن والا شہر " مکہ معظمہ ہے جہاں سارے عرب عالم کے سردار حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے اور اللہ کی سب سے بڑی اور آخری امانت (قرآن کریم) اول اسی شہر میں اتاری گئی۔ تورات کے آخر میں ہے " اللہ طور سینا سے آیا اور ساعیر سے چمکا (جو بیت المقدس کا پہاڑ ہے) اور فاران سے بلند ہو کر پھیلا۔ " (فاران مکہ کے پہاڑ ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 3{ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ۔ } ”اور گواہ ہے یہ امن والا شہر۔“ التِّین کے معنی انجیر کے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قوم نوح علیہ السلام کے علاقے میں ایک بڑے پہاڑ کا نام بھی جبل التِّین تھا اور یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اسی پہاڑ کے دامن میں ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ کے فرائض سرانجام دیے۔ اسی طرح الزَّیْتُون سے مراد زیتون کا پھل اور درخت بھی ہے اور وہ پہاڑی بھی جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکثر تبلیغی خطبات دیا کرتے تھے۔ ان خطبات میں سے آپ علیہ السلام کا ایک خطبہ ”پہاڑی کے وعظ“ Sermon of the Mount کے نام سے خاص طور پر مشہور ہے۔ تیسری قسم وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ کا تعلق حضرت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 طور سینین کو سورة المومنون کی آیت نمبر 20 میں طور سیناء کہا گیا ہے۔ اور آج کل بھی سیناء کا نام سیناء ہی ہے۔ یہ ایک بلند پہاڑ ہے جو مصر سے مدین یا مدین سے مصر جاتے ہوئے راستہ میں پڑتا ہے۔ اسی پہاڑ کی ایک چوٹی کا نام طور ہے۔ اور اسی پہاڑ کے دامن میں وادی کا نام طویٰ ہے جسے قرآن میں وادی مقدس اور البقعۃ المبارکہ بھی کہا گیا ہے۔ اسی مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی اور دو دفعہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ یعنی مکہ معظمہ کی (آیت) ” طور سینین “۔ جزیرہ نمائے سینا کا وہ پہاڑ ہے، جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قانون شریعت ملا تھا۔ (آیت) ” واتین والزیتون “۔ انجیر وزیتون دونوں کے درخت شام اور اس کے اطراف میں کثرت سے پائے جاتے تھے، اور ان کے پھل منافع سے لبریز ہوتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ (آیت) ” البلدالامین “۔ سے اشارہ شریعت محمدی ﷺ کی طرف ہو۔ اور (آیت) ” طور سینین “۔ سے شریعت موسوی کی طرف اور زیتون سے مواعظ مسیحی کی جانب (حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنا مشہور وعظ کوہ زیتون ہی پر ارشاد فرمایا تھا) اور انجیر سے بعض علماء عصر کا خیال ہے کہ ہندوستان کے گوتم بدھ کی طرف اشارہ (بشرط اثبات نبوت) نکل سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–3

وطور سینین، سینین جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے اس کو سینا اور سینا بھی کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و طور سینین . طور وہ پہاڑ جس پر اللہ نے موسیٰ سے کلام فرمایا تھا۔ یہ مصر اور ایلہ کے درمیان واقع ہے۔ ضحاک نے سینین کو نبطی لفظ قرار دیا ہے جس کا معنی ہے خوبصورت یا اچھا۔ مقاتل نے کہا : جس پہاڑ پر پھلدار درخت ہوں اس پہاڑ کو نبطی زبان میں سینین اور سینا کہتے ہیں۔ عکرمہ ؓ نے کہا : وہ خطبہ جہاں طور واقع ہے اس کو سینین اور سینا کہا جاتا ہے۔ بعض نے اس کو سریانی لفظ کہا ہے جس کا معنی ہے ‘ گھنے درختوں کا پہاڑ ‘ کسی نے حبشی لفظ کہا ہے۔ مجاہد نے کہا : سینین کا معنی ہے ‘ برکت یعنی برکت والا پہاڑ۔ قتادہ نے کہا اچھا (یاخوبصورت) پہاڑ۔ کلبی نے کہا : سینین کا معنی ہے درخت یعنی درختوں والا پہاڑ۔ بعض نے کہا :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–3

(1۔ 3) قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور کہا گیا ہے کہ یہ شام میں دو مسجدیں ہیں یا یہ کہ دو پہاڑ ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ ”تین“ اس پہاڑ کا نام ہے جس پر ”بیت المقدس“ ہے اور ”زیتون ‘ اس پہاڑ کا نام ہے ج سپر دمشق ہے۔ اور قسم ہے جبل کی یہ مدین میں ایک پہاڑ ہے جس پر موسیٰ ؑ کو شرف کلامی نصیبت ہوئی۔ قبطی زبان میں ہر ایک پہاڑ کو طور کہتے ہیں اور سینین اس پہاڑ کو جس پر عمدہ درخت ہوں اور اس امن والے شہر یعنی مکہ مکرمہ کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وطور سینین): طور سینا جہاں اللہ تعالیٰ موسیٰ ؑ سے ہم کلام ہوئے۔ مزید دیکھیے سورة مومنون (20)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وطور سینین۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے طور کے بارے میں یہ قول نقل کیا ہے کہ طور پر ایک پہاڑ ہے۔ اور سینین سریانی زبان میں مبارک کو کہتے ہیں۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے یہ قول نقل کیا ہے کہ طور پہاڑ ہے اور زینین کا معنی ہے خوبصورت۔ قتادہ نے کہا، سینین سے مراد مبارک خوبصورت ہے عکرمہ نے کہا، اس سے مراد وہ پہاڑ ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ندا کی تھی مقاتل اور کلبی نے کہا، سینین ہر اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس میں پھل دار درخت ہو۔ یہ نبط کی لغت میں سینین اور سیناء ہے عمر بن میمون نے کہا میں نے مکہ مکرمہ میں حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ آپ نے اس سورت کی تلاوت کی اور طور سیناء پڑھ ا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة التین مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ مالک وابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں تھے آپ نے عشاء پڑھائی اور اس کی دور رکعتوں میں سے ایک میں آیت والتین والزیتون پڑھی میں نے کسی سے ایسی آچھی آواز اور ایسی اچھی قراءت نہیں سنی۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبد بن حمید نے اپنی مسند میں والطبرانی نے عبداللہ بن یزید ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورة والتین والزیتون پڑھی۔ 4۔ الخیب نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

اوپر سورة ٴ والتین کا ترجمہ لکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے تین اور زیتون اور البلد الامین (شہر مکہ مکرمہ) اور طور سینین کی قسم کھا کر انسان کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے احسن تقویم میں پیدا کیا پھر اسے پست ترین حالت میں لوٹا دیا۔ تین انجیر کو کہتے ہیں اور زیتون ایک مشہور درخت ہے جس کے پھلوں سے تیل نکالتے ہیں جسے سورة النور میں شجرۃ مبارکۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ تیسرا مقسم بہ (جس کی قسم کھائی گئی) ﴿ طُوْرِ سِيْنِيْنَۙ002﴾ ہے۔ اسی کو سورة ٴ مومنون میں ﴿طُوْرِ سَيْنَآءَ ﴾ فرمایا ہے یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ مفسرین کرام نے فرمایا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔ آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–3

3:۔ ” وطور سینین “ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل نقلی ہے۔ ” سینین “ وہی مشہور پہاڑ یعنی طور سینا ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رب العزت جل جلالہ کے ساتھ ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ ” وھذا البلد الامین “ اس سے مکہ مکرمہ مراد ہے اور یہ دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے۔ ” امین “ بمعنی آمن ہے یعنی پر امن جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ انا جعلنا حرما امنا۔ (عنکبوت رکوع 7) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم اٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اس سے بہتر صورت اللہ نے کسی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتا ہے۔ تو واقعی وہ کائنات کی بہترین ہستی ہے اور اگر وہ ان فرائض کی بجا آوری نہیں کرتا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ذلیل چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان کائنات کی حقیر سے حقیر چیز سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ چار چیزوں کی قسم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا والتین والزیتون قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ، عربی زبان میں تین انجیر کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَطُوْرِ سِيْنِيْنَ۝ 2 ۙ طور طَوَارُ الدّارِ وطِوَارُهُ : ما امتدّ منها من البناء، يقال : عدا فلانٌ طَوْرَهُ ، أي : تجاوز حدَّهُ ، ولا أَطُورُ به، أي : لا أقرب فناء ه . يقال : فعل کذا طَوْراً بعد طَوْرٍ ، أي : تارة بعد تارة، وقوله : وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] ، قيل : هو إشارة إلى نحو قوله تعالی: خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ، وقیل : إشارة إلى نحو قوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] ، أي : مختلفین في الخَلْقِ والخُلُقِ. والطُّورُ اسمُ جبلٍ مخصوصٍ ، وقیل : اسمٌ لكلّ جبلٍ وقیل : هو جبل محیط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ والتین الوا وللقسم والزیتون وطور سینین وھذا لبلدالامین معطوف علیہ لقد خلقنا الانسان الجملۃ المصدرۃ بلام التاکید وقد الی آخرھا جواب القسم۔ والقسم مع جو ابہ جملۃ فعلیۃ۔ والمراد بالتین والزیتون عند المجھور الشجرتان المعروفتان وقیل الجبلان وقیلا البلدان و طور جھل کلم اللہ علیہ موسیٰ (علیہ السلام) فی ناحیۃ الشمال والغرب من العرب وھو مضاف الی سینین عند الخاۃ سینین و سیناء اسمان للمکان الذی حصل فیہ الجبل المذکور۔ وقال ابو علی الفارسی سینین فعلیل کر رت اللام التیھی نون فیہ ولم ینصرف سینسین کمالم ینصرف سیناء لا نہ علم للبقعۃ وعجمی ای سریانی ولذا اختلفت عادۃ العرب فی تعریبہ فقیل سینین وقیل سینا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ ۔ وَھٰذَا الْبَلَدِالْاَمِیْنِ ۔ (التین : 2، 3) (اور قسم ہے طورسینین کی۔ اور اس پرامن سرزمین (مکہ) کی۔ ) طُوْرِ سِیْنِیْنَ … سِیْنِیْنَ ، جزیرہ نما سینا کا دوسرا نام ہے۔ اس کو سینا اور سینا بھی کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی سورة المومنون میں طُوْرِسَیْنَائَ مونث کی صورت میں آیا ہے۔ اور یہاں جمع سالم کی شکل میں۔ اور بَلَدِالْاَمِیْنِ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ طورِسِینین کی شہرت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ہے۔ اور بلدالامین کی پہچان بیت اللہ، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل (علیہم السلام) اور آنحضرت ﷺ ہیں۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : الم نشرح کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جونہی فراغت میسر ہو تو آپ اپنے رب کو یاد کیا کریں۔ التّین کی ابتداء میں چار قسمیں اٹھانے کے بعد ہر انسان کو یہ بات باور کروائی ہے کہ جس طرح اسے بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، اسی طرح انسان کو بہتر سے بہتر اعمال کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہترین اعمال کا خلاصیہ یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے حکم کو یاد رکھا جائے۔ رب کریم نے اس سورة مبارکہ میں انسان کو اس کے مقام اور مرتبے کا احساس دلانے کے لیے چار چیزوں کی قسمیں اٹھائی ہیں۔ انجیر اور زیتون کی قسمیں اٹھائیں جس میں انجیر اور زیتون کے فوائد کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ بیت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ (اور طور سینین کی) طور کی اضافت سینین کی طرف کی۔ طورپہاڑ اور سینین وادی ہے۔ یہ سینون، یبرون کی طرح وائو اور یاء کے ساتھ اعراب پاتا ہے یاء کو برقرار رکھتے ہوئے نون کو تینوں حرکات دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” وطور سینین “ یعنی وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کی اور ہم نے اس کا معنی اللہ تعالیٰ کے قول ” وشجرۃ تخرج من طور سینائ “ پر ذکر کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ انجیر اور زیتون یہی مشہور دونوں پیڑ ہیں طور سینین اور طور سینا اس پہاڑ کا نام ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے باتیں کیں تھی۔ بلدامین سے مراد مکہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بلکہ جانروں تک کو ہر طرح کا امن ہے۔ اب اس قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے لیکن سفیان ثوری کا قول اوپر گزر چکا کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول مل جائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے کسی دوسرے کے قول کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر سیکھنے کی غرض سے مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تیس دفعہ قرآن شریف پڑھا ہے اور ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–4

(2) طور سیناء کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے " طور سینائ " کی۔ یہاں ’ ’ طور سنین " فرمایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر اس کو " طور سینائ " فرمایا گیا ہے سو " سینین " دراصل جزیرہ نمائے سینا ہی کا دوسرا نام ہے، اب چونکہ یہ سارا ہی علاقہ جس میں کوہ طور واقع ہے اور جو اب مصر کے قبضہ میں ہے، صحرائے سینا کے نام سے مشہور و معروف ہے اس لیے ہم نے اپنے ترجمے میں اسی مشہور نام کو اختیار کا ہے ورنہ اصل میں اس کے یہ تینوں ہی نام صحیح ہیں ( روح، صفوۃ، خازن وغیرہ) سو جب ان دونوں آیات کریمہ میں مقامات یعنی " طور سینائ " اور " بلد امین " یعنی مکہ مکرمہ کا ذکر ہے تو اس میں اس امر کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟ تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔ پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة التین۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی کہ دونوں پھل ہیں جو انسانی بدن کو حسین بناتے ہیں خون صاف کرتے ہیں معدہ درست کرتے ہیں اعضاء رئیسہ کو طاقت بخشتے ہیں اور چہرے پر بشاشت لاتے ہیں اور قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس شہر امین کی کہ یہ دونوں تجلیات ذاتی کامرکز ہونے کے سبب باطنی اور قلبی خوبصورتی عطا کرتے ہیں یعنی یہ چاروں کہ دو حسن ظاہر کا سبب ہیں اور دو کمال باطن کا اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو سب سے خوبصورت پیدا فرمایا شکل و صورت ، اعضا وپیوند ، عقل وخرد ، فکر و شعور ، اور باطنی طور پر ان کمالات کا حامل کہ یہ مشت عبار عشق الٰہی کا دعوی کرے اس قدرحسین امتزاج کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 16 انجیر اور زیتون دو مشہور پھل ہیں جو متعدد پہلوئوں سے انسانی صحت کے لئے نہایت مفید ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(95:2) وطور سینین۔ واؤ قسمیہ، طور مضاف۔ سینین مضاف الیہ اور قسم ہے سینین یا سیناء کے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا تھا۔ سینین کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) ضحاک نے سینین کو نبطی لفظ قرار دیا ہے جس کے معنی ہیں خوبصورت۔ اچھا ۔ (2) مقاتل نے کہا ہے کہ جس پہاڑ پر پھل دار درخت ہوں اس کو نبطی زبان میں سینین اور سیناء کہتے ہیں۔ (3) عکرمہ کا قول ہے کہ وہ خط جہاں طور واقع ہے اس کو سینین اور سیناء کہتے ہیں۔ (4) بعض نے اس کو سریانی لفظ کہا ہے جس کے معنی ہیں گھنے درختوں کا پہاڑ۔ (5) کسی نے کہا ہے کہ حبشی لفظ ہے۔ (6) کلبی نے کہا ہے کہ اس کا معنی درخت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔ تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) یہ وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو کلام سے مشرف فرمایا اور سینا اس جگہ کا نام ہے جہاں یہ پہاڑ واقع ہے یا بمعنی خوش منظر کے ہے جہاں کثرت سے پھل دار درخت ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–3

[3] طور سینا وہ پہاڑ ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو قانون شریعت ملا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شرف ہم کلامی بخشا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 9۔ یعنی وہ خوبصورتی اور قوت مبدل بہ قبح و ضعف ہوجاتا ہے اور برے سے برا ہوجاتا ہے، اس سے مقصود کمال قبح کا بیان کرنا ہے جس سے قدرت علی الاعادہ پر کافی استدلال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور طور سینا کے رب کی قسم 2 ؎ (سینین ) وہی کوہ سینا ہے اور اس کو اس جگہ ( سینین) کہا گیا ہے ۔ یہ پہاڑ ہے جس پہاڑ پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی گئی تھی ۔ اس کو فقط طور پر کہا جاتا ہے اور ( طور سینین) بھی کہا گیا ہے اور سینا بھی ۔ ینا بکسر اولیٰ بھی پڑھا گیا ہے اور فتح اول میں آتا ہے ۔ شام میں ایک موضع کا نام بھی بتایا جاتا ہے جس کی طرف طور کی نسبت کی جاتی ہے اور طور سینا کہا جاتا ہے ۔ یہ وہی پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی سے نوازا تھا اور یہ وہ مقام ہے جہاں ایک درخت تھا جس سے موسیٰ (علیہ السلام) کو روشنی نظر آئی تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جگہ بہت گھنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Commentary وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ (I swear by the Fig and the Olive...95:1). This verse takes an oath by four objects. Two of them are trees, the fig tree and the olive tree. [ The third object ] is Tur, the mount of Sinai, and the fourth object is the City of Makkah. The two trees have been specified because they possess abundant blessings and advantages in the same way as Tur and the City of Makkah possess abundant blessings. Some authorities say that the 'fig' and the 'olive' symbolise, in this context, the lands in which these trees predominate: that is, the countries bordering on the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

2 The words in the original are Tur- i-Sinin. Sinin is another name for the Sinai Peninsula. It is called Sama or Sina as well as Sinin. In the Qur'an itself at one place the words Tur-i-Sinin. have been used. Since the land in which Mt. Sinai is located is well known as Sina, we have adopted this well known name in the translation.

Read the full tafseer →