وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ۟ۙوَهٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِۙ
اور اس امن والے شہر کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] this secure city [Makkah],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz
وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ۟ۙوَهٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِۙ
اور اس امن والے شہر کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] this secure city [Makkah],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz
Read the whole surah · Surah At-Tin
اور اِس پرامن شہر (مکہ) کی
اور اس امن والے شہر کی
اور اس امن والے شہر کی
اور اس امن وامان والے شہر کی۔
اور اس امان والے شہر کی
اور اس امن والے شہر (مکہ) کی قَسم،
اور اس امن والے شہر کی !
اور اس پُر امن شہر (مکہ) کی
اور یہ پرامن سرزمین
اور اس امن والے شہر (مکہ مکرمہ) کی
اور اس امن والے شہر کی۔
اور گواہ ہے یہ امن والا شہر۔
اور اس امن والے شہر کی
and by this city (of Makkah), a haven of peace:
and by this peaceful city,
and by this peaceful city,
By this city of security.
And by this land made safe;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] this secure city [Makkah],
and by this inviolable city, Mecca.
And this city made secure,
By the yonder secure city,
And this City of security,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
تین سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے زیتون سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، طور سینین وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا بلد الامین سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر بھیجے گئے تھے، تین سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة التِّیْن 2 اصل میں " طُورِ سِينِينَ " فرمایا گیا ہے۔ سینین جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے۔ اس کو سینا یا سینا بھی کہتے ہیں اور سینین بھی خود قرآن میں ایک جگہ طور سینا کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اب چونکہ وہ علاقہ جس میں کوہ طور واقع ہے سینا ہی کے نام سے مشہور ہے اس لیے ہم نے ترجمہ میں اس کا یہی مشہور نام درج کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر قسم ہے انجیر (کے درخت) کی اور زیتون (کے درخت) کی اور طور سینین کی اور اس امن والے شہر (یعنی مکہ معظمہ) کی کہ ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے پھر (ان میں جو بوڑھا ہوجاتا ہے) ہم اس کو پستی کی حالت والوں سے بھی پست تر کردیتے ہیں (یعنی وہ خوبصورتی بدصورتی سے اور قوت صنعف سے بدل جاتی ہے اور برے سے برا ہوجاتا ہے مقصود اس سے بیان کرنا کمال قبح کا ہے جس سے ان کے دوبارہ پیدا کرنے پر حق تعالیٰ کی قدرت ہونا واضح ہوتا ہے کقولہ تعالیٰ اللہ الذی خلقنکم من ضعف الخ اور مقصود اس سورت کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت دوبارہ پیدا کرنے اور زندہ کرنے پر ثابت کرنا ہے جیسا کہ فما…
Read the full tafseer →بلد امین سے مکہ مراد ہے: ’بلد امین‘ سے ظاہر ہے کہ مکہ مراد ہے لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاف الفاظ میں مکہ کیوں نہیں کہا، صفت کے ساتھ کیوں اس کا ذکر کیا۔ اس سوال کا جواب ہم آگے ان شاء اللہ جب مقسم علیہ سے ان قسموں کے تعلق کی وضاحت کریں گے، دیں گے۔ بلد امین کی شہادت جزا پر بلد امین سے مراد ظاہر ہے کہ مکہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے ایک مامون گھر بنایا ہے، چنانچہ فرمایا ہے: ’وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا‘ (آل عمران ۳: ۹۷) (اور جو اس میں داخل ہوا وہ مامون ہوا)۔ جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی کافر قوم سے ہجرت کر کے اس علاقہ میں آئے ہیں یہ بالکل غیر آباد و غیر مامون تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ…
Read the full tafseer →3۔ 1 اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہوجائے، اسے بھی امن حاصل ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر پیغمبر مبعوث ہوئے، انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں پر اس کی پیداوار ہوئی اور وہ ہے بیت المقدس، جہاں حضرت عیسیٰ پیغمبر بن کر آئے، سنین پر حضرت موسیٰ کو نبوت ملی، اور شہر مکہ میں سیدالرسل حضرت محمد کی بعثت ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: انجیر اور زیتون فلسطین اور شام میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ان سے فلسطین کے علاقے کی طرف اشارہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا، اور انہیں انجیل عطا فرمائی گئی تھی۔ اور صحرائے سینا کا پہاڑ طور وہ ہے جس پر حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا، اور آپ پر قرآن کریم نازل ہوا۔ ان تینوں کی قسم کھانے سے مقصود یہ ہے کہ جو بات آگے کہی جا رہی ہے، وہ ان تینوں کتابوں میں درج ہے، اور تینوں پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو بتائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ انسانی فطرت مستقیمہ پر انجیر ، زیتون ، طور سینا اور پرامن شہر مکہ کی قسم اٹھائی ہے۔ اور یہ قسم دراصل اس حقیقت یعنی فطرت انسان کے لئے ایک موزوں اور مناسبت فریم کا کام دیتی ہے۔ ہم اس سے قبل ثابت کرچکے ہیں کہ جس حقیقت کی تصویر کو فریم کرنے کے لئے جن مناظر قدرت کی قسم اٹھائی جاتی ہے اس حقیقت اور مناظر قدرت کے درمیان ایک خاص مناسبت ہوتی ہے اور یہ کسی جگہ واضح اور کسی جگہ بہت دقیق ولفیف ہوتی ہے۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس کے دامن میں اللہ اور موسیٰ علیہ اسلام کے درمیان مکالمہ ہوا تھا اور بلد امین سے مراد شہر مکہ ہے۔ ان دونوں مقامات کا دینی حقائق کے ساتھ تعلق بالکل واضح ہے۔ انجیر اور زیتون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
1 " طور سینین " یا " طور سینا " وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی بخشا۔ اور " امن والا شہر " مکہ معظمہ ہے جہاں سارے عرب عالم کے سردار حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے اور اللہ کی سب سے بڑی اور آخری امانت (قرآن کریم) اول اسی شہر میں اتاری گئی۔ تورات کے آخر میں ہے " اللہ طور سینا سے آیا اور ساعیر سے چمکا (جو بیت المقدس کا پہاڑ ہے) اور فاران سے بلند ہو کر پھیلا۔ " (فاران مکہ کے پہاڑ ہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3{ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ۔ } ”اور گواہ ہے یہ امن والا شہر۔“ التِّین کے معنی انجیر کے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قوم نوح علیہ السلام کے علاقے میں ایک بڑے پہاڑ کا نام بھی جبل التِّین تھا اور یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اسی پہاڑ کے دامن میں ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ کے فرائض سرانجام دیے۔ اسی طرح الزَّیْتُون سے مراد زیتون کا پھل اور درخت بھی ہے اور وہ پہاڑی بھی جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکثر تبلیغی خطبات دیا کرتے تھے۔ ان خطبات میں سے آپ علیہ السلام کا ایک خطبہ ”پہاڑی کے وعظ“ Sermon of the Mount کے نام سے خاص طور پر مشہور ہے۔ تیسری قسم وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ کا تعلق حضرت…
Read the full tafseer →4 البلد الامین یعنی شہر مکہ معظمہ جہاں طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل (علیہما السلام) نے مل کر دوبارہ کعبہ تعمیر کیا تھا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنی ساری زندگی یہیں بسر کی تھی اور جہاں افضل الانبیاء نبی آخرالزمان پیدا ہوئے۔ یہیں آپ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی اور نبوت کے بعد تیرہ سال یہیں گزارے۔ اسی مقام کے لیے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اس شہر کو محترم اور امن والا بنا دے۔ اور اڑھائی ہزار سال گزرنے کے بعد اس شہر کا احترام بدستور قائم رہا۔ عرب بھر میں ہر جگہ لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا تھا۔ بس یہی ایک جگہ تھی جہاں لوگوں کو امن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی مکہ معظمہ کی (آیت) ” طور سینین “۔ جزیرہ نمائے سینا کا وہ پہاڑ ہے، جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قانون شریعت ملا تھا۔ (آیت) ” واتین والزیتون “۔ انجیر وزیتون دونوں کے درخت شام اور اس کے اطراف میں کثرت سے پائے جاتے تھے، اور ان کے پھل منافع سے لبریز ہوتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ (آیت) ” البلدالامین “۔ سے اشارہ شریعت محمدی ﷺ کی طرف ہو۔ اور (آیت) ” طور سینین “۔ سے شریعت موسوی کی طرف اور زیتون سے مواعظ مسیحی کی جانب (حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنا مشہور وعظ کوہ زیتون ہی پر ارشاد فرمایا تھا) اور انجیر سے بعض علماء عصر کا خیال ہے کہ ہندوستان کے گوتم بدھ کی طرف اشارہ (بشرط اثبات نبوت) نکل سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وطور سینین، سینین جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے اس کو سینا اور سینا بھی کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →و ھذا البلد الامین . الامین : امانت والا۔ امین ‘ مال امانت کی حفاظت رکھتا ہے (امین کے پاس مال محفوظ اور مامون رہتا ہے) اس لیے اس کو امین کہتے ہیں یا (امن سے مشتق ہے اور) اسم فاعل کے معنی میں ہے یعنی جو اس میں داخل ہوتا ہے ‘ اس کو یہ شہر امن دیتا ہے یا اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی جو اس میں داخل ہوتا ہے ‘ مامون ہوتا ہے۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے ‘ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں مکہ مقام امن تھا۔ اللہ نے ان چیزوں کی قسم اس لیے کھائی کہ (یہ تمام مقامات برکت والے ہیں) انجیر اور زیتون کی پیدائش گاہ ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت گاہ ‘ انبیاء کی قرار گاہ اور نزول وحی کا مقام ہے۔ طور وہی جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور کہا گیا ہے کہ یہ شام میں دو مسجدیں ہیں یا یہ کہ دو پہاڑ ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ ”تین“ اس پہاڑ کا نام ہے جس پر ”بیت المقدس“ ہے اور ”زیتون ‘ اس پہاڑ کا نام ہے ج سپر دمشق ہے۔ اور قسم ہے جبل کی یہ مدین میں ایک پہاڑ ہے جس پر موسیٰ ؑ کو شرف کلامی نصیبت ہوئی۔ قبطی زبان میں ہر ایک پہاڑ کو طور کہتے ہیں اور سینین اس پہاڑ کو جس پر عمدہ درخت ہوں اور اس امن والے شہر یعنی مکہ مکرمہ کی۔
Read the full tafseer →(وھذا البلد الامین : شہر مکہ میں جو ابراہیم اور اسماعیل ؑ نے آباد کیا اور جہاں رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ اسے بلد امین اس لئے فرمایا ہے کہ ابراہیم ؑ نے اس کے لئے دعا کی تھی :(رب اجعل ھذا بلداً امناً) (البقرۃ : 126)”اے میرے رب ! اس (جگہ) کو ایک امن والا شہر بنا دے۔“
Read the full tafseer →وھذالبلد الامین۔ اس سے مراد مکہ ہے اسے امین نام دیا کیونکہ وہ امن دینے والا ہے جس طرح ارشاد فرمایا، انا جعلنا حرما امنا (العنکبوت) ہم نے حرم کو امن والابنادیا امین، امن کے معنی میں ہے یہ فراء کا قول ہے شاعر نے کہا : الم تعلمی یا اسم ویحک اننی، حلفت یمینا لا اخون امینی۔ اے اسماء تو نہیں جانتی تجھ پر افسوس میں نے قسم اٹھائی ہے میں اپنی قسم میں خیانت نہیں کرتا۔ یہاں امین سے آمن مراد ہے اس سے اس نے استدلال کیا ہے جو یہ قول کرتا ہے کہ تین سے مراد دمشق ہے زیتون سے مراد بیت المقدس ہے اللہ تعالیٰ نے دمشق کے پہاڑ کی قسم اٹھائی کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ کے اترنے کی جگہ ہے اور بیت المقدس کی قسم اٹھائی کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة التین مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ مالک وابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں تھے آپ نے عشاء پڑھائی اور اس کی دور رکعتوں میں سے ایک میں آیت والتین والزیتون پڑھی میں نے کسی سے ایسی آچھی آواز اور ایسی اچھی قراءت نہیں سنی۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبد بن حمید نے اپنی مسند میں والطبرانی نے عبداللہ بن یزید ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورة والتین والزیتون پڑھی۔ 4۔ الخیب نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز…
Read the full tafseer →[وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ : اور قسم ہے اس امن والے شہر کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اوپر سورة ٴ والتین کا ترجمہ لکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے تین اور زیتون اور البلد الامین (شہر مکہ مکرمہ) اور طور سینین کی قسم کھا کر انسان کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے احسن تقویم میں پیدا کیا پھر اسے پست ترین حالت میں لوٹا دیا۔ تین انجیر کو کہتے ہیں اور زیتون ایک مشہور درخت ہے جس کے پھلوں سے تیل نکالتے ہیں جسے سورة النور میں شجرۃ مبارکۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ تیسرا مقسم بہ (جس کی قسم کھائی گئی) ﴿ طُوْرِ سِيْنِيْنَۙ002﴾ ہے۔ اسی کو سورة ٴ مومنون میں ﴿طُوْرِ سَيْنَآءَ ﴾ فرمایا ہے یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ مفسرین کرام نے فرمایا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔ آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” وطور سینین “ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل نقلی ہے۔ ” سینین “ وہی مشہور پہاڑ یعنی طور سینا ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رب العزت جل جلالہ کے ساتھ ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ ” وھذا البلد الامین “ اس سے مکہ مکرمہ مراد ہے اور یہ دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے۔ ” امین “ بمعنی آمن ہے یعنی پر امن جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ انا جعلنا حرما امنا۔ (عنکبوت رکوع 7) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
موضوع اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم اٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اس سے بہتر صورت اللہ نے کسی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتا ہے۔ تو واقعی وہ کائنات کی بہترین ہستی ہے اور اگر وہ ان فرائض کی بجا آوری نہیں کرتا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ذلیل چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان کائنات کی حقیر سے حقیر چیز سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ چار چیزوں کی قسم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا والتین والزیتون قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ، عربی زبان میں تین انجیر کو…
Read the full tafseer →وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ 3 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ والتین الوا وللقسم والزیتون وطور سینین وھذا لبلدالامین معطوف علیہ لقد خلقنا الانسان الجملۃ المصدرۃ بلام التاکید وقد الی آخرھا جواب القسم۔ والقسم مع جو ابہ جملۃ فعلیۃ۔ والمراد بالتین والزیتون عند المجھور الشجرتان المعروفتان وقیل الجبلان وقیلا البلدان و طور جھل کلم اللہ علیہ موسیٰ (علیہ السلام) فی ناحیۃ الشمال والغرب من العرب وھو مضاف الی سینین عند الخاۃ سینین و سیناء اسمان للمکان الذی حصل فیہ الجبل المذکور۔ وقال ابو علی الفارسی سینین فعلیل کر رت اللام التیھی نون فیہ ولم ینصرف سینسین کمالم ینصرف سیناء لا نہ علم للبقعۃ وعجمی ای سریانی ولذا اختلفت عادۃ العرب فی تعریبہ فقیل سینین وقیل سینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ ۔ وَھٰذَا الْبَلَدِالْاَمِیْنِ ۔ (التین : 2، 3) (اور قسم ہے طورسینین کی۔ اور اس پرامن سرزمین (مکہ) کی۔ ) طُوْرِ سِیْنِیْنَ … سِیْنِیْنَ ، جزیرہ نما سینا کا دوسرا نام ہے۔ اس کو سینا اور سینا بھی کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی سورة المومنون میں طُوْرِسَیْنَائَ مونث کی صورت میں آیا ہے۔ اور یہاں جمع سالم کی شکل میں۔ اور بَلَدِالْاَمِیْنِ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ طورِسِینین کی شہرت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ہے۔ اور بلدالامین کی پہچان بیت اللہ، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل (علیہم السلام) اور آنحضرت ﷺ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : الم نشرح کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جونہی فراغت میسر ہو تو آپ اپنے رب کو یاد کیا کریں۔ التّین کی ابتداء میں چار قسمیں اٹھانے کے بعد ہر انسان کو یہ بات باور کروائی ہے کہ جس طرح اسے بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، اسی طرح انسان کو بہتر سے بہتر اعمال کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہترین اعمال کا خلاصیہ یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے حکم کو یاد رکھا جائے۔ رب کریم نے اس سورة مبارکہ میں انسان کو اس کے مقام اور مرتبے کا احساس دلانے کے لیے چار چیزوں کی قسمیں اٹھائی ہیں۔ انجیر اور زیتون کی قسمیں اٹھائیں جس میں انجیر اور زیتون کے فوائد کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ بیت…
Read the full tafseer →3 : وَھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ( اور اس امن والے شہر کی) البلدؔ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ الامینؔ یہ لیا گیا ہے امن الرجل امانۃ فھو امین۔ امن والا۔ اس کی امانت یہ ہے کہ داخل ہونے والے کی حفاظت کرتا ہے۔ جیسا امین امانت کی حفاظت کرتا ہے۔ فائدئہ قسم : ان اشیاء کی قسم اس لئے کھائی تاکہ مبارک مقامات کے شرف کو ظاہر کیا جائے اور جو خیرو برکت اس میں انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کے وجود سے ہوتی ہے۔ انجیر و زیتون کے اگنے کا مقام ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ہجرت ہے۔ اور مسیح (علیہ السلام) کامولد و مسکن اور مقام پرورش ہے۔ الطور وہ مقام جہاں موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی اتری۔ مکہ وہ مقام جہاں اللہ…
Read the full tafseer →3 ۔” وھذا البلد الامین “ یعنی امن والا۔ یعنی مکہ کے لوگ اس میں جاہلیت اور اسلام میں امن میں ہوتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور مقسم اللہ تعالیٰ کا قول۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ انجیر اور زیتون یہی مشہور دونوں پیڑ ہیں طور سینین اور طور سینا اس پہاڑ کا نام ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے باتیں کیں تھی۔ بلدامین سے مراد مکہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بلکہ جانروں تک کو ہر طرح کا امن ہے۔ اب اس قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے لیکن سفیان ثوری کا قول اوپر گزر چکا کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول مل جائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے کسی دوسرے کے قول کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر سیکھنے کی غرض سے مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تیس دفعہ قرآن شریف پڑھا ہے اور ہر…
Read the full tafseer →( وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ ) اور اس امن والے شہر کی۔ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول اللہ کی نبوت کا محل ومقام ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیا میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(2) طور سیناء کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے " طور سینائ " کی۔ یہاں ’ ’ طور سنین " فرمایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر اس کو " طور سینائ " فرمایا گیا ہے سو " سینین " دراصل جزیرہ نمائے سینا ہی کا دوسرا نام ہے، اب چونکہ یہ سارا ہی علاقہ جس میں کوہ طور واقع ہے اور جو اب مصر کے قبضہ میں ہے، صحرائے سینا کے نام سے مشہور و معروف ہے اس لیے ہم نے اپنے ترجمے میں اسی مشہور نام کو اختیار کا ہے ورنہ اصل میں اس کے یہ تینوں ہی نام صحیح ہیں ( روح، صفوۃ، خازن وغیرہ) سو جب ان دونوں آیات کریمہ میں مقامات یعنی " طور سینائ " اور " بلد امین " یعنی مکہ مکرمہ کا ذکر ہے تو اس میں اس امر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟ تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔ پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التین۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی کہ دونوں پھل ہیں جو انسانی بدن کو حسین بناتے ہیں خون صاف کرتے ہیں معدہ درست کرتے ہیں اعضاء رئیسہ کو طاقت بخشتے ہیں اور چہرے پر بشاشت لاتے ہیں اور قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس شہر امین کی کہ یہ دونوں تجلیات ذاتی کامرکز ہونے کے سبب باطنی اور قلبی خوبصورتی عطا کرتے ہیں یعنی یہ چاروں کہ دو حسن ظاہر کا سبب ہیں اور دو کمال باطن کا اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو سب سے خوبصورت پیدا فرمایا شکل و صورت ، اعضا وپیوند ، عقل وخرد ، فکر و شعور ، اور باطنی طور پر ان کمالات کا حامل کہ یہ مشت عبار عشق الٰہی کا دعوی کرے اس قدرحسین امتزاج کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 17 شاہ صاحب لکھتے ہیں :” اسے لائق بنایا فرشتوں کے مقام کا جب منکر ہو تو جانوروں سے بدتر۔ “ (موضح)
Read the full tafseer →(95:3) وھذا البلد الامین : واؤ قسمیہ، ھذا اسم اشارہ واحد مذکر ۔ البلد الامین۔ موصوف وصفت مل کر مشر الیہ۔ اس امن والے شہر کی، یعنی مکہ مکرمہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔ التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔ تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے…
Read the full tafseer →(ف 3) امن والا شہر مکہ معظمہ ہے جہاں سارے عالم کے سردار حضرت محمدرسول اللہ مبعوث ہوئے اور اللہ کی سب سے بڑی اور آخری امانت قرآن کریم اسی شہر میں اتاری گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[3] طور سینا وہ پہاڑ ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو قانون شریعت ملا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شرف ہم کلامی بخشا تھا۔
Read the full tafseer →(3) اور اس امن والے شہر کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 9۔ یعنی وہ خوبصورتی اور قوت مبدل بہ قبح و ضعف ہوجاتا ہے اور برے سے برا ہوجاتا ہے، اس سے مقصود کمال قبح کا بیان کرنا ہے جس سے قدرت علی الاعادہ پر کافی استدلال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اور اس امن والے شہر یعنی مکہ کے رب کی قسم 3 ؎ اس امن والے شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے اور مکہ مکرمہ کا شرف محتاج بیان نہیں اگرچہ اس مکہ کو ظالموں کی بستی بھی قرار دیا گیا ہے اور وہاں اس کی وجہ بھی بتائی گئی ہے کہ اسکے رہنے والے جب شرک کے مرتکب تھے تو مکہ کو ظالموں یعنی مشرکوں کا شہر بھی کہا گیا ہے لیکن بیت اللہ بھی چونکہ مکہ ہی میں ہے اور بیت اللہ کا شرف بہت پرانا ہے اور اس میں حرم ہے اور یہ بھی کہ اسلام سے قبل اس کی حرمت قائم تھی اور اسلام نے بھی اس کو برقرار رکھا ہے ۔ اس شہر کی بنیاد ایک طرح سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہی نے رکھی اور دراصل یہ بنیاد تو بیت اللہ ہی کی تھی اور صحیح بات یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ (I swear by the Fig and the Olive...95:1). This verse takes an oath by four objects. Two of them are trees, the fig tree and the olive tree. [ The third object ] is Tur, the mount of Sinai, and the fourth object is the City of Makkah. The two trees have been specified because they possess abundant blessings and advantages in the same way as Tur and the City of Makkah possess abundant blessings. Some authorities say that the 'fig' and the 'olive' symbolise, in this context, the lands in which these trees predominate: that is, the countries bordering on the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 The words in the original are Tur- i-Sinin. Sinin is another name for the Sinai Peninsula. It is called Sama or Sina as well as Sinin. In the Qur'an itself at one place the words Tur-i-Sinin. have been used. Since the land in which Mt. Sinai is located is well known as Sina, we have adopted this well known name in the translation.
Read the full tafseer →