At-Tin 95:4

At-Tin · from ayah 4

95:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۟ؗلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِىۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ

کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

We have certainly created man in the best of stature;

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tin

All translations of 95:4

ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے انسان کو بہترین (اعتدال اور توازن والی) ساخت میں پیدا فرمایا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت بنایا ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم نے انسان کو بڑی ہی عمدہ ساخت پر بنایا

— مولانا اسحاق مدنی

کہ ہم نے انسان کو بہترین انداز کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

surely We created man in the best mould;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have created man in the best composition,

— Muhammad Taqi Usmani

We have created man in the best composition,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We created man in the best form.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Surely We created man of the best stature

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We have certainly created man in the best of stature;

— Saheeh International

We have created the human being in the best form

— Muhammad Sarwar

Certainly We created man in the best make.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly We have created man in goodliest mould,

— Abdul Majid Daryabadi

We have indeed created man in the best of moulds,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 95:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

تین سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے زیتون سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، طور سینین وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا بلد الامین سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر بھیجے گئے تھے، تین سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التِّیْن 3 یہ ہے وہ بات جس پر انجیر و زیتون کے علاقے یعنی شام و فلسطین اور کوہ طور اور مکہ کے پر امن شہر کی قسم کھائی گئی ہے۔ انسان کے بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو وہ اعلی درجہ کا جسم عطا کیا گیا ہے جو کسی دوسری جاندار مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ اور اسے فکر و فہم اور علم و عقل کی وہ بلند پایہ قابلیتیں بخشی گئی ہیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں بخشی گئیں۔ پھر چونکہ نوع انسانی کے اس فضل و کمال کا سب سے زیادہ بلند نمونہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور کسی مخلوق کے لیے اس سے اونچا کوئی مرتبہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ اسے منصب نبوت عطا کرنے کے لیے منتخب فرمائے۔ اس لیے انسان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ان چار چزیوں کی قسم کھا کر فرمایا گیا لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم تقویم کے لفظی معنے کسی چیز کے قوام اور بنیاد کو درست کرنے کے ہیں۔ احسن تقویم سے مراد یہ ہے کہ اس کی جبلت و فطرت کو بھی دوسری مخلوقت کے اعتبار سے احسن بنایا گیا اور اس کی جسمانی ہئیت اور شکل و صورت کو بھی دنیا کے سب جانداروں سے بہتر اور حسین بنایا گیا۔ انسان تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ حسین ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ حسین بنایا ہے۔ ابن عربی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں انسان سے احسن نہیں کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے حیات کیساتھ عالم، قادر، متکلم، سمیع، بصیر،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اصل دعویٰ جس کو ثابت کرنے کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں: یہ وہ اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا قسمیں کھائی گئی ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے لیکن ہماری سنت یہ ہے کہ جو لوگ اس انعام کی قدر کرتے اور ان کی فطرت کے اندر جو ہدایت ہم نے ودیعت کی ہے اس کو پروان چڑھاتے اور پھر نبیوں کی دعوت قبول کر کے ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کر لیتے ہیں ان کو تو ہم دائمی اجر سے نوازتے ہیں، لیکن جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے وہ ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، اور ان کو ہم اسی گڑھے میں پھینک دیتے ہیں جس سے بچانے ہی کے لیے ہم نے ان پر یہ انعام کیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یہ جواب قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قد، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتا ہے، پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

2: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ جو لوگ مومن نہ ہوں، وہ دنیا میں چاہے کتنے خوبصورت رہے ہوں، آخرت میں وہ انتہائی نچلی حالت کو پہنچ جائیں گے، کیونکہ انہیں دوزخ میں ڈالا جائے گا، اسی لیے آگے ان انسانوں کا استثناء کیا گیا ہے جو ایمان لائیں، اور نیک عمل کریں۔ اور اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہر انسان بڑھاپے میں جا کر انتہائی خستہ حالت کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کی خوبصورتی بھی جاتی رہتی ہے، اور طاقت بھی جواب دے جاتی ہے، اور آئندہ کسی اچھی حالت کے واپس آنے کی انہیں کوئی امید نہیں ہوتی، کیونکہ وہ آخرت کے قائل ہی نہیں ہوتے۔ البتہ نیک مسلمان چاہے اس بڑھاپے کی بری حالت کو پہنچ جائیں،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آغاز تخلیق ہی سے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا اور حضرت انسان پر اللہ کی نظر عنایت رہی ہے ، ویسے تو اللہ ہر چیز کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے ، لیکن اس مقام پر اور دوسرے مقامات پر انسانی ساخت کی موزونیت کا ذکر ، اور انسان کے تسویہ اور اس کے اعضا کی تعدیل کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے ہاں اپنی مخلوقات میں سے انسان کی اہمیت بہت زیادہ ہے ، باوجود اس کے کہ انسان میں بہت سی کمزوریاں ہیں اور یہ کہ وہ راہ راست سے بھٹک جاتا ہے اور فطری راہ کو چھوڑ کر غلط راہوں پر چلتا ہے اور شروفساد میں مبتلا ہوتا ہے۔ پھر بھی اللہ کی طرف سے اس کی طرف یہ توجہ بتاتی ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی یہ سب مقامات متبرکہ جہاں سے ایسے ایسے اولوالعزم پیغمبر اٹھے گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا، اور کیسی کچھ قوتیں اور ظاہری و باطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں۔ اگر یہ اپنی صحیح فطرت پر ترقی کرے تو فرشتوں سے گوئے سبقت لے جائے۔ بلکہ مسجود ملائکہ بنے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ } ”ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔“ ہم نے تو انسان کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کیا تھا : { وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً۔ } بنی اسراء یل ”اور ہم نے بڑی عزت بخشی ہے اولادِ آدم علیہ السلام کو اور ہم اٹھائے پھرتے ہیں انہیں خشکی اور سمندر میں اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور انہیں فضیلت دی اپنی بہت سی مخلوق پر ‘ بہت بڑی فضیلت“۔ نسل انسانی کی عزت و تکریم کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 انسان کی دوسرے جانداروں پر فضیلت کن باتوں میں ؟ اولوالعزم انبیاء کے مساکن کی قسم اللہ تعالیٰ نے اس بات پر کھائی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہترین ساخت پر پیدا فرمایا ہے۔ اسے جسم سیدھا اور استوار دیا گیا ہے جو اور کسی مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ پھر اسے فکر و فہم، علم و عقل، قیاس و استنباط اور علت و معلول سے نتائج اخذ کرنے کی جو قوتیں اور صلاحیتیں دی گئی ہیں وہ اور کسی مخلوق کو نہیں دی گئیں۔ آدم کو مسجود ملائکہ بنایا گیا۔ زمین اور اس میں موجود اشیاء کو اس کے لیے مسخر کردیا گیا۔ انبیاء اسی نوع سے مبعوث ہوئے جو اللہ کے ہاں افضل الخلائق ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ نظام عام تکوینی کی فکر واہتمام، یا ان چاروں نظامات تشریعی کی حفاظت وانتظام کی ذمہ داری خود اس کی دلیل ہے کہ انسان کی آفرینش یوں ہی اٹکل پچو نہیں کردی گئی ہے، بلکہ یہ انتہائی حکمتوں اور صناعیوں کا مجموعہ ہے۔ (آیت) ” الانسان “ مراد جنس انسان ہے ؛۔ (آیت) ” احسن تقویم “۔ تقویم کے معنی تعدیل وتثقیف کے ہیں۔ وتقویم الشیء تثقیفہ (راغب) بہترین ساخت و ترکیب کے عموم میں صورت ومعنی دونوں شامل ہیں، ہئیت ونقشہ اور حواس اور مظہر یت صفات حق سب اس کے اندر آگئے، ذلک اشارۃ الی ماخص بہ الانسان من بین الحیوان میں العلق والفھم وانتصاب القامۃ الدالۃ علی استیلاثہ علی کل ما فی ھذا العالم (راغب) آیت نے ضمنا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

لقد خلقنا الانسان الخ یہی ہے وہ بات جس پر مذکورہ چاروں قسمیں کھائی گئی ہیں، انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو وہ اعلیٰ درجہ کا جسم عطا کیا ہے کہ جو دوسری کسی جاندار مخلوق کو نہیں دا گیا اور اسے فکر و فہم اور علم و عقل کی وہ بلند پایہ قابلیتیں بخشی گئی ہیں جو کسی دوسرے مخلوق کو نہیں بخشی گئیں۔ حسن انسانی کا ایک عجیب واقعہ : قرطبی نے نقل کیا ہے کہ عیسیٰ بن موسیٰ ہاشمی جو خلیفہ ابوجعفر منصور کے دربار کے مخصوص لوگوں میں سے تھے، اور اپنی بیوی سے بہت محبت رکھتے تھے ایک روز چاندنی رات میں بیوی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بول اٹھے، اگر تو چاند سے زیادہ خوبصورت نہ ہو تو تجھے تین طلاق، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد خلقنا الانسان . ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ الانسان سے جنس انسان مراد ہے (کوئی ہو) ۔ فی احسن تقویم . بہترین ساخت میں۔ تقویم بروزن تفعیل۔ قیام اور قوام سے ماخوذ ہے۔ قیام اور قوام اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کا ثبات اور تقوم ہو (صحاح) میں کہتا ہوں کہ قوام وہ چیز ہے جس سے کسی کا تحقق (یعنی حقیقت کی ساخت) ہو ‘ انسان کے اندر بیرونی جہان کی ساری چیزیں موجود ہیں۔ اس میں عالم روح کے نازک حقائق بھی ہیں اور عالم خلق کے عناصر بھی اور نفس ناطقہ بھی جو عالم عناصر کی پیداوار ہے۔ اسی جامعیت کی وجہ سے کل سنسار کی خصوصیات اس میں موجود ہیں۔ اس کے اندر ملکی صفات بھی ہیں اور درندوں کے اوصاف بھی اور چوپاؤں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–8

(4۔ 5) ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے اور پھر آخرت میں اس کو دوزخ میں داخل کردیں گے مثلاً ولید بن مغیرہ اور کلدہ کا فر، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو عمدہ سانچہ میں ڈھالا ہے، پھر جب وہ اپنی جوانی پوری کرلیتا ہے تو اسے پستی کی عمر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ اب وہی نیکیاں کار آمد آتی ہیں جو وہ اپنی جوانی میں کرچکا ہوتا ہے البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے اس قدر ثواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا کہ ان کی نیکیوں کا سلسلہ بڑھاپے اور مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ تو اے ولید یا یہ کہ اے کلدہ ان تما باتوں کو سن کر پھر کون سی چیز تجھ کو قیامت کو جھٹلانے پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لقد خلقنا الانسان…: قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ سر زمین شام میں پیدا ہونے والے جلیل القدر پیغمبروں اور طور سینا اور شہر مکہ کی شہرت کا باعث بننے والے پیغمبروں کی زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

لقد خلقنا الانسان فی۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ سافلین۔ اس میں دو مسئلے ہیں : انسان سے مراد اور انسان کا حسن و جمال۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، لقد خلقنا الانسان۔ جواب قسم ہے انسان سے مراد کافر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے ایک قول یہ کیا گیا اس سے مراد کلدہ بن اسید ہے اس تعبیر کی صورت میں یہ موت کے بعد دوبارہ اٹھائیں جانے کے انکار کرنے والوں کے حق میں نازل ہوئی، ایک قول یہ کیا گیا انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے۔ احسن تقویم سے مراد اس کا اعتدال اور سیدھی قامت ہے عام مفسرین کی یہی رائے ہے اس کی تعبیر میں جتنے قول بھی کیے گئے ہیں سب سے اچھا یہی ہے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

24۔ سعید بن منصور وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم یعنی ہم نے انسان کو بہترین اعتدال پر پیدا کیا آیت ثم رددنہ اسفل سفلین۔ یعنی پھر ہم نے اسے نکمی عمر کی طرف لوٹادیا۔ آیت الا الذین اٰمنوا وعملوا الصلح فلہم اجر غیر ممنون۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک امعال کیے تو ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کم نہیں ہوگا۔ پھر فرماتے ہیں جب مومن نکمی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور وہ جو جوانی میں نیک عمل کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا اجر لکھ دیں گے جتنا وہ اپنی صحت اور جوانی میں کیا کرتا تھا۔ اور جو اعمال اس نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَقَدْ خَلَقْنَا الْانسَان : بیشک ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو ][ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ : بہترین تعدیل و تناسب میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

اوپر سورة ٴ والتین کا ترجمہ لکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے تین اور زیتون اور البلد الامین (شہر مکہ مکرمہ) اور طور سینین کی قسم کھا کر انسان کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے احسن تقویم میں پیدا کیا پھر اسے پست ترین حالت میں لوٹا دیا۔ تین انجیر کو کہتے ہیں اور زیتون ایک مشہور درخت ہے جس کے پھلوں سے تیل نکالتے ہیں جسے سورة النور میں شجرۃ مبارکۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ تیسرا مقسم بہ (جس کی قسم کھائی گئی) ﴿ طُوْرِ سِيْنِيْنَۙ002﴾ ہے۔ اسی کو سورة ٴ مومنون میں ﴿طُوْرِ سَيْنَآءَ ﴾ فرمایا ہے یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ مفسرین کرام نے فرمایا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔ آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” ولقد خلقنا “ یہ مذکورہ بالا قسموں کا جواب ہے۔ دمشق، بیت المقدس، طور سیناء اور مکہ مکرمہ گواہ ہیں۔ ان شہروں میں انبیاء (علیہم السلام) پر ہم نے جو وحی بھیجی وہ شاہد ہے اور اس میں اس کا بیان ہے کہ ہم نے انسان کو اپنی ساری مخلوق میں سب سے زیادہ احسن و اجمل پیدا کیا ہے ظاہری حسن و جمال کے اعتبار سے بھی اور باطنی خوبیوں کے لحاظ سے بھی۔ قال ابن العربی لیس للہ تعالیٰ خلق احسن من الانسان (قرطبی) ۔ انہ تعالیٰ خلق کل ذی روح مکبا علی وجہہ الا الانسان فانہ تعالیٰ خلقہ مدید القامۃ یتناول ماکولہ بیدہ وقال الاصم فی اکمل عقل وفھم وادب وعلم وبیان (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم اٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اس سے بہتر صورت اللہ نے کسی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتا ہے۔ تو واقعی وہ کائنات کی بہترین ہستی ہے اور اگر وہ ان فرائض کی بجا آوری نہیں کرتا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ذلیل چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان کائنات کی حقیر سے حقیر چیز سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ چار چیزوں کی قسم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا والتین والزیتون قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ، عربی زبان میں تین انجیر کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۝ 4 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ والتین الوا وللقسم والزیتون وطور سینین وھذا لبلدالامین معطوف علیہ لقد خلقنا الانسان الجملۃ المصدرۃ بلام التاکید وقد الی آخرھا جواب القسم۔ والقسم مع جو ابہ جملۃ فعلیۃ۔ والمراد بالتین والزیتون عند المجھور الشجرتان المعروفتان وقیل الجبلان وقیلا البلدان و طور جھل کلم اللہ علیہ موسیٰ (علیہ السلام) فی ناحیۃ الشمال والغرب من العرب وھو مضاف الی سینین عند الخاۃ سینین و سیناء اسمان للمکان الذی حصل فیہ الجبل المذکور۔ وقال ابو علی الفارسی سینین فعلیل کر رت اللام التیھی نون فیہ ولم ینصرف سینسین کمالم ینصرف سیناء لا نہ علم للبقعۃ وعجمی ای سریانی ولذا اختلفت عادۃ العرب فی تعریبہ فقیل سینین وقیل سینا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔ (التین : 4) (ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ ) تقویم کا مفہوم تقویم کا لغوی معنی تو کسی چیز کو سیدھا کرنا ہے۔ مثلاً قَوَّمْتُ الرُّمْحَ فَاسْتَقَامَ ” میں نے نیزے کو سیدھا کیا تو وہ سیدھا ہوگیا۔ “ پھر اسی مفہوم سے ترقی کرکے یہ لفظ کسی چیز کو اس کے مقصدتخلیق، اس کے فرائض اور اس کے مزاج کے مطابق اور موزوں بنانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ امامِ قرطبی ابن عربی کا قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے ان عظیم صفات سے متصف فرمایا۔ یعنی حی، عالم،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : الم نشرح کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جونہی فراغت میسر ہو تو آپ اپنے رب کو یاد کیا کریں۔ التّین کی ابتداء میں چار قسمیں اٹھانے کے بعد ہر انسان کو یہ بات باور کروائی ہے کہ جس طرح اسے بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، اسی طرح انسان کو بہتر سے بہتر اعمال کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہترین اعمال کا خلاصیہ یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے حکم کو یاد رکھا جائے۔ رب کریم نے اس سورة مبارکہ میں انسان کو اس کے مقام اور مرتبے کا احساس دلانے کے لیے چار چیزوں کی قسمیں اٹھائی ہیں۔ انجیر اور زیتون کی قسمیں اٹھائیں جس میں انجیر اور زیتون کے فوائد کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ بیت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

خوبصورت سانچہ : 4 : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے) نحو : یہ جواب قسم ہے۔ الانسان سے جنس انسان مراد ہے۔ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ اس کی شکل و صورت کو انتہائی معتدل بنایا اور اس کے اعضاء نہایت مناسب بنائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم “ مناسب قد اور اچھی صورت میں کیونکہ ہر حیوان کو اپنے چہرہ پر جھک کر چلنے والا بنایا مگر انسان کو لمبی قامت والا بنایا، اپنے کھانے کی چیز کو اپنے ہاتھ سے پکڑتا ہے عقل اور تمیز سے مزین ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ انجیر اور زیتون یہی مشہور دونوں پیڑ ہیں طور سینین اور طور سینا اس پہاڑ کا نام ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے باتیں کیں تھی۔ بلدامین سے مراد مکہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بلکہ جانروں تک کو ہر طرح کا امن ہے۔ اب اس قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے لیکن سفیان ثوری کا قول اوپر گزر چکا کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول مل جائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے کسی دوسرے کے قول کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر سیکھنے کی غرض سے مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تیس دفعہ قرآن شریف پڑھا ہے اور ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ) ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضا اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے اس سے محروم نہیں۔ ان عظیم نعمتوں کے باوجود جن کا شکر کیا جانا چاہیے اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف ور لہو لعب میں مشغول ہے لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹادیا یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے سوائے ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–4

(2) طور سیناء کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے " طور سینائ " کی۔ یہاں ’ ’ طور سنین " فرمایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر اس کو " طور سینائ " فرمایا گیا ہے سو " سینین " دراصل جزیرہ نمائے سینا ہی کا دوسرا نام ہے، اب چونکہ یہ سارا ہی علاقہ جس میں کوہ طور واقع ہے اور جو اب مصر کے قبضہ میں ہے، صحرائے سینا کے نام سے مشہور و معروف ہے اس لیے ہم نے اپنے ترجمے میں اسی مشہور نام کو اختیار کا ہے ورنہ اصل میں اس کے یہ تینوں ہی نام صحیح ہیں ( روح، صفوۃ، خازن وغیرہ) سو جب ان دونوں آیات کریمہ میں مقامات یعنی " طور سینائ " اور " بلد امین " یعنی مکہ مکرمہ کا ذکر ہے تو اس میں اس امر کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟ تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔ پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة التین۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی کہ دونوں پھل ہیں جو انسانی بدن کو حسین بناتے ہیں خون صاف کرتے ہیں معدہ درست کرتے ہیں اعضاء رئیسہ کو طاقت بخشتے ہیں اور چہرے پر بشاشت لاتے ہیں اور قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس شہر امین کی کہ یہ دونوں تجلیات ذاتی کامرکز ہونے کے سبب باطنی اور قلبی خوبصورتی عطا کرتے ہیں یعنی یہ چاروں کہ دو حسن ظاہر کا سبب ہیں اور دو کمال باطن کا اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو سب سے خوبصورت پیدا فرمایا شکل و صورت ، اعضا وپیوند ، عقل وخرد ، فکر و شعور ، اور باطنی طور پر ان کمالات کا حامل کہ یہ مشت عبار عشق الٰہی کا دعوی کرے اس قدرحسین امتزاج کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–5

ف 17 شاہ صاحب لکھتے ہیں :” اسے لائق بنایا فرشتوں کے مقام کا جب منکر ہو تو جانوروں سے بدتر۔ “ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(95:4) لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم : یہ جملہ مذکورہ بالا چاروں قسموں کا جواب ہے اور فی احسن تقویم : الانسان سے موضع حال میں ہے ۔ لام جواب قسم کے لئے ہے۔ قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک ہم نے انسان کو بڑے عمدہ انداز میں پیدا کیا ہے۔ الانسان سے جنس انسان مراد ہے یعنی حضرت آدم اور ان کی اولاد۔ احسن۔ اسم تفضیل۔ بہت خوبصورت ، بہت حسین۔ تقویم بروزن (تفعیل) مصدر ہے۔ درست کرنا۔ ٹھیک کرنا۔ یعنی شکل و صورت۔ قد و قامت۔ عقل و ذہن۔ قلبی اور روحانی قوتوں میں نہایت اعتدال کے ساتھ اور تسویہ کے ساتھ۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک ہم نے پیدا کیا انسان کو (عقل و شکل کے اعتبار سے) بہترین…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔ تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–8

(ف 4) ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا، اور کیسی کی کچھ قوتیں اور ظاہری وباطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں دل ایک ایسی چیز عنایت ہوئی ہے کہ اگر اس کو صاف کرلیا جائے تو محبوب حقیقی کے جمال کا آئنہ بن جائے ، آگے فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہرنیچی سے نیچی حالت یعنی بڑھاپے کی طرف پھیردیا جس سے بدن ضعیف ، اعضا ناکارہ، عقل ناقص، پشت خم بال سفید ہوجاتے ہیں ، جلد میں جھریاں پڑجاتی ہیں اپنی ضروریات انجام دینے میں مجبور ہوتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ جب اس سے اچھی شکل و صورت کی شکرگزاری نہ کی اور نافرمانی پر جمارہا اور ایمان نہ لایا تو جہنم کے اسفل ترین درجات کو ہم نے اس کاٹھکانہ کردیا، آگے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یہ ہے وہ بات جس پر مذکورہ بالا چار چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی یہ سب مقامات متبرکہ جہاں سے ایسے ایسے اولوالعزم پیغمبر اٹھے جو گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا اور کیسی کچھ قوتیں اور ظاہری اور باطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں کہ اگر یہ اپنی صحیح فطرت پر ترقی کرے تو فرشتوں سے سبقت لے جائے بلکہ مسجود ملائکہ بنے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

اس وقت جبکہ دنیا میں انسانیت کی توہین ہورہی تھی ۔ اور انسانیت کے لئے خود انسانوں کے دلوں میں کوئی جذبہ عزت واحترام نہ تھا ۔ اس وقت جب پتھر پوجتے تھے ۔ درخت محترم تھے ۔ دریامقدس تھے ۔ قبریں اور مزار قابل عزت وشرف تھے ۔ انسان کی حیثیت محض حقیر پجاری کی تھی ۔ اس وقت جبکہ کلیسا سے اس کو ابدی وازلی گنہگار کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا اور ہندو نقطہ نگاہ سے اس کی تناسخ کے آہنی چکر سے رہائی ناممکن تھی اور یہ موجود زندگی نتیجہ قرار دی جارہی تھی سابقہ کئی ہزار گناہوں کا ۔ اسلام اٹھا اور ان سے انسانی شرف وفضیلت کے عالم بوسیدہ کو پھر سے جلا دی اور علی الاعلان کہا کہ انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا گیا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) کہ ہم نے انسان کو اچھے سے اچھے اسلوب پر اور خوب سے خوب اندازے پر بنایا ہے۔ انجیر اور زیتون سے بظاہر دونوں درخت مراد ہیں کیونکہ تین اور زیتون کثیر المنافع ہیں احادیث میں انجیر اور زیتون کی بہت تعریف آئی ہے سورة نور میں زیتون کا ذکر گزر چکا ہے بہت سے امراض کو مفید ہے ۔ انجیر غذا بھی ہے اور دوا بھی اور میوہ بھی ہے۔ اسی طرح زیتون وہ میوہ بھی ہے اور روٹی کے ساتھ سالن کا بھی کام دیتا ہے اس کا تیل بہت سے امراض کو نافع اور مفید ہے حدیث میں آتا ہے زیتون سے کھائو اور اس کے تیل کو استعمال کرو اس کا درخت بابرکت ہے یعنی محققین فرماتے ہیں تین اس پہاڑ کا نام ہے جس پر دمشق آباد ہے اور زیتون اس پہاڑ کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 9۔ یعنی وہ خوبصورتی اور قوت مبدل بہ قبح و ضعف ہوجاتا ہے اور برے سے برا ہوجاتا ہے، اس سے مقصود کمال قبح کا بیان کرنا ہے جس سے قدرت علی الاعادہ پر کافی استدلال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بیشک ہم نے انسانوں کو موزوں سے موزوں تناسب پر بنایا 4 ؎ یہ وہ مضمون ہے جس کو بیان کرنے کے لیے پیچھے چار چیزوں کو بطور شہادت پیش کیا گیا اس سے اس کی اہمیت تو واضح ہوجاتی ہے لیکن فی نفسہٖ اس مضمون پر غور کرنے سے مزید وضاحت ہوجائے گی ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے انسان کو شکل و صورت ، قد و قامت ، عقلی و فکری قوتوں ، قلبی و روحانی صلاحیتوں سے متصف کر کے پیدا فرمایا ہے اور اس سے بہتر اور کوئی مخلوق نہیں ہے۔ اگر انسان کو بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ صوری اور معنی حسن و کمال میں کوئی چیز بھی انسان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو خواہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The subject of the four oaths is: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (We have created man in the best composition...95:4). The word taqwim literally denotes 'to set a thing aright or lay the foundation straight or even; or to form something into an appropriate shape in a moderate regulation'. The verse signifies that man has been endowed with the best natural powers and qualities which other creatures have not been endowed with. Physically too he is cast in the best composition - having no parallel in other creatures. Man is the Most Beautiful of Allah's Creation Allah has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 This is the truth for which the oath has been sworn by the lands of the fig and the olive (i.e. Syria and Palestine) and Mt. Sinai and Makkah, the city of peace. Man's having been created in the most excellent of moulds means that he has been given the finest body which no other living being has been given, and he has been blessed with the noblest faculties of thought, knowledge and intellect which no other creature has been blessed with. Then, since the most sublime model these excellencies and . unique merits of mankind's are the Prophets (upon whom be Allah's peace) , and no creation can…

Read the full tafseer →