95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 95:1

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

انجیر کی قسم اور زیتون کی

والتین والزیتون۔ اس میں تین مسائل ہیں : تین اور زیتون سے کیا مرا ہے ؟ مسئلہ نمبر 1۔ والتین والزیتون۔ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، مجاہد، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح، جابر بن زید، مقاتل اور کلب ینے کہا، اس سے مراد انجیر ہے جسے تم کھاتے ہو اور تمہارا وہ زیتون ہے جس سے تم تیل نچوڑتے ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وشجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن وصبغ للاکلین۔ (المومن) نیزپیدا کیا ایک درخت طور سینا میں وہ اگتا ہے تیل لیے ہوئے اور سالن لیے ہوئے کھانے والوں کے لیے، حضرت ابوذر غفاری نے کہا، نبی کریم کا بارگاہ میں انجیر کی ٹوکری پیش کی گئی فرمایا، کھاؤ، اور خود بھی اس سے کھایا پھر فرمایا، اگر میں کہتا کوئی پھل جنت سے اترا ہے تو میں اسے ہی کہتا کیونکہ جنت کے پھل بغیر گٹھلی کے ہوں گے اسے کھاؤ یہ بواسیر کو ختم کردیتا ہے اور جوڑوں کے درد کے لیے نفع مند ہے۔ حضرت معاذ سے مروی ہے کہ انہوں نے زیتون کی تر شاخ سے مسواک کیا اور کہا، میں نے نبی کریم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا زیتون کا مسواک کتنا اچھا مسواک ہے یہ مبارک درخت ہے یہ منہ کو پاکیزہ کرتا ہے یہ دانتوں کے میل کو دور کردیتا ہے یہ مرا اور مجھ سے قبل انبیاء کا مسواک ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے تین سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی مسجد ہے جو جودی پہاڑ پر بنائی گئی اور زیتون سے مراد بیت المقدس کی مسجد ہے۔ ضحاک نے کہا، تین مسجد حرام ہے اور زیتون مسجد اقصی ہے ابن زید نے کہا، تین دمشق کی مسجد ہے اور زیتون بیت المقدس کی مسجد ہے، قتادہ نے کہا، تین وہ پہاڑ ہے جس پر دمشق کا شہر ہے اور زیتون وہ پہار ہے جس پر بیت المقدس ہے محمد بن کعب نے کہا، تین اصحاب کہف کی مسجد ہے اور زیتون ایلیاء کی مسجد ہے کعب الاحبار، قتادہ، عکرمہ اور ابن زید نے کہا، تین دمشق کی مسجد ہے اور زیتون بیت المقدس کی مسجد ہے۔ یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ فراء نے کہا میں نے ایک شامی کو کہتے ہوئے سنا تین سے مراد وہ پہاڑ ہے جو حلوان سے ہمدان کے درمیان ہے زیتون سے مراد شام کے پہاڑ ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دونوں شام کے پہاڑ ہیں جن کو طر تینا اور طور تینا کہتے ہیں ان دونوں کو یہ نام دیا گیا کیونکہ یہ دونوں پہاڑ ان دونوں کا گاتے ہیں ابومکین نے عکرمہ سے یہی روایت نقل کی ہے تین اور زیتون کے شام دو پہاڑ ہیں، نابغہ نے کہا، اتین التین عن عرض وہ تین میں ایک جانب سے آئیں، تین ایک جگہ کا نام ہے یہ بھی جائز ہے کہ مضاف حذف ہوتقدیر کلام یہ ہے منابت التین والزیتون۔ لیکن قرآن کے الفاظ سے اس پر کوئی دلیل نہیں اور نہ اس کے قول میں کوئی دلیل ہے جو اس کے خلاف کو جائز نہیں گردانتا یہ نحاس کا قول ہے۔ تین کے ساتھ قسم اٹھانے کی وجہ۔ مسئلہ نمبر 2۔ ان اقوال میں سے صحیح پہلا قول ہے کیونکہ یہی حقیقت ہے حقیقت سے مجاز کی طرف بغیر دلیل کے نہیں پھرا جاتا اللہ تعالیٰ نے تین کی قسم اٹھائی کیونکہ وہ جنت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا پردہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یخصفان علیھما من ورق الجنۃ۔ (الاعراف) چپٹانے لگ گئے اپنے بدن پر جنت کے پتے۔ وہ انجیر کا پتہ تھا ایک قول یہ کیا گیا اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم اٹھائی تاکہ اس میں موجود بڑے احسان کی وضاحت کرے کیونکہ اس کا منظر بڑا خوبصورت ہے، عمدہ خوشبو والا، اس کا توڑنا آسان ہے اور چبانے کے قابل ہے اس کے بارے میں شاعر نے کیا خوب کہا ہے : انظر الی التین فی الغصون ضحی ممزق الجلد مائل العنق کانہ رب نعمۃ سلبت فعاد بعد الجدید فی الخلق اصغر مافی النھود اکبرہ لکن ینادی علیہ فی الطرق۔ چاشت کے وقت ٹہنیوں میں انجیر کی طرف دیکھو اس کی جلد پھٹی ہوئی ہے اور گردن جھکی ہوئی ہے گویا وہ ایسی نعمت والا ہے جس کو سلب کرلیا گیا ہے پس وہ مخلوق میں جدت کے ساتھ لوٹ آیا ہے جسامت میں جو سب سے چھوٹا ہے وہ قدرومنزلت میں سب سے بڑا ہے لیکن راستے میں اس پر ندا دی جاتی ہے۔ اور ایک شاعر نے کہا : التین یعتدل عندی کل فاکھۃ اذا اتثنی مائلا فی غصنہ الزاھی مخمش الوجہ قد سالت حلاوتہ کا نہ راکع من خشیۃ اللہ۔ میرے نزدیک انجیر ہر پھل کے ہم پلہ ہے اور جب وہ چمکدار ٹہنی میں جھکتے ہوئے دہرا ہوجاتا ہے اس کے چہرے پر نشانات ہیں میں نے اس کی حلاوت کا پوچھا گویا وہ اللہ کے ڈر سے رکوع میں ہے۔ زیتون کی قسم اٹھائی کیونکہ اس کے ساتھ حضرت ابراہیم کی مثال بیان کی گئی ہے۔ یوقد من شجرۃ مبراکۃ زیتونۃ (النور 35) اسے زیتون کے مبارک درخت سے جلایا جاتا ہے۔ یہ شام اور مغرب کے لوگوں کا اکثر سالن ہے اس کو بطور سالن استعمال کرتے ہیں ور سالن میں اسے استعمال کرتے ہیں اس کے ساتھ وہ چراغ جلاتے ہیں پیٹ کی بیماریوں اور زخموں کا اس کے ساتھ علاج کرتے ہیں اسمیں بہت زیادہ نفع ہے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، کلوالزیت وادھنوا فانہ من شجرۃ مبارکۃ۔ اس کا تیل کھاؤ اس سے تیل لگاؤ بیشک یہ مبارک درخت سے ہے اس کے بارے میں گفتگو سورة المومنون میں گزرچکی ہے۔ انجیر میں زکوۃ کے لازم ہونے کے بارے میں اختلاف۔ مسئلہ نمبر 3۔ ابن عربی نے کہا، ہم نے اس (انجیر) میں زکوۃ (عشر) کو واجب کیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے احسان جتلایا ہے اور اس احسان کو عظیم قرار دیا ہے ساتھ ہی یہ خوراک ہے جو ذخیرہ کی جاسکتی ہے بہت سے علماء نے اس میں عشر لازم کرنے سے انحراف کیا ہے وہ اصل میں والیوں کے ظلم سے بچنا چاہتے تھے کیونکہ وہ زکوۃ کے اموال میں ظلم کرتے ہیں وہ اسے چٹی کے طور پر وصول کرتے ہیں جس کے بارے میں صادق امین نے خبردار کیا ہے علماء نے اسے ناپسند کیا کہ وہ ایک اور مال تک ان کے لیے راہ بنادیں جس میں وہ ظلم وستم کریں لیکن بندے کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے انعام پر حق ادا کرکے گناہ سے بچے۔ امام شافعی نے اس علت یا کسی اور وجہ سے یہ ارشاد فرمایا، زیتون میں کوئی زکوۃ (عشر) نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ دونوں زکوۃ (عشر) ہے۔
Ayah 95:2

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور طور سینین کی

وطور سینین۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے طور کے بارے میں یہ قول نقل کیا ہے کہ طور پر ایک پہاڑ ہے۔ اور سینین سریانی زبان میں مبارک کو کہتے ہیں۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے یہ قول نقل کیا ہے کہ طور پہاڑ ہے اور زینین کا معنی ہے خوبصورت۔ قتادہ نے کہا، سینین سے مراد مبارک خوبصورت ہے عکرمہ نے کہا، اس سے مراد وہ پہاڑ ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ندا کی تھی مقاتل اور کلبی نے کہا، سینین ہر اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس میں پھل دار درخت ہو۔ یہ نبط کی لغت میں سینین اور سیناء ہے عمر بن میمون نے کہا میں نے مکہ مکرمہ میں حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ آپ نے اس سورت کی تلاوت کی اور طور سیناء پڑھ ا ہے۔ حضرت عبداللہ کی قرات میں یہ اسی طرح ہے بیت اللہ شریف کی تعظیم کے لیے اپنی آواز کو بلند کیا۔ دوسری رکعت میں سورة الم تر کیف فعل اور لایلاف قریش۔ پڑھیں دنوں کو جمع کیا اسے ابن انباری نے ذکر کیا ہے نحاس نے کہا، عبداللہ کی قرات میں سینا ہے اور عمر بن میمون کی حدیث میں سیناء ہے۔ ابوعلی نے کہا، سینین فعلیل کا وزن ہے لام مکرر ہے جو اس کلمہ میں نون ہے جس طرح زحلیل میں حرف مکرر ہے ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں قدم جمانا ممکن نہ ہو۔ کردید کھجور ایک ڈھیر خندید طویل کو کہتے ہیں، سینین بھی منصرف نہیں جس طرح سیناء منصرف نہیں کیونکہ یہ بقعہ یا ارض کا نام ہے اگر اسے مکان، منزل کا نام ماناجائے یا یہ مذکر کا اسم ہوتویہ منصرف ہوتا ہے کیونکہ مذکر اسم کو مذکر کا نام دیا گیا ہے اس پہاڑ کی قسم اٹھائی گئی ہے کیونکہ یہ شام اور ارض مقدسہ میں ہے اللہ تعالیٰ نے دونوں میں برکت رکھی ہے جس طرح فرمایا، الی المسجد الاقصالذی بارکنا حولہ (الاسرائ) مسجد اقصی تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنادیا ہے۔
Ayah 95:3

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس امن والے شہر کی

وھذالبلد الامین۔ اس سے مراد مکہ ہے اسے امین نام دیا کیونکہ وہ امن دینے والا ہے جس طرح ارشاد فرمایا، انا جعلنا حرما امنا (العنکبوت) ہم نے حرم کو امن والابنادیا امین، امن کے معنی میں ہے یہ فراء کا قول ہے شاعر نے کہا : الم تعلمی یا اسم ویحک اننی، حلفت یمینا لا اخون امینی۔ اے اسماء تو نہیں جانتی تجھ پر افسوس میں نے قسم اٹھائی ہے میں اپنی قسم میں خیانت نہیں کرتا۔ یہاں امین سے آمن مراد ہے اس سے اس نے استدلال کیا ہے جو یہ قول کرتا ہے کہ تین سے مراد دمشق ہے زیتون سے مراد بیت المقدس ہے اللہ تعالیٰ نے دمشق کے پہاڑ کی قسم اٹھائی کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ کے اترنے کی جگہ ہے اور بیت المقدس کی قسم اٹھائی کیونکہ وہ انبیا اء کا مقام ہے اور مکہ مکرمہ کی قسم اٹھائی کیونکہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اثار ہیں اور حضرت محمد ﷺ کا گھر ہے۔
Ayahs 95:4–5

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کردیا

لقد خلقنا الانسان فی۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ سافلین۔ اس میں دو مسئلے ہیں : انسان سے مراد اور انسان کا حسن و جمال۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، لقد خلقنا الانسان۔ جواب قسم ہے انسان سے مراد کافر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے ایک قول یہ کیا گیا اس سے مراد کلدہ بن اسید ہے اس تعبیر کی صورت میں یہ موت کے بعد دوبارہ اٹھائیں جانے کے انکار کرنے والوں کے حق میں نازل ہوئی، ایک قول یہ کیا گیا انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے۔ احسن تقویم سے مراد اس کا اعتدال اور سیدھی قامت ہے عام مفسرین کی یہی رائے ہے اس کی تعبیر میں جتنے قول بھی کیے گئے ہیں سب سے اچھا یہی ہے کیونکہ ہر چیز کو اس حالت میں پیدا کیا گیا ہے وہ منہ کے بل جھکا ہوا ہے جب کہ یہ سیدھا اس کی فصیح وبلیغ زبان، ہاتھ اور انگلیاں ہیں جن کے ساتھ وہ پکڑتا ہے ابوبکر بن ظاہر نے کہا، معنی ہے عقل سے مزین، امر کو بجالانے والا، تمیز کے ساتھ ہدایت یافتہ، سیدھے قدوالا اور اپنے کھانے کی چیز اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے ابن عربی کا قول ہے، انسان سے زیادہ حسین اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ، عالم، قادر اور ارادہ رکھنے والا، گفتگو کرنے والا، سننے والا، دیکھنے والا، تدبیر کرنے والا اور حکیم بنایا ہے۔ یہ اللہ سبحانہ وتعالی کی صفات ہیں بعض علماء نے یہی تعبی رکی ہے اس کی وضاحت نبی کریم ﷺ کے اس فرمان میں ہے۔ ان اللہ خلق آدم علی صورتہ۔ یعنی انسان کو ان صفات پر پیدا کیا جن کا ذکر ہم نے پہلے کیا ہے ایک روایت میں علی صورۃ الرحمن کے الفاظ ہیں اللہ تعالیٰ کی معین صورت کیسے ہوسکتی ہے پس صرف صفات ہی باقی رہ گئیں۔ ہمیں مبارک بن عبدالجبارزادی نے خبر دی کہ ہمیں قاضی ابوالقاسم علی بن ابی علی قاضی محسن نے اپنے باپ سے خبر دی کہ عیسیٰ بن موسیٰ ہاشمی اپنی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا ایک دن اس نے اپنی بیوی سے کہا، اگر تو چاند سے زیادہ حسین نہیں تجھے طلاقیں۔ اس کی بیوی اٹھی اور اس سے پردہ میں چلی گئی اور کہا تو نے مجھے طلاق دے دی عیسیٰ نے بڑی مشکل سے رات گزاری جب صبح ہوئی تو وہ منصور خلیفہ کے گھر گیا اور تمام واقعہ بتایا اور منصور کے ساتھ بڑی آہ زاری کی۔ منصور نے فقہاء کو بلایا اور ان سے فتوی طلب کیا جو بھی فقہاء موجود تھے سب نے کہا، اسے طلاق ہوچکی ہے مگر امام ابوحنیفہ کا ایک شاگرد خاموش تھا منصور خلیفہ نے اس سے پوچھا تو کیوں خاموش ہے ؟ اس نے اس سورت کی تلاوت کی اور کہا، اے امیر المومنین انسان سب چیزوں سے زیادہ خوبصورت ہے کوئی چیز اس سے زیادہ خوبصورت نہیں۔ منصور نے عیسیٰ بن موسیٰ سے کہا، بات وہی ہے جو اس نے کہی اپنی بیوی کے پاس جاو اور ابوجعفر نے اس کی بیوی کی طرف پیغام بھیجا اپنے خاوند کی اطاعت کر اس کی نافرمانی نہ کر اس نے تجھے طلاق نہیں دی۔ یہ واقعہ تیری رہنمائی کرتا ہے انسان ظاہر و باطن کے اعتبار سے تمام مخلوقات سے زیادہ حسین ہے شکل و صورت میں جمال ہے عمدہ بناوٹ ہے سر میں جو کچھ ہے، سینہ جن چیزوں کو جمع کیے ہوئے ہے پیٹ میں جن چیزوں پر مشتمل ہے شرمگاہ جن چیزوں کو لپیٹے ہوئے ہے ہاتھ اور جن کو وہ پکڑے ہیں، پاؤں اور جن کو وہ اٹھائے ہوئے ہیں اسی وجہ سے فلاسفہ کا قول ہے کہ انسان عالم اصغر ہے کیونکہ مخلوقات میں جو کچھ ہے وہ سب ایک انسان میں جمع کردیا گیا ہے۔ انسان کے اتنا حسین و جمال ہونے کے باوجود اس کو اسفل السافلین کی طرف لوٹانے کا سبب۔ مسئلہ نمبر 2۔ ثم رددناہ اسفل سافلین۔ پھر ہم نے انسان کو حقیر ترین عمر کی طرف لوٹا دیا وہ جوانی کے بعد بڑھاپا، قوت کے بعد ضعف ہے یہاں تک کہ آدمی بچے کی طرح پہلی حالت میں چلا جاتا ہے یہ ضحاک، کلبی اور دوسرے علماء نے کہا، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے اس کا معنی ہے پھر ہم نے کافر کو آگ کی طرف لوٹا دیا یہ ابوالعالیہ کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اسے ان جلیل القدر صفات سے متصف کیا جن سے انسان مرکب ہے تو اس نے سرکشی کی یہاں تک کہ اس نے کہا، انا ربکم الاعلی۔ (النازعات) میں تمہارا بڑا رب ہوں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے سے ان چیزوں کو جانا اور جب کہ بندہ اپنی جانب سے فیصلہ کررہا تھا اسے اسفل سافلین کی طرف پھیر دیا اس طرح کہ اسے گندگی سے بھرا ہوانجاست سے لتھڑا بنادیا یہاں تکہ جب وہ اپنے امر دیکھے گا تو وہ اپنی حیثیت کی طرف لوٹ کر آئے گا عبداللہ نے سے اسفل السافلین پڑھا ہے کہا، اسفل سافلین جمع ہے کیونکہ انسان جمع کے معنی میں ہے اگر اسفل سافل ہوتاتو بھی جائز تھا کہ کیونکہ انسان کا لفظ واحد ہے تو کہتا ہے، ھذا افضل قائم تو یہ نہیں کہتا، افضل قائمین، کیونکہ تو ایک کے لیے ضمیر کو مضمر کررہا ہے اگر ایک مضمر نہ ہو تو اس کا اسم واحد اور جمع دونوں کے ساتھ لوٹ سکتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان، والذی جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون۔ (الزمر) جو سچ لایا اور جس نے تصدیق کی وہی متقین ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا، وان تصبھم سیئۃ (الشوری 48) بیشک ہم جب انسان کو اپنی جانب سے رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ خوش ہوجاتا ہے اور اگر اسے مصیبت پہنچے ایک قول یہ کیا گیا کہ رددنہ اسفل سافلین۔ کا معنی ہے ہم نے اسے گمراہی کی طرف لوٹادیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان الانسان لفی خسر، الا الذین آمنوا وعملوالصالحات۔ انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے تو انہیں گمراہی کی طرف نہیں لوٹایاجائے گا جس نے یہ کہا کہ اسفل سافلین سے مراد آگ ہے اس کے نزدیک یہ مستثنی متصل ہے اور جس نے کہا، اس سے مراد بڑھاپا ہے تو اس نے کہا، اس سے مراد مستثنی منقطع ہے۔
Ayah 95:6

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے بےانتہا اجر ہے

الا الذین آمنوا وعملوالصالحات فلھم اجر غیرممنون۔ ان کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی اور ان کی برائیاں مٹادی جائیں گی یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہا، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں بڑھاپے نے آلیاتوبڑھاپے میں انہوں نے جو عمل کیے ان پر ان کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ ضحاک نے ان سے یہ قول نقل کیا ہے بندہ جب جوانی میں زیادہ نمازیں پڑھتا ہے زیادہ روزے رکھتا ہے اور صدقات دیتا ہے پھر جوانی میں جو اعمال کیا کرتا تھا ان سے کمزور ہوجاتا ہے تو اللہ تعایل اسے ان اعمال کا اجر دیتا رہتا ہے جو وہ جوانی میں کیا کرتا تھا۔ حدیث طیبہ میں نے نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اذاسافر العبد اومرض کتب اللہ لہ مثل ماکان یعمل مقیما صحیحا۔ بندہ جب سفر کرتا ہے یامریض ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں وہی اعمال لکھتا رہتا ہے جو حالت اقامت اور حالت صحت میں عمل کیا کرتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہے نہ ان کی عقل خراب ہوتی ہے اور نہ وہ بوڑھے عاجز ہوتے ہیں جو عالم وعامل تھا اس کی عقل نہیں جاتی۔ عاصم احول نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے جو آدمی قرآن حکیم پڑھتا ہے اسے ارذل عمر کی طرف نہیں لوٹایا جاتا حضرت ابن عمر نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا، طوبی المن طال عمرہ وحسن عملہ۔ اس آدمی کے لیے مبارک ہو جس کی عمر طوریل ہوئی اور اچھا ہوایہ روایت کی گئی ہے بندہ مومن جب فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے دو فرشتوں کو حکم دیتا ہے وہ قیامت کے دن تک اس کی قبر کے پاس اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس مومن کے حق میں اجر لکھا جاتا رہے گا۔ ان خوش نصیبوں کے لیے عمل کے بغیر اجر ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ایسا اجر ہوگا جو ختم نہ ہوگا۔
Ayah 95:7

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

تو (اے آدم زاد ! ) پھر تو جزا کی دن کو کیوں جھٹلاتا ہے ؟

فمایکذبک بعد بالدین۔ خطاب کافر کو ہے مقصود اسے شرمندہ کرنا اور الزام حجت ہے اے انسان جب تو نے پہچان لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے احسن تقویم میں پیدا کیا وہ تجھے ارذل عمر کی طرف لوٹائے گا اور تجھے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرے گا تو وہ کون سی چیز ہے جو تجھے دوبارہ اٹھانے اور اجزا کو جھٹلانے پر برانگیختہ کرتی ہے جبکہ حضرت محمد نے تجھے اس بارے میں آگاہ کیا ایک قول یہ کیا گیا تھا کہ خطاب نبی کریم کو ہے یعنی یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ آیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ احکم الحاکمین ہے یہی معنی قتادہ سے بھی منقول ہے قتادہ اور فراء نے کہا، معنی ہے اے رسول اس بیان کے بعد کون جزا کے بارے میں تجھے جھٹلاتا ہے یہ طبری کا نقطہ نظر ہے گویا فرمایا، کون اس پر قادر ہے یعنی انسان کو پیدا کرنے کی ہماری قت کے ظاہر ہونے کے باوجود کون ثواب، عقاب، دین اور جزا کے بارے میں تجھے جھٹلائے۔ شاعر نے کہا : دنا تمیما کما کا نت اوائلنا دانت اوائلھم فی سالف الزمن۔ ہم نے تمیم کو بدلہ دیا جس طرح ہمارے آباواجداد نے گزشتہ زمانہ میں ان کے آباء کو بدلہ دیا۔
Ayah 95:8

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا خدا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

الیس اللہ باحکم الحاکمین۔ اس نے جو بھی چیز پید ا کی اس کی صنعت میں کیا وہ سب سے محکم حاکم نہیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا حق کا فیصلہ کرنے اور مخلوق میں عدل کرنے کے اعتبار سے احکم الحاکمین نہیں ؟ اس میں کلام مقدر ہے کہ کفار میں سے جو صانع قدیم کا اعتراف کرتے ہیں ان کی طرف روئے سخن ہے استفہام کا ہمزہ جب حرف نفی پر داخل ہو جب کہ کلام میں آگاہی کا معنی موجود ہو تو وہ کلام مثبت ہوجاتی ہے جس طرح کہا، الستم خیر من رکب المطایا، جو لوگ سواریوں پر سوار ہوئے ان میں تے تم یقینا بہترین ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ دونوں آیات آیت سیف سے منسوخ ہوگئی ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ثابت ہیں کیونکہ دونوں کے درمیان منافات نہیں، حضرت ابن عباس اور حضرت علی شیر خدا جب یہ آیت، الیس اللہ باحکم الحاکمین۔ پڑھتے تو کہتے، بلی کیوں نہیں میں اس پر گواہ ہوں تو یہ کہنا مستحب ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے جو یہ سورت پڑھے تو کہے، بلی وانا علی ذالک من الشاھدین۔