96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 96:1

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو

اقراء باسم ربک کا معنی ہے قرآن حکیم میں سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اپنے رب کے نام سے شروع کرتے ہوئے پڑھیے وہ یہ کہ ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ شریف پڑھیے، باسم ربک میں باء کا محل حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے ایک قول یہ کیا گیا، باء علی کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی، اقراء علی اسم ربک یوں جملہ بولا جاتا ہے، فعل کذا باسم اللہ، فعل کذا علی اسم اللہ، اس نے اللہ کے نام سے شروع کرتے ہوئے یہ کام کیا، اس تعبیر کی صورت میں مقرومحذوف ہے یعنی قرآن پڑھو اور اللہ کے نام سے شروع کرو، ایک قوم کا یہ کہنا ہے اسم ربک سے مراد قرآن ہے پس وہ کہتا ہے، اقراء باسم ربک، مراد ہے، اقراء اسم ربک، باء زائدہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، تنبت بالدھن (المومنون 20) یہاں بھی باء زائدہ ہے جس طرح شاعر نے کہا، سود المحاجر لایقران باسور۔ یہاں بھی شاعر نے لایقراء ان السور، مراد لیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اقراء باسم ربک کا معنی ہے اس کے نام کا ذکر کیجئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ قرات کا آغاز اللہ تعالیٰ کے ذکر سے کریں۔
Ayah 96:2

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے (عالم کو پیدا کیا) جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا

خلق الانسان من علق۔ الانسان سے مراد ابن آدم ہے علق سے مراد خون ہے، یہ علقۃ کی جمع ہے علقہ سے مراد جامد خون ہے جب وہ چلے تو اسے مسفوح کہتے ہیں یہاں علق فرمایا، اور جمع کا صیغہ ذکر کیا، کیونکہ الانسان سے مراد بھی جمع ہے سب کے سب نطفہ کے بعد علق سے پیدا کیے گئے، العلقہ ترخون کا ایک حصہ ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ اپنی رطوبت کی وجہ سے ہراس چیز کے ساتھ چمت جاتا ہے جو اس پر گزرتی ہے جب وہ خشک ہوجائے تو وہ علقہ نہیں ہوتا، شاعر نے کہا : ترکناہ یخر علی یدیہ یمج علیھما علق الوتین۔ ہم نے اسے یوں چھوڑا وہ اس کے سامنے منہ کے بل گرتا ہے شہ رگ اس پر خون کی کلی کرتی ہے۔ انسان کا خصوصا ذکر کیا مقصود اس کی عظمت بیان کرنا ہے ایک قول یہ کیا گیا، یہ ارادہ کیا کہ اس پر جو احسان کیا ہے اس کی قدرومنزلت کو بیان کرے اس طرح کہ اسے حقیر جمے ہوئے خون سے پیدا کیا یہاں تک کہ وہ مکمل انسان، عقل مند اور امتیاز کرنے والا ہوگیا۔
Ayah 96:3

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے

اقراء وربک الاکرم۔ اقراء یہ تاکید کے لیے ہے کلام مکمل ہوئی پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا اور فرمایا، وربک الاکرم، یہاں الاکرم کریم کے معنی میں ہے کلبی نے کہا، معنی ہے بندوں کے جاہلانہ طرز عمل پر حلم کرتا ہے انہیں جلدی سزا نہیں دیتا پہلامعنی معنوی طور پر زیادہ مناسب ہے کیونکہ جب جو نعمتیں پہلے ہوئیں ان کا ذکر کیا تو ان کے وسیلہ سے اپنے کرم پر دلالت کی ایک قول یہ کیا گیا ہے، اقراء وربک کا معنی ہے اے محمد پڑھیے جب کہ آپ کا رب تیری مدد کرے گا اور تجھے سمجھادے گا اگرچہ آپ پڑھے ہوئے نہیں اور الاکرم کا معنی ہے وہ بندوں کی جہالتوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔
Ayah 96:4

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا

الذی علم بالقلم۔ اس میں تین مسائل ہیں : قلم علم اور دین کو محفوظ رکھنے اور منتقل کرنے کا ذریعہ۔ مسئلہ نمبر 1۔ الذی علم بالقلم۔ خط و کتاب کی تعلیم دی یعنی انسان کو قلم کے ساتھ خط کی تعلیم دی، سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے قلم اللہ تعالیٰ کی جانب سے عظیم نعمت ہے اگر یہ نہ ہوتاتودین قائم نہ ہوتا اور زندگی درست نہ ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کمال کرم پر دال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس چیز کی تعلیم دی جسے وہ نہیں جانتا تھا اور انہیں جہالت کی ظلمت سے علم کے نور کی طرف نکالا اور علم کتابت کی فضیلت پر آگاہ کیا کیونکہ اس میں ایسے عظیم منافع ہیں جس کا احاطہ اس ذات کے سوا کوئی نہیں کرسکتا، نہ علوم مدون ہوئے، نہ حکمتیں مقید ہوئیں، نہ پہلے لوگوں کی خبریں اور مقالات ضبط ہوئے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابیں محفوظ ہوئیں مگر کتابت کے ذریعے ہی یہ سب کچھ ہوا اگر یہ ایسا نہ ہوتا تو دین ودنیا کے اموردرست نہ ہوتے اسے قلم اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اسے کاٹا جاتا ہے اس معنی میں تقلیم الظفر ہے جس کا معنی ناخن کاٹنا ہے ایک شاعر نے قلم کی تعریف کرتے ہوئے کہا : فکانہ والحبر یخضب راسہ، شیخ لوصل خریدۃ یتصنع، لم لا الاحظہ بعین جلالہ، وبہ الی اللہ الصحائف ترفع۔ گویا وہ قلم جب کہ روشنائی اس کے سر کو رنگین کرتی ہے ایک بوڑھا شخص ہے جو دوشیزہ کو پانے کے لیے تصنع کرتا ہے میں اس قلم کو شرف کی آنکھ سے کیوں نہ دیکھوں، جب کہ اس کے ذریعے صحائف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بلند کیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ عرض کیا یارسول اللہ جو بات میں آپ ﷺ سے سنوں کیا میں اسے لکھ لیاکروں ؟ فرمایا، ہاں لکھو بیشک اللہ تعالیٰ نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، مجاہد نے ابوعمر سے یہ روایت نقل کی ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے چار چیزیں اپنے دست قدرت سے پیدا کیں پھر باقی تمام چیزوں کے لیے فرمایا، کن ہوجاتو وہ ہر چیز ہوگئی، قلم، عرش، جنت عدن، اور حضرت آدم (علیہ السلام) ۔ جس کو قلم کے ساتھ تعلیم دی اس کے بارے میں تین قول ہیں۔ 1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کیونکہ وہ سب سے پہلے فرد ہیں جس نے لکھا، یہ کعب اور الاحبار کا قول ہے۔ 2۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) یہ سب سے پہلے کاتب ہیں، یہ ضحاک کا قول ہے۔ 3۔ جس نے بھی قلم کے ساتھ لکھا وہ اس میں داخل ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے ہی یہ فن جانا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کرکے جو نعمت کی اور اس کو تعلیم دے کر جو نعمت کی سب کو جمع کردیا تاکہ اس پر اپنی نعمت کو مکمل کرے۔ قلم نے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو لکھا۔ مسئلہ نمبر 2۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں لکھا جب وہ کتاب عرش کے اوپر اس کے پاس تھی، میری رحمت میرے غضب پر غالب ہوتی ہے، نبی کریم سے یہ بھی ثابت ہے آپ نے فرمایا، سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اسے فرمایا لکھوتو قیامت تک جو کچھ ہونے والا اس نے لکھ دیا، جب کہ وہ عرش کے اوپر ذکر میں اس کے پاس تھا، حضرت ابن مسعود سے صحیح میں حدیث مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس کے کان، آنکھ، جلد، گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے پھر وہ عرض کرتا ہے، اے میرے رب، کیا یہ مذکر ہے یا مونث ؟ توتیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ عرض کرتا ہے، اے میرے رب اس کی اجل ؟ تو تیر ارب جو چاہتا ہے فرماتا ہے فرشتہ وہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ عرض کرتا ہے اس کا رزق ؟ تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ اپنے ہاتھ میں صحیفہ لے کر نکل جاتا ہے۔ اسے جو حکم دیا گیا ہوتا ہے اسمیں نہ اضافہ کرتا ہے اور نہ کمی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان علیکم لحافظین۔ کراما کاتبین (الانفطار) ۔ ہمارے علماء نے فرمایا، اصل میں تین قلم ہیں :۔ (1) قلم اول، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (2) فرشتوں کی قلمیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں میں دے دیں جن کے ساتھ وہ تصاویر، کو ائن اور اعمال لکھتے ہیں۔ (3) لوگوں کی قلمیں، اللہ تعالیٰ نے یہ لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیں جن کے ساتھ وہ اپنی کلام لکھتے ہیں اور ان کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں کتابت میں بہت زیادہ فضائل ہیں کتابت، بیان کا حصہ ہے بیان ان چیزوں میں سے ہے جس کے ساتھ آدمی کو خاص کیا گیا ہے۔ عربوں کا سب سے کم لکھنا، اور بالخصوص نبی کریم ﷺ کے نہ لکھنے، پڑھنے میں حکمت۔ مسئلہ نمبر 3۔ ہمارے علماء نے کہا، عرب لوگوں میں سے سب سے کم لکھنا جانتے تھے عربوں میں سے سب سے کم اس کی پہچان رکھنے والے حضرت محمد ﷺ تھے حضور کو اس سے اس لیے دور کردیا گیا تھا کہ یہ امر آپ کے معجزہ کو سب سے زیادہ ثابت کرنے والا اور آپ کی حجت میں سب سے قوی ہو، سورة عنکبوت میں یہ بحث مفصل گزرچکی ہے۔ حماد بن سلمہ، زبیر بن عبدالسلام سے انہوں نے ایوب بن عبداللہ فہری سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اپنی عورتوں کو بالاخانوں میں نہ رکھو اور نہ ہی انہیں لکھنا سکھاؤ۔ ہمارے علماء نے کہا، نبی کریم ﷺ نے اس چیز سے لوگوں کو خبردار کیا کیونکہ جب بالاخانوں میں رکھاجائے گا تو وہ مردوں کی طرف جھانکیں گی، نہ اسمیں ان کے لیے پاکدامنی رہے گی اور نہ ہی پردہ ہوگا اس کی وجہ یہ ہے وہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتیں، یہاں تک کہ وہ مردوں کی طرف جھانکتی ہیں تو فتنہ وآزمائش جنم لیتی ہے نبی کریم ﷺ نے انہیں خبردار کیا کہ وہ ان کے لیے بالاخانے نہ بنائیں جوان کے فتنہ کا ذریعہ ہیں، یہ اسی طرح ہے جس طرح رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، عورتوں کے لیے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں کہ مرد انہیں نہ دیکھیں، اور وہ مردوں کو نہ دیکھیں، اس کی وجہ یہ ہے عورت مرد سے پیدا کی گئی ہے اس کا اشتیاق مرد میں ہے مرد میں شہوت پیدا کی گئی ہے اور عورت کو اس کے لیے سکون بنادیا گیا ہے ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے بارے میں امن میں نہیں، اسی طرح لکھنے کی تعلیم ہے بعض اوقات یہ فتنہ کا سبب ہوتا ہے اس کی صورت یہ ہے جب اسے لکھنے کی تعلیم دی جاتی ہے تو وہ اسے خط لکھتی ہے جس سے وہ محبت کرتی ہے کتابت بھی آنکھوں میں سے ایک آنکھ ہے اس کے ذریعے، حاضر، غائب کو دیکھتا ہے خط ہاتھ کے آثار میں سے ہے۔ اس لکھائی میں مافی الضمیر کی تعبیر ہوتی ہے جب کہ زبان کے ساتھ نہیں بولا جاتا یہ زبان سے بھی زیادہ بلیغ ہے رسول اللہ ﷺ نے یہ پسند کیا کہ ان سے فتنہ کے اسباب منقطع ہوجائیں تاکہ ان کی عصمت باقی رہے اور ان کے دل پاک رہیں۔
Ayah 96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا

علم الانسان مالم یعلم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے اسے ہر شی کے ناموں کا علم سکھایاجس طرح قرآن حکیم میں ہے، وعلم آدم الاسماء کلھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے اسماء کا علم سکھایا، کوئی چیز باقی نہ رہی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ہر لغت میں اس کا نام سکھادیا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے وہ نام فرشتوں کو بتادیے جس طرح آپ کو بتائے گئے تھے اس طرح ان کی فضیلت ظاہر ہوگئی ان کی قدر واضح ہوگئی اور ان کی نبوت ثابت ہوئی ملائکہ پر اللہ تعالیٰ کی حجت، اور حضرت آدم کا غلبہ قائم ہوگیا فرشتوں نے حکم کی اطاعت کی کیونکہ انہوں نے حضرت آدم کے شرف کو دیکھ لیا تھا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی جلالت کا نظارہ کرلیا تھا اور عظیم امر کو سن لیا تھا پھر یہ چیز ان کی اولاد میں اگلوں سے پچھلوں میں اور ایک قوم سے دوسری قوم میں منتقل ہوتی رہی، یہ بحث سورة البقرہ میں مکمل گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں الانسان سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وعلمک مالم تکن تعلم (النسائ 113) آپ کو وہ کچھ سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے اس تعبیر کی بنا پر علمک سے مراد آنے والے وقت کا علم ہے کیونکہ یہ تو ان آیات میں سے ہے جو ابتدائی دور میں نازل ہوئیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ انسان عام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، واللہ اخرجکم من بطون امھتکم لاتعلمون شیا۔ (النحل 78) اللہ نے ہی تمہیں تمہاری ماں کے پیٹوں سے نکالا جب کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔
Ayahs 96:6–7

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

مگر انسان سرکش ہوجاتا ہے

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

جب کہ اپنے تئیں غنی دیکھتا ہے

کلاان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں سے لے کر سورت کے آخرتک آیات ابوجہل کے حق میں نازل ہوئیں ایک قول یہ کیا گیا تمام سورت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم ﷺ کو نماز سے منع کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھیں اور یہ سورت پڑھی، اس تاویل کی بنا پر سورت ان سورتوں میں سے نہ ہوئی جو ابتداء میں نازل ہوئیں، یہ بھی جائز ہے اس کی پہلی پانچ آیات سب سے پہلے نازل ہوئی ہوں پھر باقی آیات ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی ہوں اور نبی کریم کو حکم دیا گیا ہو کہ انہیں سورت کے پہلے حصہ کے ساتھ ملالیں۔ کیونکہ سورتوں کی ترکیب و تالیف اللہ کے حکم سے ہوئی کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، وتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ۔ (البقرہ 281) اس دن سے بچو جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایاجائے گا آخر میں نازل ہوا پھر اسے ان آیات کے ساتھ ملادیا گیا جو طویل عرصہ پہلے نازل ہوچکی تھیں۔ یہاں کلا، حقا کے معنی میں ہے کیونکہ اس سے قبل کوئی چیز نہیں، یہاں الانسان سے مراد ابوجہل ہے، طغیان سے مرادنافرمانی میں حد سے آگے بڑھنا ہے ان راہ، کی تقدیر کلام یہ ہے، لان رای نفسہ استغنی۔ یعنی وہ صاحب مال اور صاحب ثروت ہوگیا، حضرت ابن عباس نے فرمایا، جو قول ابوصالح نے ان سے نقل کیا ہے جب یہ آیت نازل ہوئی، اور مشرکوں نے اسے سناتوابوجہل نے آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا، اے محمد، توگمان کرتا ہے جو آدمی غنی ہوتا ہے وہ سرکش ہوجاتا ہے تو ہمارے لیے مکہ کے پہاڑ سونا بنا اور ممکن ہے ہم اسے لیں پرھ ہم سرکش ہوجائیں ہم اپنے دین کو چھوڑ دیں اور آپ کے دین کی پیروی کریں حضرت جبرائیل امین نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی، اے محمد، اس معاملہ میں انہیں اختیار دیں اگر وہ چاہیں تو ہم ان کے ستھ وہ معاملہ کریں گے جو وہ چاہتے ہیں اگر انہوں نے اطاعت اختیار نہیں کی تو ہم ان کے ساتھ وہ معاملہ کریں گے جو ہم نے مائدہ والوں کے ساتھ کیا تو رسول اللہ کو علم ہوگیا کہ وہ قبول نہ کریں گے تو آپ ان سے رک گئے تاکہ معاملہ ان پر باقی رہے۔ ایک قول یہ کیا گیا وہ اپنے قبیلہ، انصار واعوان کی وجہ سے اپنے آپ کو مستغنی خیال کرتا ہے تو ان راہ، میں لام محذف ہوگیا جسطرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، انکم لتضغون ان رایتم غناکم۔ تم سرکشی کرتے ہو کیونک ہتم اپنے آپ کو غنی خیال کرتے ہو۔ فراء نے کہا، یہاں رای نفسہ نہیں کہا جس طرح قتل نفسہ کہا، کیونکہ رای الان افعال میں سے ہے جو اسم وخبر کا ارادہ رکھتے ہیں جس طرح ظن اور حسبان ہے اسمیں ایک مفعول پر اقتصار نہیں ہوتا عرب نفس کے لفظ کو گرادیتے ہیں اسی جنس سے تو یہ قول کرتا ہے، رایتنی، حسبتنی۔ مجاہد اور حمید اور حنبل نے ابن کثیر سے ان راہ استغنی کو ہمزہ کے قصر کے ساتھ پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے راہ کو مد کے ساتھ پڑھا ہے یہی پسندیدہ ہے۔
Ayah 96:8

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

ان الی ربک الرجعیٰ ۔ یعنی جس کے مذکور اوصاف ہیں اس کالوٹنا تیرے رب کی طرف ہے تو ہم اسے بدلہ دیں گے، رجعی، مرجع، اور رجوع، سب مصادر ہیں یوباب چلایا جاتا ہے، رجع الیہ، رجوجا، مرجعا، رجعی یہ فعلی کے وزن پر ہے۔ ارء یت الذی ینھی، عبدا اذا صلی۔ الذی ینھی۔ سے مراد ابوجہل ہے عبدا سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے کیونکہ ابوجہل نے کہا، اگر میں نے حضرت محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیاتو میں اس کی گردن روند دوں گا یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے نازل کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا کلام میں حذف ہے معنی یہ ہے کیا نماز سے روکنے والا سزا سے امن میں ہے ؟۔
Ayahs 96:9–12

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو منع کرتا ہے

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر یہ راہ راست پر ہو

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا پرہیزگاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)

ارءیت ان کان علی الھدی۔ او امر بالتقوی۔ اے ابوجہل بتاؤ، اگر محمد اس صفت (ہدایت) پر ہوں تو کیا تقوی اور نماز سے روکنے والاہلاک ہونے والا نہ ہوگا۔
Ayahs 96:13–14

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

اور دیکھ تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے ؟

ارء یت ان کذب وتولی۔ الم یعلم بان اللہ یری۔ یعنی ابوجہل نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلایا اور ایمان سے اعراض کیا، فراء نے کہا، معنی ہے جو نماز پڑھتا ہے وہ ہدایت پر ہوتا ہے تقوی کا حکم دینے والاہو جبکہ منع کرنے والاجھٹلانے والا اور ذکر سے اعراض کرنے والا ہوتویہ کتنا ہی عجیب ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اس پر ہلاکت ہو کیا ابوجہل نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے اور اس کے فعل کو جانتا ہے تو یہ تقریر وتوبیخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ارء یت، پہلے کا بدل ہے اور الم یعلم بان اللہ یری، خبر ہے۔
Ayahs 96:15–16

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

دیکھو تو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اسکی) پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

یعنی اس جھوٹے خطا کار کی پیشانی کے بال

کلا لئن لم ینتہ۔۔۔ تا۔۔۔ خاطئیہ۔ یعنی اے محمد اگر ابوجہل اس سے نہ رکا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑیں گے اور اسے ذلیل ورسوا کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم قیامت کے روز اس کی پیشانی پکڑیں گے اسے اس کے قدموں کے ساتھ لپیت دیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فیوخذ بالنواصی والاقدام۔ الرحمن) اسے پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑاجائے گا آیت اگر ابوجہل کے حق میں ہوتویہ لوگوں کے لیے نصیحت ہوگی اور جو طاعت سے خود رکتا ہے اور لوگوں کو روکتا ہے اس کے لیے دھمکی ہے، اہل لغت کہتے ہیں، سفعت بالشئی جب تو اس پر قبضہ کرلے اور اسختی سے اپنی طرف کھینچے یہ جملہ بولا جاتا ہے، سفع بناصیہ فرسہ، جب اس نے اپنے گھورے کو سختی سے کھینچنا۔ شاعر کا شعر ہے : قوم اذا کثر الصیاح رایتھم، من بین ملجم مھرہ او سافع۔ وہ ایسی قوم ہیں جب چیخ و پکار زیادہ ہوجائے تو تو انہیں دیکھے گا ان میں سے کوئی اپنے گھوڑے کو لگام دے رہا ہے اور کوئی اسے سختی کے ساتھ کھینچ رہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ سفعۃ النار والشمس سے ماخوذ ہے جب سورج کی تمازت اس کے چہرے کو سیاہی مائل کردے۔ ناصیہ سے مراد سر کے اگلے حصے کے بال ہیں۔ بعض اوقات اس سے پوری ذات مراد لی جاتی ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ھذہ ناصیۃ مبارکۃ، اس سے مراد پورا انسان ہے۔ یہاں ناصیہ کا خصوصا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عربوں کی عادت ہے جب وہ کسی کو ذلیل ورسوا کرنا چاہیں تو اس کے سر کے اگلے بالوں کو پکڑ لیتے۔ مبرد نے کہا، سفع کا معنی سختی کے ساتھ کھینچتا ہے یعنی ہم اسے پیشانی کے بالوں کو پکڑ کر آگ کی طرف گھسیٹ کرلے جائیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے، سفع کا معنی مارنا ہے یعنی ہم اس کے منہ پر طمانچہ ماریں گے سب کا معنی قریب قریب ہے، یعنی پکڑنے کے ساتھ اسے ماراجائے گا پھر اسے جہنم کی طرف گھسیٹ کرلے جایاجائے گا پھر بدل کے طور پر، ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ، فرمایا یعنی ابوجہل کی ناصیہ قول میں جھوٹی اور عمل میں گناہ کرنے والی ہے، اور گناہ کرنے والے کو سزا بھی دی جاتی ہے اور اسے پکڑا جاتا ہے جب کہ خطا کرنے والے کامواخذہ نہیں ہوتا۔ ناصیۃ کی صفت کاذبۃ خاطئیۃ سے لگانا اس طرح ہے جس طرح وجوہ کی صفت ناظرہ سے لگائی گئی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے، الی ربھا ناظرہ۔ قیامہ) وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس ناصیۃ والاجھوٹا اور گناہ گار ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، نھارہ صائم، لیلہ قائم یعنی وہ دن کو روزہ رکھنے والا اور رات کو قیام کرنے والا ہے۔
Ayahs 96:17–18

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلا لے

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی اپنے مؤکلان دوزخ کو بلائیں گے

فلیدع نادیہ، سندع الزبانیہ۔ یعنی وہ اپنے ہم مجلسوں اور قبیلہ والوں کو بلاکر ان سے مدد لے ہم بھی سخت مضبوط فرشتوں کو بلالیں گے یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے کسائی نے کہا، اس کا واحد زبنیہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اصل میں یہ زبان تھا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اسم جمع ہے جس طرح ابابیل اور عبادیا اسم جمع ہے قتادہ نے کہا، کلام عرب میں اس کا معنی سپاہی ہے یہ زبن سے ماخوذ ہے جس کا معنی دھکیلنا ہے اسی سے خریدوفروخت میں ایک قسم مزابنہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، انہیں زبانیہ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اپنے پاؤں سے اسی طرح عمل کریں گے جس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے عمل کرت ہیں ابولیث ثمرقندی نے یہ حکایت بیان کی ہے حدیث طیبہ میں ہے جب نبی کریم نے اس آیت کی تلاوت کی اور لنفسعا بالناصیہ۔ تک پہنچے تو ابوجہل نے کہا، میں اپنی قوم کو بلاؤں گا جو تیرے رب سے مرادفاع کرے گی، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، فلیدع نادیہ، سندع الزبانیہ۔ جس نے اس سے زبانہ کا ذکر سنا توڈر کر واپس لوٹ گیا، اسے کہا تھا تو اس سے ڈر گیا اس نے، کہا نہیں بلکہ میں نے اس کے پاس شہسوار دیکھا جو زبانیہ کے ساتھ مجھے دھمکا رہا تھا۔ میں نہیں جانتا زبانیہ کیا ہے وہ شہسوار میری طرف جھکا تو مجھے ڈر ہو کہ وہ مجھے کھاہی نہ جائے۔ احادیث میں ہے، زبانیہ کے سرآسمان میں اور ان کے پاؤں زمین میں ہوں گے وہ کفار کو جہنم میں دھکیل دیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ از روئے جسامت کے فرشتوں سے بڑے ہوں گے اور ازروئے پکڑ کے ان سے زیادہ سخت ہوں گے عرب یہ نام اسے دیا کرتے تھے جو ازروئے پکڑ کر شدید ہوتا تھا، شاعر نے کہا، زبانیہ غلب عظام حلومھا۔ وہ موٹی گردنوں والے ہیں عظیم عقل والے ہیں۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ابوجہل نے کہا، اگر میں نے حضرت محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں اس کی گردن رونددوں گا تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے آنکھوں کے سامنے پکڑلیتے۔ ابوعیسی نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ابوجہل نبی کریم کے پاس سے گزرا جب کہ آپ مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ابوجہل نے کہا، اے محمد میں نے تجھے ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا رسول اللہ نے اس سے سخت رویہ اپنایا۔ ابوجہل نے کہا، اے محمد تو مجھے کس چیز کی دھمکی دیتا ہے اللہ کی قسم میں اس وادی میں سب سے زیادہ حمایتیوں والا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا، فلیدع نادیہ، سندع الزبانیہ۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ کی قسم اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتاتو عذاب کے داروگے اسے اسی وقت پکڑ لیتے۔ امام ترمذی نے اس کی ہم معنی روایات نقل کی ہیں کہا یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے کلام عرب میں نادی اس مجلس کو کہتے ہیں کہ جس میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں یعنی جمع ہوتے ہیں مراد مجلس والے ہیں۔ جس طرح جریر نے کہا، لھم مجلس صھب السبال اذلہ یہاں مجلس سے مراد اہل مجلس ہیں، زہیر نے کہا، وجار البیت والرجل المنادی یہاں بھی المنادی سے مراد مجلس میں بیٹھنے والا ہے۔
Ayah 96:19

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور سجدے کر کے قرب (خدا) حاصل کرتے رہنا

کلا، لاتطعہ واسجد واقترب۔ یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح ابوجہل گمان کرتا ہے ابوجہل تمہیں جو نماز ترک کرنے کے بارے میں کہتا ہے اس میں اس کی طاعت نہ کیجئے، اللہ تعالیٰ کے لیے نماز پڑھیے اور طاعت و عبادت کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے جب تو سجدہ کرے تو دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے عطا نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اقرب مایکون العبد من ربہ واحبہ الیہ جبھۃ فی الارض ساجدا للہ۔ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے اور اس کی بارگاہ میں سب سے محبوب ہوتا ہے جب اس کی پیشانی زمین میں ہو جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کررہا ہو۔ ہمارے علماء نے کہا، اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ سجدہ کی حالت عبودیت اور ذلت کی انتہا ہے اللہ تعالیٰ کے لیے انتہا درجے کی عزت ہے اس کے لیے اتنی عزت ہے جس کی کوئی مقدار نہیں اے انسان، جب بھی تو اس کی اس صفت (اپنے آپ کو عزیز سمجھنا) سے دور ہوگا تو اس کی جنت کے قریب ہوگا اور اس کے گھر میں اس کے جوار رحمت کے قریب ہوگا حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، جہاں تک کہ رکوع کا تعلق ہے اسمیں اپنے رب کی عظمت بیان کرو جہاں تک سجدے کا تعلق ہے تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ وہ اس لائق ہے کہ وہ تمہارے حق میں قبول کی جائے جس نے یہ شعر کہا، بہت اچھا کہا : واذا تذللت الرقاب تواضعا، منا الیک فعرھا فی ذلھا۔ جب ہماری گردیں تیری بارگاہ میں تواضع کرتے ہوئے جھک جائیں تو ان کی عزت ان کی عاجزی میں ہے۔ زید بن اسلم نے کہا، اے محمد نماز پڑھتے ہوئے سجدہ کیجئے اے ابوجہل تو آگ کے قریب ہوجا۔ واسجد یہ سجود سے مشتق ہے، یہ احتمال موجود ہے کہ اس سے مراد نماز میں سجدہ ہواریہ بھی احتمال ہے کہ اس سورت میں تلاوت کا سجدہ ہو، ابن عربی نے کہا، ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد نماز کا سجدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ارء یت الذی ینھی۔۔۔ تا۔۔۔ واقترب۔ اگر ایسانہ ہوتاتوامام مسلم اور دوسرے ائمہ حدیث سے صحیح میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث سے ثابت نہ ہوتا انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ کے ساتھ اذالسماء انشقت۔ اور اقرا باسم ربک الذی خلق۔ کے ساتھ دو سجدے کیے یہ اس امر پر نص ہے کہ مراد سجدہ تلاوت ہے۔ ابن وہب، حماد بن زید سے وہ عاصم بن بہدلہ سے وہ زر بن حبیش سے وہ حضرت علی بن ابی طالب سے روایت نقل کرتے ہیں لازمی سجدہ تلاوت چار ہیں، الم، حم تنزیل من الرحمن الرحیم اور اقرا باسم ربک۔ ابن عربی نے کہا، یہ اگر صحیح ہے تو اس پر سورة الحج کا دوسرا سجدہ بھی لازم ہوگا اگرچہ وہ رکوع کے ساتھ ملا ہوا ہے کیونکہ اس کا معنی یہ ہوگا رکوع کے موقع پر رکوع کرو اور سجدہ کے موقع پر سجدہ کرو۔ ابن نافع اور مطرف نے کہا، امام مالک اس سورت کے اختتام پر خاص طور پر خود سجدہ کیا کرتے تھے ابن وہب اس سجدہ کو لازمی سجدہ خیال کرتے تھے۔ میں کہتا ہوں ہم حضرت مالک بن انس کی روایت نقل کرچکے ہیں جو ربیع بن ابی عبدالرحمن سے وہ نافع سے وہ حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو نازل کیا تو رسول اللہ نے حضرت معاذ نے اسے لکھا جب وہ کلا، لاتطعہ واسجد واقترب۔ پر پہنچے تولوح نے سجدہ کیا، قلم نے سجدہ کیا اور دوات نے سجدہ کیا وہ کہہ رہے تھے اے اللہ اس کے ساتھ ذکر وبلند کر، اے اللہ، اس کے ساتھ بوجھ اتار دے، اے اللہ اس کے ذریعے گناہ بخش دے۔ حضرت معاذ نے کہا، میں نے سجدہ کیا اور رسول اللہ کو بتایا تو حضور نے بھی سجدہ کیا۔